03/08/2026
🟥 پختون ایک طرف دہشت گردی کا شکار ہیں، تو دوسری طرف روزگار کی تلاش میں خطرناک کانوں میں اپنی جانیں گنوانے پر مجبور ہیں
🟥 کوئٹہ کی کوئلہ کان میں جان کی بازی ہارنے والے شانگلہ کے مزدور اپنے خاندانوں کی امید اور گھروں کے واحد کفیل تھے
🟥 ان کی شہادت کے بعد پورا شانگلہ غم کی کیفیت میں ڈوبا ہوا ہے، مگر حکمرانوں کی بے حسی آج بھی برقرار ہے
🟥 وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومت، دونوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے صرف بیانات اور تعزیت پر اکتفا کیا ہے
🟥 متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور عملی اقدامات کے حوالے سے وہ سنجیدگی دکھائی نہیں دی جس کی عوام کو توقع تھی
🟥 شانگلہ آج بھی تعلیم، روزگار اور ترقی کے میدان میں شدید پسماندگی کا شکار ہے
🟥 افسوس کی بات یہ ہے کہ برسوں سے وفاق میں نمائندگی رکھنے والے اور مختلف اہم وزارتوں پر فائز رہنے والے رہنما بھی شانگلہ کے عوام کی تقدیر بدلنے میں ناکام رہے ہیں
🟥 یہ ایک ایسے نظام کی ناکامی ہے جس نے نوجوانوں کو اپنے گھروں سے سینکڑوں کلومیٹر دور، جان لیوا حالات میں مزدوری کرنے پر مجبور کر دیا ہے
🟥 ایک طرف پختون دہشت گردی کا شکار ہیں، جبکہ دوسری طرف روزگار کی تلاش میں خطرناک کوئلہ کانوں میں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ آخر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟
🟥 عوامی نیشنل پارٹی شہداء کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی
🟥 ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کی مکمل کفالت کی جائے، انہیں مناسب معاوضہ دیا جائے، محفوظ مزدوری کے انتظامات یقینی بنائے جائیں اور شانگلہ میں روزگار کے مستقل مواقع فراہم کیے جائیں
🟥 حکمرانوں کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ جب وہ دوبارہ عوام کے پاس ووٹ مانگنے جائیں گے تو ان شہداء کے خاندانوں اور شانگلہ کے عوام کو کیا جواب دیں گے
| |