Qalagay United

Qalagay United یہ صرف اور صرف ھمارےعلاقے کےمسائل کو اجاگر کرنے اور نوجوانوں میں تعلیم کی اہمیت پر توجہ دینے کے لیے ب

11/11/2022
خدارا نظامِ تعلیم پر توجہ ہوم ورک کا بوجھ امتحان کی ٹینشن اور نمبروں کی دوڑ سے بچوں کو آزاد کر دیں ۔۔۔یہ حصہ ایک دوست کی...
21/09/2022

خدارا نظامِ تعلیم پر توجہ ہوم ورک کا بوجھ امتحان کی ٹینشن اور نمبروں کی دوڑ سے بچوں کو آزاد کر دیں ۔۔۔
یہ حصہ ایک دوست کی وال سے کاپی کیا گیا ہے
میں خود استاد ہوں کیسے بتاؤں کے ڈگری دینے سے کہیں بہتر ہے لوگوں کو انسانیت دیں بہت کمی ہے!

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟
(جہانزیب راضی)
یہ 14 ستمبر کی شام تھی، شہیر کے ابا نذیر نے اپنی بیوی شازیہ سے اپنے 12 سالہ بیٹے شہیر کے متعلق پوچھا تو بیوی نے جواب دیا کہ بغیر بتائے کہیں چلا گیا ہے.
نذیر سخت غصے کی حالت میں گھر سے شہیر کو ڈھونڈنے نکلا اور جلد ہی اسے شہیر قریب میں دوستوں کے ساتھ پتنگ اڑاتا ہوا مل گیا، نذیر اسے وہاں دیکھ کر غصے سے پاگل ہوگیا پہلے کچھ مار پیٹ کی اور پھر وہیں کھڑے ہوکر اپنے 12 سالہ بچے شہیر سے اس کے "ہوم ورک" اور حال ہی میں ہونے والے ٹیسٹس میں لئیے گئے "نمبروں" سے متعلق سوالات شروع کئے جس کے جوابات شاید "کم عقل" شہیر کے پاس نہیں تھے.
آپ کمال دیکھیں کہ یہ "نالائق، نکما اور موٹی عقل والا بچہ" بہترین پتنگ اڑانا جانتا تھا، جو کام میں خود آج تک ہر کلاس میں پوزیشن لینے کے باوجود نہیں کرسکا، مگر اس بدقسمت بچے کو ہوم ورک اور ٹیسٹ میں کم نمبروں کی وجہ سے اس کا باپ مارتا، پیٹتا اور گھسیٹتا ہوا گھر لایا اور گھر لاکر پھر وہی" ہوم-ورک اور ٹیسٹ کے نمبروں" پر تفتیش شروع ہوگئ، اس دوران نذیر کا غصہ تیز ہوتا چلا گیا اور اس نے اسپرٹ اور کیروسین آئل کی بوتل اپنے 12 سالہ معصوم شہیر پر چھڑک دی.
بچہ چیختا، چلاتا اور روتا رہا مگر سنگدل باپ کا ایک ہی سوال تھا کہ "ہوم ورک کیوں نہیں کیا؟" اور" ٹیسٹ میں نمبرز کیوں کم آئے؟" ان دونوں سوالات کے جواب میں شہیر کے پاس سسکیاں، آنسو اور چیخیں تھیں کیونکہ اس کا پورا جسم کیروسین آئل اور اسپرٹ میں ڈوبا ہوا تھا.
تھوڑی ہی دیر میں اس کا باپ باورچی خانے سے ماچس لے آیا اور ڈرانے کے لئیے جیسے ہی جلائی اگلے ہی لمحے آگ بھڑک اٹھی اور شہیر کا جسم شعلوں کی زد میں آگیا، شازیہ بھاگتی ہوئی اپنے بچے کو بچانے آئی مگر تب تک بے رحم باپ اپنے ہی لختِ جگر کو اپنے ہاتھوں سے آگ کے حوالے کرچکا تھا.
بہت کوششوں کے باوجود جب آگ بجھی تب تک شہیر کا بڑا حصہ جل چکا تھا، سول اسپتال میں 14 اور 15 ستمبر کو تڑپ تڑپ کر اپنی سانسیں پوری کرنے والا معصوم شہیر 16 ستمبر کی شام "ہوم ورک" نہ کرنے اور "ٹیسٹ میں کم نمبرز" لانے کے گھناؤنے جرائم کی پاداش میں آگ میں جلا کر اپنے ہی باپ کے ہاتھوں اورنگی ٹاؤن میں قتل کردیا گیا تھا.
قیامت کے دن زندہ گاڑی ہوئی لڑکی کے ساتھ شہیر بھی اپنے باپ سے ضرور سوال کرے گا کہ "مجھے کیوں قتل کیا گیا تھا؟ "
اور اپنے باپ سے ہی کیوں؟
اس معاشرے سے، اس ڈھکوسلے نظام تعلیم سے ان اسکولوں سے جو بڑی بڑی قد آدم سائز کی تصاویر اپنی عمارتوں کے اوپر لگاتے ہیں اور بچوں کے والدین میں احساس کمتری پیدا کرتے ہیں.
سوال تو یہ بھی ہے کہ معاشرے کا وہ بچہ جو پتنگ اڑانے جیسے ہنر کا ماہر تھا، جو کرکٹ اور ویڈیو گیمز کا ماہر تھا اس کے یہ نمبرز کہاں شمار کئے گئے ہیں؟
اس کی تصاویر اور اس کا ہنر کس کو دکھایا گیا ہے یا ہمارے والدین اور محترم اساتذہ اکرام کے پاس یہ تمام ہنر "نکما" ہونے کا ثبوت ہیں؟
یہ واقعات دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہیں کیونکہ معاشرے میں ہر روز "ہوم ورک کی بھرمار" اور صبح شام "ٹیسٹ کے نمبرز بانٹنے والے" تعلیمی اداروں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے.
کوئی تعلیمی ادارہ ایسا بھی ہے جو بچوں کے والدین کے تربیتی معیار کو بھی جانچنے کا انتظام کرتا ہو؟
جو ماں اور باپ کے "مینٹل لیول" کو بھی ہر مہینے نمبروں کے ذریعے چیک کرتا ہو،ان کی ذہنی حالت اور دماغی صحت کا جائزہ لیتا ہو؟
میری بات کا برا مت منائیے مگر اپنے بچوں کے بجائے خود اسکول میں داخل ہوجائیے ایک ہفتے میں ذہنی مریض بن کر باہر نہ آجائیں تو پھر بات کیجئیے گا.
Copied

02/05/2022

روزہ چند منٹوں کا مہمان بن کے جا رہا ہے
خدا کرے اگلے سال مجھے اور آپ کو دوبارہ یہ ماہ خوشیوں سے نصیب ہو جاۓ.
آمین

‏بدل کړې پکې خامخا دا حال د پښتنواے خدایا بختور کړی نوی کال د پښتنو...
01/01/2022

‏بدل کړې پکې خامخا دا حال د پښتنو
اے خدایا بختور کړی نوی کال د پښتنو...

خوشخبری سعودی حکومت نے ایک دفعہ پھر بیرون ملک اقامہ ھولڈر کے اقامے تجدید کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ 01.12.2021سے 31.01.2...
28/11/2021

خوشخبری سعودی حکومت نے ایک دفعہ پھر بیرون ملک اقامہ ھولڈر کے اقامے تجدید کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ 01.12.2021سے 31.01.2022 تک ہوگی

یکم دسمبر 2021 سے 6 ممنوعہ ممالک سے براہ راست پروازوں کو اجازت دی گئی ہے لیکن سعودی عرب سے باہر ویکسینیشن کروانے والوں ک...
25/11/2021

یکم دسمبر 2021 سے 6 ممنوعہ ممالک سے براہ راست پروازوں کو اجازت دی گئی ہے لیکن سعودی عرب سے باہر ویکسینیشن کروانے والوں کو قرنطینہ لازمی ھوگا.

اہم پیغام کرکٹ لوورز  کے نام*. 🎤🎤🎤🎤🌈🌈🌈💥💥💥💫💫💫🌸🌸💐💐💐💐💐💐💐🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹*دوستو جمعرات کے شام انتہائی برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آ...
11/11/2021

اہم پیغام کرکٹ لوورز کے نام*. 🎤🎤🎤🎤🌈🌈🌈💥💥💥💫💫💫🌸🌸💐💐💐💐💐💐💐🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹*دوستو جمعرات کے شام انتہائی برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ لوگوں نے چند حفاظتی تدابیر اختیار کرنی ہے*
1:میچ شروع ہونے سے پہلے اپنے ارد گرد کا ماحول کا جائزہ لینا ھے کوئی غیر ضروری چیز پڑی ہو تو سائیڈ کر دینی ھے
2:اگر آپ بڑے بھائی ہیں تو چھوٹے بھائیوں سے تھوڑے فاصلے پر الگ بیٹھیں ورنہ ان کو خوامخواہ کٹ پڑ سکتی ھے 😃😃😃🤭🤭🤭🤭
3: پانی کا انتظام کرکے بیٹھیں لازم ھے یہ 🤣🤣
4:جمعرات کو نمک کا استعمال کم کریں کیونکہ بلڈ پریشر ویسے ہائی رہے گا اس دن 💯💯💯💯✅✅✅✅✅
دوستو یاد رکھیں نہ قصور سامنے پڑی ٹی وی کا ہوگا نہ ساتھ بیٹھے چھوٹے بھائیوں کزنوں کا اور نہ ہی زندگی ختم ہو جانی ھے خدا را ان چیزوں کا خیال کرنا ھے 💯💯✅✅✅😂😂😂😂😂🤣🤣🤭🤭🤭🤭🤭🤭🤭

15/10/2021

-سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار17 اکتوبر سے اپنی کورونا وائرس روکنے والی پابندیوں اور صحت سے متعلق احتیاطی تدابیر میں نرمی شروع کرے گا۔
وزارت داخلہ کے ایک سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مملکت جامع مسجد کو پوری صلاحیت سے کام کرنے کی اجازت دے گی ، جبکہ کارکنوں اور زائرین کو ہر وقت چہرے کے ماسک پہننا جاری رکھنا چاہیے۔
سعودی عرب بیرونی ماسک کے احکامات کو خارج کردے گا سوائے خارج کردہ جگہوں کے ، لیکن پھر بھی گھر کے اندر چہرے کو ڈھانپنے کی ضرورت ہے۔
سماجی دوری کے ضوابط میں اب سماجی دوری کی ضرورت نہ رکھنے کے فیصلے کو بھی ختم کر دیا جائے گا اور عوامی مقامات ، ٹرانسپورٹ ، ریستوران ، سینما
احتیاطی تدابیر کے ذریعے پرہیز کی اہمیت کی تصدیق کرتے ہوئے کسی بھی تعداد میں افراد کے لیے شادی کے اجتماعات کی بھی اجازت ہوگی۔ -

Address

Lewanydraman
Mingora
0946

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qalagay United posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Qalagay United:

Share