10/11/2025
خیبر پختونخوا کا نام اس وقت رکھا گیا جب فاٹا کو ضم کیا گیا، تاکہ خیبر کی تاریخی اہمیت کو تسلیم کیا جائے۔
آج اگر ایمل ولی خان اس نام سے “خیبر” ہٹانے کی بات کر رہے ہیں تو وہ نہ صرف تاریخ بلکہ قبائلی شناخت پر وار ہے۔
پاکستان میں دولت اور طاقت کا کھیل
/ایک سنگین عدم توازن
پاکستان کا امیر ترین 1٪ طبقہ پورے متوسط طبقے سے زیادہ دولت رکھتا ہے۔
چند مخصوص سیاستدانوں کے اثاثے 22 کروڑ عوام کی مشترکہ دولت سے بھی زیادہ ہیں۔
یہ سیاست کو کاروبار بنا چکے ہیں —
قرضے لے کر کرپشن کرتے ہیں، الیکشن خریدتے ہیں،
اور اپنے کاروباری پارٹنرز کو سبسڈیز کے ذریعے اربوں روپے کا فائدہ دیتے ہیں۔
میڈیا، سوشل میڈیا اور سیاست ان کے قبضے میں ہیں۔
یہ صرف دولت نہیں، طاقت خرید رہے ہیں۔
ملکی معیشت کمزور ہو رہی ہے —
قرض پر قرض، کرپشن پر کرپشن۔
عوام کو تعلیم، علاج اور انصاف سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
اسکولوں کے فنڈز روکے جا رہے ہیں، ہیلتھ کیئر مہنگا کیا جا رہا ہے،ہیلتھ کرپشن کے لحاظ سے سب سے پرکشش ڈیپارٹمنٹ تصور کیا جاتا ھے ۔
تاکہ ارب پتی مزید منافع کما سکیں۔
سماجی انصاف خطرے میں ہے —
اور بدعنوانی اب “نظام” بن چکی ہے۔
یہ نظام صرف تب بدلے گا جب عوام خود شعور اور اتحاد کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
طاقتور طبقے کے پاس دولت ہے — مگر طاقت عوام کے پاس ہونی چاہیے۔