Transgender Support & Information Program

Transgender Support & Information Program Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Transgender Support & Information Program, Government Organization, Directorate of Social Welfare, Special Education and women Empowerment, old Jamrud Road opposite of Islamia college, Peshawar Khyber Pakhtunkhwa, Peshawar.

Our mission is to stop all kinds of gender based violence and provide a peaceful environment to TRANSGENDERS persons across the Province of KHYBER PAKHTUNKHWA where they could enjoy equal opportunities in Health education and employment.

15/06/2025

محکمہ سوشل ویلفیئر خیبر پختونخوا کا خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدام — ایک باوقار، محفوظ اور مساوی معاشرے کی جانب پائیدار پیش رفت!

محکمہ سوشل ویلفیئر، خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری، حکومت خیبر پختونخوا پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود اور ان کے آئینی و انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل متحرک ہے۔ خواجہ سراؤں کو درپیش معاشرتی ناانصافی، محرومی، سیکیورٹی اور فلاحی مسائل کے حل کے لیے محکمہ ٹھوس اور دیرپا اقدامات کر رہا ہے۔

خواجہ سرا کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی نمایاں تنظیموں Trans Action KP، منزل فاؤنڈیشن اور Blue Veins کے نمائندگان نے ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر، خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری، حکومت خیبر پختونخوا کی فوکل پرسن برائے خواجہ سرا کمیونٹی محترمہ سلمیٰ ملک سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس دوران جاری فلاحی منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

محترمہ سلمیٰ ملک نے کہا کہ خواجہ سراؤں کے لیے فلاحی پروگراموں کی شروعات نہایت اہم ہے تاکہ انہیں معاشرتی تحفظ، باعزت روزگار اور تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے جاری منصوبوں پر مؤثر نگرانی اور پائیدار فالو اپ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان پر شفاف اور نتیجہ خیز عمل درآمد ممکن ہو۔

اجلاس کے دوران معروف سماجی رہنما جناب قمر نسیم (Blue Veins) نے تجویز دی کہ خواجہ سراؤں کے لیے HIV سے متعلق ایک مخصوص پروگرام متعارف کروایا جائے، جس میں روزگار کا کوٹہ بھی شامل ہو تاکہ انہیں صحت اور معیشت دونوں میدانوں میں تحفظ ملے۔ انہوں نے ایک جامع پلان آف ایکشن بھی پیش کیا۔

خواجہ سرا کمیونٹی کی نمائندہ محترمہ فرزانہ (Trans Action) نے بتایا کہ کمیونٹی کو سیکیورٹی خدشات، صحت سہولیات کی کمی اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل درپیش ہیں جن کا فوری حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

محترمہ ماہی نے اس بات پر زور دیا کہ خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی لازمی ہے تاکہ انہیں تشدد یا ہراسانی کا سامنا نہ ہو۔

محترمہ اَرزُو نے (منزل فاؤنڈیشن) کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کے عمل کو آسان، خودکار اور باوقاربنانا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت ان اداروں کو وسائل فراہم کرے جو خواجہ سراؤں کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ رجسٹریشن کے عمل میں معاونت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں زیر غور آنے والے اہم نکات:

1. خواجہ سراؤں سے متعلق سابقہ پالیسی کی نظرثانی اور فوری نوٹیفکیشن۔
2. سرکاری ملازمتوں میں خواجہ سراؤں کے لیے مختص کوٹے پر عملدرآمد۔
3. سرکاری ہسپتالوں میں مخصوص وارڈز اور صحت سہولیات کی فراہمی۔
4. سیکیورٹی کے مسائل کے حل کے لیے فوری رسپانس اور پولیس تعاون۔
5. محفوظ اور باعزت پبلک ٹرانسپورٹ اسکیموں کی تشکیل۔
6. رجسٹریشن کے عمل کو آسان اور خودکار بنانا۔
7. ہنر مندی، تعلیم، روزگار اور معاشی خود مختاری کے لیے پروگرامز اور اسکالرشپس۔
8. HIV پروگرامز میں خواجہ سراؤں کے لیے مخصوص پروگرام اور ملازمت کا کوٹہ۔

محکمہ سوشل ویلفیئر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خواجہ سراؤں کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک، تشدد اور محرومی کو برداشت نہیں کرے گا اور ایک مؤثر شکایتی ازالہ نظام کے تحت فوری انصاف فراہم کرے گا۔

آخر میں خواجہ سراؤں کے نمائندوں نے محکمہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ محکمہ مستقبل میں مزید مؤثر اقدامات کرے گا اور ان کی فلاح کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ وہ معاشرے میں باوقار مقام حاصل کر سکیں۔
محکمہ سوشل ویلفیئر، خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری، خیبر پختونخوا کا مشن ہے کہ ایک ایسا جامع اور مساوی معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں خواجہ سراؤں سمیت تمام اقلیتی طبقات کو برابری، تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں۔









10/06/2025
10/06/2025

محکمہ سوشل ویلفیئر خیبر پختونخوا کا خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدام — ایک باوقار، محفوظ اور مساوی معاشرے کی جانب پائیدار پیش رفت!

محکمہ سوشل ویلفیئر، خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری، حکومت خیبر پختونخوا پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود اور ان کے آئینی و انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل متحرک ہے۔ خواجہ سراؤں کو درپیش معاشرتی ناانصافی، محرومی، سیکیورٹی اور فلاحی مسائل کے حل کے لیے محکمہ ٹھوس اور دیرپا اقدامات کر رہا ہے۔

اسی مقصد کے لیے ایک اہم اجلاس ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر پشاور میں منعقد ہوا، جس میں متعلقہ اداروں، سول سوسائٹی اور خواجہ سراؤں کی نمائندہ تنظیموں نے شرکت کی۔
ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر خیبر پختونخوا، جناب رفیق خان مہمند نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ سراؤں کے لیے جاری تمام حکومتی پروگرامز پر فوری اور مؤثر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور وہ ذاتی طور پر اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ خواجہ سراؤں کو تمام ضروری سہولیات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے اپنی ٹیم کو ہدایت دی کہ فالو اپ کا مربوط نظام قائم کریں اور نئی اسکیموں کے آغاز میں تاخیر نہ کی جائے تاکہ اس کمیونٹی کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر، جناب قیوم خان نے اجلاس کے انتظامات میں فعال کردار ادا کیا اور شرکاء کو خواجہ سراؤں کی فلاح سے متعلق پہلے سے لیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے ضلعی سطح پر خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن، شکایات کے ازالے اور خدمات کی فراہمی کے لیے مربوط حکمت عملی پر زور دیا۔

محترمہ سلمیٰ ملک، فوکل پرسن برائے خواجہ سرا کمیونٹی نے اجلاس کے دوران جاری فلاحی منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے سے کیے گئے اقدامات پر مستقل فالو اپ اور مؤثر نگرانی ضروری ہے تاکہ ان پر عملی اور شفاف انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس کے دوران معروف سماجی رہنما جناب قمر نسیم نے زور دیا کہ خواجہ سراؤں کے لیے HIV سے متعلق ایک علیحدہ مخصوص پروگرام متعارف کروایا جائے، جس میں ان کے لیے ملازمت کا کوٹہ بھی شامل ہو، تاکہ انہیں صحت اور روزگار کے میدان میں باعزت مواقع میسر آئیں۔ انہوں نے خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع پلان آف ایکشن بھی تجویز کیا۔ وہ بلو وینز (Blue Veins) تنظیم کی نمائندگی کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ ان کی ٹیم بھی موجود تھی۔

محترمہ فرزانہ نے، جو خواجہ سرا کمیونٹی کی نمائندہ اور Trans Actionتنظیم سے وابستہ ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیونٹی کو شدید سیکیورٹی خدشات، صحت سہولیات کی کمی اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جن کا فوری اور مؤثر حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔۔ ان کے ہمراہ ان کی ٹیم بھی اجلاس میں شریک تھی.
محترمہ ماہی نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا ناگزیر ہے جہاں انہیں کسی بھی قسم کے تشدد یا ہراسانی کا سامنا نہ ہو.
محترمہ اَرزُو نے منزل فاؤنڈیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے خواجہ سراؤں کے رجسٹریشن پر زور دیا .انہوں نے بتایا کہ خواجہ سراؤں کو رجسٹر کرنا حکومت کی ذمہ داری ہںے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو خواجہ سراؤں کے لئے کام کرنے والے اداروں کو ریسورسز مہیا کرنے چاہئے تا خواجہ سراؤں کے رجسٹریشن میں حکومت کا تعاون کر سکے۔ ان کے ہمراہ ان کی ٹیم بھی اجلاس میں شریک تھی۔
۔
اجلاس میں زیرِ غور آنے والے اہم نکات درج ذیل تھے:

1. خواجہ سراؤں سے متعلق سابقہ پالیسی کی نظرثانی اور فوری نوٹیفکیشن۔
2. سرکاری ملازمتوں میں خواجہ سراؤں کے لیے مختص کوٹے پر عملدرآمد۔
3. سرکاری ہسپتالوں میں مخصوص وارڈز اور صحت سہولیات کی فراہمی۔
4. سیکیورٹی کے مسائل کے حل کے لیے فوری رسپانس اور پولیس تعاون۔
5. محفوظ اور باعزت پبلک ٹرانسپورٹ اسکیموں کی تشکیل۔
6. خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کو آسان، خودکار اور باوقار بنانے کے اقدامات۔
7. ہنر مندی، تعلیم، روزگار اور معاشی خود مختاری کے لیے خصوصی پروگرامز اور اسکالرشپ اسکیمز۔
8. HIV پروگرامز میں خواجہ سراؤں کے لیے ایک علیحدہ مخصوص پروگرام اور ملازمت کا کوٹہ۔

محکمہ سوشل ویلفیئر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خواجہ سراؤں کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک، تشدد اور محرومی کو برداشت نہیں کرے گا، اور ایک مؤثر شکایتی ازالہ نظام (Complaint Redressal Mechanism) کے تحت فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

آخر میں خواجہ سراؤں کے نمائندوں نے محکمہ کے حکام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ محکمہ ان کے مسائل کو نہ صرف سنجیدگی سے لے رہا ہے بلکہ عملی طور پر ان کی بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تعاون مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرے گا اور انہیں معاشرے میں باوقار مقام حاصل ہوگا۔

محکمہ سوشل ویلفیئر، خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری، خیبر پختونخوا کا مشن ہے کہ ایک ایسا جامع اور مساوی معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں خواجہ سراؤں سمیت تمام اقلیتی طبقات کو برابری، تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں۔








خواجہ سرا کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی نمایاں تنظیموں Trans Action KP، منزل فاؤنڈیشن اور Blue Veins کے ن...
09/06/2025

خواجہ سرا کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی نمایاں تنظیموں Trans Action KP، منزل فاؤنڈیشن اور Blue Veins کے نمائندگان نے ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر، خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری، حکومت خیبر پختونخوا کی فوکل پرسن برائے خواجہ سرا کمیونٹی محترمہ سلمیٰ ملک سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس دوران جاری فلاحی منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

محترمہ سلمیٰ ملک نے کہا کہ خواجہ سراؤں کے لیے فلاحی پروگراموں کی شروعات نہایت اہم ہے تاکہ انہیں معاشرتی تحفظ، باعزت روزگار اور تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے جاری منصوبوں پر مؤثر نگرانی اور پائیدار فالو اپ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان پر شفاف اور نتیجہ خیز عمل درآمد ممکن ہو۔

اجلاس کے دوران معروف سماجی رہنما جناب قمر نسیم (Blue Veins) نے تجویز دی کہ خواجہ سراؤں کے لیے HIV سے متعلق ایک مخصوص پروگرام متعارف کروایا جائے، جس میں روزگار کا کوٹہ بھی شامل ہو تاکہ انہیں صحت اور معیشت دونوں میدانوں میں تحفظ ملے۔ انہوں نے ایک جامع پلان آف ایکشن بھی پیش کیا۔

خواجہ سرا کمیونٹی کی نمائندہ محترمہ فرزانہ (Trans Action) نے بتایا کہ کمیونٹی کو سیکیورٹی خدشات، صحت سہولیات کی کمی اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل درپیش ہیں جن کا فوری حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

محترمہ ماہی نے اس بات پر زور دیا کہ خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی لازمی ہے تاکہ انہیں تشدد یا ہراسانی کا سامنا نہ ہو۔

محترمہ اَرزُو نے (منزل فاؤنڈیشن) کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کے عمل کو آسان، خودکار اور باوقاربنانا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت ان اداروں کو وسائل فراہم کرے جو خواجہ سراؤں کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ رجسٹریشن کے عمل میں معاونت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں زیر غور آنے والے اہم نکات:

1. خواجہ سراؤں سے متعلق سابقہ پالیسی کی نظرثانی اور فوری نوٹیفکیشن۔
2. سرکاری ملازمتوں میں خواجہ سراؤں کے لیے مختص کوٹے پر عملدرآمد۔
3. سرکاری ہسپتالوں میں مخصوص وارڈز اور صحت سہولیات کی فراہمی۔
4. سیکیورٹی کے مسائل کے حل کے لیے فوری رسپانس اور پولیس تعاون۔
5. محفوظ اور باعزت پبلک ٹرانسپورٹ اسکیموں کی تشکیل۔
6. رجسٹریشن کے عمل کو آسان اور خودکار بنانا۔
7. ہنر مندی، تعلیم، روزگار اور معاشی خود مختاری کے لیے پروگرامز اور اسکالرشپس۔
8. HIV پروگرامز میں خواجہ سراؤں کے لیے مخصوص پروگرام اور ملازمت کا کوٹہ۔

آخر میں خواجہ سراؤں کے نمائندوں نے محکمہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ محکمہ مستقبل میں مزید مؤثر اقدامات کرے گا اور ان کی فلاح کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ وہ معاشرے میں باوقار مقام حاصل کر سکیں۔






The violence must be stopped in any way, justice should prevail as Transgender rights are the human rights. They are als...
25/05/2025

The violence must be stopped in any way, justice should prevail as Transgender rights are the human rights. They are also the creatures of Allah and nobody has the right to end their life.




Dated: 20/05/2025ٹرانسجینڈر کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ کی زیر صد...
20/05/2025

Dated: 20/05/2025

ٹرانسجینڈر کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ کی زیر صدارت:

پشاور: صوبائی وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ کی زیر صدارت ٹرانسجینڈر کمیونٹی کی فلاح و بہبود سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سوشل ویلفیئرکے اعلیٰ افسران, ٹرانسجینڈر کمیونٹی کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی، جس میں محترمہ آرزو، محترمہ فرزانہ، محترمہ ماہی، محترمہ کیٹرینہ، محترمہ صوبیہ اور دیگر نمائندگان شامل تھیں۔ انہوں نے کمیونٹی کو درپیش مسائل، حقوق اور حکومت سے اپنی ترجیحات کے بارے میں مؤثر انداز میں اظہار خیال کیا۔
اجلاس میں ٹرانسجینڈر افراد کے حقوق کے تحفظ، تعلیم، صحت، شناختی دستاویزات، معاشی شمولیت اور سیکیورٹی سے متعلق رہنما اصولوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان رہنما اصولوں کو مشاورت کے بعد حتمی شکل دے کر جلد نافذ کیا جائے گا تاکہ ٹرانسجینڈر افراد کو درپیش مسائل کا مؤثر حل ممکن بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ٹرانسجینڈر سے متعلق ایک اہم قانونی مسودہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا گیا ہے تاکہ اس پر شرعی رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

وزیر سماجی بہبودسید قاسم علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ٹرانسجینڈر افراد کو معاشرے کا باوقار اور فعال حصہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ جیسے شعبوں میں ترجیحی بنیادوں پر عملی اقدامات کر رہی ہے۔
اس موقع پر فوکل پرسن برائے ٹرانسجینڈر پرسنز، محترمہ سلمیٰ ملک نے شرکاء کو محکمہ سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و خواتین کے حقوق، خیبرپختونخوا کی جانب سے پہلے سے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی پالیسیوں کا مقصد ٹرانسجینڈر کمیونٹی کی سماجی اور معاشی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔
معروف سماجی کارکن جناب قمر نسیم (بلو وینز) نے محکمہ کی جانب سے سابقہ فلاحی اقدامات کے مؤثر نفاذ پر زور دیا اور اس ضمن میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین بہتر کوآرڈینیشن کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

یہ اجلاس خیبرپختونخوا حکومت کی ایک فلاحی ریاست کے وژن کی عکاسی کرتا ہے جہاں تمام شہریوں کو برابری کے حقوق اور مواقع میسر ہوں گے۔






Transgender Persons Summit 2025 Receives Prominent Coverage in Leading National English Daily, Showcasing Khyber Pakhtun...
10/05/2025

Transgender Persons Summit 2025 Receives Prominent Coverage in Leading National English Daily, Showcasing Khyber Pakhtunkhwa's Commitment to Inclusion and Empowerment.

Peshawar  -  A landmark Provincial Transgender Persons (Protection, Health, and Rights) Summit concluded with a strong call for collaborative efforts

حکومت خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام، ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر، اسپیشل ایجوکیشن اور ویمن ایمپاورمنٹ کے تحت خواجہ سرا کمی...
20/04/2025

حکومت خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام، ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر، اسپیشل ایجوکیشن اور ویمن ایمپاورمنٹ کے تحت خواجہ سرا کمیونٹی سے متعلق ایک اہم کانفرنس مئی کے پہلے ہفتے میں منعقد کی جائے گی۔
براہِ کرم خیبر پختونخوا کے تمام خواجہ سرا حضرات اپنی رجسٹریشن ہمارے ساتھ کروائیں۔

شکریہ
اسسٹنٹ ڈائریکٹر / فوکل پرسن خواجہ سرا کمیونٹی
حکومت خیبر پختونخوا

Under the auspices of the Government of Khyber Pakhtunkhwa, the Directorate of Social Welfare, Special Education, and Women Empowerment is organizing an important conference on transgender issues in the first week of May.

All transgender persons from Khyber Pakhtunkhwa are kindly requested to register with us.

Thank you,
Assistant Director / Focal Person Transgender Community
Government of Khyber Pakhtunkhwa

حکومت خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام، ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر، اسپیشل ایجوکیشن اور ویمن ایمپاورمنٹ کے تحت خواجہ سرا کمی...
20/04/2025

حکومت خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام، ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر، اسپیشل ایجوکیشن اور ویمن ایمپاورمنٹ کے تحت خواجہ سرا کمیونٹی سے متعلق ایک اہم کانفرنس مئی کے پہلے ہفتے میں منعقد کی جائے گی۔
براہِ کرم خیبر پختونخوا کے تمام خواجہ سرا حضرات اپنی رجسٹریشن ہمارے ساتھ کروائیں۔

شکریہ
اسسٹنٹ ڈائریکٹر / فوکل پرسن خواجہ سرا کمیونٹی
حکومت خیبر پختونخوا

Under the auspices of the Government of Khyber Pakhtunkhwa, the Directorate of Social Welfare, Special Education, and Women Empowerment is organizing an important conference on transgender issues in the first week of May.

All transgender persons from Khyber Pakhtunkhwa are kindly requested to register with us.

Thank you,
Assistant Director / Focal Person Transgender Community
Government of Khyber Pakhtunkhwa

پشاور، 18 اپریل 2025
محکمہ سماجی بہبود خیبر پختونخوا کے زیرِ اہتمام صوبائی
ٹرانس جینڈر تحفظ صحت و حقوق اور گرلز ایجوکیشن سمٹ کا انعقاد!

محکمہ سماجی بہبود حکومت خیبر پختونخوا اور سول سوسائٹی تنظیم بلو وینز کے باہمی اشتراک سے دو اہم صوبائی سطح کے ایونٹس کا انعقاد کیا جا رہا ہے: صوبائی
ٹرانس جینڈر تحفظ، صحت و حقوق سمٹ اور گرلز ایجوکیشن سمٹ ۔ یہ دونوں اجلاس کمزور اور پسماندہ طبقات کے مسائل کے حل کے لیے پالیسی مکالمے، تعاون، اور مؤثر اقدامات کی بنیاد فراہم کریں گے۔

ٹرانس جینڈر تحفظ، صحت و حقوق سمٹ کا مقصد خیبر پختونخوا میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کرنا ہے۔ اس سمٹ میں صوبائی حکومت کی جانب سے ٹرانس جینڈر افراد کے لیے اٹھائے گئے اقدامات، صحت، قانونی تحفظ، اور سماجی شمولیت کے مواقع پر روشنی ڈالی جائے گی۔ اس موقع پر کثیر الجہتی اقدامات کے ذریعے اس طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے تجاویز پر غور کیا جائے گا۔
گرلز ایجوکیشن سمٹ میں خصوصی طور پر ضلع کرم میں لڑکیوں کی تعلیم کی صورتحال کو اجاگر کیا جائے گا۔ سمٹ میں لڑکیوں کو درپیش چیلنجز، مثلاً رسائی، ثقافتی رکاوٹیں، بنیادی سہولیات کی کمی، اور صنفی امتیاز جیسے مسائل پر گفتگو کی جائے گی۔ اس موقع پر مختلف متبادل راستے اور اصلاحی ماڈلز کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ یہ اجلاس مختلف سرکاری اداروں، محکموں اور اسٹیک ہولڈرز کے مابین بین الشعبہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرے گا۔
ان اجلاسوں کی تیاری کے لیے ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت وزیر سماجی بہبود قاسم علی شاہ نے کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سماجی بہبود رفیق خان مہمند
، ضلعی آفیسر سماجی بہبود نور محمد، بلو وینز اور یو این ڈی پی کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
اس موقع پر وزیر سماجی بہبود قاسم علی شاہ نے کہا:

"وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں خیبر پختونخوا حکومت لڑکیوں کی تعلیم کے حق اور کمزور طبقات کے تمام بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔"

ڈائریکٹر سماجی بہبود رفیق خان مہمند نےکہا :

"یہ دونوں سمٹس لڑکیوں اور ٹرانس جینڈر افراد کو درپیش حقیقی چیلنجز کو اجاگر کریں گی اور ان کے حل کے لیے دیرپا، مربوط اور شراکتی اقدامات کی راہ ہموار کریں گی۔"

یہ سمٹس مختلف ماہرین، پالیسی سازوں، سماجی کارکنوں، اور متعلقہ اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر خیبر پختونخوا میں ایک زیادہ جامع اور مساوی معاشرے کے قیام کے لیے اقدامات کو فروغ دیں گی۔










12/04/2025

فیس بک کے پیارے دوستو!

بات سنو میری آج ذرا آپ لوگ دھیان سے!

ایک لمحہ نکالو، دل سے سنو، میں آپ سب سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

آپ سب سے درخواست ہے کہ خود میرے یوٹیوب چینل پر تشریف لائیں، کیونکہ آپ کے لیے یہاں الگ سے ویڈیو پوسٹ کرنی پڑتی ہے۔
مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے یوٹیوب پر آئیں —

لنک پہلے کمنٹ میں موجود ہے۔ آپ کی محبت اور سپورٹ کا شکریہ

Address

Directorate Of Social Welfare, Special Education And Women Empowerment, Old Jamrud Road Opposite Of Islamia College, Peshawar Khyber Pakhtunkhwa
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Transgender Support & Information Program posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share