Sadaf Jabeen

Sadaf Jabeen Lecturer at university of Peshawar,
Department of international relations & Pakistan studies.. Analyst of current affairs

چارسدہ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کو اہلیہ ڈاکٹر آئینہ کی فون کال موصول ہوتی ہے۔ دوسری طرف آواز میں گھبرا...
25/08/2026

چارسدہ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل
اسفندیار کو اہلیہ ڈاکٹر آئینہ کی فون کال موصول ہوتی ہے۔ دوسری طرف آواز میں گھبراہٹ تھی۔ یونیورسٹی میں طلباء کا احتجاج جاری تھا۔ صورتحال کشیدہ تھی اور لیفٹیننٹ کرنل کی اہلیہ اس دوران وہاں موجود تھیں۔

یہ وہ موقع تھا جب ایک شوہر کے سامنے دو راستے تھے۔ وہ گھر پر رہتے اور معاملہ یونیورسٹی انتظامیہ یا پولیس پر چھوڑ دیتے یا وہاں پہنچ کر اپنی اہلیہ کو اس ہجوم سے نکالتے۔

ڈاکٹر آئینہ یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس افیئرز کی انچارج ہیں۔ طلباء کے احتجاج کے دوران ایک طالب علم سے ان کی تلخ کلامی ہوئی۔ طالب علم سے کہا گیا کہ وہ اس شعبے کا نہیں تو یہاں کیوں موجود ہے؟ بات بڑھتی گئی۔ طالب علم خاتون افسر کے قریب آیا تو ڈاکٹر آئینہ نے اسے خبردار کیا کہ اگر وہ ایک انچ بھی مزید آگے بڑھا تو وہ اسے تھپڑ مار دیں گی۔ اس کے بعد دھکم پیل شروع ہوگئی۔

پھر ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر کو فون کیا۔ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار وہاں پہنچے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ وردی میں تھے اور ذاتی گاڑی پر فوجی رینک بھی نمایاں تھے۔ قانونی اور ادارہ جاتی اعتبار سے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ انہیں ایسی صورتحال میں کس طریقے سے پہنچنا چاہیے تھا۔ بہتر یہی ہوتا کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ یا پولیس کو معاملہ سنبھالنے دیتے۔ لیکن وہ موقع پر خلاف قانون پہنچ گئے۔

جب بھی کسی بھی افسر(یا کسی اور محکمے کے ملازم) کو اپنی اہلیہ کی ایسی کال آئے کہ وہ مشتعل ہجوم کے درمیان ہے تو عین ممکن ہے کہ اس لمحے وہ اپنے عہدے سے پہلے شوہر بن جائے۔

ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار اپنی اہلیہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ہجوم سے باہر لے جانے کی کوشش کرتے رہے۔ اسی دوران کچھ طلباء ڈاکٹر آئینہ کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس دوران ہاتھا پائی بڑھ گئی۔ ویڈیوز میں ایک موقع پر دیکھا گیا کہ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کے گریبان تک ہاتھ پہنچتا اور ان کی وردی پھٹ گئی۔

لیفٹننٹ کرنل اسفندیار کے پاس ذاتی پستول موجود تھا لیکن وہ یونیورسٹی پہنچتے وقت اسے لہراتے ہوئے اندر داخل نہیں ہوئے۔ انہوں نے اہلیہ کو ہجوم سے نکالتے وقت بھی ہتھیار نہیں نکالا لیکن جب صورتحال ہاتھا پائی تک پہنچی، اہلیہ کو دھکے دیے جاتے دیکھنے اور اپنی وردی پھٹنے کے بعد انہوں نے پستول نکالا اور فائرنگ کر دی

یونیورسٹی کے چند طلباء سے بات ہوئی ہے۔
یہاں زیادہ تر طلباء پشتون تھے اور براہ راست ہاتھاپائی کرنے والا نوجوان بھی پشتون ہے ایک نوجوان کرنل کے گریبان تک پہنچ گیا ۔ وہیں کرنل اسفند یار بھی پشتون ہے
وہی اسفندیار جس نے اپنی اہلیہ کو مشتعل ہجوم کے درمیان سے نکالنے کی کوشش کی، وہی شخص جس نے 26 سال فوج میں گزارے، وہی چارسدہ کا پشتون جس کے سامنے اس وقت اپنی وردی، عہدہ اور ملازمت سے زیادہ اپنی اہلیہ کی سلامتی کا سوال تھا۔۔۔
ادیب یوسفزئی کی وال سے

21/08/2026

اسرائیل کے ساتھ
پاکستان،ترکیہ کی لڑائی شروع ہونے والی ہے؟

(ترکیہ،پاکستان،سعودی معاہدہ
بھی ہے۔۔اور
پاک/بھارت جنگ میں ترکیہ کی مدد بھی یاد رکھیں)

اسرائیل نے ترکیہ کی سرحد کے پاس شام میں اس فوجی بیس پر فضائی حملے کیے ہیں جس
کا دورہ چند گھنٹے پہلے ترک اہلکاروں نے کیا تھا۔

ترکیہ۔۔۔اسرائیل کو ان حملوں کا جواب دینا چاہ رہا ہے۔اور سرحد پر جنگی سازوسامان کی منتقلی شروع کر دی ہے۔

جبکہ دوسری طرف
چین اور ترکیہ کے فوجی طیاروں کی پاکستان میں غیر معمولی آمد کی خبریں بھی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تقریباً 60 گھنٹوں کے دوران چینی اور ترک فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں نے پاکستان کے اہم ایئربیسز کا رخ کیا، جن میں نور خان ایئربیس، راولپنڈی اور مسرور ایئربیس، کراچی شامل ہیں۔

چین اور ترکیہ کی جانب سے دفاعی سازوسامان، ڈرونز اور دیگر عسکری سامان کی ٹرانسپورٹیشن کی قیاس آرائیاں بھی ہیں۔

نوا کٹا کھلنے کا امکان۔۔

میں نے پہلے بھی کہا تھا اسرائیل نے شام ہر حملہ نہیں کیا بلکہ ترکی🇹🇷 پر حملہ کیا ہے اور اب ترکی اس کا بدلہ لینے کے لیے او...
20/08/2026

میں نے پہلے بھی کہا تھا اسرائیل نے شام ہر حملہ نہیں کیا بلکہ ترکی🇹🇷 پر حملہ کیا ہے اور اب ترکی اس کا بدلہ لینے کے لیے اوتاولہ ہو رہا ہے

ترکی🇹🇷 نے پہلے سفارتی محاذ پر اسرائیل کے خلاف محاذ کھولا اور پوری دنیا سے درخواست کی کہ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی جائے اور اب خود بھی اس کا بدلہ لینے کے لیے متحرک ہو چکا ہے

ترکیہ نے رات کی تاریکی کی آڑ میں بڑی تعداد میں ہتھیاروں اور دفاعی نظام کی شام منتقلی شروع کر دی ہے ۔ یہ اسلحہ منتقلی ترک خفیہ ایجنسی MIT کی نگرانی اور ہدایات کے تحت کی جا رہی ہے۔

ظاہر ہے کہ کسی کو بھی مکمل طور پر معلوم نہیں کہ ترکیہ کے اصل عزائم کیا ہیں۔ تاہم، یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ترکیہ منگل کے روز اسرائیلی فضائیہ 🇮🇱 کے حملے کا جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے۔

ترکیہ واضح طور پر ایک مضبوط اور دوٹوک پیغام دینا چاہتا ہے! انقرہ کو شام کے اندر اسرائیلی فوج کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم کا خدشہ ہے اور وہ اس کے لیے تیاریاں کر رہا ہے۔ اور وہاں ترکی سعودیہ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے شامی فورسز کو آگے کرے گا خود سامنے نہیں آیے گا

انصاف اور قانون 💔ایان علی دبئی جانے کے لیے اسلام آباد ائرپورٹ پر پہنچی جسکا نام اس وقت بے نظیر ائرپورٹ رکھا گیا تھا ،وہ ...
04/08/2026

انصاف اور قانون 💔
ایان علی دبئی جانے کے لیے اسلام آباد ائرپورٹ پر پہنچی جسکا نام اس وقت بے نظیر ائرپورٹ رکھا گیا تھا ،
وہ وی آئی پی لاؤنج تک آئی اور اپنا لیگیج کاونٹر پر رکھا تو کسٹم حکام نے اسکا بیگ چیک کرنا چاہا ،ایان علی نے لاپروائی سے بیگ کھولا اور اعجاز چوہدری نامی کسٹم انسپکٹر نے بیگ میں پڑے دو کپڑے ہٹائے تو نیچے ڈالروں کی گڈیاں پڑی ہوئی تھیں ،انسپکٹر نے ایان علی سے استفسار کیا تو اس نے لاپروائی سے کہا کہ یہ میرے ہیں ،اس نے کہا میڈم مجھے یہ رقم زیادہ لگ رہی ہے، کم و بیش پانچ ہزار ڈالرز سے زیادہ کیش لے جانا غیر قانونی ہے ،پھر اس نے گڈیاں گنی تو وہ 5 لاکھ ڈالرز تھے ،کسٹم انسپکٹر نے اپنے سنئئر کو مطلع کیا اور ایان علی کو صوفے پر بٹھا دیا ،ایان علی کو کوئی پریشانی نہیں تھی ،اسکے لئے یہ روز کا معمول تھا لیکن اعجاز چوہدری کے لئے یہ معمولی بات نہیں تھی ،وہ جانتا تھا کہ ایان علی ہفتے میں دو مرتبہ دبئی جاتی ہے اور اسکے سامان کی کوئی خاص چیکنگ نہیں ہوتی اور کسٹم کا عملہ ہی اسکو ہینگر تک لے کے جاتا ہے ،سنئیر حکام اگئے اور انہوں نے اعجاز چوہدری کو ایک طرف لے جاکر کچھ سمجھانے کی کوشش کی ،اعجاز چوہدری اکھڑ گیا اور اپنی قانونی پوزیشن بتانے لگا ،نیز اس نے اس دوران سی اے اے اور نارکوٹیکس کے افسران کو بھی مطلع کیا ،دوسری ایان علی بے زاری سے صوفے پر بیٹھ کر مسلسل فون پر بات کرتی رہی ،
اسی دوران کسٹم ہی کے کسی فرد نے میڈیا کو خبر دی اور چند گھنٹوں میں پورے میڈیا میں خبر پھیل گئی کہ مشہور ماڈل ایان علی پانچ لاکھ ڈالر سمگل کرتے ہوئے پکڑی گئی اور پکڑنے والا کسٹم انسپکٹر اعجاز چوہدری ہے ،
بات چونکہ اب پھیل گئی تھی لہذا کسٹم حکام کو بھی مجبور ہوکر سٹینڈ لینا پڑا ،انہوں نے ایان علی کہ سفری دستاویزات اور ڈیٹا کی انکوائری کی تو صرف ایک سال میں ایان علی 43 مرتبہ دبئی کا سفر کر چکی تھی ،ایان علی نے دوران تفتیش اقرار کیا کہ وہ اپنے ذاتی اخراجات اور شاپنگ کے لیے ڈالر ہی لے کر جاتی تھی ،یہ 43 ویں مرتبہ پکڑی گئی تھی،
جب اس سے پوچھا گیا کہ اتنے ڈالر اسکے پاس کہاں سے آئے اور وہ ڈالر ہی کیوں لے کے جاتی ہے تو اسکے پاس صرف ایک جواب تھا ،یہ میری اپنی کمائی ہے ،

ایان علی کی گرفتاری کے فورا بعد پیپلز پارٹی کی لیگل ٹیم نے اسکا کیس لیا، سردار لطیف کھوسہ اسکا وکیل بنا، ملک کے چوٹی کے وکیلوں نے بیٹھک کی اور مختلف قانونی نقاط اور پوائنٹس اکھٹے کئے گئے ان وکیلوں میں اعتزاز احسن بھی شامل تھے
انہوں نے ایان علی کے کیس کی پوری پیروی کی، ہر ہر قدم پر وہ لطیف کھوسہ کو گائیڈ کرتے رہے خالانکہ یہ سو فیصد اوپن اینڈ شٹ کیس تھا،
شریف خاندان کے میڈیا سیل اور زرداری مخالف صحافیوں اور تحریک انصاف کے کارکنوں اور سوشل میڈیا نے ایان علی کا نام زرداری سے جوڑا،
ٹاک شوز ہونے لگے، پیپلز پارٹی کے لیڈروں سے سوال جواب ہونے لگے تو وہ ٹاک شوز میں بلکل باولے ہوجاتے تھے،
شرمیلا فاروقی سے لے کر شہلا رضا تک اور مصطفی کھوکھر سے لے کر سعید غنی تک نے مریم صفدر اور کلثوم نواز کے کپڑے اتار دئیے، دوسری طرف تحریک انصاف کے کارکن سوشل میڈیا پر چھائے رہے ،انہوں نے بھٹو تک کو قبر سے نکال دیا ،آج بھی پیپلز پارٹی کے وزیروں مشیروں سے ایان علی کا پوچھا جائے تو انہیں دورے پڑ جاتے ہیں، انکے منہ سے رال نکلتی ہے ،وہ پاگل کتوں کی طرح کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں ،
بہر حال ایان علی کی گرفتاری سے اس ریاست اور اسکے اداروں کا اصل امتحان شروع ہوا ،

وہ جیل گئی ،پھر جب پیشیوں پر آتی تھی تو پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ میک اپ کرکے آتی تھی ،اسے جیل کے فائیو سٹار بیرک میں رکھا گیا ،کمرے میں دنیا کی ہر سہولت موجود تھی ،وہ منرل واٹر پیتی تھی اور ناشتے میں امریکن و چائنیز فوڈ کھاتی تھی ،اسے ورزش کی مشینیں مہیا کی گئیں ،اسکا فون اور لیپ ٹاپ کسٹم حکام کے پاس تھا لہذا اسے ایک اور فون دیا گیا ،اسکی خدمت کے لیے پورے جیل کا عملہ وقف تھا ،ایان علی کے پورے کیس اور قید میں سب سے زیادہ چاندی وکیلوں کی ہوئی ،دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ فائدہ جیل حکام اور پولیس والوں کو ہوا ،تیسرے نمبر پر میڈیا تھا جس نے زرداری اور ملک ریاض دونوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا ساتھ شریفوں سے بھی زرداری کی مخالفت میں فائدہ اٹھاتے رہے ،
ایان علی ملکی تاریخ کی پہلی قیدی تھی جسے جیل میں فائیو سٹار ہوٹل کی سہولیات دی گئی ،ایسی سہولیات ذوالفقار علی بھٹو جیسے شخص اور نصرت بھٹو و بے نظیر بھٹو سمیت آصف زرداری اور نواز شریف تک کو نہیں دی گئی تھیں ،حتی کہ جتنی بھی بڑی بڑی سیاسی شخصیات جیل گئی ہیں انہیں یہ سہولیات نہیں ملیں ،مریم نواز سمیت جسکے پاس آدھے پاکستان کی پورن ویڈیوز ہیں اور آدھا لندن اسکے جائیداد میں آتا ہے ،
دوران تفتیش جو کچھ ہوا اس سے ہر شخص باخبر ہے ،لیکن اس سب کے بیچ جو سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ کسٹم انسپکٹر اعجاز چوہدری تھا ،اسکے افسران اسے ملامت کرتے ،اسکے کولیگز اسے نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ،دوران جرح ایان علی کے وکیل اسے گالیاں اور جھڑکیاں دیتے ،عدالت کے احاطے میں اسے دھمکیاں دیتے ،اسے نا معلوم نمبروں سے کالیں آتی ،اسے قتل کرنے کی دھمکیاں دی جاتی لیکن وہ اپنی جگہ کھڑا رہا ،اسے ہر قسم کا لالچ دیا گیا لیکن وہ کیس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا ،اسکی ترقی روک دی گئی اور بجائے اسکے کہ اسے انعام دیا جاتا ،اسے پابند کیا کہ جب تک کیس کا فیصلہ نہی ہوتا وہ کسٹم کاونٹر پر خدمات نہیں دے گا ۔
اس نے تمام ثبوت اکھٹے کئے اور عدالت کو دے دئیے، جب فرد جرم لگنے کی تاریخ قریب آگئی اور اسے بطور عینی گواہ پیش ہونا تھا ،اسے اپنے گھر کے سامنے دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے قتل کردیا ،پولیس آئی اور اسکی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئی ،چند دن میڈیا پر ہاہا کار رہی پھر تھانہ وارث خان پولیس نے اسکی قتل کو ڈکیتی کی واردات قرار دے کر فائل بند کردیا ،کسٹم حکام بھی بلکل خاموش ہوگئے ،اسکی بیوی سر پیٹ پیٹ کر تھانوں عدالتوں میں دھاڑیں مارتی رہی لیکن اسے ہر طرف سے دھتکار دیا گیا ،اسکے ساتھ اسکا کم سن بیٹا عدالتوں کے احاطے میں بدترین گرمی میں رلتا رہتا لیکن کسٹم حکام اور اعجاز چوہدری کے ساتھی اس سے نظریں چرا کر ایک طرف ہوجاتے ،
اعجاز چوہدری مر گیا تھا ۔
عدالت نے ایان علی کو منی لانڈرنگ کیس میں اور اعجاز چوہدری کے قتل کے ایف آئی آر میں نامزد ملزم کی حیثیت سے بری کردیا اور اسے پاسپورٹ واپس دے دیا ،
آج ایان علی دبئی کے سب سے مہنگے ترین علاقے میں رہائش پذیر ہے ،اسکے پاس ڈاج کی سپورٹس کار ہے ،پچھلے دنوں اس نے منی رولز رائس خریدی ہے ،وہ فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام کرتی ہے اور پام جمیرا میں بیچ پہ نہاتی ہے ،
رہا اعجاز چوہدری تو وہ قبر کے اندھیروں میں اتر گیا ،اسکی بیوی اور کم سن بیٹا تین مرلے کے مکان کی بوسیدہ دیواروں پر اسکا عکس ڈھونڈتے ہیں ،اسکے شیو کا سامان اور تولیہ اور وردی اسکی بیوی نے سنبھال کر رکھے ہیں لیکن اس نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے بیٹے کو کسٹم میں بھرتی نہیں کرائے گی ،اسکے سنگی ساتھی اسکی خالی کرسی کو آج بھی دکھ سے دیکھتے ہیں ،اعجاز چوہدری کی روح اسلام آباد کے پرانے ائرپورٹ کی فضاوں میں دیکھی جا سکتی ہے ،اسکی موت کا سایہ آج بھی اسلام آباد ائر پورٹ پر سایہ فگن ہے ،میں نے جب بھی اسلام آباد کے پرانے ائر پورٹ سے سفر کیا ،میں نے اعجاز چوہدری کی لاش اور روح کے پرچھائی کو محسوس کیا ،میں نے اسکی بیوی کے ماتم اور آنسوؤں کو محسوس کیا ،میں نے اسکے کم سن بیٹے کی سسکیوں میں دل سے محسوس کیا اور اسکی بابا میرے بابا کی چیخیں کانوں میں محسوس کی ،
آج اسلام آباد کا نیا ائر پورٹ بن گیا ہے ،وہاں اعجاز چوہدری کے موت کے سائے نہیں ہیں لیکن وہاں کے کسٹم انسپکٹر اب اعجاز چوہدری والی غلطی نہیں دہرائیں گے ۔😓🤬

ایسا ہے میرے دیس کا قانون اور انصاف ان اشرافیہ کی رکھیل۔ انکے گھروں کی لونڈی۔
Copied

اپنے ہیرو کی قدر اس طرح کیا جاتا ہے مصری حکومت نے ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کے ساتھ ہونے والی  تاریخی ناانصافی پر بڑا اعلان ک...
09/07/2026

اپنے ہیرو کی قدر اس طرح کیا جاتا ہے مصری حکومت نے ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافی پر بڑا اعلان کرکے سب کے دل جیت لیے رپورٹ کے مطابق ارجنٹائن سے میچ میں میچ ریفری نے مصر کی یقینی جیت کو شکست میں تبدیل کرنے پر اپنے ٹیم کے کوچ حسام حسن کی گراؤنڈ میں دلیری پر جس نے پورے دنیا کے سامنے فیفا کو ننگا کیا اب مصری حکومت نے اپنے کوچ کومصر کے سب سے بڑے ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کردیا اور ساتھ میں کوچ حسام حسن کی استعفیٰ بھی قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ،اور مصر کے تمام اسکولز یونیورسٹیوں کے کتابوں پر اپنے کوچ حسام حسن کی تصویر لگانے کا اعلان کردیا ہے تاکہ تاریخی طور پر یہ یاد رہے کہ مصر کو جب ورلڈ کپ سے باہر کیا جارہا تھا تو کوچ حسام حسن دلیری کیساتھ سامنے کھڑے ہوکر میچ ریفری کو کہا تم میچ ریفری نہیں ارجنٹائن کے 12ویں کھلاڑی ہو ہم ہار کر بھی جیت گئے اور ارجنٹائن جیت کر بھی ہارگئے

Hero of the century � پشتون تاریخ کا نیا باب: دولت خان ترین اور کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف تاریخی لشکر کشی �پشتون قوم کی ہزار...
28/06/2026

Hero of the century
� پشتون تاریخ کا نیا باب: دولت خان ترین اور کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف تاریخی لشکر کشی �
پشتون قوم کی ہزاروں سالہ تاریخ غیرت، شجاعت اور مظلوم کی حمایت سے بھری پڑی ہے۔ پشتونوں کا یہ ازلی اصول رہا ہے کہ وہ اپنی عزت، ننگ اور غیرت پر کبھی بھی اور کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ مئی 2026 میں پیش آنے والا "حرم سعید کی بازیابی" کا یہ واقعہ اس بات کی زندہ مثال ہے، جس نے ثابت کیا کہ جب پشتون غیرت جاگتی ہے تو بڑے بڑے فرعونوں اور ان کے سرپرستوں کے محل لرز اٹھتے ہیں۔ تاریخِ پشتون میں دولت خان ترین کو سن 2026 کا ہیرو لکھا جائے گا، کیونکہ انہوں نے سوئی ہوئی ریاست اور کچے کے ظالم ڈاکوؤں کے گٹھ جوڑ کو تنہا للکارا۔

------------------------------

# # � دولت خان ترین: 2026 کا ہیرو کیوں اور کیسے؟

دولت خان ترین کو ہیرو کا خطاب کسی سرکاری محکمے نے نہیں، بلکہ عوام کے دلوں نے دیا ہے۔ انہوں نے وہ کام کر دکھایا جو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہزاروں کی پولیس فورس اور صوبائی حکومتیں سالوں سے نہ کر سکیں۔

* مظلوم کی پکار پر لبیک: جب پشاور کی 11 سالہ معصوم بچی حرم سعید کو کچے کے سفاک ڈاکوؤں نے اغوا کیا اور اس پر تشدد کی ویڈیوز وائرل کر کے کروڑوں روپے تاوان مانگا، تو بلوچستان کے اس غیور قبائلی رہنما کا خون کھول اٹھا۔

* ریاست کو آئینہ دکھایا: انہوں نے کسی مصلحت پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوں نے صاف کہا کہ اگر پولیس اور حکومت مظلوم بچی کو بازیاب نہیں کرا سکتیں، تو پشتون قوم خود اپنی بیٹی کی حفاظت کرنا جانتی ہے۔

* تاریخی الٹی میٹم: دولت خان ترین نے کچے کے ڈاکوؤں اور سندھ حکومت کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا کہ یا تو بچی کو عزت کے ساتھ رہا کرو، ورنہ پشتونوں کا لشکر کچے کو ملیا میٹ کر دے گا۔ یہ وہ جرأت تھی جس نے پورے نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔

------------------------------

# # � معصوم حرم سعید کی بازیابی اور پشتون لشکر کی یلغار

جیسے ہی الٹی میٹم کی مدت ختم ہوئی، دولت خان ترین کی ایک کال پر بلوچستان اور پشتون بیلٹ سے ہزاروں مسلح پشتون جوان اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔

1. غیرت کا کاروان: گاڑیوں اور مسلح جوانوں پر مشتمل ایک بہت بڑا لشکر کچے (سندھ-پنجاب سرحدی پٹی) کی طرف روانہ ہوا۔ اس لشکر کا واحد مقصد تھا: "یا تو بیٹی کو بحفاظت واپس لانا یا کچے کے ناسور کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا"۔

2. سستم میں کھلبلی: جب یہ غیور لشکر سندھ کے قریب پہنچا، تو حکومت، وڈیروں اور ڈاکوؤں کے سرپرستوں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ انہیں معلوم تھا کہ پشتون لشکر روایتی پولیس نہیں ہے جسے رشوت یا سیاسی دباؤ سے روکا جا سکے۔ وہ اپنی غیرت کے لیے مرنے مارنے پر تلے ہوئے تھے۔

3. ڈاکوؤں کا خوف اور پولیس کی مجبوری کا آپریشن: پشتون لشکر کا خوف اس قدر شدید تھا کہ ڈاکوؤں کو پناہ دینے والے بااثر وڈیروں نے فوری طور پر اپنے پالتو ڈاکوؤں کو حکم دیا کہ بچی کو فوراً آزاد کرو ورنہ یہ لشکر سب کچھ تباہ کر دے گا۔

4. کریڈٹ لینے کا ڈرامہ: جب حکومت نے دیکھا کہ اب لشکر کچے کے اندر داخل ہونے والا ہے، تو سندھ پولیس نے اپنی بدنامی اور نااہلی چھپانے کے لیے راتوں رات بھاری نفری کوٹ شاہو (شکارپور) کے علاقے میں بھیجی۔ وہاں فائرنگ کا تبادلہ دکھا کر (جس میں ایک بدنام ڈاکو یاسین بنگلانی مارا گیا) بچی کو بازیاب کروایا گیا تاکہ پولیس اس کا کریڈٹ لے سکے۔ لیکن بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ آپریشن پولیس کی نیت کی وجہ سے نہیں، بلکہ پشتون لشکر کے خوف کی وجہ سے ہوا تھا۔

------------------------------

# # � پشتون کبھی غیرت پر سمجھوتہ نہیں کرتے

یہ واقعہ ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دے گیا کہ:

* پشتون قوم امن پسند ہے، لیکن جب بات ان کی بیٹیوں کی عزت اور ننگ پر آ جائے، تو وہ سرحدوں اور قانون کی روایتی زنجیروں کو توڑنا جانتے ہیں۔

* کچے کے ڈاکو جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے تھے، پشتونوں کے صرف ایک لشکر کی آہٹ سن کر اپنی جانیں بچانے کے لیے چھپتے پھرے۔

* حکومت اور ڈاکوؤں کی جو ملی بھگت سالوں سے چل رہی تھی، اسے پشتون غیرت نے چند گھنٹوں میں بے نقاب کر دیا۔

تاریخ جب بھی سال 2026 کا تذکرہ کرے گی، وہ دولت خان ترین کا نام سنہری حروف میں لکھے گی کہ جب قانون اندھا ہو گیا تھا اور حکمران خاموش تھے، تو اس پشتون ہیرو نے اپنی قوم کی غیرت کا علم بلند کیا اور ایک معصوم بیٹی کو ظالموں کے چنگل سے چھڑا کر دم لیا۔

----------------------۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ نے کوئی چیز دکھائے بغیر سوال پوچھا ہے، اس لیے صحیح جواب دینا ممکن نہیں۔براہِ کرم اس چیز کی تصویر یا ویڈیو شیئر کریں ج...
21/06/2026

آپ نے کوئی چیز دکھائے بغیر سوال پوچھا ہے، اس لیے صحیح جواب دینا ممکن نہیں۔

براہِ کرم اس چیز کی تصویر یا ویڈیو شیئر کریں جس کے بارے میں آپ پوچھ رہے ہیں، پھر میں بتا دوں گا کہ یہ کیا ہے اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

دنیا غیرت مندوں کو سلام ٹھوکتی ہے،،،چاہے انکی فوج نمبر 1 ہو یا نمبر 30،،،،
14/06/2026

دنیا غیرت مندوں کو سلام ٹھوکتی ہے،،،چاہے انکی فوج نمبر 1 ہو یا نمبر 30،،،،

طالبان کیسے بنے اس کی شروعات 1994 سے ہوئی سوویت جنگ کے بعد افغانستان میں مرکزی حکومت ختم ہو گئی ہر صوبے میں مقامی کمانڈر...
13/05/2026

طالبان کیسے بنے اس کی شروعات 1994 سے ہوئی سوویت جنگ کے بعد افغانستان میں مرکزی حکومت ختم ہو گئی ہر صوبے میں مقامی کمانڈر قابض تھے قندھار کے علاقے میں لوٹ مار اغوا اور چیک پوسٹوں کا نظام تھا ایک دن سنگیسار کے علاقے میں دو کمانڈروں نے دو لڑکیوں کو اغوا کیا مقامی لوگ ملا محمد عمر کے پاس آئے جو اس وقت اپنے مدرسے میں تیس چالیس طلبہ کو پڑھا رہے تھے ملا عمر نے طلبہ کو جمع کیا اور مسلح ہو کر ان کمانڈروں پر حملہ کیا کمانڈروں کو قتل کر کے لڑکیوں کو بازیاب کرایا

اس واقعے کے بعد قریبی دیہات کے لوگ ملا عمر کے پاس آنے لگے کہ ہمارے علاقے سے بھی ڈاکو ختم کرو ملا عمر نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ صرف ایک گاؤں نہیں پورے علاقے سے ظلم ختم کرنا ہے یہی سے تحریک طالبان کا آغاز ہوا طالبان کا مطلب دین کے طالب علم ہے شروع میں تعداد پچاس سے کم تھی سب مدرسے کے طلبہ اور نوجوان مولوی تھے
افغانستان پر قبضہ اس کی ترتیب یہ تھی اکتوبر 1994 میں ملا عمر کے ساتھیوں نے سپین بولدک پر قبضہ کیا یہ قندھار کے جنوب میں پاک افغان سرحد پر بڑا تجارتی راستہ تھا وہاں اسلحہ کا بڑا ڈپو بھی ہاتھ آیا جس میں ہزاروں کلاشنکوف اور گولیاں تھیں اس اسلحے سے طاقت بڑھی
نومبر 1994 میں قندھار شہر پر حملہ کیا اس وقت قندھار پر گلبدین حکمت یار کے کمانڈر تھے لڑائی دو دن چلی طالبان جیت گئے قندھار فتح ہوتے ہی پورے صوبے کے کمانڈر یا بھاگ گئے یا طالبان سے مل گئے عوام نے استقبال کیا کیونکہ سڑکیں محفوظ ہو گئیں اور بھتہ ختم ہو گیا
سویت جنگ پر میں نے تفصیلی بات کی ہیں اس میں گلبدین حکمت یار مسعود وغیرہ کمانڈر کی تعارف کی ہیں ۔۔
فلحال موضوع یہ ہیں کہ
1995 میں پیش قدمی جاری رہی فروری 1995 میں ہلمند اور پھر مغرب میں فراہ نیمروز پر قبضہ کیا ستمبر 1995 میں ہرات پر حملہ کیا ہرات اسمعیل خان کے پاس تھا تین دن کی لڑائی کے بعد ہرات بھی فتح ہو گیا اب مغربی افغانستان طالبان کے کنٹرول میں آ گیا
مشرق کی طرف کابل کا محاصرہ شروع کیا 1995 اور 1996 کے دوران کابل پر برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود کی حکومت تھی شہر پر راکٹ برستے تھے طالبان نے جلال آباد اور لغمان پر قبضہ کیا اور کابل کے قریب پہنچ گئے
ستمبر 1996 کو طالبان نے جلال آباد سے پیش قدمی کی اور بغیر بڑی مزاحمت کے کابل میں داخل ہو گئے احمد شاہ مسعود اور حکومتی فوجی شمال کی طرف پنجشیر وادی چلے گئے کابل فتح ہوتے ہی صدارتی محل پر سفید جھنڈا لہرا دیا گیا
اکتوبر 1996 سے 1998 تک طالبان نے شمال کی طرف دھکیلنا شروع کیا 1997 میں مزار شریف پر حملہ کیا مگر رشید دوستم اور شیعہ ہزارہ ملیشیا نے شکست دی سینکڑوں طالبان مارے گئے اگست 1998 میں دوبارہ حملہ کیا اس بار مزار شریف فتح ہو گیا اس جنگ میں ایرانی سفارتکار بھی مارے گئے جس پر ایران اور طالبان کے تعلقات خراب ہوئے۔بعد میں ایران نے بہت بڑا انتقام لیا یہ بات کسی کو شاید معلوم نہ ہو لیکن یہ بات یہاں اس لئے نہیں کررہا کہ پھر لوگ کہیں گے آپ نے ایران پر الزام لگایا۔۔
ستمبر 1998 تک ملک کے نوے فیصد رقبے پر طالبان کا کنٹرول ہو چکا تھا صرف بدخشاں اور پنجشیر کے پہاڑی علاقے احمد شاہ مسعود کے پاس رہ گئے تھے اس کو شمالی اتحاد کہا جاتا تھا جنگ 2001 تک جاری رہی
قبضے کی رفتار کی تین بڑی وجہیں تھیں پہلی وجہ عوام تنگ تھی اور طالبان کو امن لانے والا سمجھ کر راستہ دے دیتی تھی دوسری وجہ بہت سے کمانڈر لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیتے تھے کیونکہ ان کے سپاہی تنخواہ نہ ملنے پر ساتھ چھوڑ جاتے تھے تیسری وجہ پاکستان کی سرحد سے آنے والے ہزاروں مدرسوں کے طلبہ تھے جو سمر کی چھٹیوں میں جہاد کے لیے شامل ہو جاتے تھے.لیکن یہ بات بین اقوامی رپورٹس کی مطابق ہیں اور اسرائیل نواز میڈیا کی ہیں۔
اس طرح چار سال کے اندر ایک مدرسے کی جماعت پورے ملک پر قابض ہو گئی ستمبر 1996 کو کابل فتح کے بعد امارت اسلامیہ افغانستان کا اعلان ہوا اور ملا محمد عمر کو امیر المومنین کہا گیا۔۔جاری ہیں

حوالے آخر میں احمد رشید کتاب طالبان دی سٹوری آف دی افغان وار لارڈز سال 2000 انٹونی ڈیوس مقالہ ہاؤ دی طالبان بیکیم ا ملٹری فورس 1998 عبدالسلام ضعیف کتاب مائی لائف ود دی طالبان
゚viralシ ゚

کیوں یو اے ای اپنی خاموش جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار رہا ہے🚨متحدہ عرب امارات نے اوپیک دنیا سے علیحدگی اختیار کی، جسے سی...
12/05/2026

کیوں یو اے ای اپنی خاموش جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار رہا ہے

🚨متحدہ عرب امارات نے اوپیک دنیا سے علیحدگی اختیار کی، جسے سیاسی حلقوں نے سعودی عرب کی پیٹھ میں “چھرا گھونپنے” کے مترادف قرار دیا۔

🚨لیکن UAE یہ نہ سمجھ سکا کہ جواب میزائلوں کی صورت میں نہیں آئے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک چیز کی صورت میں آئے گا!
جغرافیہ — ایک ایسا ہتھیار جس کا کوئی فوج مقابلہ نہیں کر سکتی۔

🚨جب یو اے ای نے اپنی کرنسی (درہم) کو بچانے کے لیے امریکہ سے “کرنسی سویپ” کی درخواست کی تو خاموشی چھا گئی۔
🚨امریکہ کبھی بھی سعودی عرب(جو پیٹروڈالر کا محافظ ہے)کو ایک لگژری خلیجی ملک کے لیے خطرے میں نہیں ڈالے گا۔ یوں پہلی سفارتی ناکامی ظاہر ہو گئی کہ امریکہ یو اے ای کا کوئی حقیقی اتحادی نہیں تھا۔

🚨فضائی حدود کی بندش — ہوا بازی کا بحران

سعودی عرب نے اچانک اماراتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود “سیکیورٹی وجوہات” کی بنیاد پر بند کر دیں جس کے نتیجے میں دبئی سے لندن کا سفر 7 گھنٹے سے بڑھ کر 14 گھنٹے ہو گیا
اماراتی ایئرلائنز اپنی عالمی مسابقت کھو بیٹھیں دبئی ایک “تنہا جزیرے” میں بدل گیا اور لگژری ہوٹلز ویران محل بن گئے،

🚨خاموش زمینی محاصرہ
(نہ ٹینک، نہ جنگ صرف انتظامی رکاوٹیں)
البطحہ بارڈر کراسنگ “تکنیکی وجوہات” کی بنیاد پر بند کر دی گئی۔
🚨یو اے ای کی 70٪ خوراک زمینی راستے سے آتی ہے ایک ہفتے میں قیمتیں 400٪ بڑھ گئیں سپر مارکیٹوں میں راشن بندی شروع ہو گئی ،کیفے بند ہونے لگے، اور لگژری شہر میں بھوک کے آثار نمایاں ہو گئے

🚨درہم کا انہدام
(سرمایہ کار تیزی سے نکلنے لگے)
یو اے ای اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو ہفتے میں 20 ارب ڈالر کی رفتار سے خرچ کر رہا ہے تاکہ کرنسی کو سہارا دیا جا سکے۔

🚨ان کے سامنے دو راستے ہیں!

درہم کو آزاد چھوڑ دے اور عوام کی بچتیں تباہ ہو جائیں یا کیپٹل کنٹرول نافذ کرے اور بیرونی سرمایہ روک لے، جس سے تمام بین الاقوامی کمپنیاں دبئی چھوڑ کر ریاض چلی جائیں

دونوں صورتوں میں “دبئی معجزہ” ختم ہو جائے گا۔

🚨علاقائی تنہائی

تمام اتحادی ساتھ چھوڑ رہے ہیں ،مصر اور بحرین ریاض کے ساتھ کھڑے ہیں
اسرائیل UAE کو بچانے کی بجائے سعودی عرب سے مکمل تعلقات چاہتا ہے
🚨قطر، جس کا 2017 میں یو اے ای نے بائیکاٹ کیا تھا، اب سعودی عرب کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دیتا ہے اور “متبادل دبئی کانفرنس” کی میزبانی کی تیاری شروع کردی ،یو اے ای سفارتی طور پر تنہا رہ گیاہے۔

🚨اندرونی تقسیم

30٪ اماراتی خاندانوں کے سعودی عرب سے تعلقات ہیں،شہری اپنی قومی وابستگی اور معاشی مفادات کے درمیان پھنس جاتے ہیں، 85 % غیر ملکی آبادی تیزی سے ملک چھوڑ رہی ہے
مصروف ہوائی اڈے ویران ہو رہے ہیں

🚨سرنڈر یا تباہی

45 دن کے محاصرے کے بعد ذخائر تقریباً ختم ہو جائیں گے، درہم گراوٹ کا شکار ہے۔ UAE ثالثی کے ذریعے پیغام بھیج رہا ہے:

“ہم ہر چیز کے لیے تیار ہیں۔”

🚨سعودی عرب کا سخت جواب!

بغیر شرط اوپیک میں واپسی
“اخلاقی نقصان” کا معاوضہ
فی پرواز 2 ملین ڈالر ٹرانزٹ فیس کے ساتھ فضائی راستوں کی بحالی

یو اے ای مجبوری میں یہ شرائط مان لیتا ہے، کیونکہ متبادل وجود کا خاتمہ ہے۔

🚨یہ کہانی سائنس فکشن نہیں بلکہ ایک منطقی تجزیہ ہے۔ آپ جدید ترین جہاز اور بلند ترین عمارتیں خرید سکتے ہیں، لیکن آپ “اسٹریٹیجک گہرائی” نہیں خرید سکتے۔ یو اے ای نے پیسے کی طاقت پر غرور کیا، اور جواب میں جغرافیہ کی سخت حقیقت سامنے آ گئی۔

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sadaf Jabeen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share