Hasan khan

Hasan khan Dr Hasan Khan
(1)

01/06/2026
31/05/2026

ہم رسمی سلام دعا کے بعد واپس سکردو آ گئے
مستنصر حسین تارڑ رابیل پیرزادہ کی یادوں کے ہمراہ بورڈنگ کےلیے روانہ ہو گئے۔۔۔

تارڑ صاحب کے اس ٹور میں happenings کی بھرمار تھی۔۔تارڑ صاحب کو کئی پرانے ٹریکس کے شناسا و ساتھی ملے تو کہیں موسم و لینڈ سکیپ نے حیرت میں گم کر رکھا تھا۔۔۔لیکن جو کچھ آخری دن فلائٹ سے تین گھنٹے پہلے پیش آیا وہ تارڑ صاحب سمیت سب کی آنکھیں نم کر گیا۔۔۔

ایک نابینا بچی تارڑ صاحب سے ملنے شنگریلا آئی۔۔۔ہم نے سیگمنٹ ریکارڈ کیا۔ اس میں تمام تفصیل ہے۔ یہاں اختصار سے بتاتا جاؤں کہ رابیل پیرزادہ نے بتایا کہ 12 برس کی عمر میں ان کی بینائی ایک چوٹ کی وجہ سے چلی گئی۔۔اس نے تارڑ صاحب کی کتابوں کو آڈیو فارم میں سنا۔۔وہ بہت جذباتی انداز میں بول رہی تھیں۔۔بولتی چلی جا رہی تھیں۔۔پہلی دفعہ تارڑ صاحب کو اس قدر خاموش دیکھا۔۔وہ اس وقت جذباتی ہو گئے جب رابیل نے کہا آپ رنگوں کو بہت اچھا describe کرتے ہیں۔۔میری بینائی چلی گئی لیکن آپ کی وجہ سے رنگ میرے پاس رہے۔ میں گلگت بلتستان آتی ہوں آور آپ کی description کے ذریعے منظر دیکھتی ہوں۔۔انہوں نے بتایا کہ ستر ہزار نابینا بچوں کیلئے انہوں نے تارڑ صاحب کی تمام کتابوں کو آڈیو فارم میں ڈھالا۔ اب یہ ہزاروں بچے آپ کے ذریعے رنگوں سے آشنائی حاصل کر رہے ہیں۔۔

تارڑ صاحب نے کہا۔۔بیٹی مجھے پاکستان کا سب سے اعلٰی سول ایوارڈ ملا جو بوجوہ میں وصول کرنے نہیں گیا۔۔۔لیکن یہ سب ایوارڈز وغیرہ تمہارے مقابلے میں کیا ہیں۔۔تم نے آج مجھے اپنی زندگی کے سب سے بڑے ایوارڈ سے نواز دیا ہے۔۔مجھے جب اپنے ادارے کے لئے جب بلاو گی کہیں بلاو گی اس عمر میں بھی چلا آوں گا۔۔۔

رابیل چلی گئیں تو کافی دیر جذباتی رہے۔۔مجھے کہنے لگے کہ کبھی لکھتے ہوئے یہ نہیں سوچا تھا کہ میں رنگوں کو اتنا اچھا describe کرتا ہوں
فلائٹ سے لیٹ ہو رہے تھے۔۔ایئرپورٹ پہنچے۔۔میں نے ایک دو تصاویر اتاریں انہوں نے تصاویر کےلیے بانہیں پھیلائیں لیکن تارڑ صاحب کا چہرہ اترا ہوا تھا۔سب کچھ بناوٹی سا لگ رہا تھا۔ معلوم نہیں سکردو چھوڑنے کا دکھ تھا یا دماغ میں رابیل کی باتوں نے ہلچل مچا رکھی تھی۔۔
ہم رسمی سلام دعا کے بعد واپس سکردو آ گئے
مستنصر حسین تارڑ رابیل پیرزادہ کی یادوں کے ہمراہ بورڈنگ کےلیے روانہ ہو گئے۔۔۔

30/05/2026

معرکہ یمامہ میں انتہائی شوق، ولولے اور قابل رشک جذبے کے ساتھ شریک ہونے والے جوان رعنا، سرورِ عالم ﷺ کی تربیت سے کندن بننے والے ایک عظیم سپاہی، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی قیادت میں میدان کا رزار میں حیرت انگیز کارنامے سر انجام دینے والے ایک بہادر، نڈر اور تجربہ کار مجاہد، ’’اردن‘‘ کے دروازے پر فاتحانہ دستک دینے والے ایک عظیم جرنیل، کاتب وحی کا اعزاز حاصل کرنے والے ایک قابل اعتماد صحابی، دعوت و ارشاد کے میدان میں اثر انگیز اسلوب اپنانے والے خوش اخلاق و خوش اطوار مبلغ، اردن میں عدل و انصاف کی بنیاد پر فرائض منصبی ادا کرنے والے ایک ہر دلعزیز گورنر۔
جسے پوری زندگی رسول اکرم ﷺ کا اعتماد حاصل رہا، جس نے ہر محاذ پر جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اسلام کی سربلندی کے لئے ہر دور میں نمایاں کردار اداء کیا۔ جو تاریخ اسلام میں شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور و معروف ہے۔

فتحِ دمشق اور جنگِ یرموک میں شرکت:
حضرت شرحبیل بن حسنہ رضیَ اللہ عنہما ایک بےمثال اور نڈر سپہ سالار بھی تھے۔ فتحِ دمشق میں رومی لشکر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تو آپ نے بُلند آواز میں پکارا: اے مسلمانو! اپنی زندَگیوں کی فکر نہ کرو اور اپنے رب کی جنّت کے طلب گار بنو، اپنے عمل سے اپنے خالق کو راضی کرو کیونکہ اللہ تم سے فرار کو پسند نہیں کرتا،ان پر حملہ کرو، اللہ تم پر بَرَکت نازل فرمائے۔ یہ سن کر مسلمانوں نے ایک شدید حملہ کیا اور گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ 15 ہجری جنگِ یرموک میں آپ کا سامنا رومی کمانڈر سے ہوا دونوں کے درمیان شدید لڑائی شروع ہوگئی۔ دورانِ مقابلہ آپ نے ایک جنگی چال چلی اور پیچھے ہٹے کمانڈرنے آپ کا پیچھا کیا تو آپ نے اچانک پلٹ کر نیزے سے حملہ کیا، لیکن کمانڈر بچ نکلا دونوں کے درمیان پھر شدید لڑائی ہوئی یہاں تک کہ دونوں کی تلواریں ٹوٹ گئیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے سے پکڑ لیا۔ کمانڈر جسمانی طور پر بہت بھاری بھرکم اور طاقتور تھا جبکہ آپ دبلے پتلے جسم کے مالک تھے۔ کمانڈر نے آپ کو اتنی زور سے دبایا کہ آپ کو شدید تکلیف ہوئی وہ آپ کو قتل کرنے ہی والا تھاکہ حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ نے خود سے کہا: اے ضرار! تجھ پر افسوس ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کاتبِ وحی شہید ہو جا ئیں اور تو دیکھتا رہے؟ چنانچہ تیزی سے بھاگ کر آئے اور پیچھے سے اس رومی کمانڈر کو خنجر مار کر ہلاک کر دیا۔
حضرت شرحبیل بن حسنہ رضیَ اللہ عنہما سن 18 ہجری میں طاعونِ عَمَواس کی وبا میں مبتلا ہو کر 67 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندَگی اسلام کی خدمت، جہاد فی سبیل اللہ اور زُہد و عِبادت میں گُزاری اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مِثال قائم کی۔واللہ اعلم بالصواب ۔
اپنے ان عظیم لوگوں کی داستانوں کو جو انھوں نے اپنی جانوں کے نظرانے دے کر لکھی ہیں شئیر کیا کریں اللہ کی رضا کے لیے تاکہ یہ سب تک پہنچ جائیں اللہ آپ کو اس کا اجر دے آمین ❣️ ۔

فتوح الشام، 1/66ملخصاً
فتوح الشام، 1/206ملخصاً
مستدرک، 4/315، حدیث:5254













Address

Rahim Yar Khan

Telephone

+923009679803

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hasan khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Hasan khan:

Share