Dr Sajid Chaudhary

Call Contact the organization

Dr Sajid Chaudhary Dr Sajid Chaudary is an ENDOCRINOLOGIST, DIABETOLOGIST and A Consultant Physician . He is Super Expert in Diabetes,Thyroid, Obesity and Hormonal Issues.

He has done MBBS,FCPS Medicine &
2nd FCPS Fellowship in Endocrinology and Diabetes!

گزشتہ روز بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ نیوٹریشن میں موٹاپا اور اس سے آگاہی کے حوالے سے ایک خصو...
01/10/2026

گزشتہ روز بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ نیوٹریشن میں موٹاپا اور اس سے آگاہی کے حوالے سے ایک خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں مجھے بطور Guest Speaker مدعو کیا گیا۔

اس موقع پر میں نے موٹاپا، اس کے اسباب، صحت پر اس کے اثرات اور اس کی روک تھام و علاج کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ موٹاپے کا مؤثر اور دیرپا حل صرف ادویات تک محدود نہیں بلکہ ایک صحت مند طرزِ زندگی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

فاسٹ فوڈ اور غیر ضروری چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز،متوازن غذا کا استعمال ،روزمرہ جسمانی سرگرمی اور باقاعدہ ورزش موٹاپے کی روک تھام اور علاج میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ کم از کم 30 منٹ روزانہ واک یا ہفتے میں تقریباً 150 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ موٹاپے کے علاج میں موجود جدید ادویات، خصوصاً Tirzepatide، کے فوائد اور مختلف پہلوؤں پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

پروگرام کے دوران Getz Pharma کے تعاون سے BMI اور موٹاپے کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی، جبکہ شعبہ کے اساتذہ، اسٹاف اور طلبہ کے بلڈ گلوکوز کی اسکریننگ بھی کی گئی۔

پروگرام کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر محمد ریاض صاحب، ڈین، شعبہ فوڈ سائنس اینڈ نیوٹریشن تھے۔ شعبہ نیوٹریشن کے چیئرمین ڈاکٹر خرم صاحب نے پروگرام کے انتظامات نہایت خوبصورتی اور احسن انداز میں انجام دیے۔

اس محفل کی ایک خاص بات طلبہ کا غیر معمولی جوش و جذبہ تھا۔ طلبہ نے نہ صرف پروگرام کی نظامت انتہائی عمدگی سے سنبھالی بلکہ موٹاپے، غذائیت، ذیابیطس اور اس کے علاج سے متعلق متعدد دلچسپ اور اہم سوالات بھی کیے۔ ان کے سوالات نے اس علمی نشست کو مزید مفید اور interactive بنا دیا۔

ایسے پروگرامز نہ صرف علمی اور تعلیمی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک دوسرے کے تجربات، خیالات اور علم سے استفادہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

میں پروفیسر ڈاکٹر محمد ریاض صاحب، ڈین فوڈ سائنس اینڈ نیوٹریشن، ڈاکٹر خرم صاحب، چیئرمین شعبہ، تمام اساتذہ، طلبہ اورGetz Pharma کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اتنے احسن انداز میں اس پروگرام کا انعقاد کیا اور مجھے اس علمی سرگرمی کا حصہ بننے کا موقع دیا۔

ڈاکٹر محمد ساجد چودھری
FCPS | Endocrinologist & Consultant Physician

HealthAwareness

26/09/2026

آج کل سوشل میڈیا پر وزن کم کرنے والے انجیکشنز کے حوالے سے ایک خبر کافی گردش میں ہے کہ ان انجیکشنز کے استعمال سے بینائی جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔

بہت سے مریض یہ خبر دیکھ کر پریشان ہیں اور مجھ سے بھی یہ سوال کر رہے ہیں:

“ڈاکٹر صاحب، کیا واقعی یہ انجیکشن آنکھوں کی بینائی ختم کر سکتے ہیں؟”

تو آج کی اس ویڈیو میں میں اسی موضوع پر بات کروں گا، بحیثیت ایک اینڈوکرائنولوجسٹ اور کنسلٹنٹ فزیشن، اور کوشش کروں گا کہ اس حوالے سے موجودہ سائنسی معلومات کو آسان الفاظ میں آپ تک پہنچاؤں۔

سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی دوا کے بارے میں صرف ایک مضر اثر کی خبر سن کر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

کوئی بھی نئی دوا مارکیٹ میں آنے سے پہلے مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔

پہلے مرحلے میں بنیادی طور پر دوا کی حفاظت اور مناسب مقدار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں دوا کی افادیت اور حفاظت کو مزید جانچا جاتا ہے، جبکہ تیسرے مرحلے میں بڑی تعداد میں مریضوں پر اس دوا کے فوائد اور نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔

اس کے بعد متعلقہ ریگولیٹری ادارے تمام دستیاب شواہد کا جائزہ لے کر دوا کی منظوری دیتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے:

ہر مضر اثر کلینیکل ٹرائلز کے دوران سامنے آ جائے، یہ ضروری نہیں۔

کچھ بہت نایاب مضر اثرات ایسے ہوتے ہیں جو دوا کے لاکھوں مریضوں میں استعمال ہونے کے بعد سامنے آتے ہیں۔ اسی لیے دوا مارکیٹ میں آنے کے بعد بھی اس کی حفاظت پر مسلسل نظر رکھی جاتی ہے۔

اور یہی چیز ہمیں ان وزن کم کرنے والے انجیکشنز کے معاملے میں بھی سمجھنی ہے۔

اب بات کرتے ہیں ان ادویات کی۔

عام طور پر جن انجیکشنز کو لوگ وزن کم کرنے والے انجیکشن کہتے ہیں، ان میں Semaglutide ایک GLP-1 receptor agonist ہے، جبکہ Tirzepatide ایک GIP/GLP-1 receptor agonist ہے۔

یہ صرف وزن کم کرنے کی ادویات نہیں ہیں۔

یہ ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں اہم ادویات ہیں، اور بہت سے مریضوں میں خون میں شوگر کو بہتر کرنے اور وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ دل اور دوسرے میٹابولک مسائل کے حوالے سے بھی فوائد فراہم کرتی ہیں۔

ان ادویات کے کچھ عام مضر اثرات ضرور ہیں۔

مثلاً:

متلی، الٹی، دست، قبض، پیٹ میں بے آرامی اور پیٹ میں درد۔

خاص طور پر جب دوا کی مقدار بڑھائی جاتی ہے تو یہ علامات زیادہ محسوس ہو سکتی ہیں، اور بہت سے مریضوں میں وقت کے ساتھ یہ علامات بہتر بھی ہو جاتی ہیں۔

اب آتے ہیں اس خبر کی طرف جس نے سب سے زیادہ تشویش پیدا کی ہے:

بینائی کا متاثر ہونا۔

Semaglutide کے حوالے سے ایک بہت نایاب بیماری NAION کے ساتھ تعلق سامنے آیا ہے۔

NAION کا پورا نام ہے:

Non-arteritic anterior ischemic optic neuropathy۔

اس بیماری میں آنکھ سے دماغ تک بصری پیغام پہنچانے والی نس، یعنی optic nerve کو خون کی فراہمی متاثر ہونے کی وجہ سے اچانک یا تیزی سے بینائی کم ہو سکتی ہے۔

اب یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ:

یہ ایک بہت ہی نایاب یعنی Rare پیچیدگی ہے۔

یورپی میڈیسنز ایجنسی نے دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد NAION کو Semaglutide کا ایک بہت نایاب مضر اثر قرار دیا ہے، جس کی شرح تقریباً دس ہزار افراد میں ایک کیس تک بتائی گئی ہے۔

مگر یہ کہنا کہ:

“یہ انجیکشن استعمال کریں گے تو بینائی چلی جائے گی”

ایک درست بات نہیں ہے۔

لیکن دوسری طرف یہ کہنا بھی درست نہیں کہ:

“اس کا بینائی پر کوئی خطرہ ہی نہیں ہے۔”

طبی سائنس میں ہمیں دونوں چیزوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔

اگر کوئی مریض Semaglutide استعمال کر رہا ہے اور اسے اچانک ایک آنکھ کی بینائی میں کمی، نظر کے کسی حصے میں کمی، یا تیزی سے بینائی متاثر ہونے کی شکایت ہو تو اسے اس علامت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اسے فوری طور پر اپنے معالج اور آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہیے۔

اب ایک اور اہم سوال:

کیا صرف اس بہت نایاب مضر اثر کی وجہ سے ہم ان ادویات کے تمام فوائد کو نظر انداز کر دیں؟

اس کا جواب ہے کہ ہمیں ہر دوا کے فائدے اور ممکنہ نقصانات دونوں کو دیکھنا چاہیے۔

ہم طب میں کسی بھی دوا کو صرف اس بنیاد پر تجویز نہیں کرتے کہ اس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں۔

کیونکہ تقریباً ہر مؤثر دوا کے کچھ نہ کچھ مضر اثرات ہوتے ہیں۔

ہم یہ دیکھتے ہیں:

دوا سے فائدہ کتنا ہے؟
اس کا خطرہ کتنا ہے؟
اور اس خاص مریض میں دوا کے فائدے اور خطرے کا توازن کیا بنتا ہے؟

مثلاً ایک ایسے مریض میں جسے ٹائپ 2 ذیابیطس کے ساتھ موٹاپا ہو، دل کی بیماری ہو، جگر پر چربی ہو، یا دوسرے میٹابولک خطرات موجود ہوں، وہاں ان ادویات کے فوائد صرف وزن کم کرنے تک محدود نہیں رہتے۔

اسی لیے ان ادویات کو صرف “وزن کم کرنے والے انجیکشنز” سمجھنا بھی مکمل تصویر نہیں ہے۔

تو میرا پیغام بہت سادہ ہے:

نہ غیر ضروری خوف، اور نہ غیر ضروری تسلی۔

ہمیں سائنسی شواہد کو دیکھنا چاہیے۔

اگر آپ یہ دوا استعمال کر رہے ہیں تو صرف سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کسی خبر کی بنیاد پر اسے خود سے بند نہ کریں۔

اپنے معالج یا اینڈوکرائنولوجسٹ سے بات کریں، اپنے انفرادی خطرات کو سمجھیں، اور پھر باخبر فیصلہ کریں۔

اور اگر Semaglutide استعمال کرتے ہوئے اچانک یا تیزی سے بینائی متاثر ہو تو اسے بالکل نظر انداز نہ کریں—فوری طور پر طبی اور آنکھوں کے ماہر سے معائنہ کروائیں۔

آخر میں صرف ایک بات یاد رکھیں:

ہر دوا کے فوائد بھی ہوتے ہیں اور خطرات بھی۔
صحیح طبی فیصلہ وہ ہے جو سائنسی شواہد، مریض کے انفرادی خطرات اور دوا کے فوائد و نقصانات کو سامنے رکھ کر کیا جائے—نہ کہ صرف سوشل میڈیا کی ایک خبر دیکھ کر۔
ڈاکٹر محمد ساجد چودھری
ایف سی پی ایس
اینڈوکرائنولوجسٹ و کنسلٹنٹ فزیشن

موٹاپا اور اس کے جدید علاج پر ایک مفید علمی نشستگزشتہ روز گیٹس فارما کے تعاون سے موٹاپے اور اس کے جدید علاج، خصوصاً Weig...
25/09/2026

موٹاپا اور اس کے جدید علاج پر ایک مفید علمی نشست

گزشتہ روز گیٹس فارما کے تعاون سے موٹاپے اور اس کے جدید علاج، خصوصاً Weight-Loss Injections کے حوالے سے ایک مفید آگہی سیمینار میں شرکت کا موقع ملا، جس میں بڑی تعداد میں ڈاکٹرز نے شرکت کی۔

نشست کے دوران Semaglutide سمیت جدید anti-obesity therapies کے استعمال، فوائد، مریضوں کے انتخاب اور ممکنہ مضر اثرات پر تفصیلی اور عملی گفتگو ہوئی۔

سوشل میڈیا پر Semaglutide کے حوالے سے آنکھوں کی بینائی متاثر ہونے کی حالیہ بحث بھی زیرِ گفتگو آئی۔ اس حوالے سے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ بینائی سے متعلق پیچیدگیاں نایاب (Rare)ہیں اور انہیں عام side effect نہیں سمجھا جاتا۔میں بہت سے مریضوں کو یہ ادویات تجویز کر چکا ہوں مگر الحمد اللہ میرے کسی بھی مریض میں بینائ سے متعلق کوئ مسلہ نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی ہم پیشہ ڈاکٹر صاحبان نے ایسا کیس رپورٹ کیا ۔ بہر حال ہر مریض میں دوا شروع کرنے سے پہلے اس کے فوائد اور ممکنہ risks کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے اور مریض کو اس بارے میں ضرور آگاہ کرنا چاہیے-

متلی، قے، بدہضمی، پیچش، ڈکار اور گیس جیسے gastrointestinal side effects نسبتاً عام ہو سکتے ہیں، اس لیے ایسی ادویات کا استعمال ماہر ڈاکٹر، خصوصاً Endocrinologist، Diabetologist یا متعلقہ Physician کے مشورے سے ہی ہونا چاہیے۔

ایسی علمی نشستیں نہ صرف جدید علاج کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ clinical practice میں پیش آنے والے مختلف اور پیچیدہ معاملات پر ماہرین کے درمیان تبادلۂ خیال کا بہترین موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

بہتر علاج کے لیے علم، تجربہ اور evidence-based practice کا امتزاج ضروری ہے۔

“پاؤں کا سن ہونا، جلن اور سوئیاں چبھنے کی علامات — کیا یہ نیوروپیتھی ہو سکتی ہے؟”“نیوروپیتھی: تشخیص، علامات اور جدید علا...
17/09/2026

“پاؤں کا سن ہونا، جلن اور سوئیاں چبھنے کی علامات — کیا یہ نیوروپیتھی ہو سکتی ہے؟”

“نیوروپیتھی: تشخیص، علامات اور جدید علاج پر ایک علمی نشست
گزشتہ روز ہوٹل فلیٹیز، ملتان میں گیٹز فارما (Getz pharma) کے تعاون سے نیوروپیتھی کے موضوع پر ایک علمی و آگاہی سیمینار منعقد ہوا۔

اس سیشن کا بنیادی مقصد ذیابیطس کی وجہ سے نیوروپیتھی اور دیگر اقسام کی نیوروپیتھی کے اسباب، علامات، تشخیص اور جدید علاج کے طریقۂ کار پر سیر حاصل گفتگو کرنا تھا۔

پروگرام میں میڈیسن، اینڈوکراینولوجی، کارڈیالوجی، نیورولوجی، نیورو سرجری اور جنرل پریکٹس سے تعلق رکھنے والے معزز ڈاکٹرزصاحبان نے شرکت کی اور اپنے کلینیکل تجربات اور مشاہدات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے۔

ڈائبیٹک نیوروپیتھی ذیابیطس کی ایک عام اور اہم پیچیدگی ہے، تاہم نیوروپیتھی کی دیگر وجوہات میں بھی مختلف بیماریاں اور عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔ مریض میں علامات کی درست شناخت، تفصیلی طبی معائنہ اور ضرورت کے مطابق متعلقہ ٹیسٹس کے ذریعے بروقت تشخیص کی جا سکتی ہے۔

ایسے علمی سیشنز کا اصل مقصد صرف ڈاکٹرز کی آگہی اور علم میں اضافہ نہیں بلکہ مریضوں کی بہتر تشخیص، مؤثر علاج اور معیارِ زندگی میں بہتری ہے۔ مختلف شعبہ جات کے ماہرین کا باہمی تجربات کا تبادلہ بالآخر اس علم اور تجربے کو مریض تک بہتر انداز میں منتقل کرنے میں مدد دیتا ہے

08/09/2026

پاکستان آرمڈ فورسز زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

ہوٹل فیلٹیز، ملتان میں ذیابیطس سے آگاہی کے حوالے سے علمی سیمینار کا انعقادملتان: ہوٹل فیلٹیز میں ذیابیطس سے آگاہی کے موض...
03/09/2026

ہوٹل فیلٹیز، ملتان میں ذیابیطس سے آگاہی کے حوالے سے علمی سیمینار کا انعقاد

ملتان: ہوٹل فیلٹیز میں ذیابیطس سے آگاہی کے موضوع پر Getz Pharma کی طرف سے ایک علمی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں جنرل پریکٹیشنرز اور جنرل فزیشنز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کے سپیکر اینڈوکرائئولوجسٹ ڈاکٹر محمد ساجد چودھری تھے۔سیمینار کا بنیادی مقصد ذیابیطس کی بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور انسولین کے درست استعمال کے حوالے سے معالجین کے علم میں اضافہ اور باہمی تجربات کا تبادلہ تھا۔

سیمینار کے دوران اس امر پر روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے، اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے پیش نظر بروقت تشخیص اور مؤثر علاج انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

شرکاء کو انسولین کے استعمال سے متعلق اہم نکات سے آگاہ کیا گیا، جن میں یہ شامل تھا کہ انسولین کب، کیسے اور کن مریضوں میں ضروری ہوتی ہے۔ عوام میں انسولین کے بارے میں پائے جانے والے غلط تصورات، جیسے سوئی لگنے کا خوف، انسولین شروع ہونے کے بعد اسے بند نہ کر سکنے کا تاثر، گردوں پر اس کے اثرات، کمزوری اور شوگر لو ہونے کی صورت میں مناسب مینجمنٹ پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مزید برآں، ذیابیطس کی علامات، احتیاطی تدابیر، جدید ادویات اور مریضوں کی مجموعی دیکھ بھال کے مختلف پہلوؤں پر بھی سائنسی انداز میں تبادلۂ خیال ہوا۔

سیمینار کے دوران حاضرین نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا، سوالات کیے اور علمی گفتگو میں فعال شرکت کی، جس سے یہ پروگرام ایک کامیاب نالج شیئرنگ سیشن ثابت ہوا۔

اختتام پر یہ ضروری پیغام دیا گیا کہ جو لوگ ذیابیطس، موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر، خون میں کولیسٹرول کی زیادتی یا غیر صحت مند طرزِ زندگی کا شکار ہیں تو بروقت اپنے معالج سے رجوع کریں۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب ادویات، ضرورت کے مطابق انسولین کا استعمال اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل ہی ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے۔

چند روز قبل رمادا ہوٹل، ملتان میں شائیگان فارماسیوٹیکل کے زیرِ اہتمام معدے اور خوراک کی نالی میں جلن (Acidity/GERD) کے م...
29/08/2026

چند روز قبل رمادا ہوٹل، ملتان میں شائیگان فارماسیوٹیکل کے زیرِ اہتمام معدے اور خوراک کی نالی میں جلن (Acidity/GERD) کے موضوع پر ایک معلوماتی سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ اس تقریب میں نظامت کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔

معدے اور خوراک کی نالی میں جلن ایک نہایت عام مسئلہ ہے، لیکن اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا بعض اوقات سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کی عام وجوہات میں مرچ مصالحے اور مروغن غذاؤں کا زیادہ استعمال، موٹاپا، تمباکو نوشی، بے قاعدہ طرزِ زندگی، رات گئے کھانا کھانا، اور بعض طبی بیماریاں شامل ہیں۔

سیمینار میں ماہرینِ امراضِ معدہ نے نہایت مفید گفتگو کی اور حاضرین کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔ اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ اگر سینے یا خوراک کی نالی میں جلن بار بار ہو، نگلنے میں دشواری پیش آئے، وزن بلا وجہ کم ہونے لگے، بار بار قے آئے، قے یا پاخانے میں خون نظر آئے، یا علامات ادویات کے باوجود برقرار رہیں، تو فوراً مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ کسی سنجیدہ بیماری کی علامت بھی ہو سکتی ہیں۔

شائیگان فارماسیوٹیکل کے بارے میں ایک ذاتی تجربہ بھی میرے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا۔ تقریباً چار پانچ سال قبل ایک کام کے سلسلے میں راولپنڈی جانے کا اتفاق ہوا، جہاں شائیگان فارماسیوٹیکل نے اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹ کے دورے کی دعوت دی۔ وہاں جدید مشینری، بین الاقوامی معیار کے مطابق کوالٹی کنٹرول، اور ادویات کی تیاری کا منظم نظام دیکھ کر میں واقعی متاثر ہوا۔ ایک پاکستانی ادارے کو اس معیار پر کام کرتے دیکھ کر خوشی اور فخر دونوں محسوس ہوئے۔

اس پوسٹ کے ساتھ موجود چند تصاویر اسی دورے کی یادگار ہیں، جبکہ کچھ تصاویر حالیہ سیمینار کی ہیں۔ امید ہے کہ اس معلوماتی نشست سے حاصل ہونے والا شعور معدے کی بیماریوں کی بروقت تشخیص، مناسب علاج اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

شائیگان فارماسیوٹیکل اور تمام ماہرینِ کرام کا شکریہ کہ انہوں نے صحتِ عامہ جیسے اہم موضوع پر آگاہی فراہم کرنے کا اہتمام کیا۔

25/08/2026

یادِ رفتگاں — آرمی پبلک کالج

کسی بھی طالب علم کی زندگی میں اس کا سکول اور کالج کا زمانہ ہمیشہ یادگار رہتا ہے، اور میرے لیے بھی یہی حقیقت ہے۔

آج تقریباً پچیس سال بعد اپنے مادرِ علمی آرمی پبلک کالج (جو اب آرمی پبلک سکول اینڈ کالج کہلاتا ہے) جانے کا موقع ملا۔ اپنے بھتیجے کی پی ٹی ایم کے سلسلے میں جب اس ادارے میں داخل ہوا تو یادوں کا ایک پورا جہان آنکھوں کے سامنے تازہ ہو گیا۔

سن 1999 میں جب ہمارا یہاں داخلہ ہوا تو آرمی پبلک کالج اپنی ابتدائی منزلوں میں تھا۔ ہمارا دوسرا بیچ تھا، جبکہ اس وقت آرمی پبلک سکول اور کالج الگ الگ ادارے تھے۔ 2001 میں ایف ایس سی مکمل کرکے ہم نے اسی ادارے سے رخصت لی۔ اُس زمانے میں طلبہ کی تعداد بہت کم تھی، چند ہی سیکشنز ہوتے تھے، مگر الحمدللہ آج انہی ساتھیوں میں سے بہت سے افراد مختلف شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔

اس وقت کالج اپنے سفر کے آغاز میں تھا، جبکہ آج ماشاءاللہ یہی ادارہ مختلف جدید بلاکس اور عمارتوں پر مشتمل ایک مکمل تعلیمی مرکز بن چکا ہے، جہاں سکول اور کالج دونوں کی سطح پر ہزاروں طلبہ علم حاصل کر رہے ہیں۔

آج اس کی راہداریوں میں چلتے ہوئے اپنے زمانۂ طالب علمی، ایف ایس سی کے دنوں اور اُن خوبصورت یادوں نے دل کو ایک عجیب سی خوشی اور اپنائیت سے بھر دیا۔ یہی وہ دور تھا جس نے میرے میڈیکل کالج میں داخلے کی بنیاد رکھی اور زندگی کی سمت متعین کی۔

اسی یادگار موقع پر اپنے پرانے کلاس فیلوز اور دوستوں کے لیے چند تصاویر بھی محفوظ کیں تاکہ ہم سب اپنی مشترکہ یادوں کو ایک بار پھر تازہ کر سکیں۔

آرمی پبلک کالج زندہ باد!
پاکستان پائندہ باد! 🇵🇰

شوگر اور موٹاپے کا جدید علاج :  GLP-1 &GIP Analogues Tirzepatide مختلف طبی شعبوں میں ٹرزیپاٹائڈ کا ابھرتا ہوا کردارپاکست...
22/08/2026

شوگر اور موٹاپے کا جدید علاج :
GLP-1 &GIP Analogues
Tirzepatide مختلف طبی شعبوں میں ٹرزیپاٹائڈ کا ابھرتا ہوا کردار

پاکستان میں GLP-1 اور GIP اینالاگز گزشتہ کچھ عرصے سے معالجین اور عوام دونوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان ادویات کا بنیادی استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں ہے، تاہم حالیہ سائنسی شواہد نے یہ واضح کیا ہے کہ ان کے فوائد قلبی امراض، معدے و جگر کی بعض بیماریوں اور دیگر میٹابولک عوارض تک بھی پھیل رہے ہیں، جس کے باعث مختلف میڈیکل سپیشلٹیز میں ان کے استعمال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ⁠

اسی تناظر میں فیروز سنز کے زیرِ اہتمام رمادا ہوٹل، ملتان میں GLP-1 اور GIP ریسیپٹر ایگونسٹ ٹرزیپاٹائڈ (Tirzepatide) کے موضوع پر ایک بین الشعبہ جاتی سائنسی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس نشست میں اینڈوکرائنولوجی، کارڈیالوجی، گیسٹرواینٹرولوجی اور جنرل پریکٹس سمیت مختلف شعبہ ہائے طب سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی اور ٹرزیپاٹائڈ کے سائنسی، طبی اور عملی استعمال کے مختلف پہلوؤں پر اپنے تجربات اور آراء پیش کیں۔

شرکاء نے اس بات پر تبادلۂ خیال کیا کہ ٹرزیپاٹائڈ، جو GLP-1 اور GIP دونوں ریسیپٹرز پر اثر انداز ہونے والی پہلی دوا ہے، نہ صرف خون میں شوگر کے مؤثر کنٹرول اور وزن میں کمی میں مددگار ثابت ہو رہی ہے بلکہ متعدد مریضوں میں قلبی و میٹابولک خطرات کو کم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے-

نشست کا بنیادی مقصد مختلف طبی شعبوں کے ماہرین کے درمیان سائنسی معلومات کا تبادلہ، ٹرزیپاٹائڈ کے مناسب اور محفوظ استعمال کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ، اور ایسے مریضوں کے لیے بہترین علاج کے انتخاب پر گفتگو تھا جو موٹاپے، ذیابیطس یا دیگر متعلقہ میٹابولک بیماریوں کا شکار ہیں۔

اس نوعیت کی علمی نشستیں معالجین کو جدید تحقیق اور بین الاقوامی رہنما اصولوں سے ہم آہنگ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جس کا حتمی فائدہ مریضوں کو بہتر، محفوظ اور مؤثر علاج کی صورت میں پہنچتا ہے

گزشتہ روز مجھے Searle فارما کی جانب سے بطور اسپیکر ایک علمی سیشن میں شرکت اور Tirzepatide پر پریزنٹیشن دینے کا اعزاز حاص...
20/08/2026

گزشتہ روز مجھے Searle فارما کی جانب سے بطور اسپیکر ایک علمی سیشن میں شرکت اور Tirzepatide پر پریزنٹیشن دینے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس سیشن میں مختلف اسپیشلٹیز سے تعلق رکھنے والے معزز ڈاکٹرز نے شرکت کی۔

اپنی گفتگو میں میں نے Tirzepatide کی افادیت، اس کے Dual GIP/GLP-1 Receptor Agonist ہونے کی خصوصیت، اور مختلف بین الاقوامی کلینیکل ٹرائلز، خصوصاً SURPASS اور SURMOUNT پروگرامز کے نتائج پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی Semaglutide اور دیگر ادویات کے ساتھ اس کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا۔

Tirzepatide نہ صرف ٹائپ 2 ذیابیطس کے مؤثر علاج میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ وزن میں نمایاں کمی، فیٹی لیور، موٹاپے سے وابستہ ہارمونل بے ترتیبی، Sleep apnea ، اور قلبی خطرات میں کمی جیسے متعدد فوائد بھی فراہم کرتی ہے۔

البتہ، یہ دوا ہمیشہ مستند معالج، خصوصاً اینڈوکرائنولوجسٹ، کے مشورے سے استعمال کی جانی چاہیے۔

ایسے علمی سیشنز نہ صرف معالجین کے درمیان جدید طبی معلومات کے تبادلے کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ بالآخر اس کا سب سے بڑا فائدہ مریضوں کو پہنچتا ہے، کیونکہ جدید شواہد پر مبنی علاج بہتر طبی نتائج کا باعث بنتا ہے۔

ا
Searle کی طرف سے نیا تیار کردہ Tirzepatide ، جو پاکستان میں دستیاب Tirzepatide برانڈز میں ایک خوش آئند اضافہ ہے۔

Searleفارما کا شکریہ کہ انہوں نے مجھے اس علمی نشست میں اپنے خیالات اور جدید سائنسی شواہد شیئر کرنے کا موقع فراہم کیا۔ امید ہے کہ اس نوعیت کی علمی سرگرمیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی اور ں مریضوں کی بہتر نگہداشت میں معاون ثابت ہوں گی-

Address

Multan
60000

Telephone

+92614543577

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Sajid Chaudhary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Dr Sajid Chaudhary:

Shortcuts

Share