Burewala News

Burewala News Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Burewala News, Public Service, Burewala, punjab.

اہم اطلاع.کسی ہیکر کی جانب سے گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج کے ملازم سہیل عطاری کا اکاؤنٹ دس روز قبل ہیک کر لیا گیا ہے کئی ...
05/05/2023

اہم اطلاع.
کسی ہیکر کی جانب سے گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج کے ملازم سہیل عطاری کا اکاؤنٹ دس روز قبل ہیک کر لیا گیا ہے کئی دوستوں سے اس اکاؤنٹ سے پیسے بھی مانگے گئے ہیں جبکہ سہیل عطاری کا اکاؤنٹ اب چوری ہو چکا ہے.
ہیک شدہ اکاؤنٹ کا سکرین شاٹ نیچے دکھایا گیا ہے اس سے ان کا کوئی تعلق نہ ہے

05/05/2023

بورےوالا. *اے ڈی ایل آر نعیم افضل کرونا وائرس کا شکار ہو گئے. اراضی ریکارڈ سینٹر کے عملہ اور دیگر متعلقہ افراد کے بھی مبتلا ہونے کا شبہ*

05/05/2023

حاجی محمد صادق
(پاک مدینہ بیکری والے)
رحمٰن صادق فیضان صادق سبحان صادق, کے والدِ محترم
حاجی محمد نواز کے بڑے بھائی،
وحید صابر، صغیر صابر، تنویر صابر کے چچا جان، محمد حاشر نواز کے تایا جان جو کہ رضائے الٰہی سے وفات پا چُکے ہی
انا للہ وانا الیہ راجعون
ان کا جنازہ ایکس بلاک سے اٹھایا جائے گا
اور نمازے جنازہ 10:30 بجے شہر والے قبرستان میں پڑھایا جائے گا
شرکت فرما کر ثوابِ دارین حاصل کریں..

بورےوالا.نہایت مناسب قیمت میں بچوں کے ملبوسات. کھلونے اور جوتوں کی کمال ورائٹی رکھنے والی دوکان.ایس ایس ٹریڈرزکالج روڈ ع...
05/05/2023

بورےوالا.
نہایت مناسب قیمت میں بچوں کے ملبوسات. کھلونے اور جوتوں کی کمال ورائٹی رکھنے والی دوکان.
ایس ایس ٹریڈرز
کالج روڈ عقب آغا خان لیبارٹری بورےوالا
03000420383 شہزاد انجم

05/05/2023

افسانہ : برگد
مصنف: ارشد فاروق بٹ
کچے گھروں کی منہدم دیواروں کے بیچوں بیچ احتیاط سے چلتے ہوئےمصنف اس جگہ پہنچا جہاں بوڑھا برگد بانہیں پھیلائے اس کا منتظر تھا۔ دونوں کچھ دیر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور پھر وہ بوڑھے برگد سے لپٹ گیا۔ کچھ دیر دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعدوہ برگد کی آغوش میں اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ گیا جہاں کبھی وہ بیٹھ کر تختی لکھا کرتا تھا۔
اس بات کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا لیکن زندگی کا پرندہ اس تیز رفتاری سے محو پرواز تھاکہ وہاں کے مکینوں کے پاس پوری رفتار سے دوڑنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ مصنف نے ویرانے پر ایک نظر دوڑائی۔ بورے والا کے نواح میں لنڈو مسجد کے قریب ستر کی دہائی میں ٹھیک اس جگہ جالندھر سے آئے ایک قبیلے نے پڑاؤ ڈالا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں کچی اینٹوں سے بنائے کئی گھروں میں زندگی نے اپنا سفر شروع کیا۔ چاروں طرف بنائے گئے گھروں کے درمیان ایک چوپال تھی جس میں سائے کی غرض سے برگد کا پودا لگایا گیا۔ یوں اس برگد کا جنم اسی قبیلے کی آمد کے ساتھ ہوا۔ مصنف کے قلم نے کاغذ کی لکیروں پر رینگنا شروع کیا۔
سب سے پہلی یاد اس کا بچپن جو کسی ایسی جنت میں گزرے لمحات کی طرح تھا جہاں سے آدم اور حوا کو نکالا گیا تھا۔ کبھی راتوں کو جگنو پکڑ کر مٹھی میں چھپانا اور اس کی روشنی سے روح کو منور کرنا تو کبھی ساون بھادوں کی بارش میں کچی مٹی پر کھیل کھیل میں پھسلتے ہوئے اللہ میاں سے اور بارش مانگنا۔
کالیا ں اٹاں کالے روڑ
مینہ برسا دے زور و زور
قبیلے کے ہر بچے کی زبان پر ہوتا۔ اس کے بعدپیسے اکٹھے کرنے کے لیے حسب روایت ایک بچے کے مونہہ پر کالک مل دی جاتی اور گھر گھر جا کر صدا لگائی جاتی۔
ڈوئی ڈوئی دانیاں دی
ٹوڈے دا منہ کالا
کالا ٹوڈا مینہ منگدا
روپیے تی منگدا
لکن میٹی، چور سپاہی، اڈا کھڈا، گلی ڈنڈا، باندر کلا، کوکلا چھپاکی، یسو پنجو، چڑی اُڑی کاں اُڑا سمیت درجنوں کھیل قبیلے کے بچوں نے کھیلے۔ کچھ ہی فاصلے پر ایک سرکاری پرائمری سکول تھا جس کی یاترا قبیلے کا ہر بچہ کر چکا تھا۔قلم دوات، تختی، گاچی، سلیٹ سلیٹی، بستہ اور چھٹیوں کا کام اور وہ بھی برگد کے سائے میں بیٹھ کر۔ مصنف نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر نظر دوڑائی۔ سکول اب بھی اپنی جگہ موجود تھا۔
قبیلے میں بجلی نہ تھی۔ کبھی کبھار بچوں کی پرجوش فرمائش پر بروز جمعرات کرائے پر ٹی وی لایا جاتا اور قریب کے ایک قبیلے سے بجلی کی تار بچھا کرفلم دیکھنے کا اہتمام کیا جاتا۔ محمد علی، ندیم، اورشبنم کی کوئی فلم ہوتی جو پی ٹی وی پر دکھائی جاتی۔ تاہم ایک بات جو بچوں میں مشترک تھی وہ فلم دیکھتے ہوئے ہیرو کی کامیابی کے لیے صدق دِل سے دُعا کرتے۔
مصنف کے بے لاگ تجزے کو پڑھ کر برگد بھی مسکرا دیا۔وہ بھی اس زمانے میں مصنف کا ہم عمر تھا۔ لیکن اسے قبیلے کے لیے چھاؤں مہیا کرنا تھی۔ اس نے جلد ہی اپنی شاخوں کو پھیلایا اور کچھ ہی عرصے میں کسی دیوتا کی مانندپر پھیلائے اور قبیلے پر سایہ فگن ہو گیا۔ قبیلے کےسردار کی چارپائی آخری ایام میں برگد کے سائے کے عین درمیان میں تھی۔ دہکتے انگاروں سے بھری چلم والا حقہ کھنگارتے سردار کے لیے ہر چیز سے زیادہ محبوب شے تھی جو محفل کا ماحول گرمائے رکھتی۔
زندگی اپنی پوری رفتار سے چلتی رہی اور پھر ایک دن قبیلے کا سردار چل بسا، اس کے غم میں یکے بعد دیگرے اس کے تمام بھائی سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ یوں زندگی کا بوجھ ہر گھر کے سربراہ کے کندھوں پر آن پڑا۔ سب سے پہلے مصنف کے خاندان نے شہر کی طرف ہجرت کی۔ اس کے بعد قبیلے کے دیگر گھرانے بھی بہتر مستقبل کے لیے شہرکو پیارے ہو گئے۔
برگد چاہتا تھا کہ مصنف اس کے جذبات بھی قلمبند کرے۔ وہ اب اس اجڑے گلشن میں تن تنہازندگی کے عذاب کو جھیل رہا تھا۔وہ اپنی اونچی شاخوں سے سکول کو دیکھ سکتا تھا لیکن وہاں کوئی شناسا چہرہ اسے دکھائی نہ دیتا۔ اس ویرانے میں اب منہدم دیواروں اور چھتوں کے علاوہ کچھ موجود نہ تھا۔ کچھ فاصلے پر شہر خموشاں میں قبیلے کا سرداران سب باتوں سے بے نیاز گہری نیند سو رہا تھا۔
دور افق میں سورج غروب ہو رہا تھا جس کی سرخ کرنیں نہر کنارے بنائی ایک مسجد کے میناروں سے چھن چھن کر برگد تک پہنچ رہی تھیں۔مصنف نے قلم اور ڈائری کو بند کر کے جیب میں ڈالا، برگد کو بوسہ دیا اور بوجھل قدموں سے روانہ ہو گیا۔ پگڈنڈی کے آخری کنارے پر نظروں سے اوجھل ہونے سے پہلے اس نےاشک بار برگد پر الوداعی نظر ڈالی اور اداس منظر کو اپنے تخیل میں قید کر کے چلا گیا۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا جب کوئی بھولا بھٹکا فرزند اس ویرانے کی یاترا کو آیا ہو لیکن آج برگد کی بے چینی انتہا ؤں کو چھو رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں رات کی دیوی نے اپنے پر پھیلادیے۔ جگنو اب بھی اس ویرانے میں ٹمٹما رہے تھے۔ آسمان پر ستارے اب بھی ویسے تھے جیسے چالیس سال پہلے ہوا کرتے تھے۔ شبنم نے ہر چیز کو آسمانی غسل دے کر مطہر کر دیا۔ برگد بوجھل دل کے ساتھ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
اگلی صبح جب برگد کی آنکھ کھلی تو کچھ لوگ فیتے سے ویرانے کی پیمائش کر رہے تھے۔ لٹکی توند والا ایک بھاری بھرکم شخص آیا اور مزدوروں سے کہا۔
"کالونی کی بہتر کٹنگ کے لیے ضروری ہے کہ اس بدصورت برگد کو کاٹ کر گرا دیا جائے۔"

05/05/2023

کسی علاقہ میں ایک شخص کو متعدد گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا.
تو مقتول کے ورثاء سے تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا اسی دوران مقتول کا ایک دوست جو کہ کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے میں ملازم تھا وہ بھی تعزیت کے لیے مقتول کے بیٹے کے پاس پہنچا تو اس نے پورا واقعہ پوچھا جس پر مقتول کے بیٹے نے بتایا کہ والد محترم کو دو گولیاں پیٹ ایک گردن اور دو گولیاں دل اور آس پاس لگیں پانچوں گولیوں نے آناً فاناً والد صاحب کی جان لے لی.
انتہائی انہماک سے سن رہے مرحوم کے دوست نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے ذرا سا مسکراتے ہوئے کہا کہ.
"شکر ہے مجید کی آنکھ بچ گئی"
خیر سانوں کی.
آپ چھوڑیے سنیے. موٹروے واقعہ میں ملوث ملزمان کی شناخت کر لی گئی جلد ملزمان زیر حراست ہوں گے.

بورے والا ۔۔۔۔۔۔۔روڈ حادثہ بس نے موٹر سائیکل سواروں کو کچل دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔2افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص شدید زخمی ۔۔۔۔۔۔۔تفصی...
05/05/2023

بورے والا ۔۔۔۔۔۔۔روڈ حادثہ
بس نے موٹر سائیکل سواروں کو کچل دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
2افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص شدید زخمی ۔۔۔۔۔۔۔
تفصیل کے مطابق ۔۔۔۔۔۔
تیز رفتار بس نے موٹر سائیکل سواروں کو کچل دیا جس کے نتیجے میں 2افراد جاں بحق جبکہ۔ایک شخص شدید زخمی
ریسکیو 1122نے بروقت رنسپانس کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔
جاں بحق اور زخمی ہونے والے شخص کو تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال بورے والا منتقل کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
جاں ہونے والوں کی شناخت
شوکت ولد شان محمد سکنہ 431ای بی
ماجد علی ولد شان محمد سکنہ 431ای بی
زخمی ہونے والے شخص کی شناخت ۔۔۔۔۔۔۔۔
نویدالحس ولد حسن شاہ سکنہ 431ای بی۔۔۔۔۔۔

سخاوت کی بہترین مثالبھائ مجھے تھوڑا سا شہد دے دیں.....مجھے شدید ضرورت ہے ، میری چھوٹی سی بیٹی بیمار ہے.....اس کا علاج شہ...
05/05/2023

سخاوت کی بہترین مثال
بھائ مجھے تھوڑا سا شہد دے دیں.....مجھے شدید ضرورت ہے ، میری چھوٹی سی بیٹی بیمار ہے.....اس کا علاج شہد سے ممکن ہے ۔*
*افسوس ! میرے پاس اس وقت شہد نہیں ہے.....ویسے شہد آپ کو مل سکتا ہے.....لیکن آپ کو کچھ دور جانا پڑےگا ، ملک شام سے ایک بڑے تاجر کا تجارتی قافلہ آرہا ہے.....وہ تاجر بہت اچھے انسان ہیں.....مجھے امید ہے ، وہ آپ کی ضرورت کے لیے شہد ضرور دے دیں گے ۔*
*ضرورت مند نے ان کا شکریہ ادا کیا اور شہر سے باہر نکل آیا تاکہ قافلہ وہاں پہنچے تو تاجر سے شہد کے لیے درخواست کر سکے ۔*
*آخر قافلہ آتا نظر آیا ۔ وہ فوراً اٹھا اور اس کے نزدیک پہنچ گیا ۔ اس قافلے کے امیر کے بارے میں پوچھا ۔ لوگوں نے ایک خوبصورت اور بارونق چہرے والے شخص کی طرف اشارہ کیا ۔ ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری چھوٹی سی بیٹی بیمار ہے اس کے علاج کے لیے مجھے تھوڑے سے شہد کی ضرورت ہے ۔*
*انھوں نے فوراً اپنے غلام سے فرمایا : جس اونٹ پر شہد کے دو مٹکے لدے ہیں ، ان میں سے ایک مٹکا اس بھائی کو دے دیں ۔*
*غلام نے یہ سن کر کہا : آقا ! اگر ایک مٹکا اسے دے دیا تو اونٹ پر وزن برابر نہیں رہ جائےگا ۔ یہ سن کر انھوں نے فرمایا : تب پھر دونوں مٹکے انھیں دے دیں ۔*
*یہ سن کر غلام گھبرا گیا اور بولا : آقا ! یہ اتنا وزن کیسے اٹھائے گا ۔ اس پر آقا نے کہا : تو پھر اونٹ بھی اسے دے دو ۔ غلام فوراً دوڑا اور وہ اونٹ مٹکوں کے ساتھ اس کے حوالے کر دیا ۔ وہ ضرورت مندان کا شکریہ ادا کرکے اونٹ کی رسی تھام کر چلا گیا ۔*
*وہ حیران بھی تھا اور دل سے بے تحاشہ دعائیں بھی دے رہا تھا ۔ وہ سوچ رہا تھا ، یہ شخص کس قدر سخی ہے ، میں نے اس سے تھوڑا سا شہد مانگا ۔ اس نے مجھے دو مٹکے دے دیے ۔ مٹکے ہی نہیں ، وہ اونٹ بھی دے دیا جس پر مٹکے لدے ہوئے تھے ۔*
*اِدھر غلام اپنے آقا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آقا نے غلام سے کہا : جب میں نے تم سے کہا کہ اسے ایک مٹکا دے دو تو تم نہیں گئے ، دوسرا مٹکا دینے کے لیے کہا تو بھی تم نہیں گئے ، پھر جب میں نے یہ کہا کہ اونٹ بھی اسے دے دو تو تم دوڑتے ہوئے چلے گئے ۔ اس کی کیا وجہ تھی ۔*
*غلام نے جواب دیا : آقا ! جب میں نے یہ کہا کہ ایک پورا مٹکا دینے سے اونٹ پر وزن برابر نہیں رہےگا تو آپ نے دوسرا مٹکا بھی دینے کا حکم فرمایا ، جب میں نے یہ کہا کہ وہ دونوں مٹکے کیسے اٹھائے گا تو آپ نے فرمایا : اونٹ بھی اسے دے دو ۔ اب میں ڈرا کہ اگر اب میں نے کوئ اعتراض کیا تو آپ مجھے بھی اس کے ساتھ جانے کا حکم فرما دیں گے ۔ اس لیے میں نے دوڑ لگادی ۔
*اس پر آقا نے کہا : اگر تم اس کے ساتھ چلے جاتے تو اس غلامی سے آزاد ہو جاتے ۔ یہ تو اور اچھا ہوتا ۔
*جواب میں غلام نے کہا : آقا ! میں آزادی نہیں چاہتا ، اس لیے کہ آپ کو تو مجھ جیسے سیکڑوں غلام مل جائیں گے ، لیکن مجھے آپ جیسا آقا نہیں ملےگا ۔ میں آپ کی غلامی میں رہنے کو آزادی سے زیادہ پسند کرتا ہوں ۔
آپ کو معلوم ہے؟؟؟
یہ آقا کون تھے؟؟؟

میڈیا عوام کی ذہن سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے. اللہ نہ کرے کہ ان ڈراموں کی کہانیاں ہمارے گھروں میں بھی دہرائی جانے لگ...
05/05/2023

میڈیا عوام کی ذہن سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے. اللہ نہ کرے کہ ان ڈراموں کی کہانیاں ہمارے گھروں میں بھی دہرائی جانے لگیں.
فاین تذهبون

Address

Burewala
Punjab

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Burewala News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category