06/09/2026
#لسبیلہ کی تاریخی حیثیت موجودہ انتظامی حدود سے نہیں، مستند تاریخ سے طے ہونی چاہیے،
#اسلام آباد (ہمارا بلوچستان نیوز) ِ تجارت جام کمال خان عالیانی نے کہا ہے کہ لسبیلہ کی تاریخی حیثیت سے متعلق بحث موجودہ انتظامی حدود کے بجائے مستند تاریخی شواہد، سرکاری ریکارڈ اور حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ لسبیلہ کی اپنی منفرد سیاسی و انتظامی تاریخ ہے اور اسے ماضی میں ایک علیحدہ حکمران ریاست کی حیثیت حاصل رہی۔*
*سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں جام کمال خان نے کہا کہ لسبیلہ اٹھارہویں صدی میں ایک الگ حکمران ریاست کے طور پر سامنے آیا اور قیام پاکستان کے بعد انتظامی انضمام تک جام خاندان کی حکمرانی میں رہا۔*
*انہوں نے کہا کہ موجودہ بلوچستان اپنی آج کی آئینی و انتظامی شکل میں پوری تاریخ کے دوران ایک ہی سیاسی وحدت نہیں رہا، بلکہ اس خطے میں خانیتِ قلات، ریاست لسبیلہ، مکران اور خاران کی نوابی ریاستوں سمیت برطانوی انتظام کے تحت مختلف علاقے موجود تھے۔*
*جام کمال خان کے مطابق لسبیلہ اور قلات کے درمیان مختلف ادوار میں سیاسی و علاقائی تعلقات تبدیل ہوتے رہے، تاہم لسبیلہ نے قلات کے عام ضلع کے بجائے ایک علیحدہ نوابی ریاست کی حیثیت سے اپنا انتظامی تشخص برقرار رکھا۔*
*انہوں نے کہا کہ برطانوی دور میں قلات، لسبیلہ، مکران اور خاران الگ الگ نوابی ریاستیں تھیں، جبکہ خطے کے دیگر علاقوں پر براہِ راست برطانوی انتظام قائم تھا۔ برطانیہ نے موجودہ بلوچستان کے تمام علاقوں پر ایک ہی وقت میں کنٹرول حاصل نہیں کیا بلکہ مختلف معاہدوں، لیز، فوجی انتظامات اور انتظامی فیصلوں کے ذریعے مرحلہ وار اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔*
*وفاقی وزیر نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد بھی لسبیلہ فوری طور پر موجودہ طرز کے صوبائی ضلع میں تبدیل نہیں ہوا۔ 1952ء سے 1955ء تک لسبیلہ بلوچستان اسٹیٹس یونین کا حصہ رہا، جبکہ 1955ء میں ون یونٹ کے قیام کے بعد اسے قلات ڈویژن میں شامل کیا گیا۔*
*جام کمال خان نے بتایا کہ دسمبر 1960ء میں لسبیلہ کو قلات ڈویژن سے الگ کرکے کراچی کے ساتھ ملا کر کراچی، بیلہ ڈویژن تشکیل دیا گیا، جبکہ 1972ء میں لسبیلہ کو دوبارہ قلات ڈویژن کا حصہ بنا دیا گیا۔*
*اورماڑہ کی تاریخی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف ادوار میں اس علاقے کے قلات، مکران اور لسبیلہ سے تعلقات، محصولات اور سیاسی دعوے تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ ان کے بقول بعد کی انتظامی حدود کو گزشتہ صدیوں کے سیاسی جغرافیے پر لاگو کرنا تاریخی طور پر درست نہیں۔*
*جام کمال خان نے زور دیا کہ بلوچستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے قلات، لسبیلہ، مکران، خاران اور برطانوی بلوچستان سمیت مختلف سیاسی و انتظامی اکائیوں کو ان کے تاریخی پس منظر میں الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبہ بلوچستان مختلف ریاستوں، علاقوں اور انتظامی بندوبست کے انضمام سے تشکیل پایا، جس میں ون یونٹ کے خاتمے اور 1970ء میں صوبائی نظام کی بحالی نے اہم کردار ادا کیا۔*
*انہوں نے کہا کہ لسبیلہ کی تاریخی اہمیت پر بحث موجودہ نقشے اور انتظامی حدود کے بجائے مستند تاریخی شواہد، سرکاری دستاویزات اور حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔*