Vesh Press وش پریس

Vesh Press وش پریس Delivering accurate, timely, and reliable news from around the world.

We provide comprehensive coverage of current affairs, politics, business, technology, sports, and entertainment to keep you informed and engaged.

 #لسبیلہ کی تاریخی حیثیت موجودہ انتظامی حدود سے نہیں، مستند تاریخ سے طے ہونی چاہیے،   #اسلام آباد (ہمارا بلوچستان نیوز) ...
06/09/2026

#لسبیلہ کی تاریخی حیثیت موجودہ انتظامی حدود سے نہیں، مستند تاریخ سے طے ہونی چاہیے،

#اسلام آباد (ہمارا بلوچستان نیوز) ِ تجارت جام کمال خان عالیانی نے کہا ہے کہ لسبیلہ کی تاریخی حیثیت سے متعلق بحث موجودہ انتظامی حدود کے بجائے مستند تاریخی شواہد، سرکاری ریکارڈ اور حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ لسبیلہ کی اپنی منفرد سیاسی و انتظامی تاریخ ہے اور اسے ماضی میں ایک علیحدہ حکمران ریاست کی حیثیت حاصل رہی۔*

*سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں جام کمال خان نے کہا کہ لسبیلہ اٹھارہویں صدی میں ایک الگ حکمران ریاست کے طور پر سامنے آیا اور قیام پاکستان کے بعد انتظامی انضمام تک جام خاندان کی حکمرانی میں رہا۔*

*انہوں نے کہا کہ موجودہ بلوچستان اپنی آج کی آئینی و انتظامی شکل میں پوری تاریخ کے دوران ایک ہی سیاسی وحدت نہیں رہا، بلکہ اس خطے میں خانیتِ قلات، ریاست لسبیلہ، مکران اور خاران کی نوابی ریاستوں سمیت برطانوی انتظام کے تحت مختلف علاقے موجود تھے۔*

*جام کمال خان کے مطابق لسبیلہ اور قلات کے درمیان مختلف ادوار میں سیاسی و علاقائی تعلقات تبدیل ہوتے رہے، تاہم لسبیلہ نے قلات کے عام ضلع کے بجائے ایک علیحدہ نوابی ریاست کی حیثیت سے اپنا انتظامی تشخص برقرار رکھا۔*

*انہوں نے کہا کہ برطانوی دور میں قلات، لسبیلہ، مکران اور خاران الگ الگ نوابی ریاستیں تھیں، جبکہ خطے کے دیگر علاقوں پر براہِ راست برطانوی انتظام قائم تھا۔ برطانیہ نے موجودہ بلوچستان کے تمام علاقوں پر ایک ہی وقت میں کنٹرول حاصل نہیں کیا بلکہ مختلف معاہدوں، لیز، فوجی انتظامات اور انتظامی فیصلوں کے ذریعے مرحلہ وار اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔*

*وفاقی وزیر نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد بھی لسبیلہ فوری طور پر موجودہ طرز کے صوبائی ضلع میں تبدیل نہیں ہوا۔ 1952ء سے 1955ء تک لسبیلہ بلوچستان اسٹیٹس یونین کا حصہ رہا، جبکہ 1955ء میں ون یونٹ کے قیام کے بعد اسے قلات ڈویژن میں شامل کیا گیا۔*

*جام کمال خان نے بتایا کہ دسمبر 1960ء میں لسبیلہ کو قلات ڈویژن سے الگ کرکے کراچی کے ساتھ ملا کر کراچی، بیلہ ڈویژن تشکیل دیا گیا، جبکہ 1972ء میں لسبیلہ کو دوبارہ قلات ڈویژن کا حصہ بنا دیا گیا۔*

*اورماڑہ کی تاریخی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف ادوار میں اس علاقے کے قلات، مکران اور لسبیلہ سے تعلقات، محصولات اور سیاسی دعوے تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ ان کے بقول بعد کی انتظامی حدود کو گزشتہ صدیوں کے سیاسی جغرافیے پر لاگو کرنا تاریخی طور پر درست نہیں۔*

*جام کمال خان نے زور دیا کہ بلوچستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے قلات، لسبیلہ، مکران، خاران اور برطانوی بلوچستان سمیت مختلف سیاسی و انتظامی اکائیوں کو ان کے تاریخی پس منظر میں الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبہ بلوچستان مختلف ریاستوں، علاقوں اور انتظامی بندوبست کے انضمام سے تشکیل پایا، جس میں ون یونٹ کے خاتمے اور 1970ء میں صوبائی نظام کی بحالی نے اہم کردار ادا کیا۔*

*انہوں نے کہا کہ لسبیلہ کی تاریخی اہمیت پر بحث موجودہ نقشے اور انتظامی حدود کے بجائے مستند تاریخی شواہد، سرکاری دستاویزات اور حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔*

بلوچستان کی  #بیوروکریسی میں   کہاں کھڑے ہیں؟ #تین سالہ  #حکومت، انتظامی فیصلے اور ایک اہم سوال #تحریر  #شدری  #ہوت  #بل...
06/09/2026

بلوچستان کی #بیوروکریسی میں کہاں کھڑے ہیں؟

#تین سالہ #حکومت، انتظامی فیصلے اور ایک اہم سوال

#تحریر #شدری #ہوت

#بلوچستان کی موجودہ حکومت کو تقریباً تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ان تین برسوں میں صوبے کے سیاسی، انتظامی، معاشی اور سماجی حالات پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ کبھی حکومت کی کارکردگی زیرِ بحث آتی ہے، کبھی سیاسی قیادت پر انگلی اٹھتی ہے اور کبھی بیوروکریسی کو صوبے کے مسائل کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

لیکن اس تمام بحث میں ایک بنیادی سوال شاید ابھی تک پوری سنجیدگی سے نہیں اٹھایا گیا:
کیا بلوچستان کے موجودہ حالات کی ذمہ داری صرف بلوچ بیوروکریسی پر عائد کی جا سکتی ہے، جبکہ صوبے کے اہم انتظامی محکموں میں فیصلہ سازی کی سطح پر بلوچ افسران کی نمائندگی ہی محدود ہو؟

یہ سوال کسی لسانی یا علاقائی تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی توازن، نمائندگی اور گورننس کے اصولوں کے حوالے سے ہے۔
بلوچستان کا سول سیکریٹریٹ اور چیف منسٹر سیکریٹریٹ دراصل وہ مراکز ہیں جہاں صوبے کے انتظامی امور کی سمت متعین ہوتی ہے۔ یہیں سے پالیسی گائیڈ لائنز آتی ہیں، سمریاں تیار ہوتی ہیں، اہم فیصلے ہوتے ہیں اور صوبے کے مختلف محکموں کو انتظامی سمت فراہم کی جاتی ہے۔ چیف سیکریٹری اور چیف منسٹر کی قیادت میں یہی انتظامی مشینری صوبے کے حکومتی نظام کو آگے بڑھاتی ہے۔

بلوچستان سیکریٹریٹ میں تقریباً 36 سے 38 محکمے ہیں اور ہر محکمہ انتظامی طور پر ایک سیکریٹری کی سربراہی میں کام کرتا ہے۔موجودہ پوسٹنگز کے حوالے سے سامنے آنے والے ایک غیر رسمی جائزے کے مطابق تقریباً 38 میں سے 24 اہم محکموں میں غیر بلوچ افسران، جن میں پشتون اور دیگر صوبوں سے آنے والے بیوروکریٹس شامل ہیں، سیکریٹری یا اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تعینات ہیں، جبکہ تقریباً 13 محکموں میں بلوچ افسران سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جن اہم محکموں میں غیر بلوچ افسران کی سربراہی بتائی جاتی ہے، ان میں S&GAD، زراعت، اسکول ایجوکیشن، کالجز، C&W، فنانس، صحت، PHE، ٹرانسپورٹ، لیبر اینڈ مین پاور، ویمن ڈویلپمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انفارمیشن، ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز، P&D، پراسیکیوشن، منارٹیز افیئرز، انرجی، سوشل ویلفیئر، مائنز اینڈ منرلز، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور کلچر اینڈ ٹورازم جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔

دوسری جانب بورڈ آف ریونیو، لاء اینڈ پارلیمانی افیئرز، لائیو اسٹاک، فشریز، فاریسٹ، فوڈ، انڈسٹریز اینڈ کامرس، اریگیشن، لوکل گورنمنٹ، کلائمیٹ چینج اینڈ انوائرمنٹ، اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز، اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور پاپولیشن ویلفیئر جیسے محکموں میں بلوچ افسران تعینات ہیں۔
یہ اعداد و شمار اگر درست ہیں تو ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کرتے ہیں:
اگر صوبے کی انتظامی کارکردگی کے لیے بلوچ بیوروکریسی کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے تو پھر فیصلہ سازی کے بڑے مراکز میں بلوچ افسران کی موجودگی کتنی ہے؟
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کسی غیر بلوچ افسر کی تعیناتی بذاتِ خود غلط نہیں۔ بلوچستان ایک وفاقی اکائی ہے اور پاکستان کی سول سروس میں مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے افسران خدمات انجام دیتے ہیں۔ ایک قابل، دیانتدار اور تجربہ کار افسر کا تعلق کسی بھی صوبے سے ہو، اسے اس کی اہلیت کے مطابق ذمہ داری ملنی چاہیے۔
لیکن سوال نمائندگی اور توازن کا ہے۔اگر کسی صوبے کے اہم انتظامی محکموں کی اکثریت ایسے افسران کے پاس ہو جو اس صوبے کے سماجی، جغرافیائی، معاشی اور تاریخی پیچیدگیوں سے نسبتاً کم واقف ہوں، جبکہ اسی صوبے کے تجربہ کار مقامی افسران کو مسلسل ثانوی نوعیت کے محکموں تک محدود رکھا جائے، تو پھر اس پالیسی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

اسی طرح یہ سوال بھی جائز ہے کہ اگر گزشتہ کئی دہائیوں میں بلوچستان کے انتظامی مسائل پیدا ہوئے تو کیا ان کی تمام ذمہ داری صرف بلوچ افسران پر عائد کی جا سکتی ہے؟
یقیناً نہیں۔حکومتی پالیسی سیاسی قیادت بناتی ہے، انتظامی ترجیحات حکومت طے کرتی ہے، بجٹ سیاسی اور انتظامی سطح پر منظور ہوتا ہے، پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے فیصلے مختلف سطحوں پر ہوتے ہیں اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کے فیصلے بھی صرف ایک افسر کے ہاتھ میں نہیں ہوتے۔
پھر بلوچستان کی محرومی، پسماندگی، بے روزگاری، کمزور تعلیم، صحت کے مسائل، ناقص انفراسٹرکچر اور انتظامی بحران کا سارا بوجھ صرف بلوچ بیوروکریسی کے سر ڈال دینا کس حد تک منطقی ہے؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ پوسٹنگز کا ایک واضح اور قابلِ دفاع نظام بنایا جائے۔

ہر سیکریٹری کی تعیناتی کے لیے تجربہ، متعلقہ محکمہ میں مہارت، سروس ریکارڈ، دیانت داری، انتظامی صلاحیت اور کارکردگی کو بنیادی معیار بنایا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے کہ صوبے کے مقامی افسران کو اعلیٰ انتظامی ذمہ داریوں سے مسلسل محروم تو نہیں رکھا جا رہا۔

کیونکہ ایک اور حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: بلوچستان کے مقامی افسران اسی معاشرے سے آتے ہیں جس کے مسائل وہ انتظامی طور پر حل کرتے ہیں۔ انہیں صوبے کے دور دراز علاقوں، قبائلی و سماجی ساخت، مقامی معیشت، سرحدی مسائل، زراعت، معدنیات اور عوامی نفسیات کا براہِ راست تجربہ ہوتا ہے۔ اس تجربے کو انتظامی فیصلہ سازی میں استعمال کرنا صوبے کے مفاد میں ہو سکتا ہے۔
اس لیے موجودہ حکومت کو ایک سنجیدہ Administrative Review کرنا چاہیے۔
دیکھا جائے کہ سیکریٹری سطح پر تقرریوں کا معیار کیا ہے؟ کتنے افسران کو ان کی اہلیت کے مطابق ذمہ داریاں دی گئی ہیں؟ کتنے مقامی افسران کو اہم محکموں میں موقع دیا گیا؟ کیا کسی افسر کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ اور کیا پوسٹنگز واقعی میرٹ پر ہیں یا کسی اور انتظامی، سیاسی یا غیر رسمی ترجیح کے تحت؟

یہ بحث کسی قوم کو دوسری قوم کے مقابل کھڑا کرنے کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔

اگر واقعی انتظامی ناکامی کا ذمہ دار صرف بلوچ افسر ہے تو پھر سوال یہ بھی بنتا ہے کہ گزشتہ تین برس میں جب اہم ترین محکموں کی ایک بڑی تعداد غیر بلوچ افسران کے پاس رہی، تو بلوچستان کے حالات میں وہ بنیادی تبدیلی کیوں نہیں آئی جس کی توقع کی جا رہی تھی؟
شاید مسئلہ افراد سے زیادہ نظام کا ہے۔

 #کراچی بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن و کراچی ڈویژن کے صدر حمید ساجنا نے قومی راہشون بزرگ رہنما س...
06/09/2026

#کراچی
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن و کراچی ڈویژن کے صدر حمید ساجنا نے قومی راہشون بزرگ رہنما سردار عطا اللہ خان مینگل کی پانچویں برسی اور شہداء 2 ستمبر شاہوانی اسٹیڈیم کی پہلی برسی کے موقع پر 13 ستمبر کو کراچی پریس کلب میں منعقد ہونے والے تعزیتی ریفرنس کے حوالے سے وش نیوز کے ڈائریکٹر جناب اقبال صاحب کو دعوت نامہ پیش کیا۔
جناب اقبال صاحب کی عدم موجودگی کے باعث دعوت نامہ ان کے دفتر میں موجود متعلقہ نمائندے کے حوالے کیا گیا،

نوشکی، مستونگ اور کھڈکوچہ سے بیدخلی بلوچ علاقوں پر قبضہ گیری کی واضح مثال، سردار اختر مینگلبلوچستان نیشنل پارٹی کے سربرا...
05/09/2026

نوشکی، مستونگ اور کھڈکوچہ سے بیدخلی بلوچ علاقوں پر قبضہ گیری کی واضح مثال، سردار اختر مینگل

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ نوشکی، مستونگ اور کھڈکوچہ سے علاقہ مکینوں کی مبینہ بیدخلی اور برسوں سے آباد باغات کی کٹائی بلوچ علاقوں پر قبضہ گیری کی واضح مثال ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ طاقتور کا مقابلہ نہ کرسکنے کی صورت میں اپنی ناکامی اور غصے کا اظہار اسی انداز میں کرتے ہوئے خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کے نتائج اس کے برعکس سامنے آ رہے ہیں اور ریاست کے خلاف نفرت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے بقول یہ نفرتیں نسل در نسل چلتی رہیں گی۔

سردار اختر جان مینگل نے نوشکی، مستونگ اور کھڈکوچہ میں مقامی آبادی کے مسائل اور مبینہ بیدخلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ عوام کے حقوق اور ان کی زمینوں و باغات کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔.

05/09/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ایک ایسی شخصیت جس نے امت کو جھنجھوڑا
دلوں پر اثر کرنے والی شخصیت حضرت مولانا عبدالحنان صدیقی

کوئٹہ: 4 ستمبر 2026بلوچستان نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما حاجی آغا محمد شاہوانی کے بھائی اور بی این پی ضلع کوئٹہ کی آرگنائزن...
05/09/2026

کوئٹہ: 4 ستمبر 2026
بلوچستان نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما حاجی آغا محمد شاہوانی کے بھائی اور بی این پی ضلع کوئٹہ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن طاہر شاہوانی ایڈووکیٹ کے ماموں عطاءالرحمن شاہوانی کے انتقال پر بی این پی کے مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ خان بلوچ اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن غلام نبی مری نے مرحوم کے گھر جا کر لواحقین سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔
اس موقع پر انہوں نے مرحوم کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم عطاءالرحمن شاہوانی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین

ڈاکٹر اللہ نزر  اور بشیر زیب کو بہادری کا لقب دینے جبکہ  #وزیراعلیٰ اور  #وزیرداخلہ کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر  ریٹائر...
04/09/2026

ڈاکٹر اللہ نزر اور بشیر زیب کو بہادری کا لقب دینے جبکہ #وزیراعلیٰ اور #وزیرداخلہ کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر ریٹائرڈ پولیس گرفتار

*کوہٹہ ///// ریٹائرڈ پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سی ٹی ڈی تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا، جبکہ پولیس ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی حکام نے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔*

*پولیس ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف مقدمہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ کے خلاف کوئٹہ پریس کلب میں کی گئی پریس کانفرنس کے تناظر میں درج کیا گیا ہے۔*

*ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عائشہ فیض نے چند روز قبل پریس کانفرنس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال، اس کے تاریخی پس منظر اور حالیہ واقعات پر اظہارِ خیال کیا تھا۔*

*انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے آئندہ پرتشدد واقعات کی صورت میں مستونگ کے باغات کو بلڈوز کرنے سے متعلق بیان کی بھی مذمت کی تھی۔*

*پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، تاہم مقدمے میں شامل دفعات، گرفتاری کی وجوہات اور دیگر قانونی کارروائی کی مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔*

 #ضیاءالحق نے کہا  #بیٹے کی معلومات کرکے دینگے،  نے کہا کہ میر اایک بیٹا نہیں جتنے لاپتہ ہیں سب میرے بیٹے ہیں،
04/09/2026

#ضیاءالحق نے کہا #بیٹے کی معلومات کرکے دینگے،
نے کہا کہ میر اایک بیٹا نہیں جتنے لاپتہ ہیں سب میرے بیٹے ہیں،

کچھ عرصہ پہلے   نے   کے خلاف پریس کانفرس کیا بہت سے الزامات لگایا تھا اور کل وہ لوگ میر صادق عمرانی کے خلاف   میں قردار ...
04/09/2026

کچھ عرصہ پہلے نے کے خلاف پریس کانفرس کیا بہت سے الزامات لگایا تھا اور کل وہ لوگ میر صادق عمرانی کے خلاف میں قردار پیش کیے ہیں جو کل تک میر صادق عمرانی کے پیچھے ادب کے ساتھ کھڑے ہوکر پریس کانفرس سن رہے تھے ۔۔۔۔
بڑے بزرگ کہتے ہیں نہ وقت کبھی ایک جیسا نہیں ہوتا ہے اور دوسرے کے کہنے پر اپنے قبائل اور علاقہ دادی کو خراب نہ کرئے ۔۔۔۔۔
اللہ پاک جیسے چاہیے عزت دے اور جیسے چاہیے رسوا کرئے یہ میرے مالک کے ہاتھ میں ہیں ۔
مگر صادق عمرانی سے ہزار اختلافات ہی سہی مگر ایک مرد کی طرح سچ بولا اور اپنے بات پر ڈٹ کر کھڑا ہوا ہیں ۔
صادق عمرانی بلوچستان اسمبلی میں کھڑا ہوکر جزبادی تقریر اور زو زو کے سچ بولے ہیں مگر کوئی سنوائی نہیں ہوا الٹا میر صاحب کو سچ بولنا مہنگا پڑا ہوا ہیں۔

  کے مرکزی صدر سردار اختر جان مینگل مرکزی کابینہ  سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران نےسابق چیف انجینئر احمد خان مینگل  ساب...
04/09/2026

کے مرکزی صدر سردار اختر جان مینگل مرکزی کابینہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران نےسابق چیف انجینئر احمد خان مینگل سابق چیف انجینئر حاجی علی احمد مینگل ٹھیکیدار حاجی نور محمد مینگل کے بھانجے، انجینئر حاجی محمد اسحاق مینگل، انجینئر حاجی محمد ابراہیم مینگل، ڈاکٹر محمد اسماعیل مینگل، محمد آصف مینگل،حبیب اللّٰہ مینگل، اساتذہ رہنما محمد ناصر مینگل کے کزن، ڈپٹی پروٹوکول آفیسر عارف مینگل، ڈی ایس پی حاجی عامر مینگل کے بڑے بھائی عبد الغنی مینگل کے وفات پر تعزیت کی اور دعا کیا کہ اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے

Address

Balochistan
Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Vesh Press وش پریس posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share