Rizwan Baloch

Rizwan Baloch B A L O C H I S T A N � N A T U R E

حامد میر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ نواب اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی اپنی قیمتی گاڑی لے کر بلوچستان کے ایک چھوٹے سے شہر کی ورک...
10/02/2026

حامد میر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ نواب اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی اپنی قیمتی گاڑی لے کر بلوچستان کے ایک چھوٹے سے شہر کی ورکشاپ پر پہنچے۔ وہ ورکشاپ بظاہر عام سی تھی، مٹی سے اٹی ہوئی، پرانے اوزار، اور ایک سادہ سا مکینک جو برسوں سے ایمانداری سے محنت کر کے اپنا گھر چلا رہا تھا۔
طلال بگٹی نے گاڑی مکینک کے سامنے کھڑی کی اور کہا: “گاڑی چیک کرو، ابھی ٹھیک کرنی ہے۔”
مکینک نے گاڑی کا بونٹ کھولا، غور سے دیکھا، پھر احترام سے بولا: “کام کافی زیادہ ہے صاحب، آج میرے پاس ٹائم نہیں، کل آ جائیں تو بہتر ہوگا۔”
یہ سن کر طلال بگٹی کا لہجہ بدل گیا۔ انہیں یہ بات ناگوار گزری کہ کوئی عام مکینک انہیں “کل آنے” کا کہہ دے۔ غصے میں آ کر انہوں نے مکینک کو برا بھلا کہا، اور پھر بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ روایت کے مطابق طلال بگٹی نے مکینک کو دو تین تھپڑ مار دیے۔
ورکشاپ میں موجود لوگ فوراً بیچ بچاؤ کے لیے آگے بڑھے۔ کسی نے مکینک کو پیچھے کیا، کسی نے طلال بگٹی کو روکا۔ ماحول کشیدہ ہو گیا۔ مکینک خاموش تھا، آنکھوں میں آنسو تھے مگر زبان بند تھی۔ طلال بگٹی غصے میں گاڑی اسٹارٹ کر کے وہاں سے چلے گئے۔
لوگوں نے مکینک سے کہا: “بھائی، یہ بڑے لوگ ہیں، ان سے الجھنا ٹھیک نہیں۔” مکینک نے صرف اتنا کہا: “میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی تھی، بس سچ کہا تھا۔”
یہ بات شہر میں پھیل گئی۔ شام تک یہ خبر کسی نہ کسی ذریعے سے نواب اکبر بگٹی تک پہنچ گئی۔
نواب اکبر بگٹی کا شمار بلوچستان کے باوقار، اصول پسند اور سخت مزاج سرداروں میں ہوتا تھا۔ جب انہوں نے سنا کہ ان کے بیٹے نے ایک غریب مکینک پر ہاتھ اٹھایا ہے تو وہ خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر سوچتے رہے، پھر مختصر سا حکم دیا: “کل صبح اس مکینک کو میرے پاس لایا جائے۔”
اگلے دن صبح مکینک کے گھر سرکاری گاڑی پہنچی۔ وہ گھبرا گیا۔ اس کی بیوی نے روتے ہوئے کہا: “میں نے کہا تھا نا، بڑے لوگوں سے الجھنے کا انجام برا ہوتا ہے۔”
مکینک نے کپکپاتے ہاتھوں سے چپل پہنی اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس کے ذہن میں ہزار خدشات تھے:
“پتہ نہیں اب کیا ہوگا؟ کہیں جیل نہ ہو جائے؟ یا مزید ذلت؟”
جب وہ نواب اکبر بگٹی کے ڈیرے پر پہنچا تو ماحول بالکل مختلف تھا۔ نظم و ضبط، خاموشی اور وقار ہر طرف نظر آ رہا تھا۔ اسے اندر لے جایا گیا۔
نواب اکبر بگٹی کرسی پر بیٹھے تھے۔ سفید داڑھی، گہری آنکھیں اور رعب دار شخصیت۔ مکینک نے ڈرتے ہوئے سلام کیا۔
نواب اکبر بگٹی نے نہایت سنجیدہ آواز میں پوچھا: “کیا کل میرے بیٹے نے تمہیں مارا تھا؟”
مکینک نے نظریں جھکا کر کہا: “جی سردار صاحب… مگر میری کوئی غلطی نہیں تھی۔”
نواب اکبر بگٹی نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، پھر محافظ کو آواز دی: “طلال کو بلاؤ۔”
کچھ ہی دیر میں طلال بگٹی حاضر ہو گئے۔ ان کے چہرے پر اعتماد تھا، شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ معاملہ ان کے حق میں ہوگا۔
نواب اکبر بگٹی نے سخت لہجے میں پوچھا: “کیا تم نے اس مکینک پر ہاتھ اٹھایا تھا؟”
طلال بگٹی نے کہا: “جی، اس نے بدتمیزی کی تھی، گاڑی ٹھیک کرنے سے انکار کر دیا تھا۔”
نواب اکبر بگٹی نے میز پر ہاتھ مارا: “کیا کسی کا انکار کرنا بدتمیزی ہے؟
کیا تمہارا نام بگٹی ہونا تمہیں یہ حق دیتا ہے کہ تم کسی غریب پر ہاتھ اٹھاؤ؟”
طلال بگٹی خاموش ہو گئے۔
نواب اکبر بگٹی نے محافظ کو حکم دیا: “اس مکینک کے سامنے کھڑے ہو جاؤ۔”
پھر انہوں نے مکینک کی طرف دیکھ کر کہا: “بیٹا، کل تمہیں جتنے تھپڑ لگے تھے، آج وہی تھپڑ واپس لو۔”
مکینک کانپ گیا: “نہیں سردار صاحب، میں یہ نہیں کر سکتا۔ وہ آپ کے بیٹے ہیں۔”
نواب اکبر بگٹی کی آواز مزید سخت ہو گئی: “یہ میرا بیٹا نہیں، یہ ایک ظالم ہے۔ اور ظلم کے سامنے خاموش رہنا بھی گناہ ہے۔”
لوگوں کے مطابق مکینک کے ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے ایک ہلکا سا تھپڑ مارا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا: “جتنے لگے تھے، اتنے پورے کرو۔”
مکینک نے بمشکل گنتی پوری کی۔ ہر تھپڑ طلال بگٹی کے لیے نہیں، بلکہ غرور کے منہ پر تھا۔
اس کے بعد نواب اکبر بگٹی نے مکینک کو قریب بلایا، اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا: “بیٹا، عزت نام یا طاقت سے نہیں، انصاف سے ملتی ہے۔
آج اگر میرا بیٹا غلط ہے تو وہ عام آدمی سے بھی کمتر ہے۔”
پھر انہوں نے مکینک کو کچھ رقم دی اور کہا: “یہ تمہاری تذلیل کا نہیں، تمہاری عزت کا معاوضہ ہے۔ اور یاد رکھو، سچ بولنے والا کبھی چھوٹا نہیں ہوتا۔”
مکینک روتا ہوا وہاں سے نکلا، مگر آج اس کے آنسو کمزوری کے نہیں، عزت کے تھے۔
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل سرداری طاقت میں نہیں، انصاف میں ہوتی ہے۔
اور جو باپ اپنے بیٹے کو بھی قانون کے برابر کھڑا کر دے، وہی دراصل قوم کا رہنما کہلانے کے قابل ہوتے ہیں 😳
فالوؤ اور شیئر کیجئے 👍❤️💓💓

ڈاکٹر ماہ رنگ رہشوان — بلوچ قوم کی باہمت بیٹیڈاکٹر ماہ رنگ رہشوان، بلوچ قوم کی ایک باشعور، نڈر اور مظلوموں کی آواز بننے ...
24/01/2026

ڈاکٹر ماہ رنگ رہشوان — بلوچ قوم کی باہمت بیٹی

ڈاکٹر ماہ رنگ رہشوان، بلوچ قوم کی ایک باشعور، نڈر اور مظلوموں کی آواز بننے والی بیٹی ہیں۔ وہ نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ اپنی قوم کے اُن دکھوں کی ترجمان بھی ہیں جنہیں برسوں سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ نے ہمیشہ بلوچ قوم، خصوصاً جبری گمشدگیوں اور قید و لاپتہ افراد کے مسئلے پر آواز بلند کی ہے۔

میں دعا کرتی ہوں کہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر لاپتہ یا قید بلوچ لڑکیاں جلد سلامت ہوں۔ اللہ تعالی انہیں حفاظت، سکون اور آزادی عطا فرمائے۔
میری دعائیں روضہ رسول ﷺ اور مسجد الحرام میں بھی ہیں، کہ اللہ ہمارے بلوچ قوم کے لیے بھلائی اور رحمت نازل فرمائے❤️

محمد رضوان رخشانی 🕊️

24/01/2026

بلوچستان کی سرزمین قدرت کے انمول خزانوں اور طویل ساحلی پٹی سے مالا مال ہونے کے باوجود، بدقسمتی سے آج بھی اپنے بنیادی حقو...
17/01/2026

بلوچستان کی سرزمین قدرت کے انمول خزانوں اور طویل ساحلی پٹی سے مالا مال ہونے کے باوجود، بدقسمتی سے آج بھی اپنے بنیادی حقوق اور وسائل سے محرومی کی ایک المناک داستان پیش کر رہی ہے۔ سونا، تانبا، اور گیس جیسے بیش قیمت ذخائر رکھنے والا یہ صوبہ پسماندگی کی تصویر بنا ہوا ہے، جہاں کی پیاسی زمین اور خشک لب حکومتوں کی عدم توجہی کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔ پانی کی شدید قلت نے نہ صرف زراعت اور لائیو اسٹاک کو تباہ کر دیا ہے، بلکہ دور دراز علاقوں میں خواتین میلوں پیدل چل کر پینے کا صاف پانی لانے پر مجبور ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس صوبے کی گیس سے پورے ملک کے چولہے جلتے ہیں، وہاں کے اپنے لوگ آج بھی ایندھن اور پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ یہ معاشی تضاد اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بلوچستان کے عوام میں احساسِ محرومی کو جنم دے رہی ہے، جس کا حل صرف نعروں میں نہیں بلکہ عملی اقدامات اور مخلصانہ پالیسی سازی میں پنہاں ہے۔

بلوچستان کی تاریخ بہت قدیم ہے اور یہ نام اسے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ملا۔بلوچستان کا پرانا نام کیا تھا؟قدیم زمانے می...
08/01/2026

بلوچستان کی تاریخ بہت قدیم ہے اور یہ نام اسے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ملا۔
بلوچستان کا پرانا نام کیا تھا؟
قدیم زمانے میں اس خطے کے مختلف حصوں کو الگ الگ ناموں سے پکارا جاتا تھا:
* مکران: جنوبی حصے کو قدیم یونانی مؤرخین "گیدروشیا" (Gedrosia) کہتے تھے، جبکہ مقامی طور پر اسے "مکا" یا مکران کہا جاتا تھا۔
* توران: وسطی بلوچستان (خضدار اور قلات کے ارد گرد کا علاقہ) کو قدیم اسلامی تاریخ میں "توران" کے نام سے جانا جاتا تھا۔
* سیوستان: سبی اور اس کے قریبی علاقوں کو سیوستان کہا جاتا تھا۔
یہ "بلوچستان" کیسے بنا؟
اس خطے کا نام "بلوچستان" (یعنی بلوچوں کے رہنے کی جگہ) پڑنے کے پیچھے ایک طویل تاریخی عمل ہے:
1. بلوچ قبائل کی آمد:
تاریخی شواہد کے مطابق، بلوچ قبائل نے ایران اور حلب (شام) کے علاقوں سے نقل مکانی شروع کی اور مختلف ادوار میں اس خطے میں آباد ہوتے گئے۔ 12ویں صدی عیسوی تک یہ قبائل اس وسیع علاقے میں اپنی شناخت قائم کر چکے تھے۔
2. سیاسی وحدت (قلات کی ریاست):
بلوچستان کو ایک سیاسی پہچان تب ملی جب میر احمد خان قمبرانی نے 1666ء میں قلات کی ریاست کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد نصیر خان نوری (جسے نصیر خان اعظم بھی کہا جاتا ہے) کے دور میں تمام بلوچ قبائل کو متحد کیا گیا اور اس پورے خطے کو ایک باقاعدہ جغرافیائی اکائی کے طور پر پہچانا جانے لگا۔
3. برطانوی دور:
انگریزوں کے آنے کے بعد اس خطے کو انتظامی طور پر "برٹش بلوچستان" اور "ریاست قلات" میں تقسیم کیا گیا، لیکن مجموعی طور پر اس پورے خطے کے لیے "بلوچستان" کا لفظ ہی رائج رہا۔
خلاصہ
"بلوچستان" کا نام فارسی لفظ "بلوچ" اور "ستان" (جگہ/سرزمین) سے مل کر بنا ہے۔ یہ نام 15ویں صدی کے بعد زیادہ مشہور ہوا جب بلوچ قبائل نے اس زمین پر اپنی مستقل حکمرانی قائم کر لی اور پرانے نام (گیدروشیا یا توران) رفتہ رفتہ تاریخ کا حصہ بن گئے۔

لفظ ”سریاب“ فارسی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے، جس کے معنی اس علاقے کی جغرافیائی حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں: * سر: اس کا مط...
03/01/2026

لفظ ”سریاب“ فارسی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے، جس کے معنی اس علاقے کی جغرافیائی حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں:
* سر: اس کا مطلب ہے "اوپر"، "چوٹی" یا "سر چشمہ"۔
* آب: اس کا مطلب ہے "پانی"۔
چنانچہ سریاب کا مجموعی مطلب ہے ”پانی کا سرچشمہ“ یا وہ جگہ جہاں سے پانی نکلتا ہو۔
تاریخی پس منظر
کوئٹہ کے اس علاقے کو یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ ماضی میں یہ علاقہ زیر زمین پانی اور کاریزات (انڈر گراؤنڈ واٹر چینلز) کا مرکز تھا۔ یہاں پانی کی فراوانی تھی اور کوئٹہ کے دیگر حصوں کی نسبت یہاں پانی کی سطح کافی اوپر تھی۔
* کاریز سسٹم: قدیم دور میں سریاب میں بہت سی کاریزیں ہوا کرتی تھیں جو پورے شہر کو سیراب کرتی تھیں۔
* زرخیزی: پانی کی اسی سہولت کی وجہ سے یہ علاقہ انتہائی سرسبز و شاداب اور باغات کے لیے مشہور تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پانی کی سطح گر گئی اور وہ پرانی کاریزیں خشک ہو گئیں، لیکن یہ نام آج بھی اس علاقے کی پہچان کے طور پر باقی ہے۔
کیا آپ سریاب کی تاریخ یا وہاں کے مشہور مقامات کے بارے میں مزید کچھ جاننا چاہیں گے؟

کوہِ چلتن بلوچستان، پاکستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب واقع ایک مشہور اور پرسرار پہاڑی سلسلہ ہے۔ یہ کوہِ سلیمان کے پہاڑ...
02/01/2026

کوہِ چلتن بلوچستان، پاکستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب واقع ایک مشہور اور پرسرار پہاڑی سلسلہ ہے۔ یہ کوہِ سلیمان کے پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے اور اپنی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ مقامی روایات اور قصوں کی وجہ سے بھی معروف ہے۔
اس پہاڑ کے بارے میں کچھ اہم معلومات درج ذیل ہیں:
1. جغرافیائی اہمیت
* بلندی: کوہِ چلتن کی بلند ترین چوٹی تقریباً 3,194 میٹر (10,479 فٹ) بلند ہے۔
* مقام: یہ کوئٹہ کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور ہربوئی وائلڈ لائف سنکچری کا حصہ ہے۔
2. نام کی وجہ اور پراسراریت
لفظ "چلتن" فارسی کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے: "چہل" (چالیس) اور "تن" (جسم یا بندے)۔
* مقامی روایت: ایک قدیم لوک داستان کے مطابق، اس پہاڑ پر چالیس بچوں کی روحیں بستی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بے اولاد جوڑے کی دعا سے چالیس بچے پیدا ہوئے تھے جنہیں وسائل کی کمی کی وجہ سے پہاڑ پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ آج بھی ان بچوں کے رونے اور ہنسنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
3. ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک
اس پہاڑی سلسلے کا ایک بڑا حصہ ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک میں شامل ہے۔
* جنگلی حیات: یہ پارک خاص طور پر نایاب "چلتن مارخور" کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں لومڑیاں، بھیڑیے اور مختلف اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں۔
* سیاحت: کوئٹہ آنے والے سیاح یہاں ہائیکنگ اور ٹریکنگ کے لیے آتے ہیں، حالانکہ اس کی چڑھائی کافی دشوار گزار سمجھی جاتی ہے۔
4. آب و ہوا
سردیوں میں یہ پہاڑ مکمل طور پر برف سے ڈھک جاتا ہے، جو کوئٹہ کے منظر کو مزید دلکش بنا دیتا ہے۔ گرمیوں میں یہاں کا موسم خوشگوار رہتا ہے، لیکن چوٹی تک پہنچنے کے لیے سخت راستوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کیا آپ اس پہاڑ کی سیر کے حوالے سے کوئی مخصوص معلومات (جیسے ٹریکنگ کے راستے یا بہترین وقت) جاننا چاہیں گے؟

پرنسس آف ہوپ (امید کی شہزادی) پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع ہنگول نیشنل پارک کی سب سے مشہور اور خوبصورت قدرتی چٹانوں...
02/01/2026

پرنسس آف ہوپ (امید کی شہزادی) پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع ہنگول نیشنل پارک کی سب سے مشہور اور خوبصورت قدرتی چٹانوں میں سے ایک ہے۔ یہ مکران کوسٹل ہائی وے کے قریب واقع ہے اور اپنی منفرد بناوٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔
​اس کے بارے میں چند اہم معلومات درج ذیل ہیں:
​تاریخی پس منظر اور نام
​قدرتی شاہکار: یہ کوئی انسانی مجسمہ نہیں ہے، بلکہ لاکھوں سالوں سے چلنے والی ہواؤں اور بارشوں نے پہاڑوں کو تراش کر اسے ایک کھڑی خاتون کی شکل دے دی ہے۔
​انجلینا جولی کا کردار: اس چٹان کو یہ نام مشہور ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی نے دیا تھا۔ انہوں نے 2002 میں اقوام متحدہ کی سفیر کے طور پر اس علاقے کا دورہ کیا اور اس چٹان کی خوبصورتی اور وقار کو دیکھ کر اسے "Princess of Hope" کا نام دیا۔
​جغرافیائی اہمیت
​یہ علاقہ اپنے بنجر پہاڑوں اور "چاند جیسی سطح" (Lunar Landscape) کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے قریب ہی ایک اور مشہور چٹان واقع ہے جسے "بلوچستان اسفنکس" (Sphinx) کہا جاتا ہے، جو قدیم مصر کے اسفنکس سے مشابہت رکھتی ہے۔

میں تمہیں ہمیشہ خوبصورت لکھتا ہوں کیونکہ تم ہو آگر تم اپنی خوبصورتی دیکھنا چاہتے ہو  تو تم میری نظروں سے خود کو دیکھنا ۔...
02/01/2026

میں تمہیں ہمیشہ خوبصورت لکھتا ہوں کیونکہ تم ہو آگر تم اپنی خوبصورتی دیکھنا چاہتے ہو تو تم میری نظروں سے خود کو دیکھنا ۔۔۔بلوچستان

بلوچ ٹیک نے دنیا کا پہلا بلوچی اے آئی پلیٹ فارم متعارف کروا دیا بلوچی زبان کی ڈیجیٹل دنیا میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ...
29/12/2025

بلوچ ٹیک نے دنیا کا پہلا بلوچی اے آئی پلیٹ فارم متعارف کروا دیا

بلوچی زبان کی ڈیجیٹل دنیا میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے بلوچ ٹیک (Balochtech.com) نے دنیا کا پہلا مکمل بلوچی اے آئی پلیٹ فارم جاری کر دیا ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر بلوچی زبان کو بولنے، سمجھنے، پڑھنے اور لکھنے کی جامع صلاحیت رکھتا ہے۔

بلوچ ٹیک کے بانیوں کے مطابق، یہ پلیٹ فارم ویب سائٹ، اینڈرائیڈ ایپ اور آئی او ایس ایپ کی شکل میں دستیاب ہے، جو بلوچی بولنے والوں، زبان سیکھنے والوں، طلبہ، صحافیوں اور محققین کے لیے ایک جدید اور سادہ ڈیجیٹل ٹول فراہم کرتا ہے۔

بلوچی اے آئی نہ صرف لغت کا کام کرتا ہے بلکہ سوالات کے جواب دیتا ہے، بلوچی میں مضامین اور تحریر لکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے، روزمرہ گفتگو کو آسان بناتا ہے اور زبان کے درست استعمال کی رہنمائی کرتا ہے۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد بلوچی زبان کو ڈیجیٹل دور میں زندہ اور فعال رکھنا ہے، تاکہ نئی نسل اپنی مادری زبان کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ سکے اور اسے تعلیم، تحقیق اور روزمرہ زندگی میں بھرپور استعمال کر سکے۔

Quetta ♥️
22/11/2025

Quetta ♥️

ڈاکٹر مارنگ بلوچ: ایک قیدی نہیں، ایک نظریہ"تحریر: حفیظ بلوچڈاکٹر مارنگ بلوچ ایک ایسا نام جو صرف کسی شخص کی شناخت نہیں،بل...
02/07/2025

ڈاکٹر مارنگ بلوچ: ایک قیدی نہیں، ایک نظریہ"

تحریر: حفیظ بلوچ

ڈاکٹر مارنگ بلوچ
ایک ایسا نام جو صرف کسی شخص کی شناخت نہیں،
بلکہ ایک نسل کے شعور، احساس اور مزاحمت کی علامت ہے۔
وہ استاد ہے، لیکن صرف جماعت کا نہیں،
وہ ایک ایسی قوم کا استاد ہے جسے تاریخ نے ہمیشہ مٹانے کی کوشش کی۔
ڈاکٹر مارنگ نے بلوچ نوجوان کو صرف الف بے نہیں سکھائی،
اس نے اسے بتایا کہ غلامی کے خلاف لکھنا بھی ایک فرض ہے،
اور جبر کے آگے سر نہ جھکانا بھی علم کا تقاضا ہے۔
وہ ایک ایسی آواز تھا جو مظلوموں کے لیے بولتی تھی،
جو ہر اس طالبعلم کے ساتھ کھڑی تھی جسے اس کی شناخت کی سزا دی جا رہی تھی۔
آج وہ جیل میں ہے،
نہ اس لیے کہ وہ مجرم ہے،
بلکہ اس لیے کہ وہ باشعور ہے، باہمت ہے، باوقار ہے۔
ریاست کو وہ نوجوان پسند ہیں جو خاموش ہوں،
جو صرف نوکری، ڈگری اور تنخواہ کی فکر کریں —
لیکن ڈاکٹر مارنگ نے انہیں بتایا کہ
علم صرف روزگار نہیں، ذہنی آزادی کا ذریعہ بھی ہے۔
وہ طالب علموں کے ساتھ کھڑی رہی ،
جب وہ یونیورسٹیوں سے لاپتہ کیے جا رہے تھے۔
وہ ماؤں کے ساتھ کھڑی رہی ،
جب وہ اپنے بچوں کی تصویریں اٹھائے سڑکوں پر احتجاج کر رہی تھیں۔
آج جب وہ خود سلاخوں کے پیچھے ہے،
تو سوال یہ نہیں کہ وہ کہاں ہے —
سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟
کیا ہم وہ قوم ہیں جو اپنے رہنماؤں کی قربانیوں کو فراموش کر دیتی ہے؟
یا ہم وہ لوگ ہیں جو جبر کے سامنے صرف تب بولتے ہیں جب اپنے در پر زخم لگتا ہے؟
ڈاکٹر مارنگ بلوچ کا کردار صرف ایک قیدی کا نہیں،
وہ بلوچ طالب علم کی امید ہے،
بلوچ ماں کی دعا ہے،
اور ہر اس نوجوان کا خواب ہے
جو آزاد بلوچستان میں سانس لینا چاہتا ہے۔
اس کی قید ہماری خاموشی کا نتیجہ ہے۔
اور اگر ہم اب بھی خاموش رہے،
تو کل تاریخ ہمیں بھی ظالموں کے ساتھ لکھے گی۔
آؤ،
ایک آواز بنیں، ایک فکر بنیں،
ڈاکٹر مارنگ کے لیے نہیں،
خود اپنے لیے۔
کیونکہ اگر وہ خاموش ہوا،
تو ہم سب گونگے ہو جائیں گے
یہ وقت صرف ماتم کا نہیں، یہ وقت سوچنے اور فیصلہ کرنے کا ہے۔
ڈاکٹر مارنگ بلوچ ہم میں سے ایک تھا —
ہماری طرح یونیورسٹی گئی ، ہماری طرح تعلیم حاصل کی،
مگر فرق یہ تھا کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں،
اپنی قوم، اپنی سرزمین، اور اپنے مستقبل کے لیے جیتا رہا۔
آج اگر وہ جیل میں ہے تو اس لیے نہیں کہ وہ طاقتوروں سے ہار گئی ،
بلکہ اس لیے کہ وہ جھکی نہیں۔
اور جس قوم کے استاد جھکنے سے انکار کر دیں،
اس قوم کے نوجوانوں کا جھکنا گناہ ہے۔
ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ریاست کا ظلم وقتی ہو سکتا ہے،
مگر خاموشی مستقل زوال لاتی ہے۔
اگر ہم نے آج بھی قلم نہیں اٹھایا،
اگر ہم نے آواز نہیں دی،
تو ہم صرف مارنگ کو نہیں،
اپنے مستقبل کو بھی دفنا دیں گے۔
ہمیں اب شعور، علم، اور ہمت کا چراغ تھامنا ہوگا۔
کیونکہ یہ جنگ گولی سے نہیں جیتی جا سکتی،
یہ جنگ فہم، تحریر، اور اتحاد سے جیتی جائے گی۔
مارنگ کا راستہ مشکل ہے، مگر روشن ہے۔
وہ ہمیں بتا کر گئی ہے کہ
"جب حق کے لیے بولنا جرم بن جائے،
تو خاموشی سب سے بڑا گناہ بن جاتی ہے۔"

Address

Quetta Balochistan
Quetta
87300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rizwan Baloch posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share