پنیالہ امن جرگہ Paniala Aman Jirga

پنیالہ امن جرگہ Paniala Aman Jirga Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from پنیالہ امن جرگہ Paniala Aman Jirga, Social service, Paniala.

11/06/2026

بحضورِ جناب
ہیڈ مینیجر
حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) ہیڈ آفس کراچی

عنوان: HBL برانچ پنیالہ، تحصیل پہاڑ پور، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی بحالی کے متعلق درخواست

جنابِ عالی!

مؤدبانہ گزارش ہے کہ حبیب بینک لمیٹڈ پنیالہ برانچ، تحصیل پہاڑ پور، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان گزشتہ تقریباً چھ ماہ سے بند پڑی ہے۔ برانچ کی بندش کی وجہ سکیورٹی مسائل بتائی جاتی ہے، حالانکہ اسی علاقے میں حبیب میٹرو بینک اور متعدد ایزی پیسہ شاپس روزانہ لاکھوں روپے کا کاروبار کر رہی ہیں جبکہ ان کے پاس سکیورٹی گارڈز بھی موجود نہیں ہوتے۔

حبیب بینک پنیالہ برانچ میں علاقہ بھر کے پانچ ہزار سے زائد افراد کے اکاؤنٹس موجود ہیں۔ برانچ بند ہونے کی وجہ سے عوام کو اپنے بینکاری معاملات کے لئے ڈیرہ اسماعیل خان شہر جانا پڑتا ہے جو پنیالہ سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں غریب عوام، بزرگ مرد و خواتین، بیمار افراد اور پینشنرز کے لئے اتنا طویل سفر انتہائی دشوار اور تکلیف دہ ہے۔

لہٰذا آپ سے پُرزور اپیل ہے کہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے HBL پنیالہ برانچ کو جلد از جلد بحال کرنے کے احکامات صادر فرمائے جائیں تاکہ علاقہ مکینوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔

آپ کی اس مہربانی پر تحصیل پنیالہ کے عوام ہمیشہ آپ کے شکر گزار اور دعا گو رہیں گے۔
والسلام
العارضین:
اہالیانِ تحصیل پنیالہ



















10/06/2026

اگر تُم باشعور ہو کر بھی شعور نہیں پھیلاتے، تو تم آنے والے نسلوں کےلیے مجرم ہو

09/06/2026

بہترین انسان وہ ہے جس کے پاس سماجی تبلیغ کیلئے الفاظ کی بجائے بہترین کردار ہو۔

الحمد للّہ پنیالہ امن جرگہ کے صدر سلیم خان سراج خیل اور معروف سماجی شخصیت انور خان کٹہ خیل کی ثالثی و کوششوں سے پنیالہ م...
09/06/2026

الحمد للّہ
پنیالہ امن جرگہ کے صدر سلیم خان سراج خیل اور معروف سماجی شخصیت انور خان کٹہ خیل کی ثالثی و کوششوں سے پنیالہ میں دو خاندانوں کے درمیان مستورات کا تنازعہ افہام وتفہیم اور باہمی رضامندی سے حل کر لیا گیا۔ دونوں فریقین نے خوش دلی کے ساتھ فیصلے کو تسلیم کیا۔


کریم نواز فقیر خیل کی زوجہ اور امیر نواز ، گل بادشاہ وغیرہ کی والدہ وفات پاگئی ہے۔ اللہ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ...
07/06/2026

کریم نواز فقیر خیل کی زوجہ اور امیر نواز ، گل بادشاہ وغیرہ کی والدہ وفات پاگئی ہے۔ اللہ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے

الحمد للّہ پنیالہ امن جرگہ کے صدر سلیم خان سراج خیل اور ملک حسن آف تالگی کی ثالثی و کوششوں سے پنیالہ میں دو خاندانوں کے ...
04/06/2026

الحمد للّہ
پنیالہ امن جرگہ کے صدر سلیم خان سراج خیل اور ملک حسن آف تالگی کی ثالثی و کوششوں سے پنیالہ میں دو خاندانوں کے درمیان مستورات کا تنازعہ افہام وتفہیم اور باہمی رضامندی سے حل کر لیا گیا۔ دونوں فریقین نے خوش دلی کے ساتھ فیصلے کو تسلیم کیا۔
اللہ تعالیٰ دونوں فریقین کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے اور ہم سب کو اخلاص اور ایمان کی دولت عطا فرمائے۔ آمین ۔

جہاد صرف تلواروں کی جھنکار کا نام نہیں، بلکہ وہ آگ ہے جو انسان کے باطن میں اس وقت بھڑکتی ہے جب حق اور باطل آمنے سامنے کھ...
03/06/2026

جہاد صرف تلواروں کی جھنکار کا نام نہیں، بلکہ وہ آگ ہے جو انسان کے باطن میں اس وقت بھڑکتی ہے جب حق اور باطل آمنے سامنے کھڑے ہوں۔ یہ وہ معرکہ ہے جو کبھی بدر کے ریگزار میں برپا ہوتا ہے، کبھی کسی مظلوم کی آنکھ کے آنسو میں، کبھی کسی سچے قلم کی روشنائی میں، اور کبھی ایک انسان کے اپنے نفس کے خلاف خاموش قیام میں۔ دنیا کی پوری تاریخ دراصل دو قوتوں کی داستان ہے؛ ایک وہ جو انسان کو اندھیروں کی طرف کھینچتی ہے، اور دوسری وہ جو اسے روشنی، صداقت اور عدل کی طرف بلاتی ہے۔ یہ کشمکش وقت کے دھارے کے ساتھ کبھی مدھم نہیں ہوئی، بلکہ ہر دور میں نئے چہروں، نئے نعروں اور نئے لباسوں کے ساتھ سامنے آتی رہی ہے۔

باطل ہمیشہ شور مچاتا ہے، کیونکہ اسے اپنے کھوکھلے پن کا خوف ہوتا ہے۔ حق ہمیشہ پُرسکون رہتا ہے، کیونکہ اسے اپنے سچ ہونے کا یقین ہوتا ہے۔ فرعون کے محل میں بھی باطل پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑا تھا، اس کے پاس لشکر تھے، خزانے تھے، تخت تھا، اختیار تھا؛ مگر ایک موسیٰؑ تھے جن کے ہاتھ میں فقط عصا تھا اور دل میں یقین۔ تاریخ نے دیکھا کہ سمندر نے تخت والوں کے لیے راستہ نہیں بنایا، بلکہ اس شخص کے لیے راستہ بنایا جس کے پاس سچ تھا، کیونکہ سچائی مصلحتوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہی حق کی فطرت ہے؛ وہ ظاہری اسباب کے بغیر بھی شکستہ نہیں ہوتا، اور یہی باطل کی حقیقت ہے؛ وہ لامتناہی طاقت کے باوجود اندر سے بوسیدہ ہوتا ہے۔

آج بھی میدان بدل گئے ہیں مگر جنگ باقی ہے۔ اب نیزے کم اور ضمیر زیادہ زخمی کیے جاتے ہیں۔ اب قلعے کم اور کردار زیادہ گرائے جاتے ہیں۔ اب انسان کو قتل کرنے سے پہلے اس کی غیرت، اس کا شعور، اس کی حمیت اور اس کا ایمان مارا جاتا ہے۔ باطل جانتا ہے کہ اگر ایک قوم کے نوجوانوں سے مقصد چھین لیا جائے، اگر ان کے دلوں میں خواہشات کی دلدل بھر دی جائے، اور ان کی آنکھوں کو صرف دنیا کی چکاچوند کا اسیر کر دیا جائے، تو پھر انہیں غلام بنانے کے لیے زنجیروں کی ضرورت نہیں رہتی۔

اگرچہ حق کا وجود آفتاب کی مانند لازوال ہے جسے کوئی اندھیرا نگل نہیں سکتا، لیکن اگر حق کے دعوے دار خود ہی مصلحت کی چادر اوڑھ کر سو جائیں، تو معاشرے اس نور کی برکات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ذرا سوچو، اگر ایک گھر میں آگ لگ جائے اور وہاں موجود سب لوگ صرف یہ بحث کرتے رہیں کہ پانی کون لائے گا، تو آگ آخرکار سب کچھ جلا دیتی ہے۔ یہی حال قوموں کا ہوتا ہے۔ جب ظلم کو دیکھ کر زبانیں خاموش ہو جائیں، جب جھوٹ کو حکمت کا نام دے دیا جائے، اور حق بات کہنے والا تنہا چھوڑ دیا جائے، تو باطل حق کے اصول کو تو نہیں مٹا پاتا، مگر اس خاموش معاشرے کی پوری نسلوں کو اپنے اندھیروں میں غرق کر دیتا ہے۔

ایک شخص رات کے اندھیرے میں چراغ لے کر کھڑا تھا۔ لوگوں نے کہا: ”اس ایک چراغ سے کیا ہوگا؟ اندھیرا تو بہت زیادہ ہے۔“ اس نے جواب دیا: ”اندھیرا کبھی چراغ کی فطرت کو نہیں بدل سکتا، ایک چراغ ہزار برس کے اندھیرے پر بھاری ہوتا ہے بشرطیکہ وہ روشن رہے!“ حق بھی ایسا ہی چراغ ہے، جو باطل کے طوفانوں سے بجھتا نہیں، مگر اسے تھامنے کے لیے سچے ہاتھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس مسئلہ یہ نہیں کہ باطل کتنا طاقتور ہے، مسئلہ یہ ہے کہ حق کے علمبردار اپنے موقف میں کتنے سچے ہیں۔

اب تمہیں فیصلہ کرنا ہے کہ تم کس صف میں کھڑے ہو۔ اس صف میں جہاں مصلحت کی بنیاد پر ضمیر بکتا ہے، یا اس صف میں جہاں سر کٹ جاتے ہیں مگر سچ کا پرچم سرنگوں نہیں ہوتا انسان کا اصل مقام اس کے زبانی دعووں سے نہیں، بلکہ اس کے عملی انتخاب سے متعین ہوتا ہے۔ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ قیامت تک کے لیے ایک ابدی سوال ہے؛ تم ظاہری طاقت کے سامنے جھکو گے یا سچ کے ساتھ کھڑے ہوگے؟ کیونکہ وقت جب بھی اپنا فیصلہ لکھتا ہے، وہ اقتدار کے تختوں کے نام نہیں، بلکہ لازوال کرداروں کے نام جاویداں رکھتا ہے۔

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں؛ ایک وہ جو حالات کے بہاؤ میں بہتے رہتے ہیں، اور دوسرے وہ جو اپنے عزم سے طوفانوں کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ حق کے مسافر ہمیشہ اسی دوسرے قافلے کا حصہ ہوتے ہیں؛ ان کے قدم زخمی ہوتے ہیں مگر ان کی پیشانیاں کسی جابر کے سامنے جھکتی نہیں۔ ان کی ظاہری تعداد اگرچہ کم ہوتی ہے، مگر ان کی سچائی آسمانوں پر گواہی بن جاتی ہے۔ یہ زندگی محض سانسوں کا سفر نہیں، بلکہ موقف کا امتحان ہے۔ خاموش رہنا بھی ایک فیصلہ ہے، اور حق کے لیے اٹھ کھڑا ہونا بھی ایک فیصلہ۔ تاریخ کا شعور ہر شخص سے پوچھتا ہے کہ جب سچ تنہا تھا، تب تم کہاں کھڑے تھے؟ کیونکہ انسان قیامت کے دن صرف اپنے انفرادی اعمال کے ساتھ نہیں، بلکہ اپنے فکری و نظریاتی موقف کے ساتھ بھی اٹھایا جائے گا۔

02/06/2026

Address

Paniala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پنیالہ امن جرگہ Paniala Aman Jirga posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category