04/09/2026
لورالائی ناصرآباد میں آبادی پر ڈرون گرنے کا واقعہ، حکومت فوری تحقیقات کرے اور متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا مکمل ازالہ کرے
بلوچستان، لورالائی: ناصرآباد میں جیلانی خان ناصر کے گھر پر ڈرون طیارہ آ کر گرنے کا واقعہ انتہائی تشویشناک، سنگین اور قابلِ مذمت ہے۔ ہم حکومت سے فوری اور دوٹوک مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے سے متاثر ہونے والے تمام گھروں اور جن شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے، حکومت ان کے نقصانات کا مکمل ازالہ کرے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی معاونت فراہم کرے۔ شہریوں کی املاک کو کسی بھی سرکاری یا سکیورٹی سرگرمی کے نتیجے میں نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اور متاثرین کو ان کے نقصان کے مطابق مکمل معاوضہ ملنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس افسوسناک واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ایک بچہ معمولی زخمی ہوا۔ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ نقصان انسانی جانوں کے ضیاع تک نہیں پہنچا، لیکن یہ واقعہ مستقبل کے لیے ایک انتہائی خطرناک وارننگ ہے۔ اگر ڈرون آبادی میں گرنے کے نتیجے میں کسی شہری کی جان چلی جاتی تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟
یہ امر انتہائی حیران کن اور تشویشناک ہے کہ اگر مذکورہ ڈرون سکیورٹی نگرانی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا تو وہ پہاڑی اور حساس علاقوں کی نگرانی کرنے کے بجائے شہری آبادی کے اندر ایک گھر پر آ کر کیوں گرا؟ آبادیوں کے اوپر ڈرون پروازیں کس اجازت، کس نظام اور کس حفاظتی پروٹوکول کے تحت کی جا رہی ہیں؟
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پہلے ہی انتہائی تشویشناک ہے۔ اگر سکیورٹی نگرانی کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے تو ان کی پرواز، سمت، بلندی، کنٹرول اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مؤثر نظام ہونا چاہیے۔ عام شہریوں کی آبادیوں کو سکیورٹی کے ایسے اقدامات سے خطرے میں ڈالنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
اگر نگرانی پہاڑوں اور حساس علاقوں کی کرنی ہے تو ڈرون آبادیوں کے اندر کیوں آ رہے ہیں؟ جہاں شہری بستیاں موجود ہیں، وہاں اس نوعیت کے آپریشن کے لیے خصوصی احتیاط اور واضح حفاظتی ضوابط کیوں موجود نہیں؟ یہ محض ایک حادثہ کہہ کر معاملہ ختم کرنے کا نہیں بلکہ مکمل احتساب اور تحقیقات کا معاملہ ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔
ڈرون کس ادارے یا یونٹ کا تھا اور اسے کہاں سے کنٹرول کیا جا رہا تھا، اس کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جائیں۔
ڈرون کے آبادی میں گرنے کی وجہ اور ذمہ دار اہلکاروں یا اداروں کا تعین کیا جائے۔
جن گھروں اور شہری املاک کو نقصان پہنچا ہے، حکومت ان کے نقصانات کا مکمل اور فوری ازالہ کرے۔
زخمی بچے اور متاثرہ خاندان کو ضروری طبی و مالی معاونت فراہم کی جائے۔
اگر کسی اہلکار یا ادارے کی غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
شہری آبادیوں کے تحفظ کے لیے ڈرون آپریشن کے واضح اور سخت حفاظتی ضوابط بنائے جائیں۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں علاقے کی سکیورٹی اور نگرانی پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن سکیورٹی کے نام پر شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری عوام کی حفاظت ہے، نہ کہ ایسے اقدامات کرنا جن سے عام شہریوں کے گھروں اور جانوں کو خطرہ لاحق ہو۔
حکومت فوری طور پر متاثرہ گھروں کا سروے کروائے، نقصانات کا تخمینہ لگائے اور تمام متاثرین کو مکمل معاوضہ ادا کرے۔ ساتھ ہی واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے عوام کو بتایا جائے کہ یہ خطرناک غفلت کیسے ہوئی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حیات خان ناصر
سینئر نائب صدر
پاکستان تحریک انصاف، لورالائی ڈویژن