27/07/2026
پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن (PPA) کی مخلصانہ، منظم اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر فور ٹیئر سروس سٹرکچر کو 02/10/2025 کو بلوچستان کابینہ سے منظوری ملی۔ سروس رولز کے بغیر پروموشن ناممکن ہے اور کوئی بھی سروس سٹرکچر غیر مؤثر ہوتا ہے۔ باوجود متعدد رکاوٹوں کے جو فارماسسٹس برادری ہی کی طرف سے مختلف اشکال میں پیش آتی رہیں اور آ رہی ہیں، جن کا نقصان براہ راست فارماسسٹس برادری ہی کو ہوا اور ہورہا ہے۔ جس کی واضح مثال سروس رولز کی پانچ ماہ تعطل کا شکار ہونا ہے۔ اس دوران کچھ سنجیدہ اور دور اندیش دوستوں کی درخواست اور مداخلت کے باعث دوبارہ سروس رولز کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے جدوجہد شروع کی گئی۔ رب العالمین کے کرم سے سروس رولز کو تین ماہ دس دن کے ریکارڈ مختصر مدت میں ایس اینڈ جی اے ڈی نے 4/06/2026 کو نوٹیفائی کرکے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس کے بعد ان تمام پوسٹس کو بجٹ بک میں شامل کرنا تھا، اور قابل غور بات یہ ہے کہ جون کے مہینے میں بجٹ بک میں شامل کرنا ایک ناقابل یقین عمل تھا، مگر اسے ممکن بنا دیا گیا۔ پروموشن کے لیے ان تمام مراحل کو عبور کرنا لازم ہوتا ہے۔ ان تمام مراحل کے بعد ورکنگ پیپر پر کام شروع کیا گیا، جو کہ ایک انتہائی محنت طلب مرحلہ تھا۔ پروموشن کے لیے فارماسسٹس برادری سے کوانٹیفیکیشن اور ویریفیکیشن کے لیے اے سی آر طلب کیے گئے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ساڑھے سات ماہ میں گریڈ اٹھارہ کے دو سو اکسٹھ ویکنٹ پوسٹس کے لیے صرف دو سو اے سی آر جمع ہو سکے۔ تمام فارماسسٹس کے ڈاکومنٹس کو جمع کرنا، اٹیسٹ کرنا اور ان کے سیٹ بنا کر محکمہ S&GAD میں جمع کرنا تھا اور پروموشن بورڈ کے لیے منظوری حاصل کرنا تھی۔ الحمدللہ یہ تمام مراحل پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ تمام کامیابیاں ان روکاوٹوں کے باوجود حاصل کی گئیں جو فارماسسٹس برادری کی طرف سے مختلف شکلوں میں پیش آتی رہیں۔
اب آتے ہیں فور ٹیئر فارمولے کی طرف: اس فارمولے کے مطابق، ایک کیڈر میں موجود کل ملازمین میں سے 34 فیصد ملازمین گریڈ 18 میں، 15 فیصد گریڈ 19 میں، اور 1 فیصد گریڈ 20 میں ترقی پائیں گے، جبکہ 50 فیصد ملازمین اپنے موجودہ گریڈ 17 پر برقرار رہیں گے۔ بجٹ 2025-26 سے پہلے گریڈ 17 میں 656، گریڈ 18 میں 64، گریڈ 19 میں 11 اور گریڈ 20 میں کوئی ملازم نہیں تھا، جبکہ سروس سٹرکچر کی منظوری کے بعد گریڈ 17 کی کل 373، گریڈ 18 کی 318، گریڈ 19 کی 123 اور گریڈ 20 کی 7 آسامیاں فارماسسٹس کی ترقی کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ تمام منظور شدہ آسامیاں بجٹ 2026 کے بعد باقاعدہ طور پر نافذ کر دی گئی ہیں۔
اب چونکہ سروس سٹرکچر منظور ہو چکا ہے مگر فارماسسٹس ابھی تک ان پوسٹوں پر تعینات نہیں ہوئے، جو یقیناً پریشان کن خبر ہے۔ تاہم اس حوالے سے محکمہ صحت اور محکمہ خزانہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی گئی ہیں اور انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ تنخواہ کی بندش کی نوبت نہیں آئے گی۔ ایسوسی ایشن محکمہ صحت اور محکمہ خزانہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور باقاعدہ درخواست جمع کرائیں ہے انشاءاللہ بہت جلد اس مسئلے کا حل نکل آئے گا۔ ایسوسی ایشن پروموشن بورڈ کی جلد از جلد انعقاد کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ جلد از جلد پروموشن کا عمل مکمل کر لیا جائے، جس کے بعد تنخواہوں کے حوالے سے کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ اس سلسلے میں محکمہ خزانہ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو مکمل آگاہی دے دی گئی ہے۔
اب جب موضوع بحث گریڈ 17 ہے تو گریڈ 18 جو 64 سے 318، گریڈ 19 11 سے 123 اور گریڈ 20 صفر سے 7 کی تعداد پر کیوں خاموشی؟ ہمارے یہی کولیگز جو گریڈ 17 میں ہی ریٹائر ہونے والے تھے، اب فور ٹیئر سروس سٹرکچر کی برکت سے گریڈ 18 اور 19 کے لیے اے سی آر جمع کرا رہے ہیں۔
آخر میں ایک اہم بات کہنا چاہوں گا کہ رب العالمین کا خصوصی فضل و کرم سے ۔ وزیر صحت، سیکرٹری صحت کے مکمل سپورٹ کے ساتھ ساتھ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے تمام متعلقہ سیکشن کے ٹاپ ٹو باٹم اور اس کے ساتھ ایس اینڈ جی اے ڈی، لاء اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے تمام متعلقہ سیکشن کے مکمل اور بھرپور سپورٹ ہی کے باعث یہ مراحل بخوبی پایہ تکمیل تک پہنچ گئے ہیں، جس پر میں ان سب کا تہہ دل سے بے حد مشکور ہوں۔
پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن، بلوچستان