17/08/2026
کھیت سے متسقبل کی تعمیر
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا زراعت، امورِ حیوانات و ماہی پروری کے شعبوں کی جامع اصلاحات اور ترقی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان
گلگت: 17 اگست 2026ء
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے زراعت، امورِ حیوانات و ماہی پروری (Agriculture, Livestock & Fisheries) کے شعبوں کو گلگت بلتستان کی معیشت، غذائی خودکفالت، روزگار اور غربت کے خاتمے کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے ان شعبوں کی ترقی اور اصلاحات کے لیے تیز رفتار اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
سیکریٹری زراعت، امورِ حیوانات و ماہی پروری گلگت بلتستان کی جانب سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو شعبے کی موجودہ صورتحال، بنیادی مسائل، پیداواری خلا اور مستقبل کے لیے جامع اصلاحاتی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں زراعت، لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے مقامی معیشت کو مضبوط بنانے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دیہی آبادی کی آمدن میں اضافہ کرنے کے لیے متعدد اہم اصلاحات کی نشاندہی کی گئی۔
بریفنگ کے مطابق گلگت بلتستان کے تقریباً چار میں سے تین گھرانے براہِ راست زمین، زراعت یا مویشیوں سے وابستہ ہیں، جبکہ زراعت، امورِ حیوانات اور ماہی پروری مجموعی طور پر خطے کی معیشت میں سالانہ تقریباً 147.3 ارب روپے کا حصہ ڈال رہے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ دودھ، گوشت، پولٹری اور انڈوں سمیت متعدد شعبوں میں مقامی پیداوار اور طلب کے درمیان نمایاں خلا موجود ہے، جو ایک طرف غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے چیلنج ہے تو دوسری طرف مقامی سرمایہ کاری، کاروبار اور روزگار کے وسیع مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔
زراعت کے شعبے میں مجوزہ اصلاحات
سیکریٹری زراعت کی جانب سے زراعت کے شعبے میں معیاری بیج کی فراہمی، آف سیزن سبزیوں کی پیداوار، 2,000 ماڈل فروٹ آرچڈز کا قیام، ’’One Valley/One Village, One Product‘‘ پروگرام، شہد کی مکھیوں کی فارمنگ اور نوجوانوں کے روزگار، جدید فروٹ پیک ہاؤسز کے قیام سمیت متعدد اصلاحاتی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
ان مجوزہ اصلاحاتی اقدامات کے لیے سیکریٹری زراعت کی جانب سے 1.62 ارب روپے کی مالی ضرورت/مجوزہ بلاک ایلوکیشن پیش کی گئی ہے۔
امورِ حیوانات کے شعبے میں مجوزہ اصلاحات
امورِ حیوانات کے شعبے میں چارہ پیداوار کے فروغ، سائیلج اور مشینی سہولیات، ’’One Village, One Bull‘‘ بریڈ امپروومنٹ پروگرام، کمرشل ڈیری فارمنگ، پولٹری فارمنگ اور نوجوانوں کے روزگار سمیت اہم اصلاحاتی پروگرام تجویز کیے گئے ہیں۔
ان اقدامات کے لیے سیکریٹری زراعت کی جانب سے 1.35 ارب روپے کی مالی ضرورت/مجوزہ بلاک ایلوکیشن پیش کی گئی ہے۔
ماہی پروری کے شعبے میں مجوزہ اصلاحات
ماہی پروری کے شعبے میں ٹراؤٹ فارمنگ کے فروغ، نئے ٹراؤٹ فارمز کے قیام، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور خواتین کی معاشی شمولیت کے لیے گھریلو سطح پر منی فش فارمنگ پروگرام تجویز کیے گئے ہیں۔
ان اصلاحاتی اقدامات کے لیے سیکریٹری زراعت کی جانب سے 400 ملین روپے کی مالی ضرورت/مجوزہ بلاک ایلوکیشن پیش کی گئی ہے۔
مجموعی مجوزہ مالی ضرورت
سیکریٹری زراعت، امورِ حیوانات و ماہی پروری کی جانب سے پیش کردہ اصلاحاتی منصوبے میں:
- زراعت: 1.62 ارب روپے
- امورِ حیوانات: 1.35 ارب روپے
- ماہی پروری: 400 ملین روپے
- مجموعی مجوزہ مالی ضرورت: 3.37 ارب روپے
رکھی گئی ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ 3.37 ارب روپے سیکریٹری زراعت، امورِ حیوانات و ماہی پروری کی جانب سے اصلاحاتی پروگراموں کے لیے تجویز کردہ مالی ضرورت ہے اور اسے حکومت کی جانب سے منظور شدہ یا حتمی اعلان کردہ بجٹ تصور نہ کیا جائے۔ ان تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے شعبہ وار اور مجموعی مالیاتی پیکیج کا حتمی اعلان کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے سیکریٹری زراعت کی جانب سے پیش کردہ اصلاحاتی تجاویز کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ شعبہ زراعت، امورِ حیوانات اور ماہی پروری کو محض روایتی سرکاری سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں معاشی ترقی، خود روزگاری، نجی سرمایہ کاری، غذائی خودکفالت اور غربت کے خاتمے کے مؤثر ذرائع میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت گلگت بلتستان ان شعبوں کی ترقی کے لیے ضروری مالی وسائل فراہم کرنے، بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے اور اصلاحاتی پروگراموں پر تیزی سے پیش رفت کے لیے اقدامات کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل، زرعی تنوع، باغبانی، مویشی پالنے، شہد اور ٹراؤٹ فارمنگ کی صلاحیت کو جدید ٹیکنالوجی، نجی شعبے کی شراکت، بہتر مارکیٹ لنکیجز اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے معاشی مواقع میں تبدیل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ اصلاحاتی پروگراموں کے لیے واضح اہداف، ٹائم لائنز، کارکردگی کے اشاریے (KPIs) اور مؤثر مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے تاکہ منظور شدہ پروگراموں کے ثمرات براہِ راست کسانوں، مویشی پال حضرات، ماہی گیروں، نوجوانوں اور خواتین تک پہنچ سکیں۔
اس موقع پر شعبہ زراعت، امورِ حیوانات و ماہی پروری میں اصلاحات کی نگرانی اور مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے لیے ALF Reforms Unit کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے، جس کا مقصد اصلاحاتی پروگراموں کی نگرانی، پیش رفت کی رپورٹنگ اور اعلیٰ سطح پر مؤثر مانیٹرنگ کو یقینی بنانا ہے۔
حکومت گلگت بلتستان کے مطابق زراعت، امورِ حیوانات اور ماہی پروری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد دیہی معیشت کو مضبوط بنانا، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنا، خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنا، غذائی خودکفالت حاصل کرنا اور غربت و بے روزگاری کے خاتمے کی جانب مؤثر پیش رفت کرنا ہے۔