Pashtoonkhwa Map Quetta

Pashtoonkhwa Map Quetta Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pashtoonkhwa Map Quetta, Political Party, Club Road Quetta, Quetta.

02/06/2026

ایک اور ایف آئی آر وہ بھی بدنام زمانہ مجرم اور ریاستی سہولت کار کی جانب سے۔
اس طرح کے غیر آئینی، غیر قانونی مقدمات سے قومی سیاسی جمہوری تنظیمیں مزید منظم ہوتی ہیں۔
اوچھے ہتھکنڈوں سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو جاری قومی سیاسی اور جمہوری جدوجہد سے دستبردار نہیں کرایا جاسکتا۔

02/06/2026

کوئٹہ (پ ر) پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان اور نعمت خان کاکڑنے گزشتہ روز پارٹی جلسہ میں شمولیت کرنیوالے دارو خان ایڈووکیٹ کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کو صبرجمیل عطاء فرمانے کی دعا کی ہے۔
دریں اثناء پارٹی کے تعزیتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ دارو خان اچکزئی پارٹی کے دیرینہ اور گوشوار دنوں کے ساتھی رہے ہیں درمیان میں چند وقت کی ناراضگی کے بعد گزشتہ دنوں دوبارہ پارٹی میں شمولیت کا اعلان اور اپنی پارٹی پر اعتماد کا اظہار جس انداز میں کی ان کے جذبات، احساسات پارٹی کی قیادت اور جاری پروگرام پر مہر تصدیق ثبت ہوئی۔ پارٹی مرحوم رہنماء کو ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور یہ امید کرتی ہے کہ مرحوم دارو خان ایڈووکیٹ کا خاندان پارٹی کی جاری قومی سیاسی جمہوری جدوجہد میں اپنا فعال کردار ادار کرتے رہینگے۔

02/06/2026
01/06/2026

کوئٹہ (پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں پارٹی عید کے مرکزی روایتی چمن کے عظیم الشان جلسہ عام پر پارٹی کارکنوں، بہی خواہوں اور عوام کا شکریہ ادا کیا گیا ہے جنہوں نے سخت گرمی اور تپتی دھوپ کے باوجود جلسے میں بھرپور شرکت کی اور پشتونخوامیپ کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملی مشر محمود خان اچکزئی اور دیگر مرکزی وصوبائی قائدین کے خیالات /تقاریر کو انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ سنتے رہے اور موجودہ سنگین حالات سے نجات کے لیے اپنے اتحاد، شعور اور عزم کا بھرپور اظہار کیا جو قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا ہے۔
جلسہ عام میں عوام کی شرکت موجودہ اذیت ناک صورتحال سے نجات اور مسائل کے حل کے لیے متحدہوکر جدوجہد کرنے پر مہر تصدیق ثبت کی۔
اسی طرح پارٹی کارکنوں،متعلقہ انتظامی کمیٹیوں اور پولیس انتظامیہ کو داد تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے سیکورٹی کے بہترین فرائض سرانجام دیئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فارم 47کی نام نہاد اور مسلط حکومت/حکومتوں نے ملک میں آئین کو نہ صرف پائمال کیا بلکہ پارلیمنٹ کو بے توقیر بناکر قانون کی دھجیاں اڑا کر ریاستی اداروں کو مفلوج کردیا ہے اور عدلیہ و میڈیا کی آزادی ختم کردی گئی ہے جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے تشویشناک ہے۔
پشتونخوامیپ ہمیشہ جمہوری تحریکوں میں صف اول کا کردار ادا کرتی چلی آرہی ہے اور آج بھی پارٹی کے محبوب چیئرمین محمود خان اچکزئی کی قیادت میں تحریک تحفظ آئین پاکستان ملک کے آئین کواصل حالت میں بحال کرنے، پارلیمنٹ کی خودمختاری، جمہور کی حکمرانی، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی جمہوری فیڈریشن کے قیام،ملک کے تمام اداروں کو متفقہ آئین کے فریم ورک کا پابند بنانے اور ملک کے سب سے پاپولر لیڈر بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے جدوجہد کررہی ہے اور اپنے حقوق کے حصول، جمہوری اقدار کے فروغ اور مسائل کے حل کے لیے متحد اور منظم ہوکر عوامی طاقت ہی ملک میں حقیقی تبدیلی، انصاف اور خوشحالی کی ضامن ہوسکتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 8فروری 2024کے زروزور کے انتخابات اور فارم 47کی مسلط حکومت کے نتیجے میں عوام آج بے شمار مشکلات اور مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، طویل بندش اور کم وولٹیج نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ پینے کے صاف پانی کی شدید قلت عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں اور حکومتی عدم توجہی کے باعث عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے بھر، بالخصوص چمن کی تجارت ختم کرنے، بیروزتاری بڑھ جانے اور سخت ترین مہنگائی نے عام آدمی کی قوتِ خرید ختم کر دی ہے اور امن و امان کی خراب صورتحال نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ عوام معاشی، سماجی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، مگر حکمران طبقہ ان مسائل کے حل میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔
بیان میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے مختلف واقعات میں شہریوں پر فائرنگ اور اس کے نتیجے میں شہریوں کے شہید اور زخمی ہونے کے واقعات پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
چمن شہر میں لوٹ مار، چوری، ڈکیتی اور منشیات فروشی کے بڑھتے ہوئے واقعات انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔
عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ جرائم پیشہ عناصر کھلے عام سرگرم ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلط نام نہاد حکومت عوامی مسائل کے حل میں ناکامی کے باوجود کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کیے جا رہے ہیں۔
بیان کے آخر میں جنوبی پشتونخوا کے تمام غیور، جمہوریت پسند، قوم ووطن دوست عوام کو پشتونخوا وطن اور ملک میں پشتونوں کی ساتھ جاری امتیازی سلوک اور ناروا طرز عمل،پشتونوں کے تجارت، روزگار، تجارتی مراکز، املاک کو نقصان پہنچانے اور جاری نسل کشی کے خلاف متحد ومنظم ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی پشتون قوم سمیت تمام محکوم اقوام ومظلوم عوام کی نمائندگی کرتی چلی آرہی ہے اس وقت پشتونوں پر مسلط صورتحال ناقابل برداشت ہوچکی ہے
اور اس میں وطن کے ہر فرد کو اپنا قومی، سیاسی، جمہوری مثبت وتعمیری کردار اد ا کرنا ہوگا اور پشتونخوامیپ کا ساتھ دینا ہوگا کیونکہ پشتونخوامیپ ہی پشتونوں کی نمائندہ اور نجات دہندہ جماعت ہے۔



01/06/2026

کوئٹہ (پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری مالیات ڈاکٹر کلیم اللہ خان، مرکزی سیکرٹری حاجی فضل قادر شیرانی، مرکزی کمیٹی کے رکن حاجی خدائیداد خروٹی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور ان کی صحت دریافت کی۔
اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، مرکزی کمیٹی کے رکن حاجی اللہ گل شمشوزئی، اباسین خان اچکزئی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔
محمود خان اچکزئی نے پارٹی رہنماؤں کی صحتیابی کے لیے دعا کی اور ان کی قومی تحریک میں خدمات کو سراہا۔

01/06/2026

چمن (پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع چمن کے قائمقام سیکرٹری جمال خان اچکزئی،سینئر معاونین اور ضلع کمیٹی کے اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ عید الضحیٰ کے تیسرے روز پارٹی کے مرکزی جلسہ عام میں شدید ترین گرمی کے باوجود عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے جس انداز میں وطن دوستی، جمہوریت پسندی کا ثبوت دیا اس پرہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخواوطن کے عوام پر روزگار کے دروازے بند کرنے کی ذمہ دار نااہل جعلی اور فارم47کی مسلط مرکزی وصوبائی حکومتیں ہیں۔
ہم ضلع کے تمام کارکنوں، عہدیداروں اور اکابرین کو داد تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے دن رات ایک کرکے جلسہ کی کامیابی کے لیے محنت کی۔
چمن کے تمام کارکنوں اور عوام کا تہہ دل شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنہوں نے انتہائی اونچے درجہ حرات میں مسلسل چار گھنٹے تپتی دھوپ تلے بیٹھ کر اپنے پارٹی چیئرمین جناب محمود خان اچکزئی اور دیگر مرکزی وصوبائی رہنماؤں کی تقاریر بڑے صبر وتحمل سے سنی۔
زندہ قومیں جمہوری سیاسی جدوجہد ہر قسم کی قربانیوں کے لیے تیاررہتی ہیں اگر چہ چمن کے عوام امن وامان، خوف وہراس، دہشت گردی، بیروزگاری، بدامنی اور تمام قسم کی اذیتوں کا سامنا کررہے ہیں اس لیے اپنے ان تمام مصائب ومشکلات کاحل انہیں پشتونخوامیپ کے سیاسی پروگرام کو سمجھتے ہیں اور پارٹی کے ساتھ کھڑا ہونے اور ہر طرح کی قربانی دینے کا عہد کیا۔
بیان میں پشتونخواملی عوامی پارٹی میں نئے شامل ہونیوالوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے وقت اور ھالات کے مطابق صحیح فیصلہ کرکے یہ ثابت کیا کہ ملک اور بالخصوص پشتونخوا وطن کے عوام کی حقیقی ترجمانی صرف پشتونخوامیپ ہی کرتی ہے اور تمام مظالم، تکالیف اور ناانصافیوں کے سامنے ہمیشہ عوام کے شانہ بشانہ ڈٹ کر کھڑی رہی ہے اور ہر قسم کی قربانیوں کے لیے خود کو پیش کرتی چلی آرہی ہے کیونکہ پشتونخوامیپ ہی یہاں کے عوام کی حقیقی سیاسی جمہوری پارٹی ہے اور پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی سیاست میں اپنے والد محترم خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی طرح پورے برصغیر میں نمایاں ہیں۔
ملک کی تمام قومیں اور جمہوری عوام پارٹی چیئرمین محمود خا ن اچکزئی کو جمہوری توانا آواز کہتے ہوئے ان کی حمایت کا اعلان کرتے رہے ہیں اور آج محمود خان اچکزئی کی آواز ملک کے سیاسی جمہوری قوتوں کی آواز بن چکی ہے۔

31/05/2026

چمن (پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے چمن میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان پشتون بلوچ دو قومی مشترکہ صوبہ ہے لیکن معاشرے میں جو حق ایک بیوہ کا ہے وہ حق بھی پشتونوں کو نہیں دیا گیا،
جب ہم حقوق کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ بھائی چارہ؟یہ کیسا بھائی چارہ ہے آپ صوبائی بجٹ دیکھ لیں اس میں ہمارے پشتون بچوں کے لیے میڈیکل، انجینئرنگ کی کتنی نشستیں اور کتنے حقوق رکھے گئے ہیں۔
ایک طرف آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں
دوسری جانب حکمرانی کررہے ہیں ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں لیکن پشتونوں کو اپنے حقوق کے لیے اُٹھنا ہوگا۔
ہم اس جلسے کی توسط سے بلوچ قوم کے مشران، بی ایل اے کے سربراہان جو ملک اورباہر بیٹھے ہیں
ہم اُنہیں پیغام دیتے ہیں کہ آپ آزادی کی جنگ کی آڑ میں تجاوز کررہے ہیں
آپ کے حقوق اور آزادی کی جنگ میں ہم کوئی رکاوٹ نہیں بنے لیکن آپ پشتون وطن، پہاڑوں، سرزمین پر سبی، ہرنائی، زیارت، دکی، کوئٹہ، موسیٰ خیل اور دیگر علاقوں میں ٹرکوں کوآگ لگاتے ہیں، مزدوروں، ڈرائیوروں کو شہید کرتے ہیں، اغواء کرتے ہیں
اور دوسری جانب اس وطن اور عوام کے تحفظ کے لیے موجود سیکورٹی ایف سی جو پہاڑی سلسلوں میں چوکیاں بنا بیٹھے ہیں، جدید ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کرتے ہیں کہ یہاں بی ایل اے، ٹی ٹی پی آئینگے اور ہم عوام کو ان سے تحفظ دینگے لیکن یہ اپنے قلعوں سے نکلنے کی زحمت تک نہیں کرتے۔ مختصر وقت میں دہشتگردانہ واقعات کے تسلسل میں اضافہ ہوا ہے،یہی صورتحال پشتونوں کے ساتھ صوبہ سندھ میں جاری ہے۔
نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ پشتونخوا وطن پر انتہائی بُرے حالات آرہے ہیں، بلوچ وطن حالت جنگ میں ہے،پشتونوں کو یہاں روزگار، کاروبار، تجارت، ملازمت نہیں دیا جاتا، بیروزگار نوجوانوں کو صرف چند ہزار دیکر مختلف نام نہاد تنظیموں کا حصہ بنا کر دہشتگردی کے واقعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
آج بھی ان کے ساتھ بھرتی ہونیوالے پشتون15سے 20 نوجوان جنہیں مارا گیا ہے اور ان کی لاشیں پہاڑی علاقوں میں پڑی ہوئی ہیں لیکن کسی نے بھی جانے کی زحمت نہیں کی حالانکہ لاشیں اس وقت خراب ہوچکے ہیں انہیں لاکردنایا جائے۔ اور حکومت نے ان تمام واقعات پر چشم پوشی اختیار کی ہوئی ہے۔
نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ پوست (افیون) کی فصل کی کاشت سرعام جاری ہیں، قلعہ سیف اللہ، ژوب میں اگر کوئی پوست کی کاشت کرے تو انتظامیہ فوری اس فصل کو تلف کردیتی ہے لیکن یہاں گلستان، قلعہ عبداللہ اور دیگر علاقوں میں آج بھی یہ جاری ہیں۔
پولیس تھانے چرس، شیشہ، افیون ودیگر نشے کے مواد پر بھتہ لے رہے ہیں۔ قلعہ سیف اللہ میں چند لوگوں کے فصلوں کو تلف کرکے ان کے گھروں کو مسمار کیا گیا۔ ہمارے پشتون بچوں کو نشے کے مواد دیکر انہیں اپنے مزموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ حالات بُرے ہیں، تجارت، روزگار کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں۔
یہاں چمن میں ڈیورنڈ خط کے اس پار اور اُس پار ایک ہی قوم آباد ہیں، ان کی زبان، ثقافت، تہذیب، تمدن سب یکساں ہیں۔گھر یہاں قبرستان وہاں، مارکیٹیں، دکانیں، تجارت لکیر کے اُس پار ہیں۔
نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ چالیس سے 45سال افغانستان پر جنگ مسلط کی گئی اور مختلف ناموں سے دنیا کے مست سانڈوں نے یہاں افغان نسل کشی کو جاری رکھا اور ہمارے افغانستان کو کھنڈرات میں تبدیل کیا۔
آج افغانستان میں جس کی بھی حکمرانی ہے ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن ہو اور بہترئی بھائی چارے کے تعلقات ہو، افغانستان کے ساتھ آزادانہ ماحول میں تجارت، کاروبار ہو جس سے دونوں اطراف کے پشتون عوام پر امن ماحول میں روزگار کرسکیں لیکن ہمیں نہیں چھوڑا جارہا ہے۔
انتہائی افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ ایک بار پھر افغانستان پر جنگی حالات مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں، پشتونوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آئیں اور مل بیٹھ کر اپنے وطن اور آنے والی نسلوں کے بہتر ین مستقبل کے لیے اجتماعی دانش سے فیصلے کریں جس سے بہترین زندگی اور اتحاد واتفاق قائم ہوسکے کیونکہ موجودہ صورتحال مزید ناقابل برداشت ہیں۔
نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ ہم اُن قوتوں کو بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں جو ہماری سرزمین پر حالات کو خراب کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
قدرت کی جانب سے عطاء کیئے گئے معدنیات، وسائل پر یہاں ہمارے بچوں کا پہلا حق ہے۔
ایف سی کے قلعے، سینکڑوں چوکیاں، کیمروں کی تنصیب کے باوجود ہمارے وطن پر بُرے حالات ہیں، ڈرون کیمروں اور دیگر میں ان سب کی نگرانی کی جاتی ہے ہیں گھروں، مارکیٹوں، تجارتی مراکز، معدنیات، پہاڑی سلسلوں، شاہراہوں پر سب کا نظارہ کیا جاتا ہے
لیکن جب دہشتگردانہ واقعات ہوتے ہیں، گاڑیوں،ٹرکوں کو نذر آتش کیا جاتا ہے، لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے اغواء کیا جاتا ہے پھر کسی بھی ملزم کو نہیں پکڑا جاتا ہے۔
یہ پراکسیز جس انداز میں تیار کیئے جارہے ہیں یہ اس قوم کی تباہی وبربادی میں استعمال ہوگا۔ یہاں مختلف ناموں سے مختلف نام نہاد تنظیموں، لشکروں، سہولت کاروں کو فری چھوٹ دی گئی ہے، بھاری اسلحے، راہداریاں، گاڑیاں دیکر انہیں مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ عید کے موقع پر گیٹ کھولتے ہی دونوں اطراف کے ہزاروں لوگ جس انداز میں تکلیف سے دوچار ہوئے یہ کسی سیال قوم کی پہچان نہیں۔ اگر یہ یہ قوم اپنی اس حالت پر بدقسمتی سے خوش بھی ہو لیکن پارٹی اور اس کی قیادت ملی مشر محمود خان اچکزئی اس حالت پر کبھی خوش نہیں ہوگی اور نہ ہی ہم اس حالت میں اپنی قوم کو چھوڑ سکتے ہیں۔
نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ اسمبلی ہو یا کوئی بھی فلور وہاں پر کردار والے ہی بات کرسکتے ہیں، محترم مشر محمود خان اچکزئی پارلیمنٹ میں پشتون قوم کی ترجمانی اور نمائندگی کی ہے۔
ہم اس ریاست سے کہتے ہیں کہ ہم ایک بہترین ملک اور اس میں پر امن زندگی گزارنا چاہتے ہیں، اپنے وطن کے وسائل، پہاڑوں، معدنیات پر اپنے بچوں کا حق ملکیت وحق حاکمیت چاہتے ہیں لیکن اگر ہمیں اس کے لیے نہیں چھوڑا گیا تو پھریہ سوچ لیں کہ آج آپ سے ایک بی ایل اے کنٹرول نہیں ہورہا اور بیروزگار لاکھوں پشتونوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ بھی ایک لشکر بنائیں گے پھر آپ انہیں کسی صورت کنٹرول نہیں کرسکیں گے۔
ہم اس ملک میں غلام،مزدور کی حیثیت سے نہیں بلکہ سیال برابر قوم کی حیثیت سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں اورہر چیز میں جو حق ایک بھائی کا ہے وہ حق ہم بھی چاہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں مجبور نہ کیا جائیں کہ جو راستہ بلوچ بھائی نے اختیار کیا ہے پشتون بھی وہی راستہ اختیار کریں۔
نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ اتحاد واتفاق کا مظاہرہ پوری قوم نے کرنا ہوگا، یہ کیسی صورتحال ہے کہ ہم ایک صُلح کراتے ہیں چار مزید جنگیں ہوتی ہیں، معمولی معمولی باتوں پر بڑی رنجشیں، قتل عام، بھائی، چچا زاد کو مار دیتے ہیں، یہ غصہ ہم کہیں اور نہیں نکال سکتے لیکن اپنے عزیز وقریب پر نکالنے پر تیار رہتے ہیں۔ ہمیں برداشت اور اتفاق کی جانب بڑھنا ہوگا۔
اس شدید گرمی میں ہمارے عوام، کارکنان، نوجوان، بزرگ بیٹھے ہیں یہ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ قوم پر انتہائی بُرے دن ہیں اس لیے اپنے وطن کی آبادی، امن کے لیے جاری جدوجہد میں ہمیں اپنا مثبت وتعمیری کردار اد اکرنا ہوگا۔
پشتونوں پر حالات آج انتہائی سخت کردیئے گئے،شدید دھوپ میں آج ہزاروں کارکنان، عوام بیٹھے ہیں جیسے عرفات کے میدان میں حاجی صاحبان بیٹھ کر اپنے کیئے پے خداتعالیٰ سے معافی اور بہتر مستقبل کے لیے تمنا،دعائیں کرتے ہیں، آج ہمارے عوام بھی اپنے بچوں کے بہتر مستقبل، امن، روزگار کے لیے یہاں تپتی دھوپ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
بحیثیت پشتون قوم آج انتہائی بدحالی، بد اتفاقی، بدبختی، نہ سیالی کا سامنا کررہے ہیں اور دنیا میں کوئی بھی ایسی قوم نہیں۔
اگر یہی بد اتفاقی ایسے ہی جاری رہی تو خدانخواستہ یہ قوم صفہ ہستی سے مٹ جائیگی کیونکہ تاریخ گواہ ہے جو قومیں اپنے مستقبل کے لیے غیر سنجیدہ ہوتی ہیں تاریخ میں وہ پھر زندہ نہیں رہتی ہزاروں سال کی تاریخ رکھنے والی پشتون قوم بھی آج ایسے ہی حالات سے دوچار ہیں۔
جلسہ سے عام سے مرکزی ڈپٹی چیئرمین عبدالرؤف لالا، مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی اور صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان نے خطاب کیا۔
سٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلع قائمقام سیکرٹری جمال خان اچکزئی نے سرانجام دیئے جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت مولوی شراف الدین صاحب نے حاصل کی۔
جلسہ عام میں ایڈووکیٹ دارو خان اچکزئی، خان شوقی اور عبداللہ خان رحمان کہول نے اپنے خاندانوں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہوکر پشتونخواملی عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
جلسہ عام میں پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے اراکین، صوبائی ایگزیکٹیوز اور صوبائی کمیٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی۔
مقررین نے کہا کہ تمام پشتون افغان ملت پر اس وقت رزق ورزی،روزگار، تجارت کے دروازے بند ہوچکے ہیں، چمن کے عوام پر انتہائی بُرے حالات مسلط کیئے گئے۔ 130سال سے جاری آمدورفت وتجارت پر قدغنیں عائد کردی گئی ہے، چمن کے عوام نے تاریخی پرلت دھرنا دیا
اور چند لوگوں کی غلط سودا بازی کی وجہ سے ہمارے اس پرلت کو ختم کردیا گیا۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے معاہدے کے تحت ہماری تجارت کو بحال کیا جائے۔ ڈیورنڈ خط کے تمام آمدورفت وتجارت کے پوائنٹس کو بند رکھا گیا ہے ان تمام کو بحال کیا جائے۔
مقررین نے کہا کہ یہاں ایف سی کے کرپٹ آفیسران واہلکاروں کی جانب سے کرپشن کو دوام دیا جارہا ہے۔ لکپاس کسٹم پر تاجروں کے کرورڑوں، اربوں روپے کے سامان کو لوٹ کر بعد میں آتشزدگی کا ڈرامہ رچایا گیا اس کی تحقیقات کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے نام پر زرغون غر سے دومڑ قبیلے کو دو افرادکو اٹھایا گیا اور انہیں جلا کر لاشیں پھینک دی گئی، منگلہ کے بازئی قبیلے کے زمین پر قبضے کے لیے 15سے 20افراد کو مار دیا گیا اور ان کی لاشیں آج بھی پڑی ہوئی ہیں اور نہ یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ کون ہیں اور نہ ہی ان کی لاشیں دی جاری ہیں۔
مانگی زیارت کے مقام پر گاڑیوں کو نذر آتش کرکے علاقے کے مقامی 4افراد کو اغواء کیا گیا، چاند رات کو شاہرگ ہرنائی میں ناکہ بندی کرکے 5افراد کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا اور ان کی لاشیں پھینک دی گئی۔
اس دوران ڈرون کیمر ے بھی پرواز کررہے تھے لیکن اس کے باوجود کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا اور یہ ڈرون کیمرے اور اس کی نگرانی ایف سی خود کررہی ہے۔ اور اسی طرح کنگری کے مقام پر کوئلہ سے لوڈ ٹرکوں کو نذر آتش کیا گیا۔
ان تمام واقعات کے ذمہ داران کو بے نقاب کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں ہم اس کی ذمہ دار حکومت اور ریاست کو سمجھتے ہیں اور اگر حکومت ایسا نہیں کرسکتی تو پھر یہ قوم حکومت کا احتساب کرنے میں حق بجانب ہوگی۔
مقررین نے کہا کہ ہم اس ملک میں بحیثیت قوم رہ رہے ہیں، ہم اپنے قومی وحدت صوبہ، اپنی شناخت اور قومی اختیار چاہتے ہیں۔ پشتو مادری زبان کوتعلیم، تجارت میں رائج کیا جائے۔ ہمارے یہ مطالبات اسی چمن شہر میں خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے رکھے تھے جنہوں فرنگی کی غلامی سے پشتونوں کو نجات دلائی۔
مقررین نے کہا کہ 8فروری 2024کے الیکشن میں نیلامی کے ذریعے اربوں روپے کے ذریعے فارم 47کے نمائندے گئے۔ آج ان نمائندوں کے ذریعے ہمارے شناخت، برابری،، نمائندگی، اختیاراور حقوق کا خاتمہ جاری ہے۔
پشتونوں کے حقوق پر فارم 47کے مسلط نمائندوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہوئی ہے۔
پارٹی چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی نے الیکشن کے فوری بعد تحریک تحفظ آئین پاکستان کا قیام عمل میں لایا کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ ان مسلط نمائندوں کے ذریعے ملک کے آئین کو پائمال کیا جائے گا اور آج جس طرح آئین پائمال ہے، پارلیمنٹ کی بے توقیری جاری ہے یہ ہم سب کے سامنے ہیں۔
پشتون قوم کو اپنے وطن کے سوداگروں کا حساب کرنا ہوگا بحیثیت قوم یہ ان کا حق ہے۔ پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آج ملک کے اپوزیشن جماعتوں کے سب سے بڑے جمہوری تحریک کی قیادت عظیم جمہوری قائد محمود خان اچکزئی کررہے ہیں
اور آج ملک میں آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی جمہوری فیڈریشن کے قیام، تمام اداروں کو آئین کے فریم ور ک میں اپنے فرائض کی انجام دہی، تحریک انصاف کے بانی عمران خان ودیگر سیاسی اسیران کی رہائی کے لیے جدوجہد کررہی ہے اور اس جدوجہد میں عوام کو ہر مرحلے میں ہمارا ساتھ دینا ہوگا۔





31/05/2026

چمن(پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام پارٹی کے محبوب چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت عید الضحیٰ کے تیسرے روز گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول چمن کے فٹبال گراؤنڈ میں ایک عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا۔
جلسہ عام کی قراردادوں کی منظوری ضلع قائمقام سیکرٹری حاجی جمال خان اچکزئی نے جلسے کے شرکاء سے لی۔

چمن کا یہ پروقار عظیم الشان جلسہ عام تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی تشویش ناک خرابی صحت کے باوجود انہیں علاج کی سہولت سے حکومت کی مسلسل انکار کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ ان کے علاج کے لیے اپنے معالج ڈاکٹروں تک رسائی اور عمران خان کے خلاف جھوٹے، غلط بے بنیاد مقدمات ختم کرکے انہیں فوری رہائی دی جائے۔

ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی پر اپنی سخت اور گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور تمام ہمسایوں کی کانفرنس بلائے جس میں پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے شکایات، خدشات پر سیر حاصل گفتگو ہو اور نتیجے میں ایک ایسامعاہدہ تشکیل پائے جس سے دونوں ممالک کے درمیان جنگی کشیدگی کا خاتمہ ہوسکیں اور آئندہ ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کا خاتمہ اور ان کے درمیان معاہدے کا ضامن سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک ہو۔

ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ پروقار وپر افتخار جلسہ عام گزشتہ ایک ماہ سے سرکاری سرپرستی میں دہشت گردی جس میں ضلع ہرنائی علاقہ زرغون غر میں دو افراد کو اٹھایا گیا تھا اور بی ایل اے نے ذمہ داری قبول کی تھی بعد میں ان کے پر تشدد مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئی۔ ضلع کوئٹہ کے علاقہ منگلہ میں خود ساختہ حملے میں 16سے 20افراد مارے گئے ہیں اور ان کی لاشیں وہاں اب تک موجود ہیں اور لاشوں کو اٹھانے کی اجازت نہیں۔ کوئٹہ چمن پھاٹک ٹرین واقعہ کی دہشت گردی جس میں سینکڑوں لوگ شہید وزخمی ہوئے اور کوئٹہ کے عوام کی درجنوں گاڑیاں راکھ ہوگئی، گزشتہ دنوں مانگی کے مقام پر 5ٹرک اور دیگر مشینری جلائی گئی اور بندوق کی نوک پر چار افراد اٹھاکر ساتھ لے گئے ہیں اور واقعہ کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی ہے اور چارافراد اب تک لاپتہ ہیں۔ رکھنی، راڑہ شم، موسیٰ خیل سمیت مختلف علاقوں میں کرورڑوں روپے کے مالیت کی گاڑیوں،ٹرکوں کو نذر آتش کرنے، عید کے رات تقریباً 9بجے شاہرگ شیخ موسیٰ بابا روڈ کلی شور میں پانچ افراد کوگولیوں سے چھلنی کردینے کے وقت سرکاری ڈرون کمیرہ موجودہ تھا۔ دکی سماولنگ روڈ علاقہ تل سے دو افرادکو بھتہ کے عیوض اغواء کیا گیا اور تاحال بازیاب نہیں کیئے گئے۔ یہ جلسہ عام ان تمام واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ ان تمام واقعات کی آزادانہ تحقیقات کے لیے آزاد خودمختارتحقیقاتی کمیشن بنائی جائے اور ان واقعات میں ملوث عناصر کی نشاندہی اور کیفرکردار تک پہنچایا جائے تاکہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام اور خاتمہ ہوسکیں۔

چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام پر افتخار جلسہ عام تمام پشتونخوا وطن کے ہر ضلع میں دہشت گردی کی راج جس میں وطن کے باسیوں سے حق زندگی چھیننے، لوگوں کی زندگی اجیرن بنانے، ان کے رزق اور تجارت ختم کرنے اور بدامنی کی وجہ سے علاقہ بدر کرنے کی سازشوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اور یہ پروقار جلسہ عام تمام ملک اور خصوصاً تمام پشتونخوا وطن سے دہشت گردی اور سرکاری پلان شدہ بدامنی ختم کرنے اور تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ نیز چمن کے باشندگان محمد خیر صحرائی کے فرزند میروائس خان پر ایف سی کی فائرنگ کے باعث شدید زخمی ہونے کے واقعہ کی مذمت اور تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

ضلع چمن کا یہ پر وقار جلسہ عام خلیج میں اسرائیل امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد بھی جاری جھڑپوں پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتا ہے اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک اور تمام دنیا کے سیاسی جمہوری حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنگ بندی میں اپنا مثبت رول ادا کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی کرائیں۔

ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام ملک پر زروزور کی مسلط پارلیمنٹ کے ذریعے26ویں، 27ویں آئینی ترامیم کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان کرتا ہے اور 2024کے دھاندلی کے پیداوار پارلیمنٹ جس کو فافن، اقوام متحدہ، یورپی یونین، انسانی حقوق کے ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں، سیاسی جمہوری پارٹیوں اور جمہوری قوتوں نے دھوکہ دہی، فراڈ، کرپشن، زروزور کی پیداوار الیکشن قرار دیا تھا اوراسی طرح یہ غیر منتخب پارلیمنٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کا حق اور اختیار نہیں رکھتی کیونکہ یہ حق صرف عوام کے ووٹوں سے منتخب پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ یہ جلسہ عام 26ویں،27ویں آئینی ترامیم کو واپس لینے اور آئین کو اصل صورت میں بحال کرنے کا پرزور مطالبہ کرتا ہے۔

ضلع چمن کا یہ عظیم الشان اجتماع ملک کے جاری آئینی،سیاسی، معاشی اور معاشرتی بحرانوں کی وجہ کئی دہائیوں سے ملک پر مسلط غیر آئینی حکمرانی کے ذریعے آئین کا حولیہ بگاڑنے اور اسے مختلف بہانوں سے معطلی، بے توقیری کو سمجھتی ہے۔ پاکستان جو کہ ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے اور اسے صحیح طور پر چلانے کے لیے انتہائی ضروری بلکہ پہلی شرط یہ ہے کہ ملک کا متفقہ آئین اصل شکل میں بحال ہو اور اس کے اصل روؒح کے مطابق آئینی اداروں کو چلایا جائے۔ صاف شفاف غیر جانبدارانہ انتخابات اور عوام کے ووٹوں سے منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو اور ملک کی داخلی وخارجی پالیسیوں کی تشکیل عوام کے منتخب پارلیمنٹ سے ہو۔ پاکستان کی تمام مشکلات اور بحران 26ویں، 27ویں ترامیم سے مزید گہرے ہوگئے ہیں جلسہ عام ان کی فوری منسوخی اور متفقہ آئین کو اصل شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

ضلع چمن کا یہ پروقار جلسہ عام پاکستان کے تمام بحرانوں کو ہمارے ناعاقبت اندیش سول اور ملٹری سٹیبلشمنٹ کے حکمرانوں کی کمزوریوں، غلطیوں اور ہٹ دھرمیوں کا نتیجہ سمجھتی ہے جس کا صرف اور صرف ایک حل سمجھتاہے کہ
i)
اس ملک میں متفقہ آئین کی بحالی اور بول بالا ہو۔
ii)
صحیح جمہوری انداز میں عوام کے ووٹوں سے منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو اور وہ پارلیمنٹ ملک کی تمام اندورنی و بیرونی پالیسیوں کا مرکز ہو۔
iii)
پاکستان جو ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے اس کی اکائیاں خودمختار ہوں اور اُن میں قدرتی وسائل پہ ان کے عوام کا پہلا حق تسلیم شدہ ہواور اس کی آئینی ضمانت ہو۔
iv)
ملک کے تمام ادارے اپنے اپنے اُن حدودو میں آزاد ہوں جن کی آئین میں واضع نشاندہی ہے مگر سب منتخب پارلیمنٹ کے تابع ہوں۔
v)
پاکستان کی سیاست میں کسی بھی ادارے چاہے وہ سول ہوں یا فوجی کا آئین کی روح کے منافی کوئی کردار نہ ہو۔

ضلع چمن کا یہ عظیم الشان اجتماع ملکی بحرانوں کی حل کے لیے ضروری سمجھتا ہے اور یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ملک کو ہمہ جہت بحرانوں سے نکالنے کے لیے ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز (سیاسی جمہوری پارٹیوں،عدلیہ، وکلاء، میڈیا کے نمائندوں،عسکری ذمہ داروں، دانشوروں، اقتصادی وتجارتی ماہرین اور ان کے نمائندوں) کی کانفرنس بلائی جائے جو پاکستان کے مسائل کو زیر بحث لاکر ملک میں ایک جمہوری آئینی پارلیمانی نظام کی تشکیل اور ملک کے جاری بحرانوں کا حل نکال سکیں۔
10۔
ضلع چمن کا یہ پروقار عظیم الشان جلسہ عام پشتون بلوچ مشترکہ صوبہ بلوچستان میں پشتون بلوچ سیال اقوام کی ہر شعبہ زندگی میں برابری، سیاسی وانتظامی شراکت داری کا مطالبہ کرتا ہے۔
11۔
ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام افغان کڈوال جو گزشتہ 40سال سے یہاں مقیم تھے ان کی شادیاں، تعلیم اور سماجی رشتے بنے ہیں اور اب انہیں غلط،رشوت خوری، لوٹ کھسوٹ اور انتہائی بدتمیزی، غیر انسانی طور پر پاکستان بدر کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور پاکستان اور انٹرنیشنل دنیا افغان کڈوال عوام کو زبردستی نکالنے کی بجائے بین الاقوامی مروج قوانین کے تحت انہیں شہریت یا ایسا قانونی طریقہ وضع کیا جائے جس سے افغان کڈوال عوام کو ملک میں رہنے کا حق ہو اور وہ اپنی مرضی سے جانا چاہے تو جاسکیں اور جبری انخلا کو بند کیا جائے۔
12۔
ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام چمن، کدنی، پشین، بادینی، قمر الدین کاریز، غلام جان بندر، انگور اڈہ،خرلاچی،طور خم، ناواپاس (باجوڑ) اوردیگر تجارتی وآمدورفت کے راستوں اور خصوصاً تاریخی طور پر ڈیورنڈ لائن پر صدیوں سے جاری آمدورفت کو بند کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ ڈیورنڈ خط کے تمام تجارتی پوائنٹس پر صدیوں سے جاری آمدورفت کو بحال کیا جائے نیزڈیورنڈ لائن کے تمام رکاوٹیں ختم کرکے تجارتی راستوں کو فوری کھولنے اور ہر قسم کی تجارتی سہولیات مہیا کی جائے۔
13۔
ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام پشتون وطن خصوصاً پشین،لورالائی،برشور، زیارت،قلعہ عبداللہ، ہرنائی، سبی، دکی، موسی خیل، شیرانی،کوئٹہ ودیگر اضلاع میں محکمہ جنگلات وجنگلی حیات کے ریزو ایریاکے لاکھوں ایکڑ کے غیر آئینی،غیر قانونی انتقالات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور ان انتقالات کی منسوخی اور انگریزی دور سے جاری رولز اور لاء پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔
14۔
ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام ملک میں روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری، بدامنی، ڈاکہ زنی، اغواء برائے تاوان، جرائم کی اصل وجہ ملک کی غلط خارجہ وداخلہ پالیسی کو گردانتا ہے اورمعاشی دیوالیہ پن، رشوت خوری، کرپشن، صنعتی اور زرعی پیداوار میں سخت ترین کمی کو سمجھتا ہے۔ اور ملک کی زرعی اور صنعتی پیداوار کو بڑھانے، ملک سے کرپشن،بدعنوانی، رشوت خوری،پرسنٹ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔
15۔
ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام ملک کے مائنز ومنرل جو کہ صوبائی سبجیکٹ ہے کہ اس میں مرکزکی جانب سے مداخلت دراصل آئین پاکستان کی پائمالی گردانتا ہے اور اس سلسلے میں غیر آئینی اورغیر جمہوری وفاقی حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل(Special Investment Facilitation Council) کو غیر آئینی قرار دیتا ہے اور اس یہ کونسل جو آئین کے روح کے منافی ہے کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
16۔
ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان میں انگریزوں کے ہاتھوں انتظامی طو رپر تقسیم کردہ پشتون (خیبر پشتونخوا،برٹش بلوچستان کے پشتون علاقے، اٹک اور میانوالی) علاقوں پر مشتمل ایک خودمختارقومی وحدت پشتونستان کے نام سے تشکیل دیا جائے بصورت دیگر جنوبی پشتونخوا کے پشتون مجبور ہوں گے کہ متحدہ پشتون صوبہ بننے تک اپنے لیئے علیحدہ صوبے کا مطالبہ کریں۔
17۔
ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام مطالبہ کرتا ہے کہ ضلع قلعہ سیف اللہ،لورلائی، زیارت، پشین، برشور، قلعہ عبداللہ،کوئٹہ اور دیگر اضلاع میں عوام کی جدی پشتی زمینوں پر غیر قانونی الاٹمنٹ، سیٹلمنٹ اور جاری قبضہ گیری اور وہاں کے مقامی عوام کی حق ملکیت میں مداخلت کا خاتمہ کیا جائے۔
18۔
ضلع چمن کا یہ جلسہ عام ملک میں ہر قسم کے انسانی حقوق کے خلاف ورزیاں اورپائمالیوں اور جبری طور پر گمشدگیوں اور ملک بھر میں پشتونوں کو افغان مہاجرین کے نام سے اُن کے چادر اور چاردیواری کی پائمالی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت ملک کے باشندوں خصوصاً پشتونوں کے آئینی،سیاسی، جمہوری حقوق کی جاری تمام خلاف ورزیاں بند کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
19۔
ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام تعلیمی اداروں میں طلباء تنظیموں، سیاست پر پابندی کو غیر آئینی،غیر جمہوری قرار دیتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پران قدغنوں کو ہٹایا جائے۔
20۔
ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام کوئٹہ میں لک پاس کے مقام پر ایف سی کی جانب سے لوگوں کے قیمتی اشیاء جس میں چاندی تک شامل تھے رات کے اندھیرے میں تمام پکڑی جانیوالی اشیاء لوٹ کر صبح کیمپ میں پرانے ٹائرز جمع کرکے آگ لگا دی گئی جس کے باعث تاجروں، ٹرانسپورٹرزاور عوام کو کرورڑوں روپے کے نقصانات سے دوچار کیا گیا اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس آتشزدگی کے واقعہ کی فوری تحقیقات کرکے عوام کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔ اسی طرح کوئٹہ، کراچی، لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں پشتونوں کے تجارتی مراکز اور اُن کے گوداموں پر غیر قانونی چھاپوں، سرکاری لوٹ مار اور غیر آئینی غیر قانونی مقدمات قائم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اوروفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ چیکنگ کیلئے ڈیورنڈ خط پر کسٹم ڈیوٹی کا نظام رائج کرنے کے بعد تمام ملک میں اشیاء کی لانے اور لیجانے پر مکمل آزادی ہو۔ نیز ڈیورنڈ خط کے تجارتی پوائنٹس پر حکومت کی جانب سے مقرر کردہ گڈز ڈیکلیئریشن (جی ڈی) کو تسلیم کرتے ہوئے بلا روک ٹوک تمام ملک میں گڈز ڈکلیئریشن کو تسلیم کرتے ہوئے تجارتی اشیاء کے مالکان سے اضافی ٹیکس دوبارہ نہ لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔
21۔
ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام صوبے کا سیلابی پانی جوکہ تقریباًاوسط سالانہ پانی12ملین ایکڑ فٹ (ایک کرورڑ بیس لاکھ ایکڑ مربع فٹ) ہے کو ذخیرہ کرنے اور پانی کو زمین کے اندر ڈالنے کے بین الاقوامی جدید طور طریقوں کی منصوبہ بندی کا سخت فقدان ہے جس پر صوبے کے عوام کوپانی کے ختم ہونے پر گہری اور سخت تشویش لاحق ہے اور سیلابی پانی کو بچانے، زیر استعمال لانے اور صوبے کے تقریباً دو کرورڑ ایکڑ بنجر زمین کو زیر کاشت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر پانی ذخیر ہ کرنے کے انتظامات، سیلابی پانی کو جدید مصنوعی طریقوں سے زمین کے اندر ڈالنے کے لیے فوری منصوبہ بندی کا مطالبہ کرتی ہے۔
22۔
ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام ملکی قوانین کے برخلاف جنوبی پشتونخوا میں نادرا کے غیر آئینی،غیر قانونی شرائط دراصل جنوبی پشتونخوا کے مردوزن کو ملک کے شناخت کے اہم ترین سرٹیفکیٹ (شناختی کارڈ) سے محروم رکھنے کے سوا کچھ نہیں۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع نادرا کے ناروا پشتون دشمن رویے پر انتہائی دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے اور محکمہ نادرا ور پاسپورٹ کے من پسند غیر قانونی شرائط کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
23۔
ضلع چمن کا یہ عظیم الشان جلسہ عام ہرنائی سبی ریلوے لائن پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود لائن (ٹریک) کی بندش، ہرنائی سنجاوی روڈ جو گزشتہ دو سال سے زائد عرصہ سے بندہونے اور ساتھ ہی کچھ ہرنائی اور ہرنائی سنجاوی روڈ کا تعمیری منصوبہ اور ہرنائی سبی کی منظورشدہ روڈ کے کام میں روڑے اٹکانے کی سرکاری روش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور ہرنائی سبی ریلوئے لائن پر ٹرین بحال کرنے، ہرنائی سنجاوی روڈ کو فوری کھولنے نیز کچھ تا ہرنائی اور ہرنائی سنجاوی روڈ اور ہرنائی سبی روڈ کے منظور منصوبوں پر فوری کام شروع کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اور پارٹی کچھ ہرنائی اور ہرنائی سنجاوی روڈ سے متعلق معزز ہائیکورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتا ہے۔ اور ہرنائی سبی روڈ کے منصوبے کو اسی طرح بحالی کی امید رکھتا ہے۔ مذکورہ بالا شاہراہوں کو فوری کھول کر ان پر ٹرانسپورٹرزاور عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔




Address

Club Road Quetta
Quetta
87300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pashtoonkhwa Map Quetta posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Pashtoonkhwa Map Quetta:

Share