National Geography Pakistan

National Geography Pakistan Climate change and globalwarming is fact, let's work together to aware the People and mittigate prob

Stunning view from our room  HotelsHunza Serena Hotel. GB.
10/08/2025

Stunning view from our room Hotels
Hunza Serena Hotel. GB.

چولستان میں نایاب پرندے ”گریٹ انڈین بسٹرڈ (بھکر)“ کی موجودگی کا نیا ریکارڈ قائمچولستان کے صحرا میں ”گریٹ انڈین بسٹرڈ“ کی...
25/07/2025

چولستان میں نایاب پرندے ”گریٹ انڈین بسٹرڈ (بھکر)“ کی موجودگی کا نیا ریکارڈ قائم
چولستان کے صحرا میں ”گریٹ انڈین بسٹرڈ“ کی موجودگی کی نئی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کر دیں
سید رضوان محبوب نے اس منظر کو پاکستان میں جنگلی حیات کی نایاب دستاویزات میں سے ایک قرار دیا ہے
20 جولائی 2025ء کو لی گئی ان تصاویر میں پہلی مرتبہ پاکستان میں چولستان کے اندر گریٹ انڈین بسٹرڈ کی افزائش نسل سے قبل کے قدرتی مناظر کو بھی محفوظ کیا گیا ہے
تصاویر میں نر پرندے کا گولر سیک نمایاں طور پر پھولا ہوا دیکھا جا سکتا ہے
گزشتہ برس اسی علاقے میں پانچ بالغ گریٹ انڈین بسٹرڈ اور ایک چوزہ دیکھنے میں آیا تھا
رواں برس چھ پرندوں کی موجودگی نے پاکستان میں اس نایاب پرندے کی ایک محفوظ مگر چھوٹی آبادی کے وجود کی تصدیق کر دی ہے

دریائے برہم پترا طاقت اور جغرافیائی سیاسی اہمیت کا وہ ہتھیار ہے جس کا بٹن اس وقت چین کے پاس ہے۔دریائے برہما پترا، ایشیا ...
10/06/2025

دریائے برہم پترا طاقت اور جغرافیائی سیاسی اہمیت کا وہ ہتھیار ہے جس کا بٹن اس وقت چین کے پاس ہے۔

دریائے برہما پترا، ایشیا کے عظیم بین الاضلاعی دریاؤں میں سے ایک لائف لائن ہے جو چین، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے جغرافیہ اور معیشت کو تشکیل دیتی ہے۔

یہ دریا چین کے تبت کے خود مختار علاقے میں انگسی گلیشیئر سے نکلتا ہے، جہاں اسے یارلونگ سانگپو کہا جاتا ہے، یہ دریا بھارت کے تبت، اروناچل پردیش اور آسام سے ہوتا ہوا 2,900 کلومیٹر سے زیادہ تک بہتا ہے، اور آخر کار بنگلہ دیش میں جا کر دریائے گنگا میں شامل ہو کر دنیا کا سب سے بڑا ڈیلٹا بناتا ہے۔

دریا کے مختلف ممالک میں نام مختلف ہیں جیسے یارلونگ سانگپو (چین)، سیانگ/دیہنگ (اروناچل)، برہمپترا (آسام)، جمنا (بنگلہ دیش)

آسام میں کازیرنگا نیشنل پارک سمیت وسیع حیاتیاتی تنوع اس دریا کی ماحولیاتی تنوع کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ دریا ہندو مت اور بدھ مت میں مقدس مانا جاتا ہے۔

برہم پترا کے ہائیڈرو پاور پوٹینشیل کا تخمینہ صرف ہندوستان میں 60,000 میگاواٹ سے زیادہ ہے۔ ہندوستان نے اروناچل اور آسام میں کچھ ہائیڈرو پراجیکٹس تعمیر بھی کیے ہیں۔

چین نے متعدد ڈیم پروجیکٹس کے ساتھ ساتھ یارلنگ سانگپو کے عظیم موڑ کے قریب میڈوگ میں متنازعہ سپر ڈیم بنانا شروع کرکے ہندوستان کو ایک زبردست جھٹکا دیا ہے۔

یہ دریا ہائیڈرو پاور کے علاوہ، آبپاشی، سیلاب پر قابو پانے، اور اندرون ملک نیویگیشن کے لیے بہت بڑا پوٹینشیل رکھتا ہے۔

برہما پُترا ایک جیو پولیٹیکل دریا ہے۔جیسے جیسے پانی کی کمی بڑھتی جارہی ہے ، موسمیاتی تبدیلیوں سے برف پگھلنے میں تیزی آتی جائے گی جس کی وجہ سے برہم پترا کا ایک جیوسٹریٹیجک اور ہائیڈرو پولیٹیکل ہتھیار کے طور پر کردار مزید تیز ہوتا جائے گا جس کا کنٹرول چائنا کے پاس ہوگا۔

سُپر ڈیم

چائنا کی طرف سے پچھلے دریائے برہما پُترا پر ڈیموں کے باپ “سُپر ڈیم” کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری نے انڈیا کے غُبارے سے ہوا نکال کر رکھ دی تھی۔ یہ تھری گورجز ڈیم سے تین گُنا زیادہ بجلی پیدا کرے گا یعنی 300 ارب کلوواٹ آور سالانہ۔

سطح مرتفع تبت کے مشرقی دھانے سے نکلتے ہی دریائے “یارلُنگ زینگ بو” دریائے برہماپُتر کہلاتا ہے اور یہیں وو قدرتی ڈھلوان ہے جہاں 50 کلومیٹر میں دریا 2 کلومیٹر نیچے گرتا ہے جہاں اب سُپر ڈیم بنے گا۔

تبت سے نِکل کراس دریائے برہما پُترا اِنڈیا کی ریاستوں ارونا چل پردیش اور آسام سے گزرتا ہوا بنگلہ دیش سے گزر کر خلیج بنگال میں گرتا ہے اور ان علاقوں کی معیشت کا دارومدار دریا کے پانی پر ہے۔

انڈیا اگر اس سُپر ڈیم کے خلاف کسی عالمی عدالت میں جاتا ہے تو انڈیا پاکستان کے اس موقف کو تسلیم کررہا ہوگا جو پاکستان نے انڈیا کے کشمیر کے دریاؤں پر بنائے گئے ڈیم منصوبوں پر عالمی عدالت میں اپنایا ہوا ہے۔

سندھ طاس منصوبے کے برعکس دریائے برہماپُترا کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے چائنا، انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان کوئی معاہدہ موجود نہیں۔

منقول

24/05/2025



Narowal Public School & College Narowal

یہ پاکستان کا سب سے بڑا جانور ہے جو کہ سات فٹ تک اونچا ہوسکتا ہے۔ریچھ کی کل آٹھ نسلیں ہیں اور پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ...
20/05/2025

یہ پاکستان کا سب سے بڑا جانور ہے جو کہ سات فٹ تک اونچا ہوسکتا ہے۔ریچھ کی کل آٹھ نسلیں ہیں اور پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں دو قسموں کے ریچھ پائے جاتے ہیں۔ ہمالیائی ریچھ دیوسائی سطح مرتفع میں پایا جاتا ہے جو کہ دنیا کی دوسری بڑی سطح مرتفع ہے۔ سطح مرتفع ایسا علاقہ ہوتا ہے جو میدان سے اونچا ہو لیکن پہاڑ نہ ہو ۔ جیسے کمرے میں ایک میز پڑا ہوتا، ہمالیائی ریچھ کے بنیادی عاقے سکردو اور گلگت بلتستان ہیں۔ انکی نسل کو دیوسائی نیشنل پارک میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ نیشنل پارک کسی بھی ملک میں جانوروں کی قدرتی رہائش کا بڑا علاقہ ہوتا ہے جو گورمنٹ کے کنٹرول میں آجاتا ہے۔ پانڈا کے بعد شاید یہ دوسرا سب سے خوبصورت ریچھ ہے اور اس کے بچے تو بالکل کھلونا بھالو جیسے لگتے۔
یہ قدرتی باغبان ہیں جو درختوں کی فالتو ٹہنیاں چباتے، ان پہ لگی دیمک چاٹتے، اپنے فضلے سے درختوں کو بہترین نائیٹروجن کھاد مہیا کرتے اور ماحول کو محفوظ رکھتے ہیں۔

یہ 1822 میں جرمنی میں پایا جانے والا سارس ہے جس کی گردن میں وسطی افریقہ سے نیزہ پھنسا ہوا تھا۔ اس دریافت نے اس وقت کے ما...
20/05/2025

یہ 1822 میں جرمنی میں پایا جانے والا سارس ہے جس کی گردن میں وسطی افریقہ سے نیزہ پھنسا ہوا تھا۔

اس دریافت نے اس وقت کے ماہرینِ حیوانات کو یورپی پرندوں کی نقل مکانی کو سمجھنے میں مدد کی جو پہلے ناقابلِ وضاحت تھی۔

صدیوں سے، سردیوں کے دوران پرندوں کی بعض انواع کے اچانک غائب ہونے نے یورپیوں کو حیران کر دیا، جس کے نتیجے میں مختلف قسم کے عجیب و غریب نظریات پیدا ہوئے — کچھ کا خیال تھا کہ پرندے پانی کے اندر ہیبرنیٹ ہوتے ہیں، مختلف جانوروں میں تبدیل ہوتے ہیں، یا چاند پر بھی اڑ جاتے ہیں۔

یہ راز 1822 میں کھولنا شروع ہوا، جب جرمن رئیس کرسچن لڈوِگ وان بوتھمر نے شکار کی مہم کے دوران ایک دریافت کی۔ اسے شمالی جرمنی میں ایک سفید سارس ملا جس کی گردن میں وسطی افریقی نیزہ بندھا ہوا تھا — پھر بھی وہ پرندہ واپسی کے سفر سے بچ گیا تھا۔

یہ "تیر سٹارک" (جرمن میں Pfeilstorch کے نام سے جانا جاتا ہے) نے پہلا ٹھوس ثبوت فراہم کیا کہ پرندے سردیوں کے دوران گرم آب و ہوا کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ سارس کو محفوظ کیا گیا تھا اور آج بھی روسٹاک یونیورسٹی میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے، جو جدید آرنیتھولوجی کی ابتدا کی ایک نمایاں علامت کے طور پر کام کر رہا ہے۔

یہ قیام پاکستان سے قبل 1939 میں برصغیر پاک و ہند کا نقشہ ہے جس میں واضع طور پر یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس دور میں کن کن عل...
04/05/2025

یہ قیام پاکستان سے قبل 1939 میں برصغیر پاک و ہند کا نقشہ ہے جس میں واضع طور پر یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس دور میں کن کن علاقوں کی سرکاری زبان اردو تھی :-

1 - بلوچستان کی ریاست قلات - سرکاری زبان اردو

2 - کشمیر - سرکاری زبان اردو

3 - جموں - سرکاری زبان اردو

4 - دارالحکومت دہلی - سرکاری زبان اردو

5 - اجمیر - سرکاری زبان اردو

6 - راجپوتانہ ( راجھستان ) - سرکاری زبان اردو

7 - ممالک متوسط ( مدھیہ پردیش ) - سرکاری زبان اردو

8 - لکھنئو - سرکاری زبان اردو

9 - آگرہ - سرکاری زبان اردو

10 - بنارس - سرکاری زبان اردو

11 - بہار - سرکاری زبان اردو

12 - کلکتہ شہر - سرکاری زبان اردو

13 - بمبئ - سرکاری زبان اردو

14 - اورنگ آباد - سرکاری زبان اردو

15 - حیدرآباد دکن - سرکاری زبان اردو

03/05/2025
APRIL'S TEMPERATURE IN GLANCE
22/04/2025

APRIL'S TEMPERATURE IN GLANCE

19/04/2025

Address

Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when National Geography Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to National Geography Pakistan:

Share