ضلع خوشاب تحصیل قائد آباد

ضلع خوشاب تحصیل قائد آباد Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ضلع خوشاب تحصیل قائد آباد, hamdaniyah, Quaidabad Colony.

یہ ایک پبلک فگر پیج ہے اس پیج پر خوبصورت مقامات کی شارٹ ویڈیوز،معلوماتی ویڈیوز، مزاحیہ شارٹ ویڈیوز، اور مختلف قسم کے اعلانات کی پوسٹیں اپلوڈ ہوتی ہیں جیسے کہ نوکری کے اشتہار یا تصدیق کے بعد اعلان گمشدگی ۔
پیارا خوشاب۔۔۔۔۔پیارے لوگ 💖

انا للہ وانا الیہ راجعون 🖤🇵🇰سرخرو ہوا ہمارا سپوت، شہیدِ وطن قدیّر...کراچی میں وطنِ عزیز کی مٹی پر اپنی جان نچھاور کرنے و...
29/06/2026

انا للہ وانا الیہ راجعون 🖤🇵🇰
سرخرو ہوا ہمارا سپوت، شہیدِ وطن قدیّر...
کراچی میں وطنِ عزیز کی مٹی پر اپنی جان نچھاور کرنے والا وہ بہادر نوجوان، قدیّر اب ہم میں نہیں رہا۔ اس عظیم شہید کا تعلق تحصیل نورپور تھل، ضلع خوشاب سے تھا۔
آج ہماری آنکھیں نم ہیں، دل اداس ہے اور پورا نورپور تھل اپنے اس لال کی جدائی پر سوگوار ہے۔ ایک ہنستا کھیلتا نوجوان، کسی کا لاڈلا بیٹا، کسی کا بھائی، آج کفن اوڑھ کر ابدی نیند سو گیا۔ یہ نقصان اتنا بڑا ہے کہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
مگر اس غم کے ساتھ ساتھ، ہمارا سر فخر سے بلند ہے!
ہمارے اس مٹی کے سپوت قدیّر نے ثابت کر دیا کہ جب بھی وطنِ پاک کو خون کی ضرورت پڑی، تھل کے غیور جوانوں نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی۔ اس نے اپنی جوانی، اپنے خواب اور اپنی زندگی اس پاک دھرتی پر قربان کر کے شہادت کا وہ عظیم رتبہ پایا جس کی تمنا ہر سچا مومن کرتا ہے۔
"شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے"
اللہ پاک شہید قدیّر کے والدین، بہن بھائیوں اور تمام اہل خانہ کو یہ قیامت خیز صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ (آمین)۔ والدین کے اس حوصلے کو سلام جنھوں نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنے جگر کا ٹکڑا قربان کر دیا۔
اے نورپور تھل کے چمکتے ستارے قدیّر! پورا پاکستان اور تمہاری اپنی مٹی تمہیں سلام پیش کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

الحمدللہ، الحمدللہ، ثم الحمدللہ!آج میانوالی کی تاریخ کا ایک بہت بڑا اور تاریخی دن ہے۔ وہ دیرینہ دشمنی جس نے برسوں تک کلو...
28/06/2026

الحمدللہ، الحمدللہ، ثم الحمدللہ!
آج میانوالی کی تاریخ کا ایک بہت بڑا اور تاریخی دن ہے۔ وہ دیرینہ دشمنی جس نے برسوں تک کلو برادری اور یاروخیل برادری کے خاندانوں کو اجاڑے رکھا، جس نے 11 قیمتی جانوں کا ضیاع دیکھا اور کتنے ہی گھروں کے چراغ گل کر دیے... آج اللہ پاک کے خاص کرم اور فضل سے وہ نفرتوں کی دیواریں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گر گئی ہیں۔ دونوں برادریاں گلے مل کر ایک ہو گئی ہیں!
خون کے پیاسے آج ایک دوسرے کے بھائی بن چکے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے اور آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے نم ہو جاتی ہیں کہ اللہ پاک نے ہمارے علاقے کو ایک بہت بڑی آزمائش سے نکال لیا۔
"اللہ پاک ہمارے اس پیارے ملک پاکستان اور خاص طور پر ہمارے علاقے میانوالی کو ہمیشہ امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بنائے رکھے۔ آمین۔"
عظیم اور تاریخی صلح کو ممکن بنانے کے لیے جن لوگوں نے دن رات ایک کیا، اپنی صلاحیتیں اور وقت قربان کیا، وہ ہمارے حقیقی ہیرو ہیں۔ ہم تہہِ دل سے شکر گزار ہیں:
جنہوں نے اس امن مہم میں کلیدی کردار ادا کیا اور مخلصانہ کوششوں سے اس دیرینہ تنازع کو ختم کروایا۔
علاقے کے تمام معززین، عمائدینِ جرگہ اور ہر اس دردِ دل رکھنے والے انسان کے، جنہوں نے اس صلح کے لیے ایک بھی قدم اٹھایا یا کوئی ایک لفظ بھی خیر کا بولا۔
اللہ پاک آپ سب کو اس کا اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ نفرتیں ہار گئیں، محبت جیت گئی! اب میانوالی میں صرف امن، ترقی اور خوشحالی کا دور ہوگا۔
#میانوالی #امن #صلح

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ"ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات بل احياء ولكن لا تشعرون"انتہائی بوجھل دل ا...
28/06/2026

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
"ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات بل احياء ولكن لا تشعرون"
انتہائی بوجھل دل اور فخر سے بلند سر کے ساتھ، ہم وطن کے ایک اور چمکتے ہوئے ستارے اور بہادر سپوت، شہید محمد ریاض کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ کراچی میں دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے محمد ریاض نے اپنے لہو سے وطن کی مٹی کو سینچ کر خود کو ہمیشہ کے لیے امر کر لیا۔
محمد ریاض بھائی جتنے نڈر اور فرض شناس تھے، اس سے کہیں زیادہ ایک بہترین اور مخلص انسان تھے۔ وہ انتہائی نیک سیرت، خوش اخلاق، خدا ترس اور ایماندار شخصیت کے مالک تھے، جن کی شرافت، سادگی اور اچھائی کی گواہی آج ان کا پورا خاندان اور جاننے والے رو رو کر دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ایمانداری اور سچائی کے ساتھ گزاری اور آخر کار وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت کا اعلیٰ رتبہ پایا۔
دہشت گردوں نے ایک ہنستا کھیلتا گھر اجاڑا ہے، ایک نیک انسان اور قیمتی ہیرا ہم سے چھینا ہے، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ شہید مرتے نہیں، بلکہ وہ رب کے پاس ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
شہید محمد ریاض کا تعلق واں بھچراں ضلع میانوالی انور خیل قبیلے سے تھا۔
"شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی"
ہم شہید محمد ریاض کی اس عظیم قربانی اور ان کی باکردار و پاکیزہ زندگی پر انہیں بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا کرے اور ان کے گھر والوں کو یہ ناقابلِ برداشت صدمہ سہنے کا حوصلہ اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
قوم آپ کی اچھائی، شرافت اور اس عظیم احسان کو کبھی نہیں بھولے گی۔ سلام شہیدِ وطن! 🇵🇰💔

میرا بیٹا گناہ گار تھا تو مجھے ثبوت دو میں چپ کر جاؤں گی ورنہ میں چیختی رہونگی ۔۔۔ منتہا کیس کے مرکزی کردار ارسلان کی ما...
27/06/2026

میرا بیٹا گناہ گار تھا تو مجھے ثبوت دو میں چپ کر جاؤں گی ورنہ میں چیختی رہونگی ۔۔۔ منتہا کیس کے مرکزی کردار ارسلان کی ماں کی دہائیاں ۔۔۔ میں بھی ماں ہوں مجھے بچی کی موت کا غم بھی ہے اور میں اسکی ماں کا درد محسوس کر سکتی ہوں مگر 25 سال میں میرے بیٹے کی کبھی ایک بھی شکایت نہ آئی اسے ایک سازش کے تحت پیسے لیکر مجرم بنایا گیا ہے مجھے حکومت، پولیس والے اور پوری قوم ایک سوال کا جواب دے کہ کیا دکان کا مالک اسکا بیٹا اور دوسرے ملازم اندھے تھے کہ دکان کے اندر ایک بچی آئی اور میرا بیٹا اسے اٹھا کر اوپر لے گیا کسی کو پتہ نہ چلا ۔کسی ایک نے تو دیکھا ہو گا اس نے مالک کو کیوں نہ بتایا ، دکان سے کوئی ایک ٹافی اٹھا لے تو انہیں پتہ چل جاتا ہے لیکن ایک بچی کو کوئی اٹھا کر دکان کے اندر بنی سیڑھیوں سے اوپر لے گیا ، جو بھی مجرم ہے وہ کافی دیر اوپر رہا ہو گا ۔کیا کسی نے ایک نوکر کی غیر موجودگی کو نوٹ نہیں کیا جبکہ مالک سے اجازت لیے بغیر کوئی نوکر چھوٹا پیشاب کرنے بھی نہیں جا سکتا یہ ملی بھگت ہے یہ سازش ہے میرا بیٹا غریب تھا کمزور تھا اس لیے سارا الزام اس پر ڈال دیا گیا اور اصل مجرموں کو بچا لیا گیا میں وہ بدقسمت ماں ہوں جسکے گھر میں اسکے جوان بیٹے کی میت بھی نہیں آنے دی گئی ہم نے قبرستان آکر چند سیکنڈوں کے لیے بیٹے کا چہرہ دیکھا جبکہ ہمیں اسکو چھونے اور منہ چومنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی ، انصاف والو: اگر تمہارے پاس انصاف ہے تو اس دکھی ماں کو بھی انصاف دو مجھے ثبوت دو کہ میرا بیٹا گناہ گار تھا اس لیے مارا گیا اور باقی سب بے گناہ ہیں اس لیے بچے ہوئے ہیں ۔ مجھے پتہ چل جائے کہ وہ گناہ گار تھا تو میں اسکے لیے دعا نہ کروں اور وہ بے قصور مارا گیا ہے تو مجھے تسلی ہونی چاہیے تاکہ میں بیٹے کی مغفرت کی دعا تو صدق دل اور یقین سے کرسکوں ۔۔۔۔

27/06/2026
27/06/2026

چھوٹی دکان سے عرب پتی بننے تک کا سفر تعریر اچھی لگے تو لائک کمنٹ اور شئیر کجیئے
لولو گروپ کے مالک یوسف علی کی حیران کن کہانی کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر انسان کے اندر محنت، ایمانداری اور بڑا خواب دیکھنے کی ہمت ہو تو وہ عام حالات سے اٹھ کر دنیا کی بڑی کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔
یہ کہانی صرف ایک بزنس مین کی نہیں، بلکہ ایک ایسے نوجوان کی ہے جو خالی ہاتھ خواب لے کر خلیج آیا اور پھر اپنی محنت سے اربوں ڈالر کی سلطنت کھڑی کردی۔

یوسف علی بھارت کی ریاست Kerala کے ضلع تھریسور کے ایک چھوٹے سے گاؤں ناٹیکا میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک سادہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
1973 میں، صرف 18 سال کی عمر میں، انہوں نے خلیج جانے کا فیصلہ کیا۔ اس زمانے میں آج جیسی سہولتیں نہیں تھیں۔ لوگ ہوائی جہاز کے بجائے بحری جہازوں میں سفر کرتے تھے۔
یوسف علی بھی بمبئی، جو آج ممبئی کہلاتا ہے، وہاں سے "دمرا" نامی بحری جہاز پر سوار ہوئے۔ چھ دن کے طویل سفر کے بعد 31 دسمبر 1973 کو وہ دبئی کی راشد بندرگاہ پہنچے۔
انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا:"جہاز صبح بندرگاہ پہنچ گیا تھا، لیکن میں رات 10 بجے باہر نکل سکا۔"
یہ ایک نئے سفر کی شروعات تھی۔انہوں نے بتایا کہ ان دنوں دبئی سے ابوظہبی جانے میں تقریباً چار گھنٹے لگتے تھے کیونکہ اس وقت سڑک صرف سنگل ٹریک تھی۔ وہ سفر ایک نیلی ٹویوٹا اسٹاؤٹ پک اپ گاڑی میں کیا گیا تھا۔

جب وہ یو اے ای آئے تو زندگی آسان نہیں تھی۔ وہ اپنے چچا کے ایک چھوٹے تقسیم کاری کاروبار میں کام کرنے لگے۔ اس وقت نہ بڑی عمارتیں تھیں، نہ چوڑی سڑکیں۔
شروع میں انہوں نے چھوٹے چھوٹے کام کیے۔ دکان سنبھالی، سامان اٹھایا، گاہکوں سے بات کی، حساب کتاب دیکھا۔ اس نے لوگوں کی ضرورت کو سمجھا۔ اس وقت خلیج میں ایشیائی کمیونٹی تیزی سے بڑھ رہی تھی، اور لوگوں کو ایک ایسی جگہ چاہیے تھی جہاں انہیں اپنے ملک جیسا سامان مناسب قیمت پر مل سکے اور لوگوں کو ایک ایسی جگہ چاہیے تھی جہاں انہیں اپنے ملک جیسا سامان مناسب قیمت پر مل سکے۔چند سالوں بعد انہوں نے چھوٹی سی گروسری نامہ سپر مارکیٹ کی بنیاد رکھی۔اس وقت شاید کسی نے نہیں سوچا ہوگا کہ یہی چھوٹا کاروبار ایک دن پوری دنیا میں مشہور ہوجائے گا۔۔اس نے اس سپر مارکیٹ کا نام " لولو "رکھا۔ پرانے زمانے میں خلیج خصوصاً متحدہ عرب امارات میں کے لوگ سمندر سے موتی نکالنے کا کام کرتے تھے، اور موتی یہاں کی معیشت اور ثقافت کا اہم حصہ تھا۔ اسی وجہ سے “لولو” نام معیار، قیمتی چیز اور اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر یوسف نے اپنے مارکیٹ کا نام لولو رکھا ۔ پھر اس طرح لولو اسٹورز کی بنیاد چلی۔
شروع میں صرف چند اسٹور تھے، لیکن ایمانداری، معیاری سامان اور بہترین سروس کی وجہ سے لوگ تیزی سے لولو کی طرف متوجہ ہونے لگے۔

آج Lulu Group International دنیا کے بڑے ریٹیل گروپس میں شمار ہوتا ہے۔24 ممالک میں کاروبار260 سے زائد ہائپر مارکیٹس اور مالز
تقریباً 70 ہزار ملازمین46 مختلف قومیتوں کے ورکرز اربوں ڈالر کی سالانہ آمدنی ان کا کاروبار صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ بھارت، مصر، انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن، چین، ترکی، برطانیہ، امریکہ اور کئی دوسرے ممالک تک پھیل گیا۔
بعد میں انہوں نے Lulu Money بھی شروع کیا، جو آج خلیج میں رقم بھیجنے کی بڑی سروسز میں شمار ہوتی ہے۔
یوسف علی ہمیشہ کہتے ہیں کہ انہیں شیخ زاید بن سلطان کی حمایت اور محبت ملی۔انہوں نے یو اے ای کے حکمرانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:
"میں اس عظیم ملک کے حکمرانوں اور یہاں رہنے والی غیر ملکی برادری کا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا۔"
ایک تصویر میں وہ شیخ محمد بن زاید کو اپنا پاسپورٹ دیکھا رہے ہیں جب وہ پہلی بار امارات آئے تھے۔ وہ ابوظہبی کے چمبر اور کامرس کے دوسرے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔ان کی کامیابی اور خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی بڑے اعزازات ملے:
Padma Shri
Pravasi Bharatiya Samman
Abu Dhabi Award
یہ اعزاز صرف کاروبار کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت، عاجزی اور سماجی کاموں کی وجہ سے بھی دیے گئے۔ارب پتی مگر انتہائی سادہ انسان اتنی دولت اور شہرت کے باوجود یوسف علی آج بھی بہت سادہ طبیعت رکھتے ہیں۔ وہ ملازمین سے محبت سے ملتے ہیں، لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
وہ ہمیشہ کہتے ہیں:"کاروبار صرف پیسوں کا نام نہیں، کاروبار لوگوں کے بارے میں ہوتا ہے۔"

آج 68 سال کی عمر میں بھی وہ روز دفتر جاتے ہیں۔ جب ان سے ریٹائرمنٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ہنس کر جواب دیا:
"کام کے علاوہ میرا کوئی شوق نہیں۔ جب تک صحت اجازت دے گی، میں کام کرتا رہوں گا۔ ریٹائرمنٹ میرے لیے کوئی آپشن نہیں۔"
نوجوانوں کے لیے سبق

ایک 18 سالہ لڑکا جو بحری جہاز میں چھ دن سفر کرکے خلیج پہنچا تھا، آج دنیا کے کامیاب ترین بزنس مینوں میں شمار

موت صرف گولی یا بیماری سے نہیں آتی، موت تب بھی آتی ہے جب غیرت مند کی غیرت کو سرِ عام نیلام کیا جائے!انسان صرف بیماریوں، ...
24/06/2026

موت صرف گولی یا بیماری سے نہیں آتی، موت تب بھی آتی ہے جب غیرت مند کی غیرت کو سرِ عام نیلام کیا جائے!
انسان صرف بیماریوں، حادثات یا گولی لگنے سے نہیں مرتا۔ جسم تو سانسیں بند ہونے پر مٹی ہوتا ہے، لیکن ایک غیرت مند انسان کا ضمیر اور اس کی روح اسی وقت مر جاتی ہے جب بھری محفل میں اس کی پگڑی اچھالی جائے، جب اس کی غربت اور مجبوری کا تماشہ بنا کر اسے ذلیل کیا جائے۔
کچھ دن پہلے ایک محفلِ مشاعرہ میں ایک پھول فروش، ایک محنتی انسان کے ساتھ جو ہوا، وہ تذلیل نہیں بلکہ اس کا سرِ عام قتل تھا۔ چند روپوں کے پیچھے ایک غریب کی عزتِ نفس کو کچلنے والے خود کو "شاعر" کہتے ہیں؟ شاعری تو نام ہے احساس کا، شاعری تو نام ہے تڑپ کا، شاعری تو نام ہے دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کا! لیکن جہاں انسان کا اپنا ظرف اور اخلاق مر چکا ہو، وہاں الفاظ صرف منافقت کا لبادہ ہوتے ہیں۔
میثم کھوکھر جیسے کم ظرف اور کمینے شخص نے جس طرح ایک غریب پھول والے کو چند پیسوں کے لیے بھری محفل میں ذلیل کیا، وہ اس کی اپنی چھوٹی سوچ اور گرا ہوا معیار تھا۔ غریب نے چند پیسے کیا اٹھائے، اس نے تو اپنی غربت کا بھرم رکھنا چاہا ہوگا، لیکن اس بے حس شاعر نے اس کا بھرم کیا توڑا، اس کی زندگی کی ڈور ہی توڑ دی۔ کل اس غیرت مند پھول فروش کی موت دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مٹی کا نہیں، غیرت کا پُتلا تھا۔ وہ اس ذلت کو برداشت نہ کر سکا اور جینے پر موت کو ترجیح دے گیا۔
افسوس!
اس معاشرے پر جہاں اسٹیج پر بیٹھے ہوئے نام نہاد پڑھے لکھے اور بااثر لوگ ایک غریب کو نیچا دکھا کر تالیاں بٹورتے ہیں، اور شرمندگی سے اس غریب کا دل پھٹ جاتا ہے۔
مٹ گیا وہ پھول بیچنے والا اپنی غیرت کی خاطر۔۔۔
لیکن پیچھے چھوڑ گیا ایک ایسا داغ جو اس بے حس اور کم ظرف شاعر کے چہرے پر ہمیشہ رہے گا۔
خدا کے لیے انسانوں کی عزتِ نفس کا پاس رکھیں۔ غربت کا مذاق مت اڑائیں۔ آج ایک غیرت مند انسان دنیا سے چلا گیا، اور اس کے خون کا حساب اس کم ظرف سوچ کے ذمے ہے جس نے اسے جیتے جی مار دیا تھا۔
#غیرت #انسانیت #افسوسناک

پردیسی۔ نوجوان کو میانوالی میں بے دردی سے۔ ق ت ل کردیا گیا۔   اللہ پاک ظا۔لموں کو۔  اس دنیا میں بر۔باد کرے۔   آمین۔
22/06/2026

پردیسی۔ نوجوان کو میانوالی میں بے دردی سے۔
ق ت ل کردیا گیا۔
اللہ پاک ظا۔لموں کو۔ اس دنیا میں بر۔باد کرے۔ آمین۔

آج میثم کھوکھر کی ایک ویڈیو دیکھی جس نے دل خون کے آنسو رلا دیا۔ ایک پنجابی شاعر، جو منبر پر بیٹھ کر احساس، محبت اور صوفی...
22/06/2026

آج میثم کھوکھر کی ایک ویڈیو دیکھی جس نے دل خون کے آنسو رلا دیا۔ ایک پنجابی شاعر، جو منبر پر بیٹھ کر احساس، محبت اور صوفیانہ رنگ کے دعوے کرتا ہے، وہ ایک غریب، مجبور فقیر کے چند سکے اٹھانے پر اس طرح آپے سے باہر ہو گیا؟ بھرے مجمعے میں ایک بے بس انسان کی سرِعام تذلیل کر دی؟
میثم صاحب! لفظوں کا محل کھڑا کر لینا بہت آسان ہے، لیکن انسان بننا بہت مشکل ہے۔ جہاں عام انسان کا شعور ختم ہوتا ہے، وہاں سے شاعر کا جنم ہوتا ہے—ہم تو یہ سنتے آئے تھے۔ لیکن آپ کا یہ عمل دیکھ کر لگتا ہے کہ جہاں ایک عام انسان کی اخلاقیات ختم ہوتی ہیں، وہاں سے آپ کی "شاعری" شروع ہوتی ہے!
ایک غریب، جو شاید چند روپوں کے لیے اپنی غیرت کا جنازہ نکال کر آپ کے سامنے بیٹھا تھا، اس کی اس طرح بے عزتی کرنا کس مذہب، کس کلچر اور کس شاعری نے سکھایا ہے؟
شاعری صرف اچھے قافیے اور ردیف کا نام نہیں ہے۔
شاعری کمزور کا ہاتھ تھامنے کا نام ہے، اس کا تماشا بنانے کا نہیں۔
اگر آپ کے دل میں ایک مجبور انسان کے لیے ہمدردی نہیں، تو آپ کے لکھے ہوئے ہیرے جیسے الفاظ بھی دراصل پتھر ہیں، جن کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ اسٹیج پر واہ واہ سمیٹنا بہت آسان ہے، لیکن اصل امتحان تب ہوتا ہے جب آپ کے سامنے کوئی بے بس کھڑا ہو۔ آپ اس امتحان میں بری طرح فیل ہو چکے ہیں۔
کاش! آپ نے لفظوں کو جینے کا فن بھی سیکھا ہوتا۔ مائیک پر بیٹھ کر دھاڑنا اور غریب پر رعب جمانا بہادری نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
#انسانیت #ادب #منافقت

ان میں سے کون کونسا نوٹ یا سیکے آپ نے استعمال کیے؟پھوٹی کوڑی یہ ایک کرنسی تھی جس کی قدر سب سے کم تھی۔ 3 پھوٹی کوڑیوں سے ...
17/06/2026

ان میں سے کون کونسا نوٹ یا سیکے آپ نے استعمال کیے؟
پھوٹی کوڑی
یہ ایک کرنسی تھی جس کی قدر سب سے کم تھی۔ 3 پھوٹی کوڑیوں سے ایک کوڑی بنتی تھی اور 10 کوڑیوں سے ایک دمڑی۔ علاوہ ازیں اردو زبان کے روزمرہ میں "پھوٹی کوڑی" کو محاورتاً محتاجی کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً میرے پاس پھوڑی کوڑی تک نہیں بچی۔
پُرانا ترین سکہ شاید یہی ’’پھوٹی کوڑی ‘‘ہے۔یہ پھوٹی کوڑی ’’کوڑی‘‘ یا پھٹا ہوا گھونگھا ہے۔ جسے کوڑی گھونگھے کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس کا استعمال دنیا میں کوئی پانچ ہزار (5000) سال قبل وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب میں بطور کرنسی عام تھا۔ ’’پھوٹی ‘‘ کا نام اسے اس لئے دیا گیا کیونکہ اس کی ایک طرف پھٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لیے کوڑی کا گھونگا ’’پھوٹی کوڑی‘‘ کہلایا۔ قدرتی طور پر گھونگھوں کی پیدا وار محدود تھی۔ اس کی کمیابی سے یہ مطلب لیا گیا کہ اس کی کوئی قدر / ویلیو ہے۔
تین پھوٹی کوڑیوں کے گھونگھے ایک پوری کوڑی کے برابر تھے۔ جو ایک چھوٹا سا سمندری گھونگھا تھا۔ لیکن ان دونوں کی کوئی آخری حیثیت / ویلیو تھی۔ وہ ’’روپا‘‘تھی۔ جسے بعد میں ’’روپیہ‘‘ کہاجانے لگا۔۔ ایک’’روپیہ ‘‘5,275’‘پھوٹی کوڑیوں‘‘ کے برابر تھا۔ ان کے درمیان دس مختلف سکے تھے۔جنہیں ’’کوڑی‘‘، دمڑی‘‘، ’’پائی‘‘، ’’دھیلا‘‘، ’’پیسہ‘‘، ’ٹکہ‘‘، ’’آنہ‘‘، ’’دونی‘‘، ’’چونی‘‘، ’’اٹھنی‘‘ اور پھر کہیں جا کر ’’روپیہ‘‘ بنتا تھا۔

مغل دور حکومت سے اب تک کرنسی
کی قیمت اور بدلتا ھوا رنگ و روپ۔۔۔۔
3 پھوٹی کوڑی= 1کوڑی
10کوڑی = 1 دمڑی
02دمڑى = 1.5پائى.
ڈیڑھ پائى = 1 دهيلا.
2دهيلا = 1 پيسہ .
تین پیسے= ایک ٹکہ
چھ پيسه یا دو ٹکے= 1 آنہ .
دو آنے= دونی
چار آنے= چونی
آٹھ آنے= اٹھنی
16 آنے = 1 روپيہ
جس طرح اردو زبان کے روزمرہ میں "پھوٹی کوڑی" کو محاورتاً محتاجی کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً میرے پاس پھوڑی کوڑی تک نہیں بچی۔ اسی طرح
کوڑی کوڑی کا محتاج ہو جانا
دمڑی جاۓ چمڑی نہ جاۓ در اصل کنجوسی کی شدید حالت کو بیان کرنےکے لئیے استعمال ہوتا ہے
ایک پائ نہ ہونا غربت کا مظہر ...
ایک دھیلے کا نہ ہونا ذراکم غربت ..
ایک ٹکے کی اوقات (ذلیل کرنے کا غیر مہذب بیانیہ)..
ٹکہ بنگلہ دیش کی کرنسی بھی ہے
کیونکہ سب سے اعلی اور مکمل حیثیت روپیہ کی تھی (جس میں سولہ آنے ہوتے تھے) اس لئیے بات کا سولہ آنے صحیح ہونا ۱۰۰ فیصد صحیح ہے

Address

Hamdaniyah
Quaidabad Colony
22230

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ضلع خوشاب تحصیل قائد آباد posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share