18/08/2026
بھٹو بننے کے لیے کردار اور قربانی چاہیے، ڈیل نہیں!
حامد میر سے جب عمران خان کے جیل سے باہر آنے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کے جواب کا مفہوم آج ایک بار پھر حقیقت کے آئینے میں نظر آتا ہے۔ سیاست میں قید سے باہر آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں، ہر شخص کسی نہ کسی وقت باہر آ سکتا ہے، حالات بدل سکتے ہیں، راستے نکل سکتے ہیں اور سیاسی فیصلے ہو سکتے ہیں۔ لیکن تاریخ میں ہر شخص ذوالفقار علی بھٹو نہیں بنتا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار، عہدے اور اپنی جان کے درمیان انتخاب کیا تو اپنی جان قربان کر دی، مگر اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ جانتے تھے کہ موت سامنے کھڑی ہے، لیکن ایک نڈر رہنما کی طرح اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود بھٹو صرف ایک سیاسی نام نہیں بلکہ مزاحمت، جمہوریت، عوامی حقوق اور اصولی سیاست کی علامت ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار آنے جانے والی چیز ہے، جیل سے باہر آنا بھی ممکن ہے، سیاسی ڈیلیں بھی ہوتی رہی ہیں، مگر تاریخ ہر کسی کو بھٹو کا مقام نہیں دیتی۔
ہر کوئی باہر آ سکتا ہے، ہر کوئی سمجھوتہ کر سکتا ہے، مگر ہر کوئی ذوالفقار علی بھٹو نہیں ہوتا۔
بھٹو نے جان دے کر ثابت کیا کہ نظریہ صرف تقریروں کا نام نہیں، بلکہ ضرورت پڑنے پر اس کے لیے قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔
اللہ تعالیٰ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین 🤲
زندہ ہے بھٹو، زندہ ہے!
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
بھٹو ازم پائندہ باد!
جمہوریت پائندہ باد! ❤️