03/08/2026
رزق کی کشادگی اور تنگی
اللہ کی حکمت کا آئینہ
قرآنِ مجید کی یہ بابرکت آیت انسان کو رزق کے بارے میں ایک نہایت گہرا اور متوازن تصور عطا کرتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے، اور وہ اپنے بندوں کے حال سے خوب باخبر اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ اس ایک آیت میں زندگی کے کئی راز پوشیدہ ہیں، جو انسان کو شکر، صبر اور یقین کی راہ دکھاتے ہیں۔
سب سے پہلی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ رزق کا تعلق محض انسان کی محنت یا ظاہری اسباب سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت سے ہے۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ کم محنت کے باوجود فراخی میں ہوتے ہیں جبکہ کچھ لوگ سخت جدوجہد کے باوجود تنگی کا شکار رہتے ہیں۔ اگر انسان صرف ظاہری اسباب کو معیار بنائے تو وہ الجھن اور مایوسی میں مبتلا ہو جاتا ہے، لیکن یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اصل فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور اس کا ہر فیصلہ حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔
رزق کی کشادگی ہمیشہ اللہ کی رضا کی علامت نہیں ہوتی اور نہ ہی تنگی اس کی ناراضگی کا لازمی ثبوت ہے۔ بسا اوقات کشادگی آزمائش بن جاتی ہے، جہاں انسان تکبر، غفلت اور دنیا پرستی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح تنگی بھی ایک آزمائش ہے، جو بندے کے صبر، توکل اور اللہ پر یقین کو مضبوط کرتی ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کے پاس کتنا مال ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے حال میں اللہ کی رضا کو کیسے تلاش کرتا ہے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی حالت سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس کے لیے کیا بہتر ہے، کب دینا ہے اور کب روکنا ہے۔ انسان اپنی محدود عقل سے کبھی مکمل تصویر نہیں دیکھ سکتا، اس لیے اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے فیصلوں پر بھروسہ رکھے۔ جب رزق میں فراخی ہو تو شکر ادا کرے اور جب تنگی ہو تو صبر اختیار کرے، کیونکہ دونوں حالتیں دراصل بندے کے لیے خیر کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
مزید برآں، یہ آیت انسان کو حسد اور موازنہ کرنے سے بھی روکتی ہے۔ جب بندہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر ایک کا رزق اللہ کی طرف سے مقرر ہے، تو وہ دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر دل میں کدورت پیدا نہیں کرتا بلکہ اللہ کی تقسیم پر راضی رہتا ہے۔ یہی رضا قلبی سکون کا ذریعہ بنتی ہے۔
آخر میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ رزق کی اصل وسعت دل کی وسعت میں ہے۔ جس کا دل اللہ کی یاد سے بھر جائے، اسے قناعت نصیب ہو جائے، وہی حقیقی معنوں میں مالدار ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی کوشش جاری رکھیں، حلال رزق کی طلب کریں، اور ہر حال میں اللہ کی حکمت پر یقین رکھیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شکر اور صبر دونوں کی دولت عطا فرمائے اور اپنی رضا پر راضی رہنے والا بندہ بنا دے۔ آمین۔