Balochistan Provincial Assembly

Website

Balochistan Provincial Assembly The Legislative Assembly of Balochistan

29/09/2026

پریس ریلیز
خواتین پارلیمانی کاکس اور عالمی ادارہ خوراک کے مابین اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس

خواتین پارلیمانی کاکس اور عالمی ادارہ خوراک کے مابین اعلی سطحی مشاورتی اجلاس، غذائی تحفظ، غذائیت اور خواتین و بچوں کی صحت پر تفصیلی تبادلہ خیال

بلوچستان صوبائی اسمبلی میں خواتین پارلیمانی کاکس (WPC) کے زیر اہتمام عالمی ادارہ خوراک (WFP) پاکستان کے ساتھ غذائی تحفظ، بچوں میں غذائی قلت کی روک تھام اور خواتین و بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک ڈائیلاگ اور مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی و چئیر پرسن خواتین پارلیمانی کاکس غزالہ گولہ نے کی، جبکہ رکن قومی اسمبلی اختر بی بی، پُلین بلوچ، اراکین بلوچستان اسمبلی شاہدہ رؤف اور سلمیٰ کاکڑ، سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ سمیت عالمی ادارہ خوراک کی پاکستان میں نمائندہ و کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش اور WFP بلوچستان کے صوبائی آفس کی سربراہ ڈاکٹر فاریہ احسن سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے آغاز میں غزالہ گولہ نے محترمہ انیتا ہرش کو پاکستان میں WFP کی نمائندہ و کنٹری ڈائریکٹر کی حیثیت سے کوئٹہ کے پہلے سرکاری دورے پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی اور خواتین پارلیمانی کاکس کی جانب سے WFP کے وفد کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔انہوں نے غذائی تحفظ، غذائیت اور خواتین و بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اس اہم اور بروقت مشاورتی اجلاس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا۔

اجلاس میں بلوچستان میں غذائی عدم تحفظ، زچہ و بچہ کی غذائیت اور بچوں میں غذائی قلت جیسے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ صوبے میں جاری مختلف حکومتی پروگراموں اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے پارلیمانی کردار اور WFP کے تعاون پر بھی غور کیا گیا۔

ڈبلیو ایف پی کی جانب سے بلوچستان میں جاری پروگرامز اور ان کے دائرہ کار کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اسکول میلز پروگرام کے تحت کوئٹہ میں اس وقت پائلٹ بنیادوں پر کام جاری ہے، جس کے بعد مزید سات اضلاع کو بھی پروگرام میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ پروگرام کے لیے مالی معاونت 50 فیصد حکومتِ بلوچستان اور 50 فیصد عالمی ادارہ خوراک (WFP) کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں اسکول میلز پروگرام کے مثبت اثرات سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔ بتایا گیا کہ مارچ 2024 سے جولائی 2026 تک کوئٹہ کے پروگرام میں شامل سرکاری اسکولوں میں طالبات کے داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ حاضری کی شرح بھی بہتر ہوئی ہے۔ WFP کے مطابق پروگرام کے تحت 2024 میں 10,907 طالبات کے مقابلے میں 2026 میں داخل شدہ طالبات کی تعداد 14,635 تک پہنچ گئی، جو 34 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح اوسط حاضری 81.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

مشاورتی سیشن کے دوران اراکین پارلیمنٹ نے سوال و جواب کے دوران دریافت کیا کہ اس نوعیت کے اہم پروگراموں کو مزید موثر بنانے، ان کا دائرہ کار وسیع کرنے اور صوبے کے زیادہ سے زیادہ بچوں تک اس کے ثمرات پہنچانے کے لیے پارلیمنٹ کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟

اس موقع پر WFP کے نمائندوں نے کہا کہ پروگرام کی کامیابی اور تسلسل کے لیے اسے مزید اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ عوام، متعلقہ اداروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز میں اس پروگرام کی اہمیت اور افادیت کے حوالے سے آگاہی پیدا ہو۔

اراکین پارلیمنٹ نے اس امر پر زور دیا کہ ایسے اہم پروگراموں میں تمام پارلیمانی اراکین کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تاکہ صوبے کے مختلف علاقوں اور حلقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پروگرام کے دائرہ کار کو مؤثر انداز میں وسعت دی جا سکے۔ اراکین نے خواتین اور بچوں کی غذائیت کو صوبے کی مجموعی ترقی، تعلیم اور انسانی وسائل کی بہتری سے جوڑتے ہوئے پارلیمانی سطح پر تعاون اور نگرانی کے عزم کا اظہار کیا۔

ڈبلیو ایف پی پاکستان کی نمائندہ و کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے گفتگو کرتے ہوئے خواتین اور بچوں کی صحت و غذائیت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ خواتین کی صحت، قوم کی صحت ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں غذائی تحفظ، خواتین اور بچوں کی صحت اور غذائیت کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے اور صوبائی حکومت و پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ غذائی تحفظ، بچوں میں غذائی قلت کی روک تھام، خواتین کی صحت اور اسکولوں میں بچوں کی حاضری و داخلوں میں بہتری جیسے اقدامات کے لیے پارلیمنٹ، صوبائی حکومت اور WFP کے درمیان موثر رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

اجلاس کے اختتام پر انیتا ہرش نے شرکت کرنے والے اراکین پارلیمنٹ اور بلوچستان اسمبلی کا شکریہ ادا کیا، جبکہ بعد ازاں شرکاء کے ہمراہ گروپ فوٹو بھی بنوائی گئی۔

29/09/2026

قائمہ کمیٹی برائے معدنیات کا اجلاس، بلوچستان مائنز ہیلتھ اینڈ سیفٹی بل 2026 پر تفصیلی غور

بلوچستان صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے معدنیات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی غلام دستگیر بادینی کی زیر صدارت اسمبلی سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی رکن خیر جان بلوچ، زابد علی ریکی، صوبائی وزیر برائے معدنیات میر شعیب نوشیروانی، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ایڈیشنل سیکرٹری لاء سعید اقبال، ڈائریکٹر جنرل مائنز اینڈ منرلز عبداللہ شاہوانی، ڈپٹی ڈائریکٹر لاء احسان برکت، وسیم احمد اور محکمہ معدنیات کے مائن اونرز نے شرکت کی۔

اجلاس میں بلوچستان مائنز ہیلتھ اینڈ سیفٹی بل 2026 پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مذکورہ بل کے حوالے سے اس سے قبل بھی دو اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ بل کی مزید شقوں پر محکمہ قانون، مائن اونرز اور متعلقہ محکمے باہمی مشاورت سے غور کریں گے اور اپنی تجاویز کمیٹی کے سامنے پیش کریں گے۔

اجلاس کے دوران اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ صوبے میں کان کنی کے شعبے میں صحت، حفاظت اور ریسکیو سے متعلق قانونی امور طویل عرصے سے مائنز ایکٹ 1923 کے تحت چلائے جا رہے ہیں، جبکہ جدید دور میں کان کنی کے طریقہ کار، مشینری، پیشہ ورانہ صحت و سلامتی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور موثر نگرانی کے تقاضے تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس تناظر میں ایک جامع اور جدید صوبائی قانون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

کمیٹی نے بل کی مختلف شقوں، بالخصوص ناقابل ضمانت ایف آئی آر، دیت اور دیگر قانونی و انتظامی امور پر بھی غور کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مائن اونرز اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اپنی تجاویز محکمہ اور کمیٹی کو تحریری طور پر پیش کریں گے، جن کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ ان تجاویز کو بل کا حصہ بنایا جائے یا نہیں۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل صوبے کی معیشت اور روزگار کے مواقع کے لیے اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دیا جائے گا اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے سرمایہ کاری کی ترغیب دی جائے گی۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ بل کی مختلف شقوں پر مزید مشاورت کے لیے ایک اور اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں متعلقہ محکموں، مائن اونرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد بلوچستان مائنز ہیلتھ اینڈ سیفٹی بل 2026 کو حتمی شکل دینے کے لیے پیش رفت کی جائے گی۔

کمیٹی اراکین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ جدید اور جامع قانون سازی کے ذریعے کان کنی کے شعبے میں کارکنوں کے تحفظ، مؤثر نگرانی، محفوظ اور پائیدار کان کنی کے فروغ کے ساتھ ساتھ صوبے میں معدنی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

قائمہ کمیٹی براۓ محکمہ اطلاعات کی نشست بروز جمعہ مورخہ 02 اکتوبر 2026ء کو بوقت دوپہر 02:30 بجے منعقد ہوگی۔
29/09/2026

قائمہ کمیٹی براۓ محکمہ اطلاعات کی نشست بروز جمعہ مورخہ 02 اکتوبر 2026ء کو بوقت دوپہر 02:30 بجے منعقد ہوگی۔

قائمہ کمیٹی برائے محکمہ آبپاشی کی نشست بروز جمعرات مورخہ یکم اکتوبر 2026ء کو بوقت دوپہر 12:00 بجے منعقد ہوگی۔
28/09/2026

قائمہ کمیٹی برائے محکمہ آبپاشی کی نشست بروز جمعرات مورخہ یکم اکتوبر 2026ء کو بوقت دوپہر 12:00 بجے منعقد ہوگی۔

قائمہ کمیٹی برائے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی نشست بروز بدھ مورخہ 30 ستمبر 2026ء کو بوقت دوپہر 12:00 بجے منعقد ہوگی۔  ...
28/09/2026

قائمہ کمیٹی برائے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی نشست بروز بدھ مورخہ 30 ستمبر 2026ء کو بوقت دوپہر 12:00 بجے منعقد ہوگی۔

هرگاه کہ جناب اسپیکر، بلوچستان صوبائی اسمبلی نے قواعد انضباط کار بلوچستان صوبائی اسمبلی مجریہ 1974 ء کے قاعدہ نمبر 22 (ب...
25/09/2026

هرگاه کہ جناب اسپیکر، بلوچستان صوبائی اسمبلی نے قواعد انضباط کار بلوچستان صوبائی اسمبلی مجریہ 1974 ء کے قاعدہ نمبر 22 (ب) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے بلوچستان صوبائی اسمبلی کا اجلاس بروز منگل مورخہ 06 اکتوبر 2026 ء کو بوقت سہ پہر 3:00 بجے طلب کیا ہے ۔ جو اس سے قبل بروز منگل مورخہ 29 ستمبر 2026 ء کو بوقت سہ پہر 3:00 بجے تک ملتوی کیا گیا تھا۔

لہذا بلوچستان صوبائی اسمبلی کا اجلاس اب بروز بروز منگل مورخہ 06 اکتوبر 2026ء کو بوقت سہ پہر 3:00 بجے منعقد کو ہو گا۔

قائمہ کمیٹی برائے محکمہ کان کنی و معدنی ترقی کی نشست بروز منگل مورخہ 29 ستمبر 2026ء کو بوقت صبح 11:00 بجے منعقد ہوگی۔
25/09/2026

قائمہ کمیٹی برائے محکمہ کان کنی و معدنی ترقی کی نشست بروز منگل مورخہ 29 ستمبر 2026ء کو بوقت صبح 11:00 بجے منعقد ہوگی۔

ڈپٹی اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی محترمہ غزالہ گولہ سے رکن بلوچستان صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ اور صوبائی سربراہ عال...
22/09/2026

ڈپٹی اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی محترمہ غزالہ گولہ سے رکن بلوچستان صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ اور صوبائی سربراہ عالمی ادارہ خوراک بلوچستان ڈاکٹر فاریہ احسن ملاقات کر رہی ہیں۔
Ghazala Gola

قائم مقام اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ کی PPAF کے زیر اہتمام سیمینار میں شرکتقائم مقام اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ...
17/09/2026

قائم مقام اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ کی PPAF کے زیر اہتمام سیمینار میں شرکت

قائم مقام اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ نے PPAF کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے پروگرام کے تحت خواتین کو بلا سود قرضوں کی فراہمی، کاروباری خواتین کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور مضبوط ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے سے خواتین میں معاشی خودمختاری کو فروغ مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس خاندان میں تعلیم یافتہ اور با روزگار خاتون موجود ہو، وہاں پورے خاندان کی معاشی اور سماجی صورتحال میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔ خواتین کو معاشی طور پر مضبوط اور خودمختار بنانے سے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی ترقی ممکن ہے۔

قائم مقام اسپیکر نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں بہتر مواقع، مالی معاونت اور مناسب رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے کاروبار شروع کرکے باعزت روزگار حاصل کرسکیں۔

سیمینار میں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وفاقی وزیر برائے ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ایڈوائزر ٹو چیف منسٹر ربابہ بلیدی، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز سمیت خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
Ghazala Gola

ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے وفد کی رکن بلوچستان اسمبلی و چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین سے ملاقاتینگ لیڈرز پارلیمنٹ ...
14/09/2026

ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے وفد کی رکن بلوچستان اسمبلی و چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین سے ملاقات

ینگ لیڈرز پارلیمنٹ (YLP) کے وفد چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین سے ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد نوجوانوں کو پارلیمانی نظام، قانون سازی اور عوامی مالیاتی نگرانی کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا اور نوجوان قیادت کے ساتھ تجربات کا تبادلہ تھا۔

ملاقات کا آغاز تلاوت کلام پاک اور قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے وفد کے اراکین مختصر تعارف پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے اغراض و مقاصد اور نوجوانوں کی سماجی و معاشی اور قیادت کی ترقی کے لیے اس کے کردار پر مختصر دستاویزی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔

ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے ایک سینئر رکن نے وفد کی جانب سے استقبالیہ کلمات پیش کیے، جس کے بعد چئیرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے شرکاء سے خطاب کیا اور پارلیمانی امور، جمہوری اقدار اور نوجوانوں کے کردار پر اظہارِ خیال کیا۔

اس موقع پر چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے کردار، فرائض، اختیارات، طریقۂ کار اور مختلف اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی عوامی وسائل کے شفاف اور مؤثر استعمال کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جبکہ آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لے کر متعلقہ محکموں سے جواب طلب کرنا اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی اس کے اہم فرائض میں شامل ہے۔
اصغر علی ترین نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ پارلیمانی نظام اور جمہوری اداروں کے کام کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ باصلاحیت اور باشعور نوجوان ملک کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہیں۔

ملاقات کے اختتام پر ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کی جانب سے "Positive Side of Pakistan Award" اصغر علی ترین کو پیش کیا گیا، جو ان کی غیر معمولی کاوشوں اور مثبت کردار کے اعتراف کے طور پر دیا گیا۔

Address

Quetta
Quetta
8300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Balochistan Provincial Assembly posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share