05/06/2026
اخلاقیات کے بغیر سیاست شعبدہ بازی ہے!!!
تحریر : محمد صدیق کھیتران
عجیب قسم کی توجیہات پیش کیجاتی ہیں۔ کہاجاتا ہے۔ میختر، سنجاوی، مسلم باغ ،کاریزات، وغیرہ بیکڑ کے مقابلے میں بڑے بازار اور دوکانیں رکھتے ہیں ۔ اس لیئے ان کو بھی ضلع کا درجہ دیا جائے۔ کاریزات اور سرانان کا تو شاید مقامی مسلہ بنا جو کسی وقت حل ہو جائے گا۔ شیرانی ضلع کے ہیڈ کوارٹر مانی خواہ میں کتنی دکانیں ہیں۔ میرے اندازے میں پچیس تیس پہلے بننے والے اس ضلع کا کرائٹیریا منتشر اور وسیع رقبہ ہی ہوگا۔ اگر دکانوں کا ہونا ہی میعار ہے۔ تو کیا میختر ، سنجاوی اور مسلم باغ کی اہمیت گڈانی، سونمیانی، وندر، اورماڑہ، پسنی، دریجی اور جیونی سے بھی زیادہ ہے۔باقی بلوچستان کو چھوڑ دیں۔اکیلا آواران کا رقبہ سویٹزرلینڈ، بلجیم، سنگاپور اور تائیوان جیسے ملکوں سے بڑا ہے۔ طرح طرح کی احمقانہ تاویلیں پیش کیجاتی ہیں۔ کوئیٹہ اور بولان کا کرایہ چھتیس ہزار اور بولان کا دولاکھ خان قلات کو برٹش ایمپائر ادا کرتی تھی۔ ان تقریبات کے عکس اور دستاویزات جب سامنے لائی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے۔ بلوچوں نے تاج برطانیہ کو ایسا کرنے پر مجبور کر رکھا تھا۔کون سمجھائے ان کو سیاسی اصطلاح میں اسی کو ساورنٹی کہاجاتا ہے۔طرفہ تماشہ دیکھو۔ بارکھان کا کھیتران کب نواب جوگیزئی کی کسی دستار بندی میں شامل رہا ہے یا پھر پشتون ولی کا حصہ رہا ہے۔ ضلع میں لگ بھگ پرانے نئے 500 قبرستان ہیں۔ کس قبرستان میں کوئی پشتون بزرگ دفن ہے۔ اس وقت ضلع بارکھان کی دولاکھ دس ہزار کی آبادی ہے۔ کوئی ایک بارکھان کا مقامی باشندہ ہے جو پشتو زبان بولتا ہو۔ اور پشتون روائیت کو فالو کرتا ہو۔ یا پھر26 ہزار کھیتران خاندانوں میں سے کتنے خاندان کا ووٹ بنک فلاں پشتون لیڈر کا ہے ۔یا پھر فلاں قوم پرست پارٹی کا متحرک یونٹ کام کر رہا ہے۔ پورے ضلع میں کوئی ایک فٹ زمین کا انتقال فلاں ترین یا کاکڑ قبیلے کے کسی فرد کے نام پر ہے۔
سو دفعہ پریس کانفرنس کریں۔ بلوچ اپنی زمین پر آباد ہے اور پشتون اپنی زمین پر آباد ہے۔ کوئی ایک قوم اپنی زمین سے ایک انچ پیچے ہٹے گی اور ناہی ایسا ممکن ہے۔جہاں جہاں سے ریلوے گزری ہے وہ برٹش بلوچستان تھا۔ کیا اب نوشکی اور دالبندین کو بھی جنوبی پختونخوا کا حصہ بناؤ گے ۔ عجیب دلائل دیئے جاتے ہیں۔ کبھی قومی اسمبلی میں شاہوانی،لہڑی اور بنگلزئی جیسے عظیم قبائیل کو کہتے ہو ۔وہ ہمارے بزگر تھے۔ کوئیٹہ تحصیل آفس جاؤ تو کانسی، بازئی، لہڑی، شاہوانی اور بنگلزئی قبائل کے نام سو سالہ پرانا بندوبستی ریکارڈ مل جاتا ہے۔یہ حقیقت ہے اور اس کو کون جھٹلا سکتا ہے۔ کس بندوبستی ریکارڈ میں درج ہے۔کہ فلاں بلوچ قبیلہ, بزگر یا ادنئی مالک تھا۔
البتہ لوٹ مار اور سڑکوں پر کسی بھی بے گناہ پنجابی ، ہزارہ، پشتون اور بلوچ کا جانی و مالی نقصان کسی صورت نہیں ہونا چاہیئے۔ ڈاکٹر مالک کے دور میں گورنر سمیت منصوبہ بندی، تعلیم، ایریگیشن، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ، لیبر سمیت متعدد محکمے آپ کی جماعت کے پاس تھے۔ آپ چاہتے تو اپنے صوبے کیلئے اسمبلی کو استعمال کرتے اور صوبہ بنانے کی قرار داد سامنے لے اتے۔ پی ایس ڈی پی کے انچارج آپ کے نامدار بھائی تھے۔ حتئ کہ مالک کے ہٹنے کے بعد بھی آپ کے پاس تو وہی وزارتیں رہی ہیں۔ پی ایس ڈی پی نکالو۔اور چیک کرو، وہ منصوبے کہاں گئے ہیں۔ سانپ نکل جائے تو لکیر پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔