02/06/2026
یہ بات بار بار واضح کی جا چکی ہے کہ ایمل ولی خان نے قسم اٹھا کر کہا کہ انہیں مذکورہ شخص کے عقیدے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس شخص کو صرف ایک پروڈیوسر کے طور پر رکھا گیا تھا، نہ کہ اس کے عقائد کی بنیاد پر۔ جب معاملہ سامنے آیا تو اسے فوری طور پر ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد بھی بعض سیاسی مخالفین مسلسل پروپیگنڈا، الزامات اور کردار کشی میں مصروف ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب وضاحت بھی آ گئی، قسم بھی اٹھا لی گئی اور متعلقہ شخص کو عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا، تو پھر اس معاملے کو زندہ رکھنے کا مقصد کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کچھ عناصر سیاسی فائدے کے لیے مذہب کا کارڈ استعمال کر رہے ہیں اور عوام کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کا مؤقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہم پہلے بھی اس سوچ کے مخالف تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ سیاست کو سیاست کے دائرے میں اور مذہب کو مذہب کے دائرے میں رکھنا ہی معاشرے اور جمہوریت کے مفاد میں ہے۔
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں، عقیدۂ ختمِ نبوت ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہے، اور ہمارا پختہ ایمان ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس عقیدے پر ہمارا کامل یقین ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کا ابہام پیدا کرنا محض سیاسی پروپیگنڈا اور بدنیتی ۔
فضل سبحان خان ممریز ۔
حقائق حقائق ہے ۔ ریڈ مائک ۔