03/09/2026
سینئر مینجمنٹ کورس کے زیر تربیت افسران کا پشاور سیف سٹی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کا مطالعاتی دورہ
پشاور:- سیف سٹی ٹیکنالوجی نے جدید پولیسنگ، جرائم کی روک تھام اور پولیس رسپانس کو مزید موثر بنایا ہے، جدید نظام سے نہ صرف مشتبہ و جرائم پیشہ عناصر کی مانیٹرنگ ممکن ہوئی ہے بلکہ پولیس اہلکاروں کی فیلڈ سرگرمیوں کو بھی مانیٹر کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ جدید پولیسنگ میں بروقت معلومات، درست تجزیہ اور فوری رسپانس بنیادی اہمیت رکھتے ہیں جبکہ سیف سٹی انہی تینوں عوامل کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کر کے پولیس کی آپریشنل صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کر رہا ہے ان خیالات کا اظہار پراجیکٹ ڈائریکٹر سیف سٹیز خیبر پختونخواہ ڈی آئی جی اعجاز احمد نے سینئر مینجمنٹ کورس کے افسران کو بریفنگ کے دوران کیا
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سینئر مینجمنٹ کورس کے زیر تربیت افسران نے پشاور سیف سٹی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر سیف سٹیز پراجیکٹ نوید گل، ڈپٹی ڈائریکٹر نعمان رفیع سمیت سیف سٹیز پراجیکٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز بھی موجود تھے۔ زیر تربیت افسران نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے مختلف شعبوں کا تفصیلی دورہ کرتے ہوئے فیس ریکگنیشن، آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن ANPR، تھرمل کیمروں، سینسرز، الرٹ جنریشن سسٹم، ڈرون و UAV سسٹم، اینٹی ڈرون سسٹم، پینک بٹن، ای چالان، باڈی وورن کیمروں، وہیکل کیمرہ سلوشن اور ریسپانڈر ٹیبلیٹس کے بارے میں آگاہی حاصل کی
اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی آئی جی اعجاز احمد نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سیف سٹی ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس کو جرائم کی نشاندہی، مشکوک سرگرمیوں کی بروقت شناخت اور ممکنہ خطرات پر فوری ردعمل کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید کیمروں، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس سے حاصل ہونے والی معلومات کو فیلڈ پولیس تک بروقت پہنچانا سیف سٹی کے نظام کی اہم خصوصیت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سٹی پٹرولنگ گاڑیوں کو بھی جدید نگرانی، کمیونیکیشن اور مانیٹرنگ سسٹمز سے لیس کر کے ان سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔
اس موقع پر ڈی آئی جی اعجاز احمد نے کہا کہ سیف سٹی محض کیمروں اور نگرانی کا نظام نہیں بلکہ جدید پولیسنگ کا ایک مربوط اور ٹیکنالوجی بیسڈ ماڈل ہے جس میں مانیٹرنگ، ڈیٹا، فیلڈ پولیس اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کو ایک مربوط نظام کے تحت منسلک کیا گیا ہے جس کا مقصد پولیسنگ کے روایتی طریقہ کار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی کا بنیادی مقصد شہریوں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی، پولیس کی کارکردگی کو مزید موثر بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قانون کے نفاذ کے نظام کو مضبوط بنانا ہے
ڈی آئی جی اعجاز احمد کا مزید کہنا تھا کہ سیف سٹی کے ذریعے کیمروں، ڈیجیٹل ڈیٹا، فیلڈ پولیس اور مختلف اداروں کے درمیان مربوط رابطہ قائم کرکے ایسا جدید طریقہ کار تشکیل دیا جا رہا ہے جو جرائم کی روک تھام کے ساتھ ساتھ شہریوں کو فوری اور موثر تحفظ فراہم کر سکے
سینئر مینجمنٹ کورس کے زیر تربیت افسران نے پشاور سیف سٹی کے مطالعاتی دورے کو انتہائی مفید اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی پولیسنگ، جرائم کی روک تھام، شہریوں کے تحفظ، ٹریفک مینجمنٹ، انٹیلی جنس بیسڈ رسپانس اور مختلف اداروں کے باہمی انضمام کے نظام کو عملی طور پر سمجھنے کے لیے اہم قرار دیا
قبل ازیں سینئر مینجمنٹ کورس کے زیر تربیت افسران نے ملک سعد شہید پولیس لائن میں یادگار شہدا پر بھی حاضری دی اور ان کے بلند درجات کے لئے دعا کی
آخر میں پراجیکٹ ڈائریکٹر سیف سٹیز خیبر پختونخوا ڈی آئی جی اعجاز احمد اور وفد کے درمیان یادگاری شیلڈز کا تبادلہ بھی کیا گیا