17/05/2026
ضلع مومند میں عیدالفطر کے موقع پر منعقد ہونے والے "باچا خان امن میلہ" کے منتظمین اور PSF کے ساتھیوں کو اب یہ دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ اگر عیدالاضحٰی کے موقع پر دوبارہ اس امن میلے کا انعقاد کیا گیا تو دہشتگردوں کی جانب سے انہیں ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ کیسی ریاست ہے جہاں نوجوانوں کو بابائے امن باچا خان کے نام پر ایک پرامن اور فکری پروگرام منعقد کرنے کی بھی اجازت نہیں؟ یہ کیسی ضلعی انتظامیہ ہے جو دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے خود طلباء اور نوجوانوں کو خوفزدہ کررہی ہے؟ اگر آج مومند میں "امن میلہ" بھی دہشتگردوں کے خوف سے منع ہوگا تو پھر کل کو کتاب، قلم، مشاعرہ، موسیقی اور ہر امن کی آواز پر پابندی لگادی جائے گی۔
باچا خان امن میلہ کوئی اسلحہ بردار اجتماع نہیں، بلکہ امن، شعور، ثقافت، نغموں اور نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کا نام ہے۔ اگر ریاست نوجوانوں کو ایک پرامن ایونٹ کیلئے بھی تحفظ فراہم نہیں کرسکتی تو پھر ایسے عہدوں پر بیٹھے افسران کو اپنی کرسیوں پر بیٹھنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ وہ مستعفی ہوجائیں، کیونکہ لوگوں کو تحفظ دینا ریاست اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، نہ کہ دہشتگردوں کے خوف کو جواز بناکر امن کی آوازوں کو خاموش کرنا۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پختون نوجوان دہشتگردی، خوف اور جبر کے سامنے جھکنے والے نہیں۔ جس سرزمین نے باچا خان جیسے امن کے علمبردار پیدا کئے ہوں، وہاں امن کے نغمے بھی گونجیں گے، ثقافت بھی زندہ رہے گی اور نوجوان بھی اپنے حقِ اظہار کیلئے کھڑے رہیں گے۔
ضلع مومند میں عیدالفطر کے موقع پر منعقد ہونے والے "باچا خان امن میلہ" کے منتظمین اور PSF کے ساتھیوں کو اب یہ دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ اگر عیدالاضحٰی کے موقع پر دوبارہ اس امن میلے کا انعقاد کیا گیا تو دہشتگردوں کی جانب سے انہیں ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ کیسی ریاست ہے جہاں نوجوانوں کو بابائے امن باچا خان کے نام پر ایک پرامن اور فکری پروگرام منعقد کرنے کی بھی اجازت نہیں؟ یہ کیسی ضلعی انتظامیہ ہے جو دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے خود طلباء اور نوجوانوں کو خوفزدہ کررہی ہے؟ اگر آج مومند میں "امن میلہ" بھی دہشتگردوں کے خوف سے منع ہوگا تو پھر کل کو کتاب، قلم، مشاعرہ، موسیقی اور ہر امن کی آواز پر پابندی لگادی جائے گی۔
باچا خان امن میلہ کوئی اسلحہ بردار اجتماع نہیں، بلکہ امن، شعور، ثقافت، نغموں اور نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کا نام ہے۔ اگر ریاست نوجوانوں کو ایک پرامن ایونٹ کیلئے بھی تحفظ فراہم نہیں کرسکتی تو پھر ایسے عہدوں پر بیٹھے افسران کو اپنی کرسیوں پر بیٹھنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ وہ مستعفی ہوجائیں، کیونکہ لوگوں کو تحفظ دینا ریاست اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، نہ کہ دہشتگردوں کے خوف کو جواز بناکر امن کی آوازوں کو خاموش کرنا۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پختون نوجوان دہشتگردی، خوف اور جبر کے سامنے جھکنے والے نہیں۔ جس سرزمین نے باچا خان جیسے امن کے علمبردار پیدا کئے ہوں، وہاں امن کے نغمے بھی گونجیں گے، ثقافت بھی زندہ رہے گی اور نوجوان بھی اپنے حقِ اظہار کیلئے کھڑے رہیں گے۔