Junaid Ibraheem Ahmad

Junaid Ibraheem Ahmad Geopolitics | Current Affairs | Islamic Insights | Education — for informed minds and better understanding.”

04/09/2026

ایک مشکل مگر ضروری سبق: ہر دعوت قبول نہ کریں۔

زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب آپ کو یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ ہر شخص برا نہیں ہوتا، لیکن ہر شخص آپ کے لیے موزوں بھی نہیں ہوتا۔

ہر دعوت قبول کرنا، ہر محفل میں بیٹھنا، ہر مجلس کا حصہ بننا اور ہر تعلق کو برابر وقت دینا ضروری نہیں۔

کیونکہ انسان صرف لوگوں کے ساتھ وقت نہیں گزارتا؛
وہ انجانے میں ان کی سوچ، گفتگو، ترجیحات، عادات اور زندگی کے معیار کا کچھ حصہ اپنے اندر منتقل کرتا رہتا ہے۔

آپ کسی ایسے شخص کے ساتھ ایک شام گزار کر شاید تبدیل نہ ہوں، لیکن اگر آپ کا مستقل حلقہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہو جن کی گفتگو ہمیشہ شکایت، غیبت، مایوسی، فضول تفریح، محدود سوچ اور دوسروں کو نیچا دکھانے کے گرد گھومتی ہو، تو آہستہ آہستہ وہی چیزیں آپ کے لیے بھی معمول بن سکتی ہیں۔

اور اس کے برعکس، اگر آپ ایسے لوگوں میں بیٹھتے ہیں جو کتابیں پڑھتے ہیں، سیکھتے ہیں، بڑے خواب دیکھتے ہیں، اپنی غلطیوں کا جائزہ لیتے ہیں، کاروبار اور علم کی بات کرتے ہیں، مسائل کے حل تلاش کرتے ہیں اور اپنے وقت کی قدر کرتے ہیں، تو آپ کے اندر بھی ایک نئی سمت پیدا ہونے لگتی ہے۔

تحقیق بھی اس خیال کا ایک اہم حصہ support کرتی ہے: social networks صرف تعلقات نہیں بناتے، وہ beliefs، aspirations اور behaviors کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک بہت باریک فرق ہے۔

اپنے سے کم آمدنی والے شخص کو کم تر سمجھنا حماقت ہے۔

ایک غریب انسان انتہائی صاحبِ کردار، صاحبِ علم اور visionary ہوسکتا ہے، جبکہ ایک کروڑ پتی انتہائی محدود ذہن کا مالک ہوسکتا ہے۔

اس لیے اصل سوال یہ نہیں:

"وہ مجھ سے کتنا امیر ہے؟"

اصل سوال یہ ہے:

"اس کے ساتھ بیٹھنے کے بعد میں کیا بن رہا ہوں؟"

کیا میری سوچ وسیع ہو رہی ہے؟

کیا میرے standards بلند ہو رہے ہیں؟

کیا مجھے نئی چیزیں سیکھنے کا شوق پیدا ہو رہا ہے؟

کیا میرے اندر discipline، ambition، humility اور responsibility بڑھ رہی ہے؟

یا میں ہر ملاقات کے بعد پہلے سے زیادہ cynical، lazy، negative اور محدود ہو جاتا ہوں؟

یہی اصل پیمانہ ہے۔

ایک اور تلخ حقیقت

کبھی کبھی آپ کو اپنے پرانے social circle سے emotionally دور ہونا پڑتا ہے۔

اس لیے نہیں کہ آپ ان سے نفرت کرتے ہیں۔

بلکہ اس لیے کہ آپ کی زندگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

آپ کے goals بدل گئے ہیں۔

آپ کی priorities بدل گئی ہیں۔

آپ کی گفتگو بدل گئی ہے۔

اور سب سے مشکل بات یہ ہے کہ بعض اوقات آپ کے پرانے دوست آپ کی اس تبدیلی کو غرور سمجھنے لگتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں:

"اب بڑا آدمی بن گیا ہے۔"

"اب ہمارے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔"

"پہلے تو بڑا اپنا بنتا تھا۔"

لیکن ہر فاصلے کا مطلب تکبر نہیں ہوتا۔

کبھی کبھی فاصلہ self-preservation ہوتا ہے۔

اپنی زندگی کو ایک یونیورسٹی سمجھیں

آپ جن لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ وقت گزارتے ہیں، وہ آپ کے غیر رسمی اساتذہ ہیں۔

ان سے آپ صرف الفاظ نہیں سیکھتے۔

آپ سیکھتے ہیں کہ:

- پیسوں کو کیسے دیکھا جاتا ہے۔
- وقت کی کتنی قیمت ہے۔
- عورت، مرد، خاندان اور معاشرے کے بارے میں کیسے سوچا جاتا ہے۔
- ناکامی کو کیسے interpret کیا جاتا ہے۔
- کامیاب انسانوں کے بارے میں حسد کرنا ہے یا ان سے سیکھنا ہے۔
- مسئلہ آنے پر شکایت کرنی ہے یا حل تلاش کرنا ہے۔
- زندگی کو survive کرنا ہے یا deliberately build کرنا ہے۔

اسی لیے صحبت دراصل خاموش تربیت ہے۔

ایک تحقیق میں نوجوانوں کے friendship networks کا جائزہ لینے پر یہ بھی ملا کہ قریبی دوستوں اور ان لوگوں کا academic engagement جنہیں وہ admire کرتے تھے، وقت کے ساتھ ان کے اپنے academic engagement سے متعلق تھا۔

یعنی آپ صرف اپنے دوستوں سے متاثر نہیں ہوتے۔

کبھی کبھی آپ ان لوگوں سے بھی متاثر ہوتے ہیں جنہیں آپ دل سے admire کرتے ہیں۔

اس لیے اپنی زندگی میں تین حلقے بنائیں۔

پہلا حلقہ:
وہ لوگ جن کے ساتھ آپ محبت، تعلق اور انسانیت کی وجہ سے رہتے ہیں۔

دوسرا حلقہ:
وہ لوگ جن سے آپ سیکھتے ہیں۔

تیسرا حلقہ:
وہ لوگ جو آپ کو challenge کرتے ہیں—جن کے سامنے بیٹھ کر آپ کو محسوس ہو کہ ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ تینوں حلقے ایک ہی لوگ ہوں۔

اور یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ ہر کم علم انسان سے تعلق ختم کر دیں۔

بلکہ اصل wisdom یہ ہے کہ:

ہر انسان کی عزت کریں، مگر ہر انسان کو اپنی inner circle میں جگہ نہ دیں۔

اور شاید سب سے اہم سبق:

اپنی زندگی کے بڑے فیصلے اس خوف سے مت روکیں کہ "لوگ کیا کہیں گے؟"

لوگ آپ کی ناکامی کی قیمت ادا نہیں کریں گے۔

وہ آپ کے ضائع کیے ہوئے سال واپس نہیں لائیں گے۔

وہ آپ کے بچوں کا مستقبل نہیں بنائیں گے۔

اور وہ آپ کے خواب پورے نہیں کریں گے۔

لہٰذا اپنی صحبت، اپنی مجلس، اپنی گفتگو اور اپنے وقت کے بارے میں جان بوجھ کر انتخاب کریں۔

کیونکہ آخرکار زندگی صرف اس بات سے نہیں بنتی کہ آپ نے کیا حاصل کیا۔

زندگی اس بات سے بھی بنتی ہے کہ آپ نے اپنے اردگرد کن لوگوں کو رکھا اور ان کے ساتھ رہ کر آپ خود کیا بن گئے۔

اور شاید اس سبق کا سب سے مختصر جملہ یہ ہے:

"ہر انسان کی عزت کرو، مگر ہر انسان کو اپنی زندگی میں برابر جگہ مت دو۔"

04/09/2026

کافی خواجہ غلام فرید رح
جھوک فرید چولستان

03/09/2026

روائتی گرمی کی سوغات : شربت گھوٹا بادام کی رگڑائی

19/08/2026

Jinnah’s Health:The Most Guarded Political Secret of British India

Even the British Intelligence agencies were unaware of Jinnah's illness.

18/08/2026

خدا سے ہمیشہ
Low vision
لوگوں سے پناہ مانگتے رہیں کہ ایسے کنواں ٹائپ لوگوں کے ساتھ چاہے وہ خاندان ہو،دوست ہوں ،بیوی ہو ان کے ساتھ رہنا عذاب سے کم نہیں۔ اگر تو آپکی بیوی، شوہر یا دوست وژنری نہیں ہیں تو آپ کی ترقی چاہے وہ مادی ترقی ہو یا روحانی اسکے ہونے کے چانسز زیرہ ہیں۔

17/08/2026

سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ: سب سے بڑے راوی حدیث
شوق ،عشق اور صبرو رضا کی ایمان افروز داستان

16/08/2026

Why Did Jinnah Accept a Truncated Pakistan

What if the Pakistan created in August 1947 was not the Pakistan Muhammad Ali Jinnah originally demanded?
In 1946, the Muslim League's political demand envisioned a Pakistan encompassing the Muslim-majority regions of northwestern and northeastern India—including Punjab, Bengal and Assam.
But the 3 June 1947 Plan changed everything.
Punjab was to be divided.
Bengal was to be divided.
Millions of Muslims would remain outside Pakistan.
Then, on 9 June 1947, the All-India Muslim League Council confronted one of the most consequential decisions in the history of the Pakistan Movement.
Why did Jinnah accept the plan?
Was it a defeat?
Was it an unavoidable compromise?
Or was it a calculated strategic decision to secure something even more important than territory:
sovereignty?
This documentary explores the forgotten political struggle surrounding the June 1947 decision, the objections raised by leaders such as Z. H. Lari, the historical context of Muslim political decline after the collapse of the old imperial order, and the strategic dilemma facing Jinnah as Britain prepared to leave India.
The central question is not simply:
“Why did Jinnah accept a truncated Pakistan?”
It is:
“Was a smaller sovereign Pakistan better than risking the entire Pakistan project?”
This is an attempt to look beyond conventional nationalist narratives and examine the decision through the lens of strategy, political power, sovereignty and historical circumstance.
Watch until the end—and decide for yourself:
Was 9 June 1947 a compromise… or one of Jinnah's greatest strategic decisions?

14/08/2026

America Is Running Out of Missiles? The Hidden Link Between Iran, Ukraine & China

مکمل ویڈیو یوٹیوب پر دستیاب ہے۔
لنک نیچے کمنٹ میں ہے۔

Address

Rahimyar Khan

Telephone

+923456906885

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Junaid Ibraheem Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Junaid Ibraheem Ahmad:

Shortcuts

Share