16/03/2026
ایک تصویر نے کیا سے کیا کردیا۔۔۔
۲۰۰۸ میں جب اُس وقت کے ایرانی صدر Mahmoud Ahmadinejad نے Natanz Nuclear Facility کا دورہ کیا اور وہاں تصاویر بنوائیں، تو اُس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ بظاہر سادہ تصاویر ایران کے ایٹمی پروگرام کے لیے کتنی بڑی مشکل اور دردِ سر بن جائیں گی۔
ان تصاویر میں جو لوگ نظر آ رہے تھے وہ ایران کے اعلیٰ سائنس دان تھے۔ بعد میں انہی تصاویر کی بنیاد پر، بعض اندرونی مخبروں کی مدد سے، انہیں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی Mossad اور امریکہ کی Central Intelligence Agency نے شناخت کر لیا۔ اس کے بعد مختلف خفیہ کارروائیوں کے ذریعے ان میں سے کئی سائنس دانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ لیکن مسئلہ صرف افراد تک محدود نہیں رہا۔
ان تصاویر نے نطنز کے ایٹمی مرکز کی جگہ اور حساس تنصیبات جیسے سینٹری فیوجز اور ری ایکٹرز کے بارے میں بھی بہت سی معلومات ظاہر کر دیں۔ نتیجتاً ایران کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے ایٹمی پروگرام کی پیش رفت کو بھی خاصا نقصان پہنچا۔
اس واقعے کے بعد ایران کے ایٹمی پروگرام کو ترقی کے راستے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ تصاویر جو محض ایک سرکاری دورے کی یادگار سمجھی جا رہی تھیں، بعد میں قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوئیں۔
اس واقعے سے امید کی جاتی ہے کہ تمام ممالک کے عوام، رہنما اور اعلیٰ حکام سبق حاصل کریں۔ خاص طور پر یہ کہ کسی کو بھی حساس یا عسکری تنصیبات کی تصاویر عام کرنے کی اجازت نہ دی جائے، کیونکہ بظاہر ایک سادہ تصویر بھی پورے ملک کو سنگین مسائل، خطرات اور حتیٰ کہ جنگ جیسے حالات سے دوچار کر سکتی ہے، جن کا ازالہ بعد میں بہت مشکل ہو جاتا ہے۔