13/03/2026
اس دس سالہ پھول جیسے بچے کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس کا رکشہ پولیس کی گاڑی کے سامنے آگیا۔
مبینہ طور پر راستہ نہ دینے کی پاداش میں سرکاری گاڑی نے رکشے کو ٹکر ماری۔
رکشے میں سوار دیگر افراد تو خوف سے بھاگ گئے، لیکن یہ بچہ، جو اپنے معذور بھائی اور بوڑھے والدین کا واحد سہارا تھا، پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق، ڈالے میں سوار اہلکاروں نے اس ننھے بچے پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ اندرونی چوٹوں کی تاب نہ لا سکا۔
اسے بے یار و مددگار اس کے محلے "غریب آباد" میں پھینک دیا گیا۔ جب اس کی ماں، شمشاد بی بی نے اسے سنبھالا تو بچے کا پورا جسم نیل و نیل تھا وہ تڑپتا رہا اور آخر کار اپنی ماں کی گود میں ہی دم توڑ گیا۔
ستم ظریفی دیکھیں کہ تھانے میں ایف آئی آر بھی نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی کیا ایک غریب کا بچہ ہونا ہی اس کا سب سے بڑا جرم ہے؟
ہم آئی جی پنجاب اور ڈی پی او شیخوپورہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اس معصوم کے چہرے کو دیکھیں
اور اس کے بے بس والدین کو انصاف فراہم کریں ظالموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ پھر کسی غریب کا چولہا اس طرح نہ بجھے۔