Pashtoonkhwa Map Quetta

Pashtoonkhwa Map Quetta Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pashtoonkhwa Map Quetta, Political Party, Club Road Quetta, Quetta.

د پښتونخوا ملي عوامي ګوند محبوب چيرمين محترم مشر محمود خان اڅکزئی سرہ نن په کوټه کي یار محمد پهلوان، حاجي خان آکا، باچا ...
04/09/2026

د پښتونخوا ملي عوامي ګوند محبوب چيرمين محترم مشر محمود خان اڅکزئی سرہ نن په کوټه کي یار محمد پهلوان، حاجي خان آکا، باچا خان او مالک خان ولیدل او پر کامیابه پښتون کامي جرګي مبارکي ورکړه.

04/09/2026

کوئٹہ (پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی دعوت پربنوں جرگہ منعقدہ11تا 14مارچ 2022کے فیصلوں کی روشنی میں 31,30اگست اور یکم ستمبر 2026کو کوئٹہ میں جنوبی پشتونخوا کے عوام اور پشتون قوم کا جرگہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
جرگہ کی متفقہ قراردادوں کی منظوری پشتونخوامیپ کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے لی۔
جنوبی پشتونخوا کے عوام کے اس تین روزہ نمائندہ جرگے میں مختلف اضلاع سے آئے ہوئے سیاسی و سماجی رہنماؤں، قبائلی عمائدین، دانشوروں، وکلاء، نوجوانوں، خواتین، مزدوروں، کسانوں، تاجروں، صحافیوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے ملک، بالخصوص پشتون علاقوں کی موجودہ سیاسی، آئینی، امن و امان، معاشی، سماجی اور قومی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ جرگہ شرکاء کی تقاریر، آراء اور تجاویز کی روشنی میں درج ذیل قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرتا ہے۔
1۔ جرگہ کے شرکاء سے اظہارِ تشکر
جرگہ اپنے تین روزہ اجلاس کو کامیاب، بامقصد اور بھرپور بنانے پر تمام معزز شرکاء، سیاسی و سماجی رہنماؤں، قبائلی عمائدین، دانشوروں، وکلاء، نوجوانوں، خواتین، کارکنوں، صحافیوں اور معاونین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے اور ان کے قومی جذبے، سیاسی شعور اور جمہوری عزم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔
2۔ امن و امان، دہشت گردی اور تشدد کا خاتمہ
جرگہ جنوبی پشتونخوا، بالخصوص دکی، ہرنائی، زیارت، کوئٹہ، ہنہ اوڑک، مانگی، منگلہ، پشین، سرانان، سرہ غوڑگئی، زیارت کراس، قلعہ عبداللہ خان، تحصیل گلستان، ملیزئی، محمدزئی اور میزئی اڈہ سمیت مختلف علاقوں میں مسلسل بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال، پر تشدد قتل وغارت کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار اور ہر قسم کی دہشت گردی، انتہاپسندی، پراکسیز، مسلح کارروائیوں، ٹارگٹ کلنگ، قتل و غارت، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری اور ریاستی و غیر ریاستی تشدد کی دوٹوک مذمت کرتا ہے۔
جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری کے طور پر یقینی بنایا جائے اور دہشت گردی و جرائم کے خاتمے کے لیے قانون کے مطابق بلاامتیاز، مؤثر اور مستقل کارروائی کی جائے۔
3۔ شاہرات اور مسافروں و تاجروں کا تحفظ
جرگہ کوئٹہ کراچی، کوئٹہ چمن، کوئٹہ ڈیرہ غازی خان، کوئٹہ ڈیرہ اسماعیل خان، کوئٹہ تفتان،کوئٹہ زیارت اور کوئٹہ ہرنائی سمیت صوبے کی اہم شاہراہوں پر بڑھتی ہوئی بدامنی کی شدید مذمت کرتا ہے، جہاں مال بردار گاڑیوں کو جلانے اور لوٹنے، مسافروں کو لوٹنے اور قتل کرنے اور اغواء برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ تمام قومی شاہرات اور تجارتی راستوں کو فوری طور پر محفوظ بنایا جائے، مسافروں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو مؤثر تحفظ دیا جائے اور شاہرات پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
4۔ آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ اور جمہوری نظام
جرگہ متفقہ آئینِ پاکستان کو ریاست اور اس کی تمام اکائیوں کے درمیان بنیادی عمرانی معاہدہ قرار دیتے ہوئے اس کی بالادستی اور مکمل نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے۔ ریاست کے تمام ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں، پارلیمنٹ کی بالادستی یقینی بنائی جائے، جمہوری اداروں کو مضبوط کیا جائے اور عدلیہ، الیکشن کمیشن اور میڈیا کی آزادی کا احترام کیا جائے۔جرگہ عوام کے حقیقی سیاسی مینڈیٹ کے احترام اور آزاد، منصفانہ، شفاف اور قابلِ اعتماد انتخابات کو جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت قرار دیتا ہے۔
5۔ سویلین اتھارٹی کی بحالی اور لیویز فورس کا استحکام
جرگہ صوبے میں سویلین اتھارٹی کو مفلوج کرنے اور آئینی و انتظامی اختیارات غیر سویلین یا نیم پیرا ملٹری فورسز کو منتقل کرنے کے رجحان کی مذمت کرتا ہے۔ منتخب حکومت اور سویلین انتظامیہ کے آئینی اختیارات فوری طور پر بحال کیے جائیں اور تمام ادارے اپنے آئینی و قانونی دائرہ اختیار میں رہیں۔جرگہ لیویز فورس کو اس کی قانونی و انتظامی حیثیت میں بحال، مضبوط اور جدید خطوط پر استوار کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیویز کو جدید تربیت، مواصلاتی نظام، ضروری آلات، گاڑیاں اور مناسب اسلحہ فراہم کیا جائے تاکہ مقامی حالات اور جغرافیہ سے واقف اس فورس کو مؤثر امن و امان کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
6۔ پشتونوں کے قومی، آئینی اور سیاسی حقوق
جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ پشتون عوام کے بنیادی، آئینی، سیاسی، معاشی، ثقافتی اور قومی حقوق کو تسلیم اور عملی طور پر یقینی بنایا جائے۔ پشتون علاقوں کے انتظامی، سیاسی، معاشی اور ترقیاتی معاملات میں مقامی آبادی اور اس کے منتخب نمائندوں کی رضامندی اور مؤثر شمولیت کو بنیادی حیثیت دی جائے۔
7۔ افغانستان میں امن، عدم مداخلت اور پاک افغان تعلقات
جرگہ افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگوں، بیرونی مداخلت اور پراکسی تنازعات کے نتیجے میں ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور تمام علاقائی و عالمی قوتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ افغانستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے۔
افغانستان کے مسئلے کا حل افغان عوام کی مرضی، باہمی سیاسی مفاہمت اور پرامن سیاسی عمل کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تمام اختلافات مذاکرات، سفارتی ذرائع اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیے جائیں اور کسی بھی ملک کی سرزمین کو دوسرے کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔
8۔ سرحدی گزرگاہوں، تجارت اور آمدورفت کی بحالی
جرگہ ڈیورنڈ لائن اور تفتان بارڈر سمیت تاریخی تجارتی، معاشی اور آمدورفت کی گزرگاہوں کی غیر ضروری اور طویل بندش کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ تمام جائز تاریخی گزرگاہیں فوری طور پر بحال کی جائیں۔ عوام، تاجروں، مزدوروں اور مسافروں کے لیے باعزت، شفاف اور قابلِ عمل آمدورفت و تجارت کا نظام وضع کیا جائے تاکہ ڈیورنڈ خط کے دونوں جانب روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو تحفظ حاصل ہو۔
9۔ ملک کے دیگر حصوں میں پشتون شہریوں کا تحفظ
جرگہ خصوصاً پنجاب اور سندھ میں محنت کش، مزدور، تاجر، ٹرانسپورٹر، ہوٹل مالکان و کارکنان اور دیگر کاروبار سے وابستہ پشتون شہریوں کو پولیس یا دیگر ریاستی اداروں کی جانب سے ہراساں کیے جانے، بلاجواز گرفتاریوں اور محض شناخت یا شبہے کی بنیاد پر افغان قرار دے کر تنگ کیے جانے کی مذمت کرتا ہے۔
جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہر پاکستانی شہری کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق مساوی سلوک کیا جائے اور کسی شہری کو اس کی قومیت، زبان، پیشے یا شناخت کی بنیاد پر بنیادی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔
10۔ جبری گمشدگیاں اور بنیادی انسانی حقوق
جرگہ جبری گمشدگیوں، غیر قانونی حراست، ماورائے عدالت اقدامات اور شہریوں و سیاسی کارکنوں کے خلاف غیر قانونی طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔تمام شہریوں کو قانون کے مطابق گرفتاری، شفاف عدالتی کارروائی، وکیل تک رسائی اور انصاف کا حق دیا جائے اور جبری گمشدگیوں کے تمام معاملات کو شفاف، غیر جانب دار اور قانونی طریقے سے حل کیا جائے۔اور سیاسی بنیادوں پر ہزاروں افراد کو فورتھ شیڈول میں ڈالنے کی مذمت کرتا ہے۔
11۔ نادرا اور شناختی حقوق
جرگہ جنوبی پشتونخوا میں نادرا کی جانب سے بڑی تعداد میں پشتون شہریوں کے شناختی کارڈز بلاک، معطل یا غیر ضروری طور پر زیرِ التوا رکھنے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ شناختی کارڈ کی بندش سے متاثرہ خاندانوں کے پاسپورٹ، بینک اکاؤنٹس، کاروباری معاملات اور دیگر قانونی و مالی سہولیات متاثر ہوتی ہیں جبکہ بچوں کے تعلیمی اداروں میں داخلے سمیت بنیادی شہری ضروریات تک رسائی بھی دشوار ہو جاتی ہے۔
جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ بلاجواز بلاک یا معطل شناختی کارڈز کا فوری جائزہ لے کر بحال کیا جائے اور شناختی دستاویزات کے اجرا، تصدیق اور تنسیخ کے لیے دیگر صوبوں کی طرح تمام شہریوں کے ساتھ یکساں، شفاف، غیر امتیازی اور قانون و ضابطے کے مطابق طریق? کار اختیار کیا جائے۔ کسی شہری کے خلاف اعتراض کی صورت میں اسے مؤثر قانونی طریقہ کار اور اپیل کا حق دیا جائے۔
12۔ قدرتی وسائل، معدنیات اور مقامی حقوق
جرگہ پشتون علاقوں کے معدنیات، پانی، جنگلات، تیل، گیس اور دیگر قدرتی وسائل پر مقامی آبادی کے آئینی اور جائز حقوق کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔قدرتی وسائل سے متعلق ہر قانون، پالیسی یا منصوبے میں مقامی آبادی کی رضامندی، شفافیت، ماحولیات کے تحفظ اور مقامی مفادات کو بنیادی حیثیت دی جائے، جبکہ وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا منصفانہ حصہ متعلقہ علاقوں کی ترقی پر خرچ کیا جائے۔
13۔ مہنگائی، معاشی مشکلات اور عوامی ریلیف
جرگہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، غربت اور عوام کی گرتی ہوئی قوتِ خرید پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں ہونے والے ناقابلِ برداشت اضافے کو عوام پر ناقابلِ قبول معاشی بوجھ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ ان اضافوں کو واپس لیا جائے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔حکومت مہنگائی پر مؤثر قابو پانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، اجرتوں اور آمدنی میں مناسب اضافہ کرنے اور عوام کی قوتِ خرید بحال کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔
14۔ معاشی پسماندگی، ترقی اور بنیادی سہولیات
جرگہ پشتون علاقوں میں طویل عرصے سے جاری غربت، بے روزگاری، پسماندگی، ترقیاتی عدم توازن اور بنیادی سہولیات کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔وفاقی و صوبائی حکومتیں تعلیم، صحت، بجلی، گیس، پانی، سڑکوں، مواصلات، زراعت، صنعت، فنی تربیت اور روزگار کے لیے مؤثر اور ترجیحی ترقیاتی پالیسی تشکیل دیں۔
15۔ تعلیم، صحت اور نوجوانوں کا مستقبل
جرگہ پشتون علاقوں میں معیاری تعلیم، صحت اور فنی تربیت کی سہولیات کی فراہمی کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں، جامعات، ہسپتالوں اور تکنیکی اداروں کی حالت بہتر بنائی جائے اور نوجوانوں کے لیے تعلیم، ہنر، روزگار اور باعزت معاشی مواقع پیدا کیے جائیں۔
16۔ پشتون مہاجرین کے ساتھ انسانی سلوک
جرگہ افغانستان سے آنے والے مہاجرین کے مسئلے کو انسانی، تاریخی اور علاقائی تناظر میں دیکھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ مہاجرین کے ساتھ انسانی وقار اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق سلوک کیا جائے اور واپسی کا کوئی بھی عمل رضاکارانہ، محفوظ، باعزت اور مرحلہ وار ہو۔
17۔ زمین، پانی اور ماحولیات کا تحفظ
جرگہ زمین، پانی، جنگلات اور ماحولیات کے تحفظ کو عوامی حق قرار دیتا ہے۔ پانی کے وسائل کی منصفانہ تقسیم، جنگلات کا تحفظ، ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ اور مقامی آبادی کے زرعی و معاشی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
18۔ آزادیِ اظہار اور آزاد صحافت
جرگہ آزادیِ اظہار، آزاد صحافت اور معلومات تک عوام کی رسائی کو جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت قرار دیتا ہے۔ صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور شہریوں کو اظہارِ رائے کے حق کے استعمال پر دباؤ، دھمکی، غیر قانونی گرفتاری یا کسی بھی غیر آئینی اقدام کا نشانہ نہ بنایا جائے۔
19۔ قومی اکائیوں کے درمیان برابری اور وفاقی جمہوریت
جرگہ پاکستان کی تمام قومی اکائیوں کے درمیان برابری، باہمی احترام، انصاف اور جمہوری شراکت کو ریاست کے استحکام کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ مضبوط اور مستحکم پاکستان طاقت کے ارتکاز سے نہیں بلکہ آئینی وفاق، صوبائی خودمختاری، معاشی انصاف اور تمام قوموں کے مساوی حقوق کے احترام سے قائم ہوگا۔
20۔ خارجہ پالیسی اور علاقائی امن
جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قومی مفاد، پارلیمانی نگرانی، ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات اور عدم مداخلت کے اصولوں پر استوار ہو۔ پاکستان کی سرزمین یا عوام کو کسی دوسرے ملک کے خلاف پراکسی جنگ کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور پاکستان کو کسی عالمی یا علاقائی طاقت کی جنگ کا میدان نہ بننے دیا جائے۔
21۔ نیپال کے سیلاب زدگان سے اظہارِ یکجہتی
جرگہ نیپال میں سیلاب کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔ جرگہ نیپال کی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتا ہے اور زخمیوں و متاثرین کی جلد صحت یابی اور بحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔
22۔ پمز ہسپتال آتشزدگی اور ذمہ داران کا احتساب
جرگہ پمز ہسپتال اسلام آباد میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی اموات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے اور جاں بحق بچوں کے والدین اور اہلِ خانہ سے دلی تعزیت و ہمدردی کرتا ہے۔
جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ واقعے کی شفاف، غیر جانب دار اور جامع تحقیقات فوری مکمل کی جائیں، آتشزدگی کے اسباب اور حفاظتی انتظامات میں ممکنہ غفلت کا تعین کیا جائے اور اگر کسی فرد یا ادارے کی غفلت، کوتاہی یا مجرمانہ ذمہ داری ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ ملک بھر کے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی انخلا کے انتظامات کا بھی جامع جائزہ لیا جائے۔
23۔ جرگہ کا آئینی، جمہوری اور پرامن لائحہ عمل
جرگہ قرار دیتا ہے کہ مذکورہ قراردادیں محض رسمی اعلامیہ نہیں بلکہ جنوبی پشتونخوا کے عوام کی اجتماعی سیاسی آواز، مطالبات اور امنگوں کا اظہار ہیں۔ جرگہ ان قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ، منتخب نمائندوں، وکلاء، دانشوروں، سول سوسائٹی، نوجوانوں، خواتین اور دیگر جمہوری قوتوں کے ساتھ مشاورت اور رابطے کا عمل جاری رکھنے کا عزم کرتا ہے۔
جرگہ اس امر کا اعادہ کرتا ہے کہ پشتون عوام اپنے حقوق، آئین کی بالادستی، جمہوریت، امن، قومی برابری، معاشی انصاف اور سویلین بالادستی کے حصول کے لیے آئینی، سیاسی، جمہوری اور پرامن ذرائع سے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
24۔یہ پروقار جرگہ جنوبی پشتونخوا کے عوام کی جدی پشتی زمینوں بالخصوص کوئٹہ، زیارت، پشین، چمن، قلعہ عبداللہ، ہرنائی، دکی، لورالائی، ژوب، موسیٰ خیل، قلعہ سیف اللہ، شیرانی میں معدنیات کے نام پر لاکھوں ایکڑ زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ غیرپشتون افراد اور فرم کے نام کرنے کو مکمل طو رپر مسترد کرتا ہے اور اس طرح سیٹلمنٹ کے نام پر ہمارے غیور عوام کی جدی پشتی زمینوں کو رشوت اور سرکاری مداخلت سے غیروں کے نام پر سیٹل کرنے کی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ نیز جنگلات کے تقریباً تمام صوبے کے ساڑھے 24لاکھ ایکڑ اراضی جو صوبے کے غیور عوام اور قبائل کی ملکیت تھی اسے ختم کرکے سرکار کے نام انتقال کرنے کی کارروائی کو مسترد کرتا ہے۔ اورمطالبہ کرتا ہے کہ حکومتی طور پر کی گئی تمام غیر آئینی،غیر قانونی الاٹمنٹ، انتقالات کو منسوخ کیا جائے اور عوام کی جدی پشتی زمینوں کو عوام کی ملکیت قرار دی جائے۔
اجتماعی عزم
پشتون عوام جنگ نہیں، امن؛ جبر نہیں، آئین؛ محرومی نہیں، انصاف؛ اور محکومی نہیں، برابری چاہتے ہیں۔ #

04/09/2026
04/09/2026

صلاح الدین نورزئی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے، پشتونخوامیپ
حکومتی لاپرواہی انسانی ضیاع کا سبب بنی، مغوی فرزند کی رہائی کا مطالبہ
کوئٹہ (پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں پارٹی رکن اور ممتاز تاجر صلاح الدین خان نورزئی کے قتل کے المناک واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 8ماہ قبل صلاح الدین خان نورزئی کے جوانسال فرزند کو تاوان کے عیوض اغواء کیا گیا اور کرورڑوں روپے طلب کیئے گئے جبکہ تمام انتظامیہ، حکومت، سیکورٹی ادارے مغوی کو بازیاب کرنے میں ناکام رہے اور اس دوران مسلسل ان کے والد کو دھمکی آمیز پیغامات، بیٹے کی رہائی کے عیوض کرورڑوں روپے کی ادائیگی اور انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں ملتی رہی۔
جس پرحکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی اور گزشتہ شب ایک بار پھر نامعلوم افراد کی جانب سے صلاح الدین خان کو کوئٹہ میں فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا جبکہ ان کے فرزند تاحال لاپتہ ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی فارم 47کی مسلط نام نہاد حکومت کی لاپرواہی،غفلت اور نااہلی پر سخت دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ صلاح الدین خان نورزئی کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے مغوی فرزند کی رہائی کے لیے بلا تاخیر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیئے جائیں۔

04/09/2026

ستا خندا دہ اسرافیل مسته شپېلی ده
زه پرې مړ را ژوندی کېږم خانده خانده

ملي مشـــــــــر....| پښتون کامي جرګه ٢٠٢٦

03/09/2026

بدامنی قبضہ گرو قوتوں کی پیدا کردہ ہے، جہاں وسائل وہاں دہشتگردی پھیلائی جارہی ہے، نواب ایاز خان جوگیزئی
پشتونخوا و طن کو مختلف سازشوں کے ذریعے تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا ہے،انسان ہر طرح کے حالات میں گزار کر سکتا ہے لیکن بد امنی میں نہیں،گرین پاکستان پروجیکٹ پشتون وطن پر قبضہ کا منصوبہ ہے عوام اس سے دور رہیں
کامیاب تاریخی جرگہ کا انعقادپر مبارکباد پیش کرتا ہوں، جرگہ نے اپنے وطن،عوام کے مستقبل کو سنوانے اور محفوظ بنانے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے،کوئٹہ میں منعقدہ سہ روزہ پشتون قومی جرگہ (جنوبی پشتونخوا)کے اختتام پر صدارتی خطاب
کوئٹہ(پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے پشتونخوامیپ کے چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی کی دعوت پر کوئٹہ میں 31,30اگست اور یکم ستمبر 2026منعقدہ سہ روزہ پشتون قومی جرگہ (جنوبی پشتونخوا)کے اختتام پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب تاریخی جرگہ کے انعقاد پر جنوبی پشتو نخوا کے تمام عوام اور پشتون قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اب ہم سب نے ہمت کرنی ہوگی اور اپنی حالت خود بدلنے کے لیے قدم اٹھانے ہوں گے۔ اتحاد اتفاق اور یگانگی کی جو مثال آج آپ نے پیش کی ہے یہ ہمارے تاریخ کا حصہ اور آنے والی نسلوں کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ پشتونخواوطن کی معدنیات اور تمام قدرتی خزانوں پر قبضہ جمانے کے لیے کچھ لوگوں نے ہمارے وطن کا سودا غیروں سے کر کے دہشت گردی کے ذریعے ہمیں اپنے وطن کی حق ملکیت حق کے حاکمیت اور حق کے خود ارادیت سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔جرگہ کی تمام کمیٹیاں قابل داد قابل تحسین ہیں۔آج جنوبی پشتونخوا نے اپنے تمام اضلاع میں 1400 سے زائد ممبران کا انتخاب کر کے اپنے مستقبل کو سنوارنے اور محفوظ بنانے کا تاریخی فیصلہ کیا ہر صورت میں اسے عملی جامع پہنا کر رہیں گے۔ بدامنی دراصل قبضہ گر قوتوں کی جانب سے پیدا کردہ ہے جہاں وسائل دریافت ہوں وہاں دہشت گردی کو پھیلایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو ڈرا، دھمکا کر قتل و غارت، خوف وہراس میں ڈال کر ان کی قدرتی وسائل پر قبضہ کیا جا سکے ان کی زمینیں الاٹ کی جائیں اور انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا جائے۔21ویں صدی میں عوام کے ساتھ ایسی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ پشتونخوا و طن کو مختلف سازشوں کے ذریعے تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا ہے، پہلے یہاں کے عوام کا معاشی قتل عام کیا گیا اور اب تو سرعام مختلف ناموں سے لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست ہمارے ساتھ جو کچھ کر رہی ہے وہ اب ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔سہ روزہ جرگے میں مختلف مکتبہ فکر اور نظریات و زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں نے جو تقاریر کی ہیں اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انسان ہر طرح کے حالات میں گزار کر سکتا ہے لیکن بد امنی میں نہیں۔ اب تو بدامنی،دہشت گردی اور لاقانونیت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ خود کو اپنے گھروں کے اندر بھی محفوظ نہیں سمجھ رہے۔ مختلف ناموں سے لوگوں کو یہاں لا کر بسایا جا رہا ہے اور پتہ نہیں کن مقاصد کے لیے انہیں وقتا فوقتا استعمال کیا جائے گا۔ ان گھمبیر حالات اور دگرگوں صورتحال کو دیکھ کر شہدائے زیارت کے دھرنے سے ہی سب نے یہی تجویز پیش کی تھی کہ جرگہ بلا کر اپنے مسائل کے فیصلے اپنے مستقبل کے فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔آج کا یہ تین روزہ تاریخی جرگہ بنومنعقدہ 11تا 14مارچ 2022 جرگے کے فیصلوں کی کڑی ہے اور موجودہ صورتحال کو پرکھنے اور وطن کو بچانے کے لیے فیصلہ کن ادارہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرگے نے جو فیصلے کیے اور اپنے ادارے بنائے اب یہ ادارے خود ہی پشتونخواوطن کے تمام اندرونی خلفشار اور جھگڑوں،قبائلی رنجشوں کے فیصلے کرے گی اور تمام پشتون اپنی آپس کی رنجش اور دشمنیاں ختم کر کے متحد ومنظم ہوکر دشمن کے سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جرگے کی تمام کمیٹیاں اصل عوامی طاقت کا منبع ہوں گی۔ پشتنی دود دستور، اعلیٰ روایات، انصاف کے تقاضوں پر مبنی اور غیر جانبدارانہ فیصلوں پر انہیں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ میں اب تک سینکڑوں قتل کے فیصلے کیے ہیں اور سب سے پہلے میں نے دشمنی میں دیت کے طور پر عورت دینے کی رسم کو ختم کرنے کا اعلان کیا، جب میں نے نوابی کی دستار پہنی تو سب سے پہلے یہ فیصلہ کیا کہ عورت کو بدی، دشمنی میں عیوض کے طور پر نہیں دیا جائے گا جو بہت انسان دشمن رسم تھی ہمیں اپنی عورتوں کو جائیدادوں میں حصہ دینا ہوگا۔ عورت کو سیال بنانا ہوگا۔تب سے آج تک دشمنی میں عورت نہیں دی گئی جس پر میں تمام پشتون عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں ہمیں عورتوں کو انسان سمجھنا ہوگا انہیں اپنا اسلامی اور پشتنی اعلیٰ روایات کے مطابق حق دینا ہوگا۔ نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ اگر چہ پشتون اللہ تعالیٰ کی جانب سے غریب پیدا نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین کے ایسے ٹکڑے کا مالک بنایا ہے جہاں دنیا کی سب سے قیمتی معدنیات وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہیں لیکن پشتون نوجوان اس کے باوجود دیار غیر میں پہلے محنت مزدوری تو اب کچرہ دانوں میں کچرہ چُننے میں مصروف ہیں۔اپنے وطن کے کوئلے، کرومائٹ اور دیگر معدنیات مزدور کی حیثت سے دوسروں کے لیے نکالتے ہیں یہ وطن ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے سروں کے قربانی کے نتیجے میں ایسے پالا کہ اس کے ایک ایک پتھر، درخت اور ایک ایک انچ زمین کے لیے نہ صرف پرائے قابضوں بلکہ اپنے لوگوں کا بھی خون بہایا ہے۔ پشتون تو اپنی زمینوں میں دوسرے گاؤں کے ریوڑوں، بھیڑ بکریوں کو بھی چرنے نہیں دیتے اس پر ایک دوسرے کے ساتھ دشمنیاں کرتے ہیں لیکن آج دوسرے صوبوں سے پرائے لوگ آکر لاکھوں ایکڑ زمین ایک کاغذ کے عیوض اپنے نام الاٹ کررہے ہیں۔ کیونکہ پشتونوں میں اتفاق کا فقدان ہے۔ اپنے آپس میں ذرا بھی رحم بردباری سے کام نہیں لیتے لیکن جب دوسروں نے ان کے تمام قیمتی خزانوں سے بھرے پہاڑ الاٹ کیئے تو اس پر خاموش ہیں۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ گرین پاکستان کا منصوبہ دراصل پشتون وطن پر قبضہ کا منصوبہ ہے اس منصوبے سے عوام کے دور رہنا ہوگا، ٹریکٹر، ٹیوب ویل، شمسی سولر کے لالچ دیکر زمینوں کے انتقالات کیئے جاتے ہیں اورسود درسودقرضوں کے ذریعے عوام کی زمینوں کو لوٹنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ زرعی ترقی وخوشحالی کے انقلاب کی باتیں پشتونوں کی زرعی بربادی پر منتج ہوں گی۔ تین سے چار لاکھ روپے دیکر بجلی ختم کردی گئی جو 6گھنٹے تک ملتی تھی ان 6گھنٹوں میں زمیندار اور عوام اپنے ضرورت کے مطابق پانی کا استعمال کرتے تھے اب سولر کے ذریعے صبح سے شام دن پانی کا استعمال اور ضیاع ہورہا ہے زیر زمین پانی کی سطح انتہائی نیچے چلی گئی ہے۔ لوگوں کو نہ صرف پینے کا صاف پانی کی قلت کا سامنا ہوگا بلکہ آبنوشی کا بحران پیدا ہوگا، پانی کی سطح کی کمی، ٹیوب ویل اور کنویں خشک، زمینیں بنجر ہونے لگیں گی۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو مختلف نشئی مواد کا عادی بناکر انہیں ذہنی طو ر پر مفلوج کیا جاتا ہے ایک سازش کے تحت پشتونوں کے نئی نسل کو نشے کا عادی بناکر انہیں برباد کرکے اپنے حقوق کے مطالبے اور سیاسی جمہوری جدوجہد اور قومی تحریک سے دستبردار کرانا چاہتے ہیں اور یہ نشئی مواد سرکاری جگہوں سے آتی ہیں۔قلعہ سیف اللہ میں افیون ہیروئن کی فصل کا خاتمہ ہوسکتا ہے تو قلعہ عبداللہ میں کیوں نہیں ہوسکتا، یہ کیسا قانون ہے کیسی انتظامیہ ہے، تمام وطن میں اس ناسورہیروئن کی فصل کا خاتمہ ضروری اور لازمی ہے اور اس ناسور نشے کے ذریعے ہمارے وطن کے بچوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔ہمیں مل کر اپنے وطن اور اپنے نوجوانوں کے مستقبل کو بچانا ہوگا۔ #

03/09/2026
03/09/2026

Address

Club Road Quetta
Quetta
87300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pashtoonkhwa Map Quetta posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Pashtoonkhwa Map Quetta:

Shortcuts

Share