17/08/2025
میں جب جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے صدر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا، تو ان کے الفاظ تھے: "میں ڈرتا کسی سے نہیں۔" یہ الفاظ صرف ایک جملہ نہیں تھے، بلکہ ایک سوچ، ایک طرزِ عمل اور ایک ایسا رویہ تھا جس نے آنے والے سالوں میں پاکستان کی تاریخ پر گہرے اثرات ڈالے۔
جنرل مشرف نے یہ ثابت کرنے کی پوری کوشش کی کہ وہ واقعی کسی سے نہیں ڈرتے۔ انہوں نے بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کو طاقت کے زور پر قتل کروایا۔ ایک ایسا شخص جو سیاسی بات چیت کا قائل تھا، اسے پہاڑوں میں گھیر کر مار دیا گیا۔ پھر 2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد پر حملہ کیا گیا۔ وہ مسجد جو مذہبی سرگرمیوں کا مرکز تھی، ریاستی طاقت کے ذریعے خون میں نہلا دی گئی۔ درجنوں بے گناہ طلبہ اور طالبات مارے گئے۔
یہی نہیں، پرویز مشرف کے دور میں میڈیا پر قدغنیں لگیں، ججوں کو نظر بند کیا گیا، سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا، اور عوام کی آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ طاقت، اختیار اور غرور نے انہیں اندھا کر دیا تھا۔ انہیں لگتا تھا کہ وہ ناقابلِ شکست ہیں۔ وہ بار بار کہتے: "میں ڈرتا کسی سے نہیں۔"
لیکن وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔ حالات نے پلٹا کھایا۔ اقتدار چھن گیا، عزت گئی، اور پھر وہ وقت آیا جب جنرل مشرف خود ساختہ جلاوطنی میں چلے گئے۔ پاکستان واپس آئے تو عدالتوں میں پیشیاں، مقدمے، اور بیماری نے گھیر لیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ وہ بستر پر پڑے تھے، بولنے کی بھی طاقت نہیں رہی تھی۔ وہ شخص جو کبھی پورے ملک پر حکمرانی کرتا تھا، بے بسی کی تصویر بن چکا تھا۔
ان کا انجام ہم سب کے لیے ایک سبق ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ جب انسان طاقت کے نشے میں چور ہو کر ظلم کرتا ہے، تو وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود بھی فنا ہونے والا ہے۔ جنرل مشرف نے ظلم کیے، لوگوں کے حقوق پامال کیے، اور غرور میں خود کو ناقابلِ شکست سمجھا۔ لیکن آخر میں وہ اسی دنیا میں عبرت کا نشان بنے۔
آج ہمیں سوچنا چاہیے کہ طاقت ملنے پر ہمیں "میں کسی سے نہیں ڈرتا" نہیں کہنا چاہیے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ "میں صرف اللہ سے ڈرتا ہوں"۔ کیونکہ انسان جتنا بھی طاقتور ہو، ایک دن اسے جواب دینا ہی ہوتا ہے۔ ظلم کا انجام ہمیشہ بُرا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دوسروں پر ظلم نہ کریں، عدل کو اپنائیں، اور اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاریں۔
---