31/07/2026
🟩 سینٹ گیبریل اسکول اور تاریخی گوردوارے کی مسماری: چیئرمین خیر محمد شاہین کی آواز، کیا آئین، قانون اور قومی ورثہ محفوظ ہے؟
🖊 تحریر : عبداللہ پرکانی۔
🟩 اقتباس۔
چیئرمین کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان خیر محمد شاہین کہتے ہیں:
تاریخی ورثہ کسی ایک مذہب یا برادری کی ملکیت نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ امانت ہوتا ہے۔
عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کا تحفظ ہی آئین کی حقیقی روح کی ترجمانی کرتا ہے۔
قانون کی عظمت اسی وقت قائم رہتی ہے جب انصاف سب کے لیے یکساں ہو۔
خاموشی کبھی بھی حق اور انصاف کا متبادل نہیں بن سکتی۔
جو قوم اپنی تاریخ کی حفاظت کرتی ہے، وہی اپنے مستقبل کو محفوظ بناتی ہے۔
آئیے، آئین، قانون اور قومی ورثے کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائیں۔
🟩 تمہید۔
کوئٹہ میں واقع سینٹ گیبریل اسکول اور اس سے ملحق تاریخی سکھ گوردوارے کی مسماری نے نہ صرف اقلیتی برادریوں بلکہ ہر قانون پسند پاکستانی کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک تاریخی عمارت کے انہدام تک محدود نہیں بلکہ مذہبی آزادی، آئینی حقوق، قومی ورثے، تعلیمی اداروں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کا امتحان بن چکا ہے۔ کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے چیئرمین خیر محمد شاہین نے اس معاملے کو سب سے پہلے قومی سطح پر اجاگر کیا، مختلف مذہبی برادریوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے تمام قانونی پہلوؤں کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔
🟩 ایک تاریخی ورثے کی داستان۔
تاریخی شواہد کے مطابق اس مقام پر تقریباً ایک صدی قبل سکھ برادری نے گوردوارہ تعمیر کیا تھا، جہاں مذہبی عبادات اور سماجی سرگرمیاں انجام دی جاتی تھیں۔ بعد ازاں گزشتہ کئی دہائیوں سے اسی احاطے میں سینٹ گیبریل اسکول ہزاروں بچوں کو تعلیم فراہم کرتا رہا۔ یوں یہ مقام عبادت، تعلیم، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کی ایک روشن علامت بن گیا، جس کا تحفظ ہر مہذب معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
🟩 خیر محمد شاہین کی مؤثر جدوجہد۔
کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے چیئرمین خیر محمد شاہین نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے سب سے پہلے اس خبر کو منظرعام پر لایا۔ تنظیم کے پلیٹ فارم سے پریس کانفرنس کی گئی، سکھ، ہندو اور مسیحی برادری کے نمائندوں سے رابطے کیے گئے، گوردوارے کے مذہبی ذمہ داران تک رسائی حاصل کی گئی اور مسلم و اقلیتی قیادت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کر احتجاجی آواز بلند کی گئی۔ اس مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں معاملے کے کئی اہم پہلو عوام کے سامنے آئے اور ذمہ دار عناصر پر سوالات اٹھنے لگے۔
🟩 آئین اور قانون کی روشنی میں۔
پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی اور اپنی عبادت گاہوں کے تحفظ کا حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 20 مذہبی آزادی، آرٹیکل 25 شہریوں کی مساوات اور آرٹیکل 36 اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح اعلیٰ عدلیہ متعدد فیصلوں میں واضح کر چکی ہے کہ عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور عوامی مفاد کے لیے مختص مقامات کی قانونی حیثیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور ایسے معاملات میں مکمل قانونی شفافیت ناگزیر ہے۔
🟩 قومی ورثہ، قومی ذمہ داری۔
پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کا حسین امتزاج ہے۔ گوردوارے، چرچ، مندر، مساجد اور تاریخی تعلیمی ادارے صرف مخصوص برادریوں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ میراث ہیں۔ ان کا تحفظ پاکستان کے آئینی وقار، مذہبی ہم آہنگی اور عالمی تشخص کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
🟩 قانون کی حکمرانی ہی انصاف کی ضمانت۔
کسی بھی تاریخی یا مذہبی مقام کے بارے میں اگر کوئی انتظامی فیصلہ ناگزیر ہو تو وہ مکمل قانونی تقاضوں، شفاف تحقیقات اور تمام متعلقہ فریقوں کو سنے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔ قانون کی اصل طاقت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ طاقتور اور کمزور، اکثریت اور اقلیت، سب کے ساتھ یکساں انصاف کرے اور قومی ورثے کو ہر حال میں محفوظ رکھے۔
🟩 نتیجہ۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، متعلقہ ادارے، اقلیتی کمیشن اور عدلیہ اس معاملے کا مکمل غیرجانبدارانہ جائزہ لیں۔ اگر کسی آئینی، قانونی یا عدالتی اصول کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور قومی ورثے کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں مسجد، چرچ، مندر، گوردوارہ، اسکول اور ہر عوامی ادارہ قانون کی یکساں حفاظت میں ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک منصف، پرامن اور باوقار ریاست کے طور پر مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔