MWM Parachinar

Website

MWM Parachinar MWM Parachinar Official

11/10/2026

11 اکتوبر — یومِ سیاہ

11/10/2026
11/10/2026

خیبرپختونخوا میں گورنرراج یاایمرجنسی ملک کی تباہ
بربادی کا اقدام ہوگا.

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
(چیئرمین ایم ڈبلیو ایم پاکستان و اپوزیشن لیڈر سینیٹ)

Print Media Coverage!Special Thanks to Senior Journalist Sajid Kazmi.
11/10/2026

Print Media Coverage!
Special Thanks to Senior Journalist Sajid Kazmi.

اسلام آباد:-قبائلی اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی بازگشت تشویش ناک ہے، ہم قبائلی علاقوں کو مزید تجربہ گاہ نہیں بننے دیں گ...
10/10/2026

اسلام آباد:-
قبائلی اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی بازگشت تشویش ناک ہے، ہم قبائلی علاقوں کو مزید تجربہ گاہ نہیں بننے دیں گے۔
ایم این اے انجینئر حمید حسین طوری

قبائلی اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایم این اے انجینئر حمید حسین طوری نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں کسی بھی غیر ضروری ایمرجنسی کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ قبائلی عوام گزشتہ چار دہائیوں سے تاحال بدامنی، دہشت گردی اور عدم استحکام کے سنگین اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان علاقوں کو مزید تجربات کی نذر کرنے کے بجائے امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام پاکستان کے دیگر شہریوں کے برابر آئینی و بنیادی حقوق، مساوی ترقیاتی مواقع، معیاری تعلیم، صحت، روزگار اور پائیدار امن چاہتے ہیں۔ قبائلی اضلاع کے مسائل کا حل مزید پابندیوں یا غیر معمولی اقدامات میں نہیں، بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی، مؤثر حکمرانی، قانون کی بالادستی اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں ہے۔
انجینئر حمید حسین طوری نے کہا کہ قبائلی عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں؛ اب انہیں مزید غیر یقینی صورتِ حال میں دھکیلنے کے بجائے امن، عزت، مساوات اور ترقی کے ثمرات فراہم کیے جائیں۔

10/10/2026

پارہ چنار:-
پارہ چنار کمیونٹی شادی ہال کے جاری تزئین و آرائش کے کام کا معائنہ!
سیاسی و سماجی رہنماء سید نجات حسین، ایم این اے انجینئر حمید حسین طوری کی ٹیم کے سیکرٹری پیر سید مسرت کاظمی، فوکل پرسن خورشید انور اور ساجد کاظمی، جبکہ ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء حاجی جمشید علی طوری نے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایس ڈی او جناب ساجد علی اور ٹھیکیدار اقتدار حسین کے ہمراہ پارہ چنار کمیونٹی شادی ہال میں جاری تزئین و آرائش کے کام کا معائنہ کیا۔

اس موقع پر جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا گیا اور کام کے معیار، رفتار اور تکمیل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور کمیونٹی شادی ہال کو فعال، خوبصورت اور معیاری بنانا ہے۔
Allama Raja Nasir Abbas Jafri
Allama Syed Ahmed Iqbal Rizvi
Allama Syed Hassan Zafar Naqvi
Muhammad Sohail Afridi
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa
PTI Khyber Pakhtunkhwa
MWM Media Monitoring Cell

پارہ چنار:-ڈیڈیک چیئرمین انجینئر حمید حسین طوری کے دفتر میں اہم ملاقاتڈیڈیک چیئرمین و ایم این اے انجینئر حمید حسین طوری ...
10/10/2026

پارہ چنار:-
ڈیڈیک چیئرمین انجینئر حمید حسین طوری کے دفتر میں اہم ملاقات
ڈیڈیک چیئرمین و ایم این اے انجینئر حمید حسین طوری کے دفتر میں شینگک کے ملک علی اکبر اور ولی چینہ، لوئر کرم سے تعلق رکھنے والے استاد کمیل حسین کی تشریف آور۔۔۔
جہاں انہوں نے فوکل پرسن ساجد کاظمی سے ملاقات کی۔
اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین (MWM) کے سینئر رہنماء حاجی جمشید علی طوری اور حاجی احمد علی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں باہمی تبادلۂ خیال کیا گیا اور عوامی مسائل کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔
ڈیڈیک چیئرمین انجینئر حمید حسین طوری کا دفتر عوامی رابطوں، مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے متعلقہ فورمز تک مؤثر رسائی کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

پارہ چنار:-ضلع کرم کی تمام اسٹیک ہولڈر تنظیموں کا اہم مشترکہ اجلاس، توہینِ اولیائے کرام، فقہاء اور علماء کی شدید مذمت، ق...
09/10/2026

پارہ چنار:-
ضلع کرم کی تمام اسٹیک ہولڈر تنظیموں کا اہم مشترکہ اجلاس، توہینِ اولیائے کرام، فقہاء اور علماء کی شدید مذمت، قومی اتحاد کے تحفظ کے لیے متفقہ لائحۂ عمل اختیار کرنے کا اعلان
انوریہ کمپلیکس پارہ چنار میں بادشاہ انور غگ کی دعوت و میزبانی میں منعقدہ کثیرالتنظیمی اجلاس میں ضلع کرم کی مختلف اسٹیک ہولڈر تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر اولیائے کرام، فقہاء عظام اور علماء کرام کے خلاف توہین آمیز مواد کی اشاعت پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ مقدس شخصیات کی توہین، اشتعال انگیز زبان اور نفرت پر مبنی مواد معاشرتی ہم آہنگی، مذہبی احترام اور قومی اتحاد کے لیے نقصان دہ ہے۔ شرکاء نے کہا کہ ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ، ذمہ دارانہ اور قانونی بنیادوں پر مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، تاکہ ضلع کرم کے پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔

اجلاس میں مرکزی انجمنِ حسینیہ کی زیرِ نگرانی ایک متفقہ ٹیم کی تشکیل کا اعلان کیا گیا، جو پہلے سے طے شدہ قومی فیصلوں پر عمل درآمد اور متعلقہ امور کی نگرانی کرے گی۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ کسی بھی فرد، مذہب، مسلک یا عقیدے کی توہین اور نفرت انگیز مواد کی ترویج کو سنجیدگی سے لیا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قومی سطح پر قومی فیصلے کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں سے رجوع کیا جائے گا۔
اجلاس میں تحریکِ حسینی، بادشاہ انور غگ، انوریہ ویلفیئر فیڈریشن، مجلس وحدت مسلمین ضلع کرم، عزاداری کونسل، تنظیم تحفظِ ملت، ایم این اے انجینئر حمید حسین طوری کی ٹیم اور آئی او برادران کے نمائندگان نے اس مشترکہ مشن میں مرکزی انجمنِ حسینیہ کے ساتھ بھرپور تعاون اور قومی اتحاد کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس کے شرکاء نے عوام الناس سے پُرزور اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے توہین آمیز، اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی پیغامات کا جذباتی ردِعمل دینے سے گریز کریں، ایسے مواد کو آگے شیئر نہ کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ خبر یا اشتعال انگیز مہم کا حصہ نہ بنیں۔ اگر کوئی قابلِ اعتراض مواد سامنے آئے تو اسے پھیلانے کے بجائے متعلقہ ذمہ داران اور قانونی اداروں کے نوٹس میں لایا جائے۔
شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی اتحاد، باہمی احترام، مذہبی رواداری اور امن و استحکام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ضلع کرم کے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اتحاد و یکجہتی برقرار رکھیں، ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسی کسی سرگرمی کو تقویت نہ دیں جو علاقے میں انتشار، بداعتمادی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا سبب بن سکتی ہو۔

پاکستانی حکومت مشرقی وسطی میں ایک بدترین غلطی کرنے جارہی ہے۔ کل کے اعلامیئے میں کہا گیا یے کہ مکہ معاہدے کے تحت سعودی حک...
08/10/2026

پاکستانی حکومت مشرقی وسطی میں ایک بدترین غلطی کرنے جارہی ہے۔ کل کے اعلامیئے میں کہا گیا یے کہ مکہ معاہدے کے تحت سعودی حکومت کی معاونت کے لئے پاکستان اور ترکی اپنی افواج سعودی عرب روانہ کررہے ہیں۔ اس وقت بلوچستان اور خیبر پختونخواہ جل رہا ہے اور سیاسی و معاشی عدم استحکام اپنے عروج پر یے۔ ایسے وقت پر اغیار میں کسی بحث اور پارلیمنٹ سے رجوع کئے بغیر جنگ میں کود پڑنا کہاں کی عقلمندی یے؟

بدقسمتی سے پاکستان میں لوگوں کو یمن کے بحران کی تاریخ اور سنگین نوعیت کا زیادہ علم نہیں اور وہ اسے فرقہ وارانہ زاویئے سے دیکھتے ہیں۔ حقیقت میں یہ ایک طویل اور پچیدہ لڑائی یے۔ 1962 میں یمن میں انقلاب برپا ہوا جس نے روایتی اور انقلابی گروہوں کو ایک خوفناک خانہ جنگی میں دھکیل دیا۔ جمال عبدل ناصر کے مصر نے انقلابی حکومت کی حمایت شروع کردی جبکہ سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل نے بادشاہ کے حمایتی جنہیں Royalist کہتے تھے کو اسلحہ فراہم کرنا شروع کیا۔ اس جنگ کو "مصر کا ویتنام" بھی کہتے ہیں کیونکہ اسرائیل نے مصر کو یمن میں اسی طرح پھنسا دیا جس طرح امریکہ ویتنام میں پھنس گیا تھا۔ مصر معاشی طور پر کمزور ہوگیا اور 1967 کی جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں شکست نے اس کے اثر کو مزید کمزور کردیا۔

اس خانہ جنگی کے بعد یمن بہت عرصہ علی صالح کی ایک غیر مقبول آمریت کے ماتحت تھا۔ اسی دوران زیدی شعیہ کمیونیٹی نے 1990 میں مزاحمت شروع کی یاد رہے کہ اس خطے کے لوگ 1960 کی خانہ جنگی میں سعودی عرب کے ساتھ تھے لیکن ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور بدعنوانی کی وجہ سے وہ حکومت مخالف ہوئے۔ آج یہ گروہ حوثی یا انصار اللہ کے نام سے مشہور ہے اور ان کی اپنی تاریخ آپ کو یوٹیوب پر کئی ویڈیوز مل جائیں گی۔ بہرحال 2004 سے یمن میں خانہ جنگی کی کیفیت رہتی ہے جس میں شدت 2011 کے مظاہروں کے بعد آتی ہے جس کے بعد علی صالح مستعفی ہوجاتے ہیں اور ایک اور فوجی آمر بر سر اقتدار آجاتا یے۔ 2014 میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف حوثی بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف فوج کشی کرتے ہیں جس میں انہیں عوامی حمایت حاصل ہوتی ہے اور وہ دارلحکومت ثنا پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ 2015 میں علی صالح کے ساتھ، جن کے خلاف 2011 میں انہوں نے مزاحمت کی ہوتی ہے، مل کر ایک قومی حکومت تشکیل دی جاتی ہے۔

یہاں سے سعودی عرب اور متحدہ امارات کا ایک خوفناک رول شروع ہوتا یے۔ نئی حکومت کو ماننے کے بجائے وہ یمن پر بدترین بمباری اور محاصرے کا آغاز کرتے ہیں جو آج تک قائم ہے۔ 2016 میں کئی عالمی ادارے، بشمول WHO, یہ رپورٹ کرتے ہیں کہ سعودی، اماراتی، اور امریکی بمباری اور پابندیوں کی وجہ سے یمن میں قحط آچکا ہے جس سے ہزاروں بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اس محاصرے کے دوران یمن ایران کے ساتھ اہنے تعلقات بہتر کرتا یے اور اپنی فوجی صلاحیت کو بھی مضبوط کرتا یے۔ 2015 سے 2016 تک مغربی و سعودی بمباری، پابندیوں، اور پروپیگینڈہ کے باوجود حوثی مزید کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ملک کے بیشتر علاقے پر اپنی حکومت قائم کرلیتے ہیں اور 2022 میں ایک امن معادہ بھی ہوجاتا ہے۔

اگلے سال غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے خلاف یمن پہلا ملک ہوتا ہے جو اسرائیل پر باقاعدہ حملہ بھی کرتا ہے اور باب المینداب کو بھی اسرائیلی تجارت کے لئے بند کردیتا ہے۔ اس فیصلے کی سزا کے طور پر ایک بار پھر ان پر بمباری کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں پہل اسرائیل کرتا ہے جبکہ متحدہ امارات جنوبی کونسل نامی ایک علیحدگی پسند گروہ کی حمایت شروع کردیتا جسکئ وجہ سے اس کا سعودی عرب سے بھی تضاد بن جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال جنوری میں سعودی عرب نے امارات کے حمایتی جنوبی کونسل پر بمباری بھی کی اور اپنی پوزیشن بہتر کرنے کے لئے ترکی اور پاکستان سے مکہ معادہ بھی کیا۔

ایران جنگ نے اس مسئلے کو مزید پچیدہ کردیا یے۔ یمن میں اقتصادی اور عسکری محاصرہ بڑھ چکا ہے جبکہ امریکہ و اسرائیل کی کوشش ہے کہ لبنان ایران یمن شام سمیت پورے خطے میں مزاحمت کو کچل دیا جائے۔ اس لئے یہ معاملے صرف پراکسی کا نہیں بلکہ یمن کی اندرونی تاریخ اور عالمی سیاست سےجڑا ہوا یے۔ اسی طرح سعودی پر حملے بھی کوئی اچانک نہیں ہوئے بلکہ اس طویل تاریخ کا حصہ ہے جس میں مسلسل سعودی مداخلت نے یمن میں عدم استحکام کے ساتھ ساتھ بھوک، غربت اور سماجی تباہی کا خوفناک حد تک اضافہ کیا۔

اس تاریخ کا ادراک کئے بغیر ایک ایسی جنگ میں کود پڑنا جس میں یمن کی اندرونی پچیدگی کے ساتھ خطے میں مختلف ممالک شامل ہیں پاکستان کے لئے ایک بدترین ویتنام بن سکتا ہے۔ یہ کوئی حق یا باطل کی جنگ نہیں بلکہ ایک کمزور اشرافیہ کی سستے ڈالر کمانے کی بھیانک کوشش ہے جس کا خمیازہ نا صرف یمن کے عوام اور ہمارے فوجی جوان بھگتے گیں بلکہ کشیدگی کی ایک لہر پاکستان کے اندر بھی ہماری زندگیوں کو متاثر کرے گی۔ اس لئے پاکستان سمیت دیگر ممالک کا مقصد یمن اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا ہونا چاہئے نا کہ ایک فریق بن کر اغیار کی جنگ میں شامل ہونا۔ پہلے ہی ہم آج تک افغانستان کے نام نہاد جہاد میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرنے کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سےجو ممالک اشرافیہ کی مراعات پورا کرنے کے لئے چل رہے ہوتے ہیں، وہ نہ تاریخ سے سیکھتے ہیں اور نہ ہی کرائے کی جنگوں میں اپنوں کو مروانے میں دیر کرتے ہیں۔
تحریر :- ڈاکٹر عمار علی جان یونیورسٹی آف کیمبرج

08/10/2026

چیئرمین ایم ڈبلیو ایم پاکستان و اپوزیشن لیڈر سینیٹ آف پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب کا یمن کے حوالے سے اہم اور دوٹوک بیان

حکومت یمن کی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرے۔ پاکستان پارلیمنٹ کی 2015ء کی متفقہ قرارداد کا پابند ہے، جس میں یمن کے تنازعے میں غیر جانب داری اختیار کرتے ہوئے امن و مذاکرات کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا تھا۔
خصوصی انٹرویو میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے یمن کے بحران کے تاریخی پس منظر، پاکستان کی پالیسی اور موجودہ صورتحال پر تفصیلی مؤقف پیش کر دیا۔

Address

Parachinar
26300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MWM Parachinar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share