26/04/2026
(کراچی (26 اپریل 2026
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سپریم ہیڈ امان اللہ خان کی دسویں برسی کے موقع پر کراچی کے ایک مقامی ہال میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان "فکرِ امان کانفرنس" رکھا گیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض ایس ایل ایف سندھ ڈویژن کے جنرل سیکرٹری ولید عباسی نے انجام دیے۔
ایس ایل ایف سندھ ڈویژن کے صدر عدیل مغل نے قائد تحریک امان اللہ خان کی سوانح حیات پیش کی۔
مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ امان اللہ خان مادرِ وطن کے عظیم فرزند تھے، جن کی اعلیٰ سیاسی بصیرت، عملی جدوجہد اور مؤثر سفارتکاری کے نتیجے میں مسئلہ جموں کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں نمایاں مدد ملی۔ انہوں نے دو ملکی تنازعے کے پس منظر میں دبے ہوئے مسئلہ کشمیر کو کشمیری قوم کے آزادی کے تناظر میں دنیا کے سامنے پیش کیا، جو تحریک آزادی کا ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلہ کی حثیت رکھتا ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ امان اللہ خان کو محض ایک سیاسی رہنما کے طور پر دیکھنا ان کی جدوجہد کے ساتھ ناانصافی ہے۔ وہ ایک فکر، ایک نظریہ اور ایک ایسی تحریک کے نمائندہ تھے جس کا مقصد کشمیری عوام کو آزادی دلانا تھا۔ انہوں نے اس بات کا ادراک کر لیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل محض جذباتی نعروں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط فکری بنیاد اور مستقل مزاج جدوجہد ضروری ہے۔
اسی سوچ کے تحت انہوں نے 1962 میں "وائس آف کشمیر" کا اجرا کیا، جو ایک فکری محاذ کی حیثیت رکھتا تھا اور اس بات کی علامت تھا کہ کشمیر کا مقدمہ علمی و نظریاتی بنیادوں پر بھی لڑا جائے گا۔
مقررین نے مزید کہا کہ امان اللہ خان کی جدوجہد کا نمایاں پہلو ان کی ثابت قدمی تھی۔ قید و بند، جلاوطنی اور سیاسی دباؤ کے باوجود انہوں نے اپنے اصولی مؤقف پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی خصوصیت انہیں ایک عام سیاسی رہنما سے ممتاز کرتی ہے۔
انہوں نے اپنی تحریروں اور تقاریر کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو مضبوط فکری بنیاد فراہم کی۔ ان کا اندازِ بیان مدلل اور بامقصد تھا، جو آج بھی سنجیدہ حلقوں کے لیے ایک اہم حوالہ ہے۔
امان اللہ خان نے نظریہ خودمختار جموں کشمیر کو نہ صرف فکری و نظریاتی بنیادیں فراہم کیں بلکہ قوم کو متحد کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات کیے۔ ان کی کاوشوں میں کشمیر لبریشن الائنس، حریت کانفرنس اور کل جماعتی کمیٹی برائے حق خودارادیت جیسے پلیٹ فارمز شامل ہیں۔
انہوں نے 3 جولائی 1992 کو راولاکوٹ میں انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس منعقد کرنے کی کوشش بھی کی، جس میں دونوں اطراف سے 180 سے زائد رہنماؤں کی شرکت متوقع تھی، تاہم پاکستان اور بھارت کی جانب سے ویزہ پابندیوں کے باعث یہ کانفرنس منعقد نہ ہو سکی۔
کانفرنس سے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ممبر سپریم کونسل خواجہ عبداللہ ایڈوکیٹ، سردار منصف، چیف آرگنائزر آزاد کشمیر گلگت بلتستان زون وحید حیات، صدر سندھ راشد عظیم، جنرل سیکرٹری سردار عاقب، نائب صدر سردار ظفر اقبال، آرگنائزر راجہ شاہد، لبریشن لیگ سندھ کے چیئرمین راجہ وسیم، عوامی ورکر پارٹی کراچی کے شفیع شیخ، عزیز الرحمن، ممتاز خان، ولی الرحمن ، عمران مغل اور ایس ایل ایف سندھ کے صدر عدیل مغل سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
جاری کردہ : شعبہ نشرواشاعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سندھ (ڈویژن)