PTM islamabad

PTM islamabad Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from PTM islamabad, Landmark & historical place, Mohmand, Nowshera.

04/06/2026
اس معصوم بچی نے اپنے صندوق کی چابی ہار کی طرح گلے میں پہن رکھی تھی۔ مارٹر گولے کے ٹکڑے اس کے سر اور سینے میں پیوست ہو چک...
04/06/2026

اس معصوم بچی نے اپنے صندوق کی چابی ہار کی طرح گلے میں پہن رکھی تھی۔ مارٹر گولے کے ٹکڑے اس کے سر اور سینے میں پیوست ہو چکے تھے۔ جب ایکسرے کے دوران میں اس کے گلے سے چابی اتار رہا تھا تو وہ درد اور آنسوؤں کے ساتھ بولی:
“یہ چابی مجھے واپس دے دینا، کسی اور کو مت دینا۔”
میں نے پوچھا: “اس صندوق میں کیا ہے؟”
وہ بولی: “میں نے شیشے جمع کرکے بیچے ہیں، ان کی کمائی کے پیسے اس میں رکھے ہیں۔”
میں نے پوچھا: “کتنے پیسے ہیں؟”
اس نے جواب دیا: “سو روپے ہیں۔ امی نے عید کے کپڑے قرض پر لیے ہیں، یہ پیسے انہیں دینے ہیں۔
وہ اسی موٹر گاڑی میں بیٹھی تھی جس میں اس کے چچا اور انکی بیوی بھی موجود تھے۔ نم آنکھوں کے ساتھ وہ بتا رہی تھی:
“پہلا مارٹر گولہ گرا تو ہم زخمی ہو گئے۔ پھر دوسرا گولہ ہمارے بالکل قریب آ کر پھٹا۔ میرے چچا اور انکی بیوی نے ہماری آنکھوں کے سامنے آخری سانس لی۔”
“میرا پورا جسم خون میں لت پت تھا۔ میں روتی رہی، مدد کے لیے آوازیں دیتی رہی، مگر کوئی آ نہیں سکتا تھا۔ چاروں طرف مسلسل گولے برس رہے تھے
یہ سن کر دل کانپ اٹھا۔ سو روپے کی جمع پونجی اور ماں کے قرض کی فکر کرنے والی یہ ننھی جان بھی اس ڈالری جنگ سے نہ بچ سکی💔🙏🏻
ہمارے بس می

02/06/2026
عید خوشیوں کا تہوار یا جبری گمشدگیوں کی اذیتعید کا چاند جب آسمان پر نمودار ہوتا ہے تو پوری دنیا میں خوشیوں کی لہریں دوڑ ...
30/05/2026

عید خوشیوں کا تہوار یا جبری گمشدگیوں کی اذیت

عید کا چاند جب آسمان پر نمودار ہوتا ہے تو پوری دنیا میں خوشیوں کی لہریں دوڑ جاتی ہیں۔
گھروں میں چراغ جلتے ہیں، بچوں کے چہرے مسکراتے ہیں، نئے کپڑوں کی خوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے۔
کوئی قربانی کی تیاری کر رہا ہوتا ہے، کوئی مہندی لگا رہا ہوتا ہے، کوئی عید کی نماز کی خوشی میں مگن ہوتا ہے عید، خوشی کا تہوار ہے، محبت کا پیغام ہے۔
مگر کیا یہ خوشی سب کے لیے یکساں ہے؟
ہزاروں گھر ایسے ہیں جہاں عید کا چاند آنسوؤں سے دیکھا جاتا ہے۔ جہاں عید کی رات ماتم کی رات بن جاتی ہے۔ جہاں خوشی کا ہر رنگ سیاہ ہو چکا ہے۔ یہ وہ گھرانے ہیں جن کے جوان بیٹے، شوہر، بھائی یا باپ جبری گمشدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ پشتون، بلوچ، اور دیگر علاقوں کے وہ بے گناہ لوگ جنہیں رات کے اندھیرے میں اٹھا لیا گیا اور آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں۔
عید کی رات جب پوری دنیس نئی امیدوں کے چراغ جلاتی ہے، تب ان گھروں میں مائیں اپنے سینوں کو پیٹتی ہیں۔ بیٹیاں تکیہ بھگو کر روتی ہیں۔ بہنیں آنگن میں کھڑی آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر فریاد کرتی ہیں

"اے خدا! میرا بیٹا کہاں ہے؟ میرا شوہر کہاں ہے؟
اسے واپس کر دے ان کے گھروں میں نہ عید کے کپڑے خریدے جاتے ہیں، نہ مٹھی بھر مٹھائیاں۔ ان کے گھروں میں صرف یادوں کا سلسلہ چلتا ہے۔ وہ پرانے کپڑے، وہ جوتے، وہ وہ استعمال شدہ چشمیں جو اب بھی الماری میں پڑی ہیں، انہیں دیکھ کر دل پھٹتا ہے۔
عید کی صبح، جب دوسرے لوگ عیدگاہ کی طرف جا رہے ہوتے ہیں، تب یہ غم زدہ مائیں اور بہنیں اپنے گھروں سے نکلتی ہیں۔ ہاتھوں میں گمشدہ پیاروں کی تصاویر، گلے میں ان کے پرانے کپڑے، اور آنکھوں میں امید کی آخری کرن۔ وہ پریس کلب کی طرف جاتی ہیں۔ سڑکوں پر بیٹھ جاتی ہیں۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرتی ہیں۔
ایک ماں اپنے بیٹے کی تصویر کو سینے سے لگائے رو رہی ہوتی ہے۔ دوسری ماں اس کے شانے پر سر رکھ کر کہتی ہے:
"رو مت بہن، اللہ سب دیکھ رہا ہے۔"
مگر یہ دلاسہ بھی کتنا کھوکھلا ہے؟
کتنے سال بیت گئے، کتنے عیدیں گزر گئیں، مگر ان کے بچے واپس نہیں آئے۔ کچھ کی لاشیں مل گئیں، کچھ کے نام بھی نہیں ملے۔ کچھ تو آج بھی جیلوں کی تاریک کوٹھریوں میں سڑ رہے ہوں گے، کچھ کی قبریں بھی نامعلوم ہیں۔
یہ مائیں عید نہیں مناتیں، یہ درد مناتی ہیں۔
یہ بہنیں نئے کپڑے نہیں پہنتیں، وہ اپنے بھائیوں کے پرانے کپڑوں کو چومتی ہیں۔
یہ بیٹیاں مہندی نہیں لگاتیں، وہ اپنے باپ کی یاد میں آنسو بہاتی ہیں۔
عید کا تہوار ان کے لیے اذیت بن چکا ہے۔ ہر خوشی ان کے زخم کو تازہ کر دیتی ہے۔ جب پڑوس میں قہقہے گونجتے ہیں تو ان کے گھر میں بس آہ و بکا ہوتا ہے۔ جب دوسرے لوگ "عید مبارک" کہتے ہیں تو ان کے کانوں میں صرف ایک آواز گونجتی ہے۔
جب تک یہ جبری گمشدگیاں جاری ہیں، عید ان کے لیے صرف ایک یاد دہانی ہے کہ وقت گزر رہا ہے، مگر ان کا درد نہیں گزر رہا۔
پی ٹی ایم ساتھی چار بچوں کے والد فرید افرین کو پشاور میں ارباب روڈ پر سرعام سیکنڑوں لوگوں کی موجود گی میں تین گاڑیوں دس مسلح افراد نے وردی اور سادہ لباس میں ملبوس آغوا کیا، مگر اج تک کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، ان کے بیٹے ایف آئی آر کروانے عدالت گئے، سی سی ٹی وی رنگارنگ پیش کی مگر پی ٹی آئی خیبر پستونخواہ کی ماتحت محکمہ پولیس ایف ائی ار تک درج نہیں کررہی ہیں اور نا عدالتوں کے احکامات تسلم کررہے ہیں۔
چھ ماہ پہلے پی ٹی ایم کے رہنما نور اللہ ترین اور حنیف پشتین کو پی ٹی آئی کے جرگہ سے واپسی پر دن کی روشنی میں، سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں سرعام اغوا کر لیا گیا۔ آج تک ان کا کوئی پتا نہیں۔ اج ان کی جبری گمشدگی کو 196 دن مکمل ہوگئے ہیں۔عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے۔ پشاور ہائیکورٹ نے ثبوت، گواہان ہونے کے باجود نور اللہ ترین اور حینف پستین کو باصیاب کروانے اور مجرموں کو گرفتار کروانے کے بجائے جے آئی ٹی بنا دی، مگر ماہوں گزرنے کے باوجود نہ انہیں بازیاب کرایا گیا، نہ ہی اغوا کاروں کو گرفتار کیا گیا اور نور اللہ ترین حنیف پشتین اج تک جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔ جے آئی ٹی صرف وقت گزار رہی ہے جبکہ دو مائیں ہر لمحہ موت کی اذیت بھگت رہے ہیں۔
اسی طرح نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما، ایک باشعور سکالر، انسانی حقوق کا سرگرم کارکن اور وطن سے محبت کرنے والا نوجوان غنی بلوچ کو خضدار سے کراچی جاتے ہوئے بس میں سوار مسافروں کے سامنے اغوا کیا گیا۔
آج ان کی جبری گمشدگی کو 365 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ ایک سال بیت گیا، مگر نہ عدالت میں پیش کیا گیا، نہ ان کے اہل خانہ کو کوئی خبر دی گئی۔

یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں پشتون اور بلوچ نوجوان آج بھی لاپتہ ہیں۔ ان کے خاندانوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔
سوال کرنے حقوق طلب کرنے کو حکمرانوں نے غیر اعلانیہ طور پر جرم قرار دیا ہیں۔
جس کی سزا جبری گمشدگی ہیں۔
PTM









28/05/2026

پی ټی ایم هیڅکله خپل قامی شهیدان زندانیان ملګری نه هیروی

28/05/2026

لکی مروت میں جو دن دیہاڑے واقعہ ہوا اسکےبعد ابھی کےمناظر یہ حالات۔برداشت کےلائق نہیں پٹھان فیصلہ خود کریں... See more

Address

Mohmand
Nowshera
24651

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTM islamabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share