15/06/2025
محکمہ سوشل ویلفیئر خیبر پختونخوا کا خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدام — ایک باوقار، محفوظ اور مساوی معاشرے کی جانب پائیدار پیش رفت!
محکمہ سوشل ویلفیئر، خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری، حکومت خیبر پختونخوا پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود اور ان کے آئینی و انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل متحرک ہے۔ خواجہ سراؤں کو درپیش معاشرتی ناانصافی، محرومی، سیکیورٹی اور فلاحی مسائل کے حل کے لیے محکمہ ٹھوس اور دیرپا اقدامات کر رہا ہے۔
خواجہ سرا کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی نمایاں تنظیموں Trans Action KP، منزل فاؤنڈیشن اور Blue Veins کے نمائندگان نے ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر، خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری، حکومت خیبر پختونخوا کی فوکل پرسن برائے خواجہ سرا کمیونٹی محترمہ سلمیٰ ملک سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس دوران جاری فلاحی منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
محترمہ سلمیٰ ملک نے کہا کہ خواجہ سراؤں کے لیے فلاحی پروگراموں کی شروعات نہایت اہم ہے تاکہ انہیں معاشرتی تحفظ، باعزت روزگار اور تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے جاری منصوبوں پر مؤثر نگرانی اور پائیدار فالو اپ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان پر شفاف اور نتیجہ خیز عمل درآمد ممکن ہو۔
اجلاس کے دوران معروف سماجی رہنما جناب قمر نسیم (Blue Veins) نے تجویز دی کہ خواجہ سراؤں کے لیے HIV سے متعلق ایک مخصوص پروگرام متعارف کروایا جائے، جس میں روزگار کا کوٹہ بھی شامل ہو تاکہ انہیں صحت اور معیشت دونوں میدانوں میں تحفظ ملے۔ انہوں نے ایک جامع پلان آف ایکشن بھی پیش کیا۔
خواجہ سرا کمیونٹی کی نمائندہ محترمہ فرزانہ (Trans Action) نے بتایا کہ کمیونٹی کو سیکیورٹی خدشات، صحت سہولیات کی کمی اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل درپیش ہیں جن کا فوری حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
محترمہ ماہی نے اس بات پر زور دیا کہ خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی لازمی ہے تاکہ انہیں تشدد یا ہراسانی کا سامنا نہ ہو۔
محترمہ اَرزُو نے (منزل فاؤنڈیشن) کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کے عمل کو آسان، خودکار اور باوقاربنانا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت ان اداروں کو وسائل فراہم کرے جو خواجہ سراؤں کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ رجسٹریشن کے عمل میں معاونت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں زیر غور آنے والے اہم نکات:
1. خواجہ سراؤں سے متعلق سابقہ پالیسی کی نظرثانی اور فوری نوٹیفکیشن۔
2. سرکاری ملازمتوں میں خواجہ سراؤں کے لیے مختص کوٹے پر عملدرآمد۔
3. سرکاری ہسپتالوں میں مخصوص وارڈز اور صحت سہولیات کی فراہمی۔
4. سیکیورٹی کے مسائل کے حل کے لیے فوری رسپانس اور پولیس تعاون۔
5. محفوظ اور باعزت پبلک ٹرانسپورٹ اسکیموں کی تشکیل۔
6. رجسٹریشن کے عمل کو آسان اور خودکار بنانا۔
7. ہنر مندی، تعلیم، روزگار اور معاشی خود مختاری کے لیے پروگرامز اور اسکالرشپس۔
8. HIV پروگرامز میں خواجہ سراؤں کے لیے مخصوص پروگرام اور ملازمت کا کوٹہ۔
محکمہ سوشل ویلفیئر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خواجہ سراؤں کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک، تشدد اور محرومی کو برداشت نہیں کرے گا اور ایک مؤثر شکایتی ازالہ نظام کے تحت فوری انصاف فراہم کرے گا۔
آخر میں خواجہ سراؤں کے نمائندوں نے محکمہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ محکمہ مستقبل میں مزید مؤثر اقدامات کرے گا اور ان کی فلاح کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ وہ معاشرے میں باوقار مقام حاصل کر سکیں۔
محکمہ سوشل ویلفیئر، خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری، خیبر پختونخوا کا مشن ہے کہ ایک ایسا جامع اور مساوی معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں خواجہ سراؤں سمیت تمام اقلیتی طبقات کو برابری، تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں۔