18/05/2024
کوی امید بر نہیں آتی
کوئ صورت نظر نہیں آتی
موت کا اک دن معین ھے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
ہم وہاں ہیں میاں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد مگر
طبیعت ادھر نہیں آتی
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی