National Party - Official

National Party - Official National Party is a prominent progressive nationalist political party active in Pakistan, guided by the principles of social democracy.

For more information: www.nationalparty.org.pk

ضلعی کونسل اجلاس نیشنل پارٹی خضدار 6 ستمبر 2026اجلاس بیاد مرحوم کونسلر میر امید خان محمد حسنی کی یاد میں منعقد ہوا۔نیشنل...
06/09/2026

ضلعی کونسل اجلاس
نیشنل پارٹی خضدار
6 ستمبر 2026

اجلاس بیاد مرحوم کونسلر میر امید خان محمد حسنی کی یاد میں منعقد ہوا۔

نیشنل پارٹی خضدار کا ضلعی کونسل اجلاس زیر صدارت ضلعی صدر رئیس بشیر احمد مینگل خضدار پریس کلب میں مرحوم کونسلر میر امید خان محمد حسنی کی یاد میں منعقد ہوا۔
اجلاس کے مہمانِ خصوصی نیشنل پارٹی کے صوبائی فنانس سیکریٹری میر اشرف علی مینگل جبکہ اعزازی مہمانوں میں ریجنل سیکریٹری ایڈوکیٹ عبدالحمید بلوچ ، بی ایس او پجار کے صوبائی صدر شکیل بلوچ اور سابقہ میئر خضدار میر عبدالرحیم کرد شامل تھے۔

اجلاس سے صوبائی فنانس سیکرٹری میراشرف علی مینگل،ضلعی صدر رئیس بشیر احمد مینگل،ریجنل سیکرٹری ایڈوکیٹ عبدالحمید بلوچ،سابقہ میئر خضدار میر عبدالرحیم کرد،بی ایس او پجار کے صوبائی صدر شکیل بلوچ،چیئرمین امین بلوچ،تحصیل نال کے صدر میر طیب بزنجو،اسپورٹس یوتھ سیکرٹری خورشید رند،تحصیل جنرل سیکرٹری کریم بلوچ،عبدالواہاب غلامانی،محمد وارث شاہین،فیض احمد عمرانی،ریاض شاہوانی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی عوام کو منظم کرنے اور ان کے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ہمیشہ عوام کے درمیان رہ کر سیاسی، پرامن اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔

مقررین نے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے، جہاں عوام کے مسائل اور مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ خوراک اور کھاد کی ترسیل میں رکاوٹ، شاہراہوں پر عام مسافروں کے لیے عدم تحفظ، معاشی سرگرمیوں میں کمی اور تجارت، تعلیم و صحت کے شعبوں پر منفی اثرات نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے نازک حالات میں حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے عوام کو ریلیف اور تحفظ فراہم کرنا چاہیے، مگر اس کے برعکس بعض ایسے اقدامات اور فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام میں بے چینی، پریشانی اور اضطراب مزید بڑھ رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے اور بلوچستان میں امن، سیاسی استحکام اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے۔

مقررین نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات کے باوجود نیشنل پارٹی کی تمام سطح کی قیادت اور کارکنان اپنی قومی و وطنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے مسلسل سیاسی و جمہوری جدوجہد میں مصروف ہیں۔ پارٹی عوام کے حقوق، جمہوری اقدار، آئین کی بالادستی، سیاسی آزادی اور بلوچستان کے عوام کی خوشحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اس سے قبل ضلعی کونسل کے اجلاس میں ضلعی جنرل سیکریٹری ناصر کمال بلوچ نے تفصیلی ضلعی سیکریٹری رپورٹ پیش کی، جس میں ضلعی تنظیمی سرگرمیوں، سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔

بعد ازاں مختلف تحصیلوں کے نمائندگان نے اپنی اپنی تحصیلی سیکریٹری رپورٹس پیش کیں۔ اس سلسلے میں تحصیل کرخ کے صدر ماچھی خان، تحصیل نال کے نائب صدر محمد اشرف ساسولی، تحصیل اورناچ کے صدر ثناء اللہ عمرانی، تحصیل باغبانہ کے ڈپٹی آرگنائزر ظفر جان خدرانی، تحصیل مولہ کے ڈپٹی آرگنائزر عبدالمجید زنگیجو اور سٹی خضدار کے جنرل سیکریٹری کریم بلوچ نے اپنی تحصیلوں کی تنظیمی کارکردگی اور سرگرمیوں سے متعلق رپورٹس پیش کیں۔

ضلع کونسل اجلاس نے درج ذیل قراردادیں متفقہ رائے سے منظور کیں۔

1- آج کا اجلاس ضلع خضدار میں امن و امان کی مخدوش صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت عوام کی جان و مال، عزت آبرو کے تحفظ کو یقینی بنائے، بلا تفریق مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

2- ضلع خضدار کے مختلف محکموں میں ملازمتوں کی تقرری بندر بانٹ، من پسندی، میرٹ کی پامالی پر تحفظات کا اظہار کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ حق داروں کو ملازمتیں ملنی چاہئیں اور میرٹ کو لاگو کیا جائے۔

3- آج کا اجلاس مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت کی طرف سے یوریا اور کھاد کی بندش کے فیصلے کو واپس لیا جائے اور پارٹی زمینداروں کی مطالبات کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔

4- آج کا اجلاس شہری خدمات کے اداروں، صحت عامہ کے شعبہ جات اور تعلیمی اداروں کو بہتر بنانے اور میڈیکل کالج کی تکمیل شہریوں کی عدم سہولیات فراہمی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ عوام کو صحت عامہ اور بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس کے اختتام پر مرحوم کونسلر میر امید خان محمد حسنی کے ایصالِ ثواب اور مغفرت کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔

کیچ میں بدامنی، چوری ڈکیتی اور بارڈر ٹریڈ کی بندش ناقابلِ قبول ہے، عوام کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑ سکتے: آل پارٹیز کیچ...
06/09/2026

کیچ میں بدامنی، چوری ڈکیتی اور بارڈر ٹریڈ کی بندش ناقابلِ قبول ہے، عوام کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑ سکتے: آل پارٹیز کیچ

تربت: کیچ میں بڑھتی ہوئی چوری ڈکیتی، بدامنی، تمام بارڈر پوائنٹس کی مسلسل بندش اور بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کے معاشی قتل کے خلاف آل پارٹیز کیچ اور انجمن تاجران کی جانب سے 8 ستمبر کو صبح 11 بجے تربت پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

آل پارٹیز کیچ کے اہم اجلاس میں کیچ کی مجموعی سیاسی، سماجی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کیا گیا کہ بلیدہ، دشت، ہوشاپ اور تربت سمیت کیچ کے مختلف علاقوں میں چوری، ڈکیتی اور لوٹ مار کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ پولیس اور انتظامیہ کی خاموشی اور بے عملی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ آئے روز شہریوں کی موٹر سائیکلیں چوری ہو رہی ہیں، گھروں میں ڈکیتیاں کی جا رہی ہیں اور کاروباری افراد کی دکانیں لوٹی جا رہی ہیں۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کیچ میں عوام خود کو غیر محفوظ اور چوروں کو بااختیار محسوس کر رہے ہیں۔ پولیس انتظامیہ اگر شہریوں کے جان و مال کا تحفظ نہیں کرسکتی تو اسے اپنی کارکردگی اور ذمہ داری کا جواب دینا ہوگا۔ پولیس کا کردار صرف تھانوں کی حدود تک محدود رہنا عوام کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔

آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں نے کہا کہ بارڈر پوائنٹس کی بندش نے کیچ کے عوام کو شدید معاشی مشکلات اور بے چینی سے دوچار کردیا ہے۔ ہزاروں خاندانوں کا روزگار بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہے، لیکن سکیورٹی کے نام پر عوام کو ان کے معاشی ذرائع سے محروم کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

ریدیگ بارڈر پوائنٹ پر کاروباری افراد کو بلاجواز تنگ کرنے اور مختلف ڈیوٹیوں کے نام پر کسٹم کی جانب سے کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالنے سے بارڈر تجارت عملاً مفلوج ہوچکی ہے۔

رہنماؤں نے مزید کہا کہ سکیورٹی کے نام پر کیچ کے مختلف شاہراہوں اور عوامی راستوں کی بندش نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ تربت ہسپتال، ہائی کورٹ تربت اور لا کالج تربت جانے والے راستے بھی آئے روز بند کردیئے جاتے ہیں، جس سے مریضوں، طلبہ، وکلا اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوام کے بنیادی حقوق اور آمدورفت کو سکیورٹی کے نام پر مسلسل محدود کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

آل پارٹیز کیچ نے واضح کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، آزادانہ آمدورفت، روزگار اور بارڈر تجارت کی بحالی ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کیچ کے عوام کو ایک طرف بدامنی اور چوری ڈکیتی کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اور دوسری طرف معاشی سرگرمیوں کے راستے بند کرکے مزید آزمائش میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اجلاس میں کیچ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کے بعد احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ آل پارٹیز کیچ نے حکومت اور متعلقہ اداروں کو واضح پیغام دیا کہ اگر عوام کے بنیادی مسائل، امن و امان، بارڈر ٹریڈ اور آمدورفت کی صورتحال فوری طور پر بہتر نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، اور عوام کے حقوق کے لیے ہر آئینی و سیاسی فورم پر بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔

کیچ کے عوام کو لاوارث سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے؛ عوام اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی جماعتوں اور تاجر برادری کے ساتھ مل کر بھرپور مزاحمت کا آئینی و جمہوری حق محفوظ رکھتے ہیں۔

اجلاس میں آل پارٹیز کیچ کے کنوینر یونس جاوید بلوچ، ڈپٹی کنوینر فدا جان بلیدی، انجمن تاجران کیچ کے صدر نثار احمد جوسکی، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نواب شمبے زئی، پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کے رہنما خان محمد گچکی، جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما غلام یاسین بلوچ ، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر علی جان بلیدی، سعد احمد تگرانی، غلام اعظم دشتی، جمیل عمر دشتی، نیشنل پارٹی ضلع کیچ کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری اعجاز احمد جوسکی، ترجمان آل پارٹیز کیچ نوید تاج بلوچ اور عقیل مراد موجود تھے

بلوچستان گریٹ گیم کا شکار ہے ، قومی وحدتوں کو انتظامی یونٹوں کے نام پر تقسیم کرنے سے غربت بدامنی اور احساس محرومی میں مز...
06/09/2026

بلوچستان گریٹ گیم کا شکار ہے ، قومی وحدتوں کو انتظامی یونٹوں کے نام پر تقسیم کرنے سے غربت بدامنی اور احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوگا۔ اسلم بلوچ
کوئٹہ / نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر چیئرمین اسلم بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان بدترین بدامنی اور بیروزگاری سے دوچارہے جس کا سیاسی حل نکالنے کے بجائے حکمران انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہے ہیں ان خیالات کا اظہار وہ مستونگ میں نیشنل پارٹی کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کررہے تھے اس موقع پر ورکنگ کمیٹی کے اراکین آغافاروق شاہ ، نثار بلوچ ثمینہ ظفر ، نذیراحمد بگٹی ، ظفراقبال بلوچ ، رحمت اللہ بلوچ ، ظفر لہڑی ، وزیر خان شاہوانی امداد بلوچ ، نذیر احمد نورزئی، نے بھی خطاب کیا ، اسلم بلوچ نے کہا کہ ملکی سطع پر بدترین معاشی بدحالی سے نمٹنے کے لیئے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں زراعت ، گلہ بانی اور صنعتیں تباہ ہوچکی ہیں اب پورے ملک کی نظریں بلوچستان کے بیش بہا وسائل پر لگی ہوئی ہیں دوسری جانب درآمدات اور پٹرولیم مصنوعات پر ظالمانہ ٹیکسز ہی ملکی آمدنی کے ذرائع بن چکے ہیں مہنگائی اور بیروزگاری نے لوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے کوئی موثر منصوبہ بندی کے بجائے حکمران قومی وحدتوں کو درجنوں انتظامی یونٹوں میں تبدیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو غیرمنطقی اور غیر ضروری ہے، مقررین نے واضع کیا کہ نیشنل پارٹی ہی واحد سیاسی جماعت ہے جو سیاسی جمہوری جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو موجودہ بدترین صورتحال سے نکالنے کی آخری امید ثابت ہوسکتی ہے اس لیئے لازمی ہے کہ پارٹی کی تنظیم کو منظم کیا جائے نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے اور پارٹی کو گھر گھر تک پہنچانے کے لیئے تنظیم کاری کی جائے ، اجلاس نے 13ستمبر کے ضلع کونسل اجلاس کو موثر بنانے کے لیئے مختلف تجاویز پر غور کیا اور ہفتہ وار اجلاسوں کے تسلسل کو جاری رکھنے کے امر کا اعادہ کیا ۔

06/09/2026

محترمہ ڈاکٹر عائشہ کے والد محترم ملک فیض جان یوسفزئی کا شمار ہمارے اولین اور بلند ترین سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے، جو زندگی کی آخری سانسوں تک وطن اور اہلِ وطن کی خدمت کرتے رہے۔

ڈاکٹر صاحبہ کے خیالات سے کوئی بھی اختلاف کر سکتا ہے، مگر ان پر دہشت گردی کے مقدمات درج کرکے انہیں گرفتار کرنے کا کوئی سیاسی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔ ہمارا پُرزور مطالبہ ہے کہ انہیں باعزت طریقے سے رہا کیا جائے۔

06/09/2026

وعدے کے مطابق مائنز اینڈ منرلز ایکٹ میں ترمیم کی جائے، نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ کا بلوچستان اسمبلی میں خطاب

کیچ بارڈر کی بندش سے علاقائی مسائل میں مزید اضافہ، ہزاروں خاندان معاشی مشکلات اور فاقہ کشی کا شکار، بارڈر تجارت کی فوری ...
05/09/2026

کیچ بارڈر کی بندش سے علاقائی مسائل میں مزید اضافہ، ہزاروں خاندان معاشی مشکلات اور فاقہ کشی کا شکار، بارڈر تجارت کی فوری بحالی ناگزیر ہے: سینیٹر جان محمد بلیدی
تربت۔
نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیٹر جان محمد بلیدی سے کیچ بارڈر سے وابستہ نمائندگان کے ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں کیچ بارڈر کی طویل اور مسلسل بندش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال، مقامی آبادی کو درپیش معاشی مشکلات، بے روزگاری اور سرحدی تجارت سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کے مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر وفد نے سینیٹر جان محمد بلیدی کو آگاہ کیا کہ بارڈر کی بندش نے علاقے کے عوام کی مشکلات میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ سرحدی تجارت اور اس سے وابستہ دیگر معاشی سرگرمیوں کی بندش کے باعث ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا ہے، جبکہ بہت سے خاندان شدید معاشی مشکلات اور فاقہ کشی جیسی صورتحال سے دوچار ہیں۔

وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ کیچ بارڈر کی بندش نے پہلے ہی معاشی اور سماجی مسائل کا شکار علاقے کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں مقامی آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنی روزی روٹی کے لیے بارڈر تجارت سے وابستہ ہے، لہٰذا اس کی طویل بندش کے نہایت سنگین معاشی اور سماجی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر کی مسلسل بندش سے نہ صرف ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے بلکہ مقامی معیشت بھی شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ معاشی سرگرمیوں میں جمود کے باعث عوام میں بے چینی اور احساسِ محرومی بڑھ رہا ہے، جس کے فوری تدارک کی ضرورت ہے۔

سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ حکومت کو زمینی حقائق، مقامی آبادی کے معاشی مفادات اور سرحدی علاقوں کی مخصوص صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیچ بارڈر کو فوری طور پر کھولنا چاہیے۔ سرحدی تجارت کی بحالی سے نہ صرف مقامی معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ ہزاروں خاندانوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع بھی بحال ہوں گے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام کیچ بارڈر کی بندش کے مسئلے کا فوری اور مستقل حل نکالیں اور مقامی آبادی کو معاشی مشکلات سے نجات دلانے کے لیے سرحدی تجارت کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔

تربت:نیشنل پارٹی کیچ کی ضلعی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاک...
05/09/2026

تربت:
نیشنل پارٹی کیچ کی ضلعی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی کے کارکنوں کو ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات، قومی سیاست اور قومی سوچ کو اپنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس وقت مختلف نوعیت کی انتہاپسندی اور بدامنی کا شکار ہے، جس کے باعث عام شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ ایک جانب نوشکی اور دیگر علاقوں میں لوگوں کو اپنے گھروں سے منتقل کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں اور باغات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب قومی شاہراہوں کی بندش، ناکوں کے قیام، پلوں کو نقصان پہنچانے اور شہریوں کی گاڑیاں چھیننے کے واقعات بھی تشویشناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قیمتی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے، عام شہریوں، نوجوانوں اور ملازمین کو اغوا کرنے، ان پر مبینہ طور پر انسانیت سوز تشدد کرنے اور تاوان وصول کرنے جیسے واقعات نے بلوچستان کے عوام میں شدید خوف اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ شہریوں سے گاڑیاں اور ایمبولینسیں چھیننے کے واقعات بھی قابلِ مذمت ہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ ایسے اقدامات کے نتیجے میں بلوچستان کے عوام سنگین معاشی اور سماجی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ نوجوانوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، کاروبار تباہ ہو رہے ہیں اور اندرونِ بلوچستان آمدورفت کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو کسی بھی صورت تشدد، بدامنی اور عدم تحفظ کا نشانہ نہیں بننا چاہیے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ ملک اس وقت شدید معاشی دباؤ اور امن و امان کی خراب صورتحال سے دوچار ہے، لیکن حکمران ان بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینے کے بجائے ملک کو مزید تقسیم کرنے کی پالیسیوں پر گامزن نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو برطانوی دور کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی سے اجتناب کرنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قومی وحدتوں کی تقسیم کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ نیشنل پارٹی نئے صوبوں کے قیام کے نام پر قومی وحدتوں کی تقسیم کی پالیسی کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی وحدتوں کے حوالے سے ہمارا سیاسی سوچ اور رویہ سندھ کے عوام کی طرح ہونا چاہیے، جو اپنی تاریخی اور قومی وحدت کے تحفظ کے لیے واضح موقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی وحدتوں کی تقسیم کی باتیں ملک کو مزید کمزور کرنے کی سازش کے مترادف ہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں سرحدی تجارت کی بندش نے لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ سرحدی علاقوں کے عوام کا روزگار براہِ راست تجارت سے وابستہ ہے، لہٰذا سرحدی تجارت کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور عوام کی آمدورفت اور روزگار میں رکاوٹ بننے والی غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی ایک جمہوری اور سیاسی جماعت ہے جو اپنے تمام سیاسی اور قومی مقاصد کے حصول کے لیے پرامن اور جمہوری سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔
انہوں نے شہید ڈاکٹر لعل بخش بلوچ اور شہید محمد حسین بلوچ کی قومی، سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد قومی اور جمہوری سیاست کے کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یاد رہے کہ نیشنل پارٹی کیچ کا ضلعی کونسل اجلاس انہی شہداء کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔
انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا کو مثبت، ذمہ دارانہ اور مؤثر انداز میں استعمال کریں تاکہ نیشنل پارٹی کا سیاسی پروگرام، قومی سوچ اور عوامی مسائل پر پارٹی کا موقف گھر گھر تک پہنچایا جا سکے۔
اجلاس سے نیشنل پارٹی کے دیگر مرکزی اور ضلعی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور تنظیمی امور، بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل پر اظہارِ خیال کیا۔اجلاس سے رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ، سینیٹر اکرم دشتی، ریٹائرڈ جسٹس شکیل احمد بلوچ، میئر تبت بلخ شیر قاضی، ایڈوکیٹ ناظم الدین ، چیرمین بی ایس او بوھیر صالع بلوچ، محمدجان دشتی، نوید تاج، عبدالحفیظ علی بخش اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

نیشنل پارٹی کیچ کی ضلع کونسل کا اجلاس زیر صدارت ضلعی صدر یونس جاوید سرکٹ ھاوس تربت میں منعقد ہوئی۔ جس میں پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر مالک بلوچ، سنیٹرجان محمد بلیدئی اور ممبر قومی اسمبلی پھلین بلوچ نے بطور مہمانانِ خاص شرکت کی۔ اجلاس میں قائدیں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوئی جس کی سعادت تحصیل گوکدان کے صدر آصف فقیر نے حاصل کی۔ اجلاس تین سیشنز پر مشتمل تھا۔ پہلے سیشن میں ضلعی جنرل سکریٹری سرتاج گچکی نے سکریٹری رپورٹ پیش کیا اِس کے بعد درج زیل تحصیل نمائیندے تحصیل تربت ماسٹر طارق تحصیل آپسر احسان درا زئی، تحصیل گوکدان آصف فقیر، تحصیل کلاتک اسلام بلوچ، تحصیل کھڈان کہدہ عزیزاللہ، تحصیل ناصر آباد عبدالقیوم،تحصیل تمپ مسلم یعقوب، تحصیل بل نگور بہار بلوچ، تحصیل ہوشاپ ملا برکت، تحصیل شہرک وحید اختر ، تحصیل بلیدہ محمد عظیم، ڈنڈار کولواہ حمید بلوچ اور بالگترسے سخی بلوچ نے اپنے اپنے رپورٹ پیش کئے۔ دوسرے سیشن میں کارکنان نے بحث مباحثہ اور سوالات کئے۔

ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری عدم برداشت اور مطلق العنانیت کی آخری حد ہے ، مقدمہ واپس لیکر فوری رہا کیا جائے، نیشنل پارٹیکو...
05/09/2026

ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری عدم برداشت اور مطلق العنانیت کی آخری حد ہے ، مقدمہ واپس لیکر فوری رہا کیا جائے، نیشنل پارٹی
کوئٹہ/ نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان نے بلوچستان کے سینیئر ترین سیاستدان قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی کے رہنما بزرگ سیاستدان مرحوم ملک فیض محمد یوسفزئی کی صاحبزادی ریٹائرڈ پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کی ایک پریس کانفرنس کو جواز بناکرانسداد دہشتگردی کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے واضع ہوتا ہے کہ اسمبلیاں اور جمہوری حکومت کا نعرہ محض دکھاوے کے لیئے ہے عملی طورپر ملک میں بدترین مارشل لا نافذ ہےاسمبلیاں مقتدرہ کو خوش کرنے کے لیئے اپنے ہی اراکین کے خلاف مذمتی قرارداد پاس کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے، اظہار رائے پر قدغن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ساٹھ سالہ ایک ضعیف العمر ڈاکٹر کو جس کا تعلق بلوچستان کے صف اول کے اکابرین کے خاندان سے ہے محض ایک پریس کانفرنس لو جواز بنا کر رات کے اندھیرے میں ان کے گھر پہ چھاپہ مارکر گرفتار کیا گیا کوکہ ایک قابل مذمت عمل ہے،نیشنل پارٹی کا مطالبہ ہے کہ بلوچستان کے موجودہ نازک صورتحال کے پیش نظر مطلق العنانیت پر مبنی اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرکےڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف مقدمہ گی الفور واپس لیکر انہیں فوری طورپر رہا کیا جائے.

نیشنل پارٹی کیچ کا ضلع کونسل اجلاس بیاد شہید ڈاکٹر لعل بخش بلوچ اور شہید محمد حسین بلوچ سرکٹ ہاوس تربت میں زیر صدارت ضلع...
05/09/2026

نیشنل پارٹی کیچ کا ضلع کونسل اجلاس بیاد شہید ڈاکٹر لعل بخش بلوچ اور شہید محمد حسین بلوچ سرکٹ ہاوس تربت میں زیر صدارت ضلعی صدر یونس جاوید جاری ہے۔ اجلاس میں مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، چئیرمین بی ایس او پجار بوہیر صالح بلوچ سمیت پارٹی کے دیگر مرکزی، صوبائی، ضلعی و اراکین ضلع کونسل شریک ہیں۔

نیشنل پارٹی میں شامل ہونے والے نئے ساتھیوں کے اعزاز میں ضلعی سیکریٹریٹ خضدار میں پُروقار تقریب4 ستمبر 2026خضدار: نیشنل پ...
04/09/2026

نیشنل پارٹی میں شامل ہونے والے نئے ساتھیوں کے اعزاز میں ضلعی سیکریٹریٹ خضدار میں پُروقار تقریب
4 ستمبر 2026

خضدار: نیشنل پارٹی خضدار کے ضلعی سیکریٹریٹ میں نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے عاشق حسین کرد اور ان کے دیگر ساتھیوں کے اعزاز میں ضلعی تنظیم کی جانب سے پُروقار ٹی پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں نیشنل پارٹی کے ضلعی عہدیداران، تحصیل ذمہ داران اور کارکنان نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے نئے شامل ہونے والے ساتھیوں کو نیشنل پارٹی میں شمولیت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک جمہوری، نظریاتی اور فکری کارواں ہے، جس کی بنیاد عوامی حقوق، قومی وقار، جمہوریت، برابری، سیکولر و ترقی پسند سوچ اور سیاسی شعور پر قائم ہے۔

مقررین نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے اکابرین نے ہمیشہ ذاتی و گروہی مفادات کے بجائے اجتماعی اور عوامی مفادات کو مقدم رکھا۔ میر غوث بخش بزنجو کی پوری سیاسی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے آمریت، استبداد اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کی اور اپنے اصولی مؤقف کی پاداش میں طویل عرصہ زندانوں میں گزارا۔ ان کی سیاست کا بنیادی مقصد معاشرے میں برابری، سیاسی شعور اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانا تھا۔

مقررین نے موجودہ سیاسی و جمہوری صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور جمہوری اداروں کی کمزوری نے عوام کو شدید مایوسی سے دوچار کیا ہے۔ عوامی مینڈیٹ کی پامالی اور سیاسی فیصلوں میں غیر جمہوری طریقۂ کار نے ریاستی نظام پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔ آج سیاسی نمائندے اور عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے بھی اپنے معمول کے سیاسی و عوامی روابط میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جو جمہوری معاشرے کے لیے انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

مقررین نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی سیاست شخصیات، خاندانوں یا موروثی اقتدار کے گرد نہیں گھومتی بلکہ نظریے، سیاسی کارکن اور عوامی مفاد کو مرکزیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیشنل پارٹی میں کارکن کو عزت، سیاسی تربیت اور فیصلہ سازی میں کردار دیا جاتا ہے۔ نظریاتی سیاست کا یہ سفر عوامی طاقت اور سیاسی شعور کے ذریعے آگے بڑھتا رہے گا۔

مقررین نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سیاسی و حکومتی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک حقیقی سیاسی کارکن اور عوامی جدوجہد سے ابھرنے والے رہنما ہیں۔ ان کے دورِ حکومت میں بلوچستان میں امن و امان کے قیام، تعلیمی اداروں کے فروغ، یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز کے قیام، میرٹ کی بحالی اور گڈ گورننس کے حوالے سے اہم اقدامات کیے گئے۔ ان کی طرزِ سیاست اس بات کی مثال ہے کہ اگر اقتدار کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا جائے تو محدود وسائل کے باوجود مثبت تبدیلی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی میں نئے ساتھیوں کی شمولیت اس امر کا اظہار ہے کہ بلوچستان میں عوام اب بھی نظریاتی، جمہوری اور اصولی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ نیشنل پارٹی اپنے سیاسی و فکری سفر کو مزید منظم کرتے ہوئے عوامی حقوق، بلوچستان کے قومی و جمہوری حقوق، پارلیمانی بالادستی، سماجی انصاف اور حقیقی جمہوریت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

آخر میں نیشنل پارٹی کے ضلعی قائدین نے عاشق حسین کرد اور ان کے ساتھیوں کو پارٹی میں شمولیت پر خوش آمدید کہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ نئے شامل ہونے والے ساتھی پارٹی کے نظریے اور پروگرام کو آگے بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

Address

Firdosi Building, 4th Floor, Rustam G . Line, Jinnah Road
Quetta
87300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when National Party - Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to National Party - Official:

Shortcuts

Share