11/11/2020
آستین کا سانپ
بلوچستان میں ریاستی ادارے قبائلی تنازعات کو ہوا دے کر کشت و خون کے لئے راہ ہموار کرنے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں اور اس مقصد کے لئے ثناء اللہ دودا زئی کو مکمل ٹاسک دیا گیا ہے۔ ثناء اللہ جو گزشتہ کئی عرصے سے دبئی میں مقیم تھے، ان پر کرپشن، لوٹ مار اور سرکاری وسائل کو بے دریغ استعمال کرنے جیسے الزامات کے تحت نیب میں مختلف کیسز اور ریفرنسز دائر ہے وہ نیب کے تحقیقات اور گرفتاری سے بچنے کے لئے سیاسی خاموشی اختیار کرکے دبئی میں مقیم تھے لیکن اچانک پی ڈی ایم کی بلو چستان میں منعقدہ جلسہ عام سے صرف دو روز قبل وہ کوئٹہ پہنچ گئے۔ ریاستی اداروں نے جنرل قادر چنال کے ذریعے ثناء اللہ کو واپس بلوایا اور ان کے کرپشن کیسز کو ختم کرنے کے بدلے انہیں پی ڈی ایم کے جانب سے کوئٹہ میں منعقدہ جلسہ عام کو سبوتاژ کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا لیکن سردار اختر مینگل نے ثناء اللہ کی اس سازش کو بے نقاب کرکے مسلم لیگی قیادت کو حقائق سے آگاہ کیا، مسلم لیگی قیادت بھی حالات کو بھانپ کر ثناء اللہ کی جلسے میں شرکت پر پابندی عائد کردی کیونکہ بقول مسلم لیگی قیادت کے ثناء اللہ گزشتہ ڈھائی سال سے غیر فعال ہوگئے تھے ان کی اچانک دبئی سے کوئٹہ آمد ایک خاص مقصد کے لئے تھا اور وہ مقصد جلسہ کو ناکام بنانا تھا۔
نواز شریف سمیت اعلی مسلم لیگی قیادت ثناء اللہ سے پہلے ہی سے خفا تھے کیونکہ جب ثناء اللہ کے خلاف تحریک اعتماد پیش کی گئی تو خاقان عباسی نے بطور وزیراعظم ثناء اللہ کو ہدایت جاری کیا تھا کہ وہ ڈٹ کر تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کریں جبکہ اتحادی جماعتیں نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ نے بھی انہیں مکمل تعاون کا یقین دہانی کرائی تھی لیکن ثناء اللہ نے اپنی نیب کیسز کی خوف سے پارٹی قیادت اور اتحادیوں کو اعتماد میں لئے بغیر اجلاس سے ایک گھنٹہ قبل استعفی دیا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی اور مخالفین کے پاس مطلوبہ نمبرز بھی پورے نہیں ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق ثناء اللہ کو ریاستی ایجنسیز نے بلا کر کہا تھا کہ وہ استعفی دیں یا پھر نیب و کرپشن کیسز کو بھگتنے کے تیار ہوجائیں اور ثناء اللہ نے وزارت اعلی سے زیادہ اپنی کرپشن سے جمع کئے ہوئے دولت بچانے کو ترجیح دے کر استعفی دے دیا اور پھر خود مسلم لیگ میں علامتی طور پر رہے، سینیٹ انتخابات میں ان کی سالہ جو مسلم لیگ کی ٹکٹ سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے انہوں نے مخالف امیدوار کو ووٹ کاسٹ کیا تھا، ان کے بھائی پی ٹی آئی اور دوسرا سالہ باپ میں چلا گیا۔
1988 میں بلوچستان میں پارلیمانی میدان خالی تھا ریاستی اداروں نے ثناء اللہ جیسے نام نہاد لوگوں کو متعارف کرایا اور 1988 سے ثناء اللہ مسلسل ریاستی اداروں کے آشیر باد سے منتخب ہوتا آرہا ہے اور اس دوران وہ تمام فوجی و سول حکومتوں میں شامل ہوتا رہاہے، مشرف، پی پی پی اور مسلم لیگ کی دور میں بھی وزارتوں پر براجمان رہا ہے۔
ثناء اللہ جو آج کل روایات کی بہت باتیں کرتا ہے اس نے روایات کو پاوں تلے روند کر اپنے بھائی کو قتل کرکے قبیلے کا خود ساختہ سردار بن گیا۔ پھر اپنے بھتیجے کو گھر میں ذبح کرکے پھینک دیا کیونکہ انہیں خوف تھا کہ دستار اور سرداری کے اصل حق دار وہ ہے اور دوسرا ثناء اللہ کو خوف تھا کہ یہ اپنے باپ کا بدلہ مجھ سے لینگے اس لئے دھوکے سے اپنے ہی بھتیجے کو قتل کردیا اور پھر اپنے ماموں نواب امان اللہ زہری کو جو ایک تعزیت میں شرکت کرنے کے بعد واپس گھر جارہے تھے اور ان کے ساتھ خواتین و بچے بھی گاڑی میں موجود تھے اپنے کرایہ کے قاتلوں سے انہیں اور ان کے نواسہ کو قتل کروایا، قبائلی روایات کا جنازہ اس وقت ثناء اللہ نے بڑے دھوم دھام سے نکالا جب ایک قبائلی فیصلے کے لئے بلائے گئے جتک قبیلے کے 4 افراد کو نشہ آوار چیز پلا کر اپنے مہمان خانے میں انہیں قتل کروایا یہ نواز شریف کو ڈس نے کا طعنہ دیتے ہیں لیکن خود آستین کا سانپ ہے اس کے شر سے نہ بھائی، بھتیجا، ماموں نہ قبیلہ اور علاقے کے لوگ محفوظ رہے ہیں ۔
اس پر نواز شریف کے بہت سے احسانات تھے ایسے نکمے، نکھٹو، نالائق اور جاہل انسان کو وزیراعلی بنایا آج وہ اپنے ہی محسن کو آنکھیں دکھا رہا ہے،کوئٹہ میں جس طرح انہوں نے نواز شریف کی خلاف باتیں کی اور اس کے علاوہ مینگل قبیلے کے اکابرین کے خلاف زہر اگلا، تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا یہ اس کی بوکھلاہٹ اور جہالت کی واضح ثبوت ہے، بلوچستان میں حقیقی سیاست کو ختم کرنے کے لئے ریاست نے اپنی بنائے ہوئے بونوں کو سرگرم کیا ہے لیکن جمہوریت کے دعویدار پارٹیوں کو ایسے عناصر کو اپنے صفوں میں شامل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔