Nawabzada Haji Lashkari Raisani: A Tribute

Nawabzada Haji Lashkari Raisani: A Tribute Comprehensive Knowledge About The Views, Vision & Strategy of Nawabzada Haji Lashkari Raisani

16/08/2026

An Old and Rare Clip of Nawabzada Haji Lashkari Khan Raisani Explaining Islamabad

12/07/2026

مختصر بیرونی دورہ، طویل سیاسی پیغام

بقلم

طاہر سکندر رحیم

نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی کی کوئٹہ واپسی اور زیارت سانحہ کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی

بلوچستان ایک بار پھر ایسے نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر سانحہ صرف چند خاندانوں کا المیہ نہیں رہتا بلکہ پورے صوبے کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ زیارت میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو غم و اندوہ میں مبتلا کیا بلکہ بلوچستان کے عوام میں بھی شدید بے چینی اور اضطراب کو جنم دیا۔ ایسے حساس حالات میں سیاسی و سماجی قیادت کی ذمہ داری محض بیانات تک محدود نہیں رہتی بلکہ عوام کے درمیان موجودگی، ان کے دکھ میں شریک ہونا اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت کرنا وقت کا اہم تقاضا بن جاتا ہے۔

اسی تناظر میں بلوچستان کے سینئر سیاسی رہنما، سر سردارانِ سراوان نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی نے اپنے نجی بیرونی دورے کو مختصر کرتے ہوئے فوری طور پر کوئٹہ پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا یہ اقدام محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام، خصوصاً زیارت سانحے کے شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور عوامی احساسات کا احترام قرار دیا جا رہا ہے۔

کوئٹہ آمد کے بعد نوابزادہ لشکری خان رئیسانی نے زیارت حادثے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کی جانب سے دیے گئے احتجاجی دھرنے میں خصوصی شرکت کی۔ دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانی جان کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور جب بھی بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں تو صرف تعزیت کافی نہیں ہوتی بلکہ شفاف تحقیقات، ذمہ دار عناصر کا تعین اور انصاف کی فراہمی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت یا خاموشی میں نہیں بلکہ انصاف، آئین کی بالادستی، سیاسی مکالمے اور عوام کے بنیادی حقوق کے احترام میں پوشیدہ ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ خاندانوں کے زخم اس وقت تک مندمل نہیں ہو سکتے جب تک انہیں انصاف، تحفظ اور ریاستی ذمہ داری کا عملی احساس نہ دلایا جائے۔

نوابزادہ لشکری خان رئیسانی نے اپنے خطاب میں بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام طویل عرصے سے بدامنی، بے یقینی اور سیاسی محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو اور آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

دھرنے میں ان کی شرکت نے متاثرہ خاندانوں کو یہ احساس دلایا کہ ان کے غم میں سیاسی قیادت بھی برابر کی شریک ہے۔ یہی عوامی رابطہ اور عملی یکجہتی ایک ذمہ دار قیادت کی پہچان سمجھی جاتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بلوچستان کو اتحاد، بردباری اور انصاف پر مبنی سیاسی سوچ کی اشد ضرورت ہے۔

آج بلوچستان جن پیچیدہ حالات سے گزر رہا ہے، ان میں سیاسی رہنماؤں کا کردار صرف تقریروں تک محدود نہیں رہ سکتا۔ عوام کی آواز بننا، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا اور انصاف کے لیے پرامن جدوجہد کی حمایت کرنا ہی وہ راستہ ہے جو اعتماد، استحکام اور دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی کی کوئٹہ واپسی اور زیارت سانحے کے متاثرین کے دھرنے میں شرکت کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایک مختصر کیا گیا بیرونی دورہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ وابستگی، ذمہ داری اور سیاسی عزم کا واضح اظہار بن کر سامنے آیا۔

مختصر بیرونی دورہ، طویل سیاسی پیغامبقلم طاہر سکندر رحیم نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی کی کوئٹہ واپسی اور زیارت سانحہ ک...
12/07/2026

مختصر بیرونی دورہ، طویل سیاسی پیغام

بقلم

طاہر سکندر رحیم

نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی کی کوئٹہ واپسی اور زیارت سانحہ کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی

بلوچستان ایک بار پھر ایسے نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر سانحہ صرف چند خاندانوں کا المیہ نہیں رہتا بلکہ پورے صوبے کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ زیارت میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو غم و اندوہ میں مبتلا کیا بلکہ بلوچستان کے عوام میں بھی شدید بے چینی اور اضطراب کو جنم دیا۔ ایسے حساس حالات میں سیاسی و سماجی قیادت کی ذمہ داری محض بیانات تک محدود نہیں رہتی بلکہ عوام کے درمیان موجودگی، ان کے دکھ میں شریک ہونا اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت کرنا وقت کا اہم تقاضا بن جاتا ہے۔

اسی تناظر میں بلوچستان کے سینئر سیاسی رہنما، سر سردارانِ سراوان نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی نے اپنے نجی بیرونی دورے کو مختصر کرتے ہوئے فوری طور پر کوئٹہ پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا یہ اقدام محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام، خصوصاً زیارت سانحے کے شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور عوامی احساسات کا احترام قرار دیا جا رہا ہے۔

کوئٹہ آمد کے بعد نوابزادہ لشکری خان رئیسانی نے زیارت حادثے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کی جانب سے دیے گئے احتجاجی دھرنے میں خصوصی شرکت کی۔ دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانی جان کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور جب بھی بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں تو صرف تعزیت کافی نہیں ہوتی بلکہ شفاف تحقیقات، ذمہ دار عناصر کا تعین اور انصاف کی فراہمی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت یا خاموشی میں نہیں بلکہ انصاف، آئین کی بالادستی، سیاسی مکالمے اور عوام کے بنیادی حقوق کے احترام میں پوشیدہ ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ خاندانوں کے زخم اس وقت تک مندمل نہیں ہو سکتے جب تک انہیں انصاف، تحفظ اور ریاستی ذمہ داری کا عملی احساس نہ دلایا جائے۔

نوابزادہ لشکری خان رئیسانی نے اپنے خطاب میں بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام طویل عرصے سے بدامنی، بے یقینی اور سیاسی محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو اور آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

دھرنے میں ان کی شرکت نے متاثرہ خاندانوں کو یہ احساس دلایا کہ ان کے غم میں سیاسی قیادت بھی برابر کی شریک ہے۔ یہی عوامی رابطہ اور عملی یکجہتی ایک ذمہ دار قیادت کی پہچان سمجھی جاتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بلوچستان کو اتحاد، بردباری اور انصاف پر مبنی سیاسی سوچ کی اشد ضرورت ہے۔

آج بلوچستان جن پیچیدہ حالات سے گزر رہا ہے، ان میں سیاسی رہنماؤں کا کردار صرف تقریروں تک محدود نہیں رہ سکتا۔ عوام کی آواز بننا، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا اور انصاف کے لیے پرامن جدوجہد کی حمایت کرنا ہی وہ راستہ ہے جو اعتماد، استحکام اور دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی کی کوئٹہ واپسی اور زیارت سانحے کے متاثرین کے دھرنے میں شرکت کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایک مختصر کیا گیا بیرونی دورہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ وابستگی، ذمہ داری اور سیاسی عزم کا واضح اظہار بن کر سامنے آیا۔

10/06/2026

𝐆𝐫𝐚𝐧𝐝 𝐎𝐩𝐞𝐧𝐢𝐧𝐠: 𝐀𝐥𝐡𝐚𝐦𝐝 𝐅𝐨𝐮𝐧𝐝𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐏𝐫𝐨𝐯𝐢𝐧𝐜𝐢𝐚𝐥 𝐒𝐞𝐜𝐫𝐞𝐭𝐚𝐫𝐢𝐚𝐭 𝐇𝐢𝐠𝐡𝐥𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬
Alhamdulillah! The Provincial Secretariat of Alhamd Foundation was officially inaugurated in a prestigious ceremony.
Nawabzada Haji Lashkari Khan Raisani inaugurated the office and visited all departments of Alhamd Foundation. He appreciated the foundation's services for humanity and expressed his best wishes for future welfare work.
Prof Dr Shakeel Ahmed Roshan, Chairman Alhamd Foundation & Raees-ul-Jamia, addressed the gathering. He said Alhamd Foundation is a beacon of light for youth and a symbol of service, education, and peace.
The event concluded with a grand dinner attended by social, political, and religious personalities from across the city.
Watch the Highlights of ceremony
Alhamd Foundation - Serving Humanity with Unity in Diversity

















See less

03/05/2026
03/05/2026

سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے بلوچستان اسمبلی کی عمارت گرائے جانے کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی، درخواست میں عمارت گرائے جانے کے حوالے سے مجوزہ ٹینڈر کو کالعدم قرار دینے معاملے میں اسٹے آرڈر جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ جمعرات کو سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے سیال خان کاکڑ ایڈووکیٹ کے ذریعے بلوچستان اسمبلی کی عمارت گرائے جانے کے حکومتی اقدام کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے مجوزہ ٹینڈر کو کالعدم قرار دینے، کیس کو ترجیحی بنیادوں پر مقرر کرنے اور معاملے میں اسٹے آرڈر جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے رابطہ کرنے پر بتایا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کی عمارت صوبے کا قیمتی اثاثہ ہے اس کو برقرار رکھا جائے، اس وقت صوبے میں بہت سے بڑے بڑے مسائل ہیں لوگوں کو صاف پینے کا پانی میسر نہیں، جامعات معاشی بحران سے دوچار ہیں اس جانب توجہ دی جائے

03/05/2026

نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی لاپتہ مہر گل مری کے بھائی کی وفات پر تعزیت کررہے ہیں

نوابزادہ حاجی میرلشکری خان رئیسانی ریڈیو کو معروف پروگرام ''رنگِ بولان'' میں شرکت کے بعد ڈائریکٹر صدیقہ خان ملالی، متعلق...
03/05/2026

نوابزادہ حاجی میرلشکری خان رئیسانی ریڈیو کو معروف پروگرام ''رنگِ بولان'' میں شرکت کے بعد ڈائریکٹر صدیقہ خان ملالی، متعلقہ افسران و عملہ ریڈیو پاکستان کوئٹہ کے مختلف شعبہ جات کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے متعلق آگاہ کررہے ہیں

Address

Sarawan House
Quetta
87300

Telephone

+923138242229

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nawabzada Haji Lashkari Raisani: A Tribute posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Nawabzada Haji Lashkari Raisani: A Tribute:

Shortcuts

Share

Category