10/02/2026
حامد میر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ نواب اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی اپنی قیمتی گاڑی لے کر بلوچستان کے ایک چھوٹے سے شہر کی ورکشاپ پر پہنچے۔ وہ ورکشاپ بظاہر عام سی تھی، مٹی سے اٹی ہوئی، پرانے اوزار، اور ایک سادہ سا مکینک جو برسوں سے ایمانداری سے محنت کر کے اپنا گھر چلا رہا تھا۔
طلال بگٹی نے گاڑی مکینک کے سامنے کھڑی کی اور کہا: “گاڑی چیک کرو، ابھی ٹھیک کرنی ہے۔”
مکینک نے گاڑی کا بونٹ کھولا، غور سے دیکھا، پھر احترام سے بولا: “کام کافی زیادہ ہے صاحب، آج میرے پاس ٹائم نہیں، کل آ جائیں تو بہتر ہوگا۔”
یہ سن کر طلال بگٹی کا لہجہ بدل گیا۔ انہیں یہ بات ناگوار گزری کہ کوئی عام مکینک انہیں “کل آنے” کا کہہ دے۔ غصے میں آ کر انہوں نے مکینک کو برا بھلا کہا، اور پھر بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ روایت کے مطابق طلال بگٹی نے مکینک کو دو تین تھپڑ مار دیے۔
ورکشاپ میں موجود لوگ فوراً بیچ بچاؤ کے لیے آگے بڑھے۔ کسی نے مکینک کو پیچھے کیا، کسی نے طلال بگٹی کو روکا۔ ماحول کشیدہ ہو گیا۔ مکینک خاموش تھا، آنکھوں میں آنسو تھے مگر زبان بند تھی۔ طلال بگٹی غصے میں گاڑی اسٹارٹ کر کے وہاں سے چلے گئے۔
لوگوں نے مکینک سے کہا: “بھائی، یہ بڑے لوگ ہیں، ان سے الجھنا ٹھیک نہیں۔” مکینک نے صرف اتنا کہا: “میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی تھی، بس سچ کہا تھا۔”
یہ بات شہر میں پھیل گئی۔ شام تک یہ خبر کسی نہ کسی ذریعے سے نواب اکبر بگٹی تک پہنچ گئی۔
نواب اکبر بگٹی کا شمار بلوچستان کے باوقار، اصول پسند اور سخت مزاج سرداروں میں ہوتا تھا۔ جب انہوں نے سنا کہ ان کے بیٹے نے ایک غریب مکینک پر ہاتھ اٹھایا ہے تو وہ خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر سوچتے رہے، پھر مختصر سا حکم دیا: “کل صبح اس مکینک کو میرے پاس لایا جائے۔”
اگلے دن صبح مکینک کے گھر سرکاری گاڑی پہنچی۔ وہ گھبرا گیا۔ اس کی بیوی نے روتے ہوئے کہا: “میں نے کہا تھا نا، بڑے لوگوں سے الجھنے کا انجام برا ہوتا ہے۔”
مکینک نے کپکپاتے ہاتھوں سے چپل پہنی اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس کے ذہن میں ہزار خدشات تھے:
“پتہ نہیں اب کیا ہوگا؟ کہیں جیل نہ ہو جائے؟ یا مزید ذلت؟”
جب وہ نواب اکبر بگٹی کے ڈیرے پر پہنچا تو ماحول بالکل مختلف تھا۔ نظم و ضبط، خاموشی اور وقار ہر طرف نظر آ رہا تھا۔ اسے اندر لے جایا گیا۔
نواب اکبر بگٹی کرسی پر بیٹھے تھے۔ سفید داڑھی، گہری آنکھیں اور رعب دار شخصیت۔ مکینک نے ڈرتے ہوئے سلام کیا۔
نواب اکبر بگٹی نے نہایت سنجیدہ آواز میں پوچھا: “کیا کل میرے بیٹے نے تمہیں مارا تھا؟”
مکینک نے نظریں جھکا کر کہا: “جی سردار صاحب… مگر میری کوئی غلطی نہیں تھی۔”
نواب اکبر بگٹی نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، پھر محافظ کو آواز دی: “طلال کو بلاؤ۔”
کچھ ہی دیر میں طلال بگٹی حاضر ہو گئے۔ ان کے چہرے پر اعتماد تھا، شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ معاملہ ان کے حق میں ہوگا۔
نواب اکبر بگٹی نے سخت لہجے میں پوچھا: “کیا تم نے اس مکینک پر ہاتھ اٹھایا تھا؟”
طلال بگٹی نے کہا: “جی، اس نے بدتمیزی کی تھی، گاڑی ٹھیک کرنے سے انکار کر دیا تھا۔”
نواب اکبر بگٹی نے میز پر ہاتھ مارا: “کیا کسی کا انکار کرنا بدتمیزی ہے؟
کیا تمہارا نام بگٹی ہونا تمہیں یہ حق دیتا ہے کہ تم کسی غریب پر ہاتھ اٹھاؤ؟”
طلال بگٹی خاموش ہو گئے۔
نواب اکبر بگٹی نے محافظ کو حکم دیا: “اس مکینک کے سامنے کھڑے ہو جاؤ۔”
پھر انہوں نے مکینک کی طرف دیکھ کر کہا: “بیٹا، کل تمہیں جتنے تھپڑ لگے تھے، آج وہی تھپڑ واپس لو۔”
مکینک کانپ گیا: “نہیں سردار صاحب، میں یہ نہیں کر سکتا۔ وہ آپ کے بیٹے ہیں۔”
نواب اکبر بگٹی کی آواز مزید سخت ہو گئی: “یہ میرا بیٹا نہیں، یہ ایک ظالم ہے۔ اور ظلم کے سامنے خاموش رہنا بھی گناہ ہے۔”
لوگوں کے مطابق مکینک کے ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے ایک ہلکا سا تھپڑ مارا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا: “جتنے لگے تھے، اتنے پورے کرو۔”
مکینک نے بمشکل گنتی پوری کی۔ ہر تھپڑ طلال بگٹی کے لیے نہیں، بلکہ غرور کے منہ پر تھا۔
اس کے بعد نواب اکبر بگٹی نے مکینک کو قریب بلایا، اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا: “بیٹا، عزت نام یا طاقت سے نہیں، انصاف سے ملتی ہے۔
آج اگر میرا بیٹا غلط ہے تو وہ عام آدمی سے بھی کمتر ہے۔”
پھر انہوں نے مکینک کو کچھ رقم دی اور کہا: “یہ تمہاری تذلیل کا نہیں، تمہاری عزت کا معاوضہ ہے۔ اور یاد رکھو، سچ بولنے والا کبھی چھوٹا نہیں ہوتا۔”
مکینک روتا ہوا وہاں سے نکلا، مگر آج اس کے آنسو کمزوری کے نہیں، عزت کے تھے۔
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل سرداری طاقت میں نہیں، انصاف میں ہوتی ہے۔
اور جو باپ اپنے بیٹے کو بھی قانون کے برابر کھڑا کر دے، وہی دراصل قوم کا رہنما کہلانے کے قابل ہوتے ہیں 😳
فالوؤ اور شیئر کیجئے 👍❤️💓💓