25/08/2026
چارسدہ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل
اسفندیار کو اہلیہ ڈاکٹر آئینہ کی فون کال موصول ہوتی ہے۔ دوسری طرف آواز میں گھبراہٹ تھی۔ یونیورسٹی میں طلباء کا احتجاج جاری تھا۔ صورتحال کشیدہ تھی اور لیفٹیننٹ کرنل کی اہلیہ اس دوران وہاں موجود تھیں۔
یہ وہ موقع تھا جب ایک شوہر کے سامنے دو راستے تھے۔ وہ گھر پر رہتے اور معاملہ یونیورسٹی انتظامیہ یا پولیس پر چھوڑ دیتے یا وہاں پہنچ کر اپنی اہلیہ کو اس ہجوم سے نکالتے۔
ڈاکٹر آئینہ یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس افیئرز کی انچارج ہیں۔ طلباء کے احتجاج کے دوران ایک طالب علم سے ان کی تلخ کلامی ہوئی۔ طالب علم سے کہا گیا کہ وہ اس شعبے کا نہیں تو یہاں کیوں موجود ہے؟ بات بڑھتی گئی۔ طالب علم خاتون افسر کے قریب آیا تو ڈاکٹر آئینہ نے اسے خبردار کیا کہ اگر وہ ایک انچ بھی مزید آگے بڑھا تو وہ اسے تھپڑ مار دیں گی۔ اس کے بعد دھکم پیل شروع ہوگئی۔
پھر ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر کو فون کیا۔ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار وہاں پہنچے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ وردی میں تھے اور ذاتی گاڑی پر فوجی رینک بھی نمایاں تھے۔ قانونی اور ادارہ جاتی اعتبار سے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ انہیں ایسی صورتحال میں کس طریقے سے پہنچنا چاہیے تھا۔ بہتر یہی ہوتا کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ یا پولیس کو معاملہ سنبھالنے دیتے۔ لیکن وہ موقع پر خلاف قانون پہنچ گئے۔
جب بھی کسی بھی افسر(یا کسی اور محکمے کے ملازم) کو اپنی اہلیہ کی ایسی کال آئے کہ وہ مشتعل ہجوم کے درمیان ہے تو عین ممکن ہے کہ اس لمحے وہ اپنے عہدے سے پہلے شوہر بن جائے۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار اپنی اہلیہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ہجوم سے باہر لے جانے کی کوشش کرتے رہے۔ اسی دوران کچھ طلباء ڈاکٹر آئینہ کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس دوران ہاتھا پائی بڑھ گئی۔ ویڈیوز میں ایک موقع پر دیکھا گیا کہ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کے گریبان تک ہاتھ پہنچتا اور ان کی وردی پھٹ گئی۔
لیفٹننٹ کرنل اسفندیار کے پاس ذاتی پستول موجود تھا لیکن وہ یونیورسٹی پہنچتے وقت اسے لہراتے ہوئے اندر داخل نہیں ہوئے۔ انہوں نے اہلیہ کو ہجوم سے نکالتے وقت بھی ہتھیار نہیں نکالا لیکن جب صورتحال ہاتھا پائی تک پہنچی، اہلیہ کو دھکے دیے جاتے دیکھنے اور اپنی وردی پھٹنے کے بعد انہوں نے پستول نکالا اور فائرنگ کر دی
یونیورسٹی کے چند طلباء سے بات ہوئی ہے۔
یہاں زیادہ تر طلباء پشتون تھے اور براہ راست ہاتھاپائی کرنے والا نوجوان بھی پشتون ہے ایک نوجوان کرنل کے گریبان تک پہنچ گیا ۔ وہیں کرنل اسفند یار بھی پشتون ہے
وہی اسفندیار جس نے اپنی اہلیہ کو مشتعل ہجوم کے درمیان سے نکالنے کی کوشش کی، وہی شخص جس نے 26 سال فوج میں گزارے، وہی چارسدہ کا پشتون جس کے سامنے اس وقت اپنی وردی، عہدہ اور ملازمت سے زیادہ اپنی اہلیہ کی سلامتی کا سوال تھا۔۔۔
ادیب یوسفزئی کی وال سے