MUSAS موساز

MUSAS موساز موساز،
میانوالی کے
ہونہاراورمستحق طلباءوطالبات کی
اعلی تعلیم میں
مالی معاونت کے لئےبنائی گئی تنظیم ہے
https://musaspk.blogspot.com/
(1)

MUSAS MONTHLY REPORT JULY 2026
01/08/2026

MUSAS

MONTHLY REPORT

JULY 2026






آج سے دو سال پہلے اپنے کیریئر کے حوالے سے پریشان اور گائیڈنس کے لیئے در در پھرتا اسد الرحمن آج موساز کے تعاون سے  سافٹ و...
31/07/2026

آج سے دو سال پہلے اپنے کیریئر کے حوالے سے پریشان اور گائیڈنس کے لیئے در در پھرتا اسد الرحمن آج موساز کے تعاون سے سافٹ ویئر انجینئرنگ کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے اور اب تک یونیورسٹی میں انتہائی اچھے نتائج کے ساتھ روشن مستقبل کو یقینی بنا رہا ہے
!!!
MUSAS موساز






30/07/2026

السلام علیکم

موساز
(میانوالی یونائٹد سنز اینڈ سسٹرز)
کی طرف سے
باقاعدہ " موساز پیج " لانچ کر دیا گیا ہے۔۔

ہم سب مل کر
تعلیم اور محنت کے بل بوتے پر،
میانوالی
اور پاکستان کا نام روشن کرتے رہیں گے، ان شاءاللہ۔۔

آپ سب سے
درخواست ہے کہ
اس پیج کو زیادہ سے زیادہ لائیک کریں
اور شیئر کریں تاکہ
ہم سب متحد ہو جائیں،
ہم سب متحرک ہو جائیں۔۔

اس پیج کا مقصد،
اپنے
ان بیٹوں
اور بیٹیوں کو سپورٹ کرنا ہوگا
جو
غریبی کی وجہ سے
تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے۔۔

تعلیم ہی
ایک ایسا ہتھیار ہے
جس سے
غربت اور جہالت کا مقابلہ
بڑے آرام سے کیا جا سکتا ہے۔۔

بےشک !
انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا،
مگر
اللہ تعالی کی مدد ساتھ ہو تو
پھر یہی لاچار انسان،
ایدھی صاحب کی صورت سامنے آ سکتا ہے۔۔

آپ سب
سے درخواست ہے کہ
ہم سب
اس دنیا کو چھوڑنے سے پہلے،
کچھ ایسا کر جائیں کہ
ہمارے آنے والی نسلیں،
ہم پر فخر کر سکیں، ان شاء اللہ۔۔

_____ موساز _____

اس پیج کی پہلی پوسٹ الحمدللہ آج اس پیج کو آٹھ سال مکمل ہو گئے ہیں
ان آٹھ سالوں میں اس پیج نے صرف میانوالی میں علم و تربیت کو فروغ دیا ہے اور میانوالی کا مثبت چہرہ روشن کیا ہے

موساز پیج کے سب ایڈمنز
اپنے تمام فالوورز کے شکر گزار ہیں۔ جن کی وجہ سے یہ پیج پوری آب و تاب سے جگمگا رہا ہے

دعاگو

موساز ٹیم و موساز پیج ایڈمنز

Hanif Niazi

Khan G

ماحی خان

نعمان مختیار ایک محنتی باپ کا محنتی بیٹاموساز کے تعاون سے گریجویشن کرنے کے قریب
30/07/2026

نعمان مختیار
ایک محنتی باپ کا محنتی بیٹا
موساز کے تعاون سے گریجویشن کرنے کے قریب

موساز کے چمکتے ستارےانجینئر ثاقب شریف اور انجینئر سرمد حسین
29/07/2026

موساز کے چمکتے ستارے
انجینئر ثاقب شریف
اور انجینئر
سرمد حسین

27/07/2026

اصل مسئلہ ڈگری نہیں، مہارت اور مارکیٹ کے درمیان موجود خلا ہے
آج پاکستان میں ہزاروں نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں ہیں۔ دوسری طرف بہت سی کمپنیاں یہ شکایت کرتی ہیں کہ انہیں مطلوبہ مہارت رکھنے والے افراد نہیں مل رہے۔ بظاہر یہ ایک عجیب تضاد ہے۔ ایک طرف بے روزگار گریجویٹس کی بڑی تعداد، دوسری طرف ہنر مند افراد کی کمی۔ اس تضاد کی اصل وجہ ایک لفظ میں سمجھی جا سکتی ہے: "گیپ"۔
یہ گیپ صرف نصاب اور ملازمت کے درمیان نہیں بلکہ ہماری سوچ، منصوبہ بندی اور تعلیمی ترجیحات میں بھی موجود ہے۔ ہم اب بھی تعلیم کو اکثر ایک ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ دنیا اسے مسائل حل کرنے، مہارت پیدا کرنے اور قدر (Value) تخلیق کرنے کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کی مارکیٹ آپ سے یہ نہیں پوچھتی کہ آپ نے کتنے نمبر حاصل کیے تھے یا آپ کی ڈگری کس رنگ کے فولڈر میں رکھی ہوئی ہے۔ وہ صرف ایک سوال پوچھتی ہے: "آپ ہمارے مسئلے کا کیا حل پیش کر سکتے ہیں؟" اگر آپ کے پاس اس سوال کا عملی جواب موجود ہے تو آپ کی تعلیم قیمتی ہے، اور اگر نہیں تو صرف ڈگری آپ کو کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ تعلیم ایک سرمایہ کاری ہے۔ ہر طالب علم اپنا وقت، محنت اور وسائل خرچ کرتا ہے، اس لیے اسے یہ جاننے کا حق بھی ہے کہ وہ کس شعبے میں جا رہا ہے، اس شعبے کی مستقبل میں کتنی ضرورت ہوگی، اس کے لیے کون سی مہارتیں درکار ہوں گی اور عالمی سطح پر اس میدان میں کیا رجحانات چل رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر طلبہ یہ تحقیق کیے بغیر داخلہ لے لیتے ہیں کہ وہ جس ڈگری کا انتخاب کر رہے ہیں، اس کی حقیقی مارکیٹ ویلیو کیا ہے۔
ہمیں بھیڑ چال سے نکلنا ہوگا۔ اگر کسی خاص شعبے کا نام مشہور ہو جائے تو سب اسی طرف دوڑ پڑتے ہیں، چاہے ان کی دلچسپی، استعداد یا مستقبل کی منصوبہ بندی اس سے مطابقت رکھتی ہو یا نہیں۔ چند سال پہلے یہی صورتحال کئی دوسرے شعبوں کے ساتھ بھی دیکھی گئی، اور آج نئی ٹیکنالوجیز کے نام سن کر بھی بہت سے نوجوان بغیر تیاری کے صرف رجحان دیکھ کر فیصلہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی اور دیگر جدید شعبے مستقبل کی اہم ضرورت ہیں، لیکن ان میں کامیابی صرف ڈگری لینے سے نہیں ملتی۔ ان شعبوں کی بنیاد مضبوط ریاضی، منطق، پروگرامنگ، تحقیق، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور مسلسل سیکھنے کی عادت پر قائم ہوتی ہے۔ اگر بنیادی مہارتیں مضبوط نہ ہوں تو صرف ڈگری حاصل کر لینے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
اسی لیے آج کے طالب علم کے لیے سب سے اہم صلاحیت "لائف لانگ لرننگ" یعنی زندگی بھر سیکھتے رہنے کی عادت ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، نئی مہارتیں مسلسل سامنے آ رہی ہیں اور مصنوعی ذہانت نے سیکھنے کے مواقع پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیے ہیں۔ اب کوئی بھی شخص روزانہ تھوڑا وقت نکال کر اے آئی ٹولز، آن لائن کورسز، کتابوں اور عملی تجربات کی مدد سے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔
والدین کو بھی چاہیے کہ وہ صرف ڈگری کے نام پر فیصلہ نہ کریں بلکہ اپنے بچوں کی دلچسپی، صلاحیت اور مستقبل کے رجحانات کو سامنے رکھتے ہوئے رہنمائی کریں۔ اسی طرح جامعات کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف نصاب مکمل کرنے کے بجائے صنعت، کاروبار اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق طلبہ کو عملی مہارتیں فراہم کریں۔
آج کامیاب وہی ہوگا جو صرف معلومات جمع نہیں کرے گا بلکہ انہیں استعمال کرنا بھی سیکھے گا۔ جو صرف ڈگری نہیں بلکہ مہارت پیدا کرے گا۔ جو صرف ملازمت کا انتظار نہیں کرے گا بلکہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے مواقع پیدا کرنا بھی سیکھے گا۔
یاد رکھیے! تعلیم کی اصل کامیابی ڈگری حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو اس معیار تک پہنچانے میں ہے جہاں آپ معاشرے اور مارکیٹ دونوں کے لیے قابلِ قدر بن جائیں۔ مستقبل انہی لوگوں کا ہے جو ہر روز کچھ نیا سیکھنے، خود کو بہتر بنانے اور بدلتی دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

کاپیڈ پوسٹ








🩺 میڈیکل کے طلبہ کے لیے بہترین AI ٹولز – اسمارٹ انداز میں پڑھیں، بہتر ڈاکٹر بنیں! 🤖آج کی میڈیکل تعلیم صرف کتابوں تک محدو...
26/07/2026

🩺 میڈیکل کے طلبہ کے لیے بہترین AI ٹولز – اسمارٹ انداز میں پڑھیں، بہتر ڈاکٹر بنیں! 🤖

آج کی میڈیکل تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں رہی۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) نے طلبہ کے لیے سیکھنے، تحقیق کرنے اور امتحانات کی تیاری کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔

اگر آپ MBBS، BDS، DPT، Pharm-D یا Nursing کے طالب علم ہیں، تو یہ AI ٹولز آپ کی پڑھائی میں بہترین معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

📚 میڈیکل طلبہ کے لیے بہترین AI ٹولز

✅ ChatGPT – مشکل طبی موضوعات کو آسان زبان میں سمجھنے، نوٹس بنانے اور امتحانی تیاری کے لیے۔

✅ AskDrGPT – میڈیکل سوالات، کلینیکل کیسز اور بیماریوں کی بہتر سمجھ کے لیے۔

✅ Lecturio – ویڈیو لیکچرز، MCQs اور جامع میڈیکل کورسز کے لیے۔

✅ Pathoma – پیتھالوجی کو آسان اور یادگار انداز میں سیکھنے کے لیے۔

✅ Complete Anatomy – انسانی جسم کے 3D ماڈلز کے ذریعے اناٹومی سمجھنے کے لیے۔

✅ UpToDate – جدید اور مستند طبی معلومات اور علاج کے رہنما اصول جاننے کے لیے۔

✅ Zotero / Elicit – ریسرچ پیپرز، حوالہ جات (References) اور لٹریچر ریویو کے لیے۔

💡 اہم بات

AI آپ کا ٹیچر یا ڈاکٹر نہیں، بلکہ ایک مطالعہ کا معاون (Study Assistant) ہے۔ ہمیشہ مستند کتابوں، اپنے اساتذہ اور قابلِ اعتماد طبی ذرائع سے معلومات کی تصدیق ضرور کریں۔

🎯 جو طالب علم AI کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ کم وقت میں بہتر انداز سے سیکھ سکتا ہے اور مستقبل کے چیلنجز کے لیے زیادہ تیار ہوتا ہے۔

💬 آپ نے ان میں سے کون سا AI ٹول استعمال کیا ہے؟ یا آپ کا پسندیدہ AI ٹول کون سا ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

📢 اس پوسٹ کو اپنے میڈیکل اسٹوڈنٹ دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ وہ بھی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس (Artificial Intelligence) ایسی ٹیکنالوجی ہے جو کمپیوٹرز کو سیکھنے، معلومات کا تجزیہ کرنے، مسائل حل کر...
25/07/2026

آرٹیفیشل انٹیلیجنس (Artificial Intelligence) ایسی ٹیکنالوجی ہے جو کمپیوٹرز کو سیکھنے، معلومات کا تجزیہ کرنے، مسائل حل کرنے اور انسان کی طرح فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔

📚سے طلبہ AI
سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

✅ مشکل موضوعات کو آسان انداز میں سمجھنا
✅ نوٹس، خلاصے اور اسائنمنٹس کی تیاری میں مدد لینا
✅ انگریزی لکھنے اور گرامر بہتر بنانا
✅ پریزنٹیشنز، رپورٹس اور پروجیکٹس تیار کرنا
✅ امتحانات کی تیاری، MCQs اور کوئزز کی مشق کرنا
✅ ریسرچ کے لیے مستند معلومات تلاش کرنا

طلبہ کے لیے مفید ٹولز:

🔹 ChatGPT – سوالات کے جواب، وضاحت اور سیکھنے کے لیے
🔹 Grammarly – گرامر اور رائٹنگ بہتر بنانے کے لیے
🔹 Canva AI – خوبصورت پریزنٹیشنز اور ڈیزائن بنانے کے لیے
🔹 Perplexity AI – ریسرچ اور مستند معلومات حاصل کرنے کے لیے
🔹 Google Scholar – تحقیقی مقالات تلاش کرنے کے لیے
🔹 Notion AI – نوٹس اور اسٹڈی پلان منظم کرنے کے لیے

⚠️ اہم بات:
AI کو سیکھنے کے لیے معاون بنائیں، نقل (Copy-Paste) کرنے کا ذریعہ نہیں۔ ہمیشہ AI سے حاصل کردہ معلومات کو خود سمجھیں، تصدیق کریں اور اپنی سوچ شامل کریں۔

🌟 یاد رکھیں:
AI آپ کی جگہ نہیں لے گا، لیکن AI استعمال کرنا جاننے والا شخص مستقبل میں زیادہ کامیاب ہوگا۔

💬 آپ نے اب تک کون سا AI ٹول استعمال کیا ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

اگر آپ مستقبل میں ایک کامیاب کیریئر بنانا چاہتے ہیں، تو یہ ڈگریاں بہترین انتخاب ثابت ہو سکتی ہیں:🥇 1. BS Computer Scienc...
25/07/2026

اگر آپ مستقبل میں ایک کامیاب کیریئر بنانا چاہتے ہیں، تو یہ ڈگریاں بہترین انتخاب ثابت ہو سکتی ہیں:

🥇 1. BS Computer Science (CS)
💻
AI، Software Development، Cyber Security اور Cloud Computing

🥈 2. MBBS
🩺 پاکستان اور بیرونِ ملک مستقل طلب

🥉 3. BS Artificial Intelligence (AI)
🤖 مستقبل کی تیز ترین ترقی کرنے والی فیلڈ

4️⃣ BS Data Science
📊 Data Analytics، Machine Learning اور Business Intelligence

5️⃣ BS Software Engineering
💼 ملکی و بین الاقوامی IT کمپنیوں میں بہترین مواقع

6️⃣ BSc / BS Nursing
🏥 پاکستان، خلیجی ممالک، برطانیہ اور دیگر ممالک میں زیادہ طلب

7️⃣ Doctor of Pharmacy (Pharm-D)
💊 ہسپتال، فارما انڈسٹری اور ریسرچ میں کیریئر

8️⃣ BSc Electrical / Mechanical / Civil Engineering
⚙️ انڈسٹری، انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبوں میں اہم کردار

9️⃣ BS Accounting & Finance / ACCA
💰 بینکنگ، آڈٹ، فنانس اور کارپوریٹ سیکٹر

🔟 BS Digital Marketing / Business Analytics
📱 E-commerce، Freelancing اور آن لائن بزنس کے لیے بہترین انتخاب

✨ کیپشن:

صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں، صحیح ڈگری + جدید Skills + Internship + Communication Skills ہی کامیابی کی اصل کنجی ہیں۔ آنے والے سالوں میں AI، ٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر اور ڈیجیٹل معیشت سے متعلق شعبوں میں مواقع مزید بڑھنے کی توقع ہے، اس لیے اپنے شوق اور صلاحیت کے مطابق دانشمندانہ انتخاب کریں۔ 🚀

📌 اس پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ وہ بھی اپنے مستقبل کے لیے بہتر فیصلہ کر سکیں۔

سلسلہ تعارف موساز ڈونر: حافظ ضیاء عالم خانآج میں آپ کو موساز کے ایسے ڈونر کا تعارف کرانے کا جا رہا ہوں جو خدمت خلق میں ک...
23/07/2026

سلسلہ تعارف
موساز ڈونر: حافظ ضیاء عالم خان

آج میں آپ کو موساز کے ایسے ڈونر کا تعارف کرانے کا جا رہا ہوں جو خدمت خلق میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔
ضلع میانوالی کے تاریخی اور علمی گاؤں غنڈی سے تعلق رکھنے والے حافظ محمد ضیاء عالم خان کی پیدائش 1980ء میں ایک ایسے معزز اور علم پرور گھرانے میں ہوئی، جس کا اوڑھنا بچھونا ہی انسانیت کی خدمت، دینی اقدار اور کردار سازی رہا ہے۔
آپ کے والد گرامی، محترم عالم خان نیازی صاحب (مرحوم)، اپنے علاقے کی ایک انتہائی قابلِ احترام اور نامور شخصیت تھے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے اگرچہ معلم تھے، لیکن عملی زندگی میں وہ ایک بہترین مصلح، مربی اور فروغِ تعلیم کے سچے داعی تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ نئی نسل کی اخلاقی و علمی آبیاری کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ان کا راسخ عقیدہ تھا کہ قوموں کی ترقی کا واحد راستہ علم کی راہداریوں سے ہو کر گزرتا ہے، اور اسی سوچ کے تحت انہوں نے اپنے بچوں کی مثالی تربیت کی۔
والد محترم نے اپنے بڑے فرزند، علامہ محمد مسعود عالم خان الازہری (مرحوم)، کو دینِ متین کی خدمت کے لیے چنا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد بھیرہ شریف سے فیض حاصل کیا اور پھر دنیاِ اسلام کی عظیم درسگاہ، جامعہ الازہر (مصر) کا رخ کیا، جہاں سے حدیث شریف میں ماسٹرز کی ڈگری لی۔ وہ فاضل عربی میں گولڈ میڈلسٹ ~بھی رہے۔ وہ ایک غیر معمولی ذہانت کے مالک عالم، مسحور کن مقرر اور معاشرتی اصلاح کا سچا تڑپ رکھنے والے انسان تھے۔ بعد ازاں، وہ برطانیہ منتقل ہوئے اور سن 2000ء میں ناٹنگھم میں "جامعہ اسلامیہ ناٹنگھم" کی بنیاد رکھی، جس کے زیرِ سایہ ہزاروں نفوس نے قرآن و سنت اور اخلاقیات کا نور پایا۔ انہوں نے بین الاقوامی فلاحی ادارے 'Islamic Help' کے قیام اور اس کی وسعت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ غزہ، کشمیر کے زلزلے اور دنیا بھر کے بحران زدہ علاقوں میں ان کی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں۔ وہ پاکستان میں عمران خان کے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور ایک عادلانہ و اسلامی پاکستان کے خواہاں تھے۔ دسمبر 2024ء میں اسٹیج فور کینسر کے باعث وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، جس کے بعد ان کے مشن اور خاندانی ذمہ داریوں کا پورا بوجھ حافظ محمد ضیاء عالم خان نے سنبھال لیا۔
اسی خالص علمی اور روحانی ماحول میں حافظ محمد ضیاء عالم خان کی پرورش ہوئی۔ والد صاحب نے بچپن ہی میں انہیں حفظِ قرآن کی راہ پر ڈالا۔ انہوں نے اپنے گاؤں غنڈی ہی میں قرآنِ کریم حفظ کیا اور ساتھ ہی سینٹرل ماڈل اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس دوران انہیں عطاء اللہ ملک صاحب، مظہر نیازی صاحب اور چوہدری خالد صاحب جیسے شفیق اساتذہ کی زیرِ نگرانی علمی فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔
اعلیٰ تعلیم کی خاطر آپ کراچی تشریف لے گئے، جہاں آپ نے پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ (اپنے چچا محترم) کی سرپرستی میں ڈی جے سائنس کالج سے سن 2000ء میں ایف ایس سی مکمل کی، جبکہ اس دوران دینی تعلیم کا سلسلہ بھی برابر جاری رہا۔ آپ کا خواب تو طبیب (ڈاکٹر) بننے کا تھا اور یوکرین میں ایم بی بی ایس میں داخلہ بھی ہو چکا تھا، مگر عین اسی وقت برطانیہ کا ویزا موصول ہو گیا۔ والدین کی خواہش اور مشورے کے پیشِ نظر آپ سن 2000ء میں اپنے بڑے بھائی کے ہمراہ برطانیہ چلے گئے۔
دیارِ غیر میں آپ نے 'Nottingham Trent University' سے انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) میں گریجویشن کی اور تقریباً 12 برس تک مختلف تعلیمی اداروں میں بطور آئی ٹی اور نیٹ ورکنگ ماہر اپنی خدمات سرانجام دیں۔ تاہم، بعد میں آپ نے اپنی زندگی کا رخ مکمل طور پر دین اور انسانیت کی خدمت کی طرف موڑ دیا۔ گزشتہ 16 سال سے آپ برطانیہ کے جیل کے نظام میں بطور "مسلم چپلین" (روحانی و دینی رہنما) خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جیلوں کے اندر آپ نہ صرف مسلمان قیدیوں کی اخلاقی و روحانی اصلاح کرتے ہیں، بلکہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے ساتھ بھی انسانی ہمدردی کے تحت مثبت گفتگو کرتے ہیں۔ آپ کے اعلیٰ اخلاق اور اسلامی تعلیمات کے سچے عکس سے متاثر ہو کر متعدد غیر مسلم قیدی دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، جن کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری آپ بخوبی نبھا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ شام کے اوقات میں بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیتے ہیں، اور آپ کے زیرِ سایہ کئی بچے حافظِ قرآن بن چکے ہیں۔
سن 2006ء میں آپ کے والدین بھی برطانیہ منتقل ہو گئے۔ آپ کی والدہ محترمہ کا انتقال 2017ء میں اور والد محترم عالم خان نیازی صاحب کا انتقال 2022ء میں ہوا، اور دونوں وہیں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ کے دیگر بہن بھائی بھی وہیں مقیم ہیں اور پورا خاندان آج بھی علم و خدمت کے اسی مشن پر کاربند ہے۔
اپنے اسلاف کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے حافظ محمد ضیاء عالم خان نے اپنے آبائی علاقے غنڈی میں "انصار ویلفیئر سوسائٹی" کے قیام اور اس کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ آج اس سوسائٹی کے تحت تین ایمبولینسیں غریب اور مستحق مریضوں کو بالکل مفت سفری و طبی سہولیات دے رہی ہیں، جبکہ ایک فری فارمیسی کے ذریعے درجنوں ضرورت مندوں کو بلا معاوضہ ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔انصار ویلفیئر سوسائٹی کا شمار میانوالی کی ٹاپ ویلفیئر سوسائٹیز میں ہوتا ہے۔

تعلیم ہمیشہ سے حافظ صاحب کی شخصیت کا محور رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ علم وہ روشنی ہے جو انسان کو تاریکیوں سے نکالتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت ان کی ملاقات محترم ڈاکٹر حنیف نیازی صاحب سے ہوئی، جو بعد میں خاندانی رشتے دار بھی نکلے، مگر حافظ صاحب اس سے قبل ہی ڈاکٹر حنیف نیازی صاحب کے اخلاص اور تعلیمی جدوجہد کے اسیر ہو چکے تھے۔ انہوں نے حنیف نیازی صاحب میں وہی تڑپ دیکھی جس کی انہیں تلاش تھی۔
یہی وجہ ہے کہ انہوں نے موساز (MUSAS) کو بطور مستقل ڈونر جوائن کیا اور اور بعد ازاں ایسپائر کالج (Aspire College) کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بھی ڈاکٹر صاحب کا بھرپور مالی، اخلاقی اور عملی تعاون کا فیصلہ کیا۔
آپ کا خواب ہے کہ میانوالی کا ہر بچہ، چاہے اس کا معاشی پس منظر کچھ بھی ہو، اعلیٰ تعلیم پائے اور والدین کا سہارا بنے۔
آپ کا پختہ یقین ہے کہ میانوالی اور دیگر پسماندہ علاقوں کی تقدیر صرف تعلیم، اخلاق اور شعور کے ذریعے ہی بدلی جا سکتی ہے۔ معاشرتی برائیوں، جہالت اور جرائم کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب نئی نسل کی بنیاد علم اور کردار پر رکھی جائے۔ اسی لیے آپ تمام مخیر حضرات اور دردِ دل رکھنے والے افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ موساز (MUSAS) اور انصار ویلفیئر سوسائٹی جیسی تمام فاؤنڈیشنز کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیں۔
آپ فرماتے ہیں: ”میری زندگی کا مقصد صرف ذاتی کامیابی نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں ہر بچے کو قلم، ہر بے سہارا کو آسرا اور ہر انسان کو عزت ملے۔ نئی نسل کو علم و کردار کی دولت دینا ہی سب سے بڑا صدقہ جاریہ ہے۔“
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمارے بزرگوں کی ان خدمات کو قبول فرمائے، والدین کے درجات بلند کرے اور ہمیں اخلاص کے ساتھ اس سفر کو جاری رکھنے کی توفیق دے۔ آمین!

میں موساز (MUSAS) کی پوری ٹیم اور انتظامیہ کی طرف سے محترم ومکرم، علم و حکمت کے پیکر، اور انسانیت کے سچے ہمدرد حافظ محمد ضیاء عالم خان صاحب کی خدمات کو دل کی گہرائیوں سے سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔
حافظ صاحب کی ذاتِ گرامی ہمارے لیے مشعلِ راہ اور فخر کا باعث ہے۔ دیارِ غیر میں رہ کر بھی اپنے وطن کی مٹی، خاص طور پر میانوالی کے پسماندہ طبقے کے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے آپ کی تڑپ، آپ کا بے لوث مالی و عملی تعاون، اور تعلیم کے فروغ کے لیے آپ کا یہ جنون اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اپنے عظیم والد اور بھائی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انسانیت کے ماتھے کا جھومر بن چکے ہیں۔
ہم حافظ ضیاء عالم صاحب کی اس عظیم کاوش، ان کے بے داغ اخلاص اور ان کی والہانہ محبت پر انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے، ان کی عمر، صحت اور رزق میں برکتیں عطا فرمائے، اور ان کے اس جذبے کو ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بنائے اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔

سیکرٹری نشرو اشاعت موساز
ماحی خان

Address

PAF Road Mianwali
Mianwali
42200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MUSAS موساز posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category