03/06/2026
بہاولپور کی ایک ایسی کہانی جسے پڑھ کر شاید آپ کی آنکھیں بھی نم ہو جائیں…
ہم سب اپنی زندگیوں میں مصروف ہیں۔ کوئی عید کی خریداری کر رہا ہے، کوئی اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے لے رہا ہے، کوئی اچھے کھانوں اور خوشیوں کی تیاریوں میں لگا ہوا ہے۔ لیکن انہی خوشیوں کے درمیان کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی زندگی میں خوشیوں کی جگہ صرف ذمہ داریاں، قربانیاں اور خاموش آنسو رہ جاتے ہیں۔...
آج میری ملاقات ایک ایسے بزرگ بابا جی سے ہوئی جن کی عمر تقریباً 75 سال ہے۔ چہرے پر وقت کی لکھی ہوئی بے شمار جھریاں، کمزور جسم، سفید بال، لیکن پھر بھی روز صبح گھر سے نکل کر رزق حلال کمانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ ان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ضرور نظر آتی ہے، مگر جب آپ ان کی زندگی کی کہانی سنتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے درد کا ایک سمندر چھپا ہوا ہے۔...
بابا جی کا جوان بیٹا چند سال پہلے اس دنیا سے چلا گیا۔ ایک باپ کے لیے اس سے بڑا صدمہ شاید کوئی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے جوان بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارے۔ جس بچے کو اپنی انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہو، جس کے لیے دن رات محنت کی ہو، جس کے روشن مستقبل کے خواب دیکھے ہوں، اچانک اس کا دنیا سے چلے جانا ایک ایسا زخم ہوتا ہے جو زندگی بھر نہیں بھرتا۔...
لیکن آزمائش یہیں ختم نہیں ہوئی۔...
ان کا بیٹا اپنے پیچھے تین معصوم بچوں کو چھوڑ گیا۔ آج وہ تینوں بچے اپنے دادا کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک ایسا دادا جو خود بڑھاپے کی عمر میں ہے، جسے آرام کی ضرورت ہے، جسے دوائیوں اور سکون کی ضرورت ہے، مگر وہ اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود ان بچوں کے لیے ماں بھی بنا ہوا ہے اور باپ بھی۔,,,,
بہاولپور کے اسلامیہ یونیورسٹی چوک، اولڈ کیمپس کے قریب برینڈز کے پاس بابا جی پاپڑوں کی ریڑھی لگاتے ہیں۔ سخت گرمی ہو، لو چل رہی ہو یا تھکن سے جسم ٹوٹ رہا ہو، وہ پھر بھی اپنی ریڑھی لگا کر کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ گھر میں تین ننھے چہرے ان کے منتظر ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر آج ریڑھی نہ لگائی تو شام کو بچوں کے لیے روٹی کا انتظام مشکل ہو جائے گا۔---
سب سے زیادہ دل دکھانے والی بات یہ ہے کہ اکثر وہ بچے بھی ان کے ساتھ ریڑھی پر موجود ہوتے ہیں۔ جب آپ ان بچوں کو دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے بہت چھوٹی عمر میں زندگی کی وہ تلخ حقیقت دیکھ لی ہے جو شاید بڑے بڑے لوگ بھی برداشت نہ کر سکیں۔....
عید آئی تو ہر بچے کی طرح ان بچوں کی بھی خواہش تھی کہ انہیں نئے کپڑے ملیں، جوتے ملیں، وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح خوشیاں منائیں۔ لیکن بابا جی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے جب انہوں نے بتایا کہ جتنی آمدنی ہوئی وہ صرف گھر کے راشن اور روزمرہ ضروریات پر خرچ ہو گئی۔ بچے کپڑوں کے لیے منتظر رہے، مگر حالات اجازت نہ دے سکے۔....
سوچئے… جب ایک معصوم بچہ اپنے دادا سے نئے کپڑوں کی فرمائش کرتا ہوگا تو اس بزرگ کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ جب وہ بچے اپنے والد کو یاد کرتے ہوں گے تو ان کے دل میں کیا احساس آتا ہوگا؟ اور جب رات کو سب سو جاتے ہوں گے تو یہ بوڑھا باپ اپنے بیٹے کو یاد کر کے کتنی بار خاموشی سے آنسو بہاتا ہوگا؟???
ہم میں سے بہت سے لوگ روزانہ سینکڑوں اور ہزاروں روپے ایسی چیزوں پر خرچ کر دیتے ہیں جن کی ہمیں واقعی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ لیکن کہیں ایک بزرگ ایسا بھی ہے جو صرف چند سو روپے کمانے کے لیے پورا دن دھوپ میں کھڑا رہتا ہے تاکہ اس کے پوتے پوتیاں بھوکے نہ سوئیں۔...
یہ لوگ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے، کسی سے بھیک نہیں مانگتے، کسی کے دروازے پر جا کر اپنی غربت کا رونا نہیں روتے۔ یہ عزت دار لوگ ہیں، محنت کر کے کھانے والے لوگ ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہی لوگ ہماری مدد کے سب سے زیادہ حقدار ہوتے ہیں۔...
میں آپ سب سے دل کی گہرائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر آپ بہاولپور میں ہیں تو ایک بار ضرور بابا جی کی ریڑھی پر جائیں۔ ان سے پاپڑ خریدیں، ان کے ساتھ چند منٹ بیٹھیں، ان کا حال پوچھیں، اور اگر اللہ نے آپ کو استطاعت دی ہے تو ان کی مدد بھی کریں۔ یقین مانیں، آپ کے چند سو روپے شاید آپ کے لیے معمولی ہوں، لیکن کسی یتیم بچے کے لیے عید کی خوشی بن سکتے ہیں، کسی بزرگ باپ کے چہرے پر سکون لا سکتے ہیں۔
آئیں ہم سب مل کر ایسے سفید پوش لوگوں کا سہارا بنیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی ان بندوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے محتاج بندوں کی مدد کرتے ہیں,,,
مقام: اسلامیہ یونیورسٹی چوک، اولڈ کیمپس، برینڈز کے قریب، بہاولپور,,,
اللہ تعالیٰ بابا جی کو صحت، ہمت اور آسانیاں عطا فرمائے، ان کے مرحوم بیٹے کی مغفرت فرمائے اور ان معصوم بچوں کے نصیب اچھے کرے**