Sadiq Library

Sadiq Library Sadiq LIBRARY, Founded by PERVEZ SADIQ. Named after his father Rana Muhammad Sadiq's name. Its main purpose is to produce good books for his Children.

If Husaini Library didn't exist in Ahmed Pur East he would have given the name Hussaini Library. SADIQ LIBRARY, Founded by PERVEZ SADIQ is associated with Institute of Research And Annals Of Pakistan. The books are categorized into following main topics:
1:Holly Quran Translation in Different Languages.
2:Books on History, Archaeology, Anthropology and Culture of
Ex-Bahawalpur state and Balou

chistan Province.
3:Provincial and District Gazetteers and Administration Reports.
4:Urdu Adab, Safer Namy, Sawaneh Umriyan.
5:Urdu Poetry.
6: Sariki Adab, Culture and Poetry.
7: Birahvi Adab,Culture and poetry.
8: Balouchi Adab,Culture and poetry.
9:Manuscripts
10:Photos of Archaeological sites in BWP State.
11.Letters from "Mashaheer e Pakistan" to Pervez Sadiq.
12.Books on Pakistan Studies and Pakistan Movement.

1901ء انگریز راج کی مردم شماریپنجاب میں راجپوتوں کا سب سے بڑا قبیلہ بھٹی راجپوت ہے پھر چوہان راجپوت پھر کھوکھر راجپوت۔✌️...
02/05/2026

1901ء انگریز راج کی مردم شماری
پنجاب میں راجپوتوں کا سب سے بڑا قبیلہ بھٹی راجپوت ہے پھر چوہان راجپوت پھر کھوکھر راجپوت۔✌️🔥❤️

یہ دستاویز قصور کی تاریخ کے ایک اہم معاشی پہلو کو اجاگر کرتی ہے اجودھیا پرشادکنٹریکٹرز قصور کی رسید (1932)یہ دستاویز قصو...
28/04/2026

یہ دستاویز قصور کی تاریخ کے ایک اہم معاشی پہلو کو اجاگر کرتی ہے
اجودھیا پرشادکنٹریکٹرز قصور کی رسید (1932)
یہ دستاویز قصور کی تاریخ کے ایک اہم معاشی پہلو کو اجاگر کرتی ہے، جو 1930 کی دہائی کے اوائل میں شہر کی کاروباری سرگرمیوں کی عکاس ہے۔ یہ بل "اجودھیا پرشاد دھنپت رائے" نامی فرم کا ہے، جو اس وقت قصور میں کنٹریکٹر، بھٹہ خشت اور مل مالکان کے طور پر کام کر رہے تھے۔ رسید پر درج تاریخیں، خاص طور پر اپریل اور مئی 1932، اس دور کی نشاندہی کرتی ہیں جب قصور اور فیروز پور کے تجارتی تعلقات نہایت گہرے تھے، جس کا ثبوت اس فارم پر درج "دی پبلک پریس، فیروز پور سٹی" کی مہر سے ملتا ہے۔ اس بل میں ہاتھ سے لکھی گئی اردو اور انگریزی تحریریں، سامان کی فراہمی کی تفصیلات اور اس وقت رائج کرنسی (روپے، آنے اور پائی) کا استعمال اس عہد کے دستاویزی طریقہ کار اور حساب کتاب کے نظام کو واضح کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ رسید صرف ایک کاروباری کاغذ نہیں بلکہ تقسیمِ ہند سے قبل قصور کے کثیر الثقافتی اور ترقی پذیر تجارتی ڈھانچے کی ایک خاموش گواہ ہے۔

اس مضمون میں صادق لائبریری اور  Pervez Sadiq کا بھی حوالہ دیا گیا ھے ۔ ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~ریاست بہاول پور کی ممتاز علمی...
20/04/2026

اس مضمون میں صادق لائبریری اور Pervez Sadiq کا بھی حوالہ دیا گیا ھے ۔ ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
ریاست بہاول پور کی ممتاز علمی و ادبی شخصیت، محسن سرائیکی زبان و ادب، نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی (پنجم) کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر سید نذیر علی شاہ کا آج یوم وفات ہے

+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/یوم دوشنبہ، بتاریخ 20 اپریل 2026ء) ریاست بہاول پور کی ممتاز علمی و ادبی شخصیت، محسن سرائیکی زبان و ادب، نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی (پنجم) کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر (ر) سید نذیر علی شاہ کا آج یوم ولادت ہے۔ 20 اپریل 1895ء کو سیالکوٹ کے ایک پنجابی خاندان میں پیدا ہونے والے سید نذیر علی شاہ کا تعلق شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے استاد محترم شمس العماء علامہ سید میر حسن کے خانوادے سے تھا۔ آپ کے والد اور ماموں ملازمت کے سلسلے میں ریاست بہاول پور آن مقیم ہوئے اور اسے ہی اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔

بعض صدری روایات کے مطابق سید نذیر علی شاہ کو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقات کا بھی شرف حاصل رہا، جب کہ 15 اگست 1947ء کو نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی پنجم کے لندن ہونے کی وجہ سے ان کی طرف سے بریگیڈیئر سید نذیر علی شاہ نے قائد اعظم سے ملاقات کر کے ریاست بہاول پور کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا پیغام پہنچایا، بعد ازاں نواب صاحب کی وطن واپسی پر 3 اکتوبر 1947ء کو باقاعدہ معاہدہ پر دستخط ہوئے جب کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اس معاہدے پر 10 اکتوبر کو دستخط کیے۔
تاہم ضلع رحیم یار خان کے معروف دانش ور اور محقق، 'صادق لائبریری' کے بانی و منتظم رانا پرویز صادق سمیت دیگر محققین نے ان روایات کو دروغ گوئی قرار دیتے ہوئے تردید کی ہے کہ سید نذیر علی شاہ نے علامہ اقبال اور قائد اعظم سے اپنی زندگی میں کبھی کوئی ملاقات کی ہو۔ ان کے بقول علامہ اقبال اور قائد اعظم سے ملاقات اتنا بڑا شرف تھا کہ سید نذیر علی شاہ اس کا ذکر اپنی کتاب 'صادق نامہ' میں ضرور کرتے جو 1959ء کو منصہ شہود پر آئی۔ اس کے علاوہ اس دور کے ریاست بہاول پور کے سرکاری گزیٹیئرز اور 'صادق الاخبار' میں بھی ان ملاقاتوں کا کوئی تذکرہ اور خبری مواد نہیں ملتا۔

بریگیڈیئر سید نذیر علی شاہ نے سرائیکی زبان و ادب کی باقاعدہ ترویج و اشاعت کے لیے 'سرائیکی ادبی مجلس' قائم کی اور میونسپل کارپوریشن سے دفتر اور آڈیٹوریم کے لیے زمین لیز پر لے کر اسے 'جھوک سرائیکی' کا نام دیا۔ اس سے ملحقہ سینما چوک کا نام ان کی کوششوں سے تبدیل ہو کے 'سرائیکی چوک' قرار پایا جو آج بہاول پور کا مصروف ترین چوک ہے۔

ریاست بہاول پور میں مشاعروں اور ادبی محافل کا انعقاد، چاندنی راتوں میں صحرائے چولستان (روہی) میں محافل موسیقی کا اہتمام بریگیڈیئر سید نذیر علی شاہ کے معمولات میں شامل رہا، آپ نے اوچ شریف کی عظیم گیلانی لائبریری میں موجود مخدوم سید حامد محمد شمس الدین گیلانی سادس کے کلام کے قلمی نسخوں اور کئی مخطوطات کا ترجمہ و تدوین کی۔ ریاست بہاول پور کی اس نابغہ روزگار شخصیت نے 11 اگست 1984ء کو تقریبا نوے سال کی عمر میں وفات پائی، آپ قبرستان شیر شاہ نزد ون یونٹ چوک بہاول پور میں آسودہ خاک ہیں۔ آپ کی نواسی ساجدہ بیگم نیشنل کالج آف آرٹس کی پرنسپل رہیں جو شادی کے بعد ساجدہ ونڈل کہلائیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

⭕ ادارتی نوٹ: نوائے اوچ میڈیا گروپ (رجسٹرڈ) کے زیراہتمام پوسٹ کیا جانے والا یہ مواد صرف معلوماتی اور صحافتی نقطہ ء نظر سے پیش کیا گیا ہے۔ 'نوائے اوچ' اپنی ادارتی پالیسی کے تحت کسی بھی قسم کے مذہبی، سیاسی، لسانی اور نسل پرستانہ ایجنڈے کی حمایت یا ترویج نہیں کرتا۔ 'نوائے اوچ' کی تمام خبریں، تصاویر اور نگارشات عوامی طور پر دستیاب مستند ذرائع کے حوالے سے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔ علمی و ادبی اقدار اور تاریخی روایات سے ہم آہنگ بامقصد نگارشات کی ترسیل کے لیے فیس بک پر 'نوائے اوچ' کے آفیشل صفحہ کو فالو کیجیے:
https://www.facebook.com/nawaeuch
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
#نوائےاوچ

ایک پاکستانی فوجی سربراہ ایسا بھی گزرا جس نے طاقت ہوتے ہوئے بھی خاموشی سے سر جھکا لیا تھا ۔جنرل جہانگیر کرامت — وہ فوجی ...
15/04/2026

ایک پاکستانی فوجی سربراہ ایسا بھی گزرا جس نے طاقت ہوتے ہوئے بھی خاموشی سے سر جھکا لیا تھا ۔
جنرل جہانگیر کرامت — وہ فوجی سربراہ جسے "جنرل باجی" کہا گیا تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے نشے میں چور فوجی سربراہوں نے جمہوریت کا گلا گھونٹا، مگر ایک فوجی سربراہ ایسا بھی گزرا جس نے طاقت ہوتے ہوئے بھی خاموشی سے سر جھکا لیا۔ پاکستان کے بارہویں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کا تعلق پشتونوں کے معروف قبیلے ککے زئی سے تھا۔ آپ کے والد کرامت احمد سرکاری ملازم تھے۔ انیس سو اٹھانوے کا سال پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسی سال جنرل جہانگیر کرامت کے دورِ سربراہی میں پاکستان ایٹمی طاقت بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ تاہم جنرل جہانگیر کرامت کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی جمہوری سوچ تھی — اور بدقسمتی سے یہی سوچ ان کی کمزوری بن گئی۔ وزیرِ اعظم میاں نواز شریف نے انہیں سافٹ ٹارگٹ سمجھتے ہوئے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔ جنرل صاحب نے نہ کوئی مزاحمت کی، نہ مارشل لا لگایا، نہ کسی قسم کی طاقت کا مظاہرہ کیا — بلکہ انتہائی خاموشی اور وقار کے ساتھ سرنڈر کر دیا اور عہدے سے دستبردار ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھی افسران انہیں طنزاً "جنرل باجی" کے نام سے پکارا کرتے تھے — ایک ایسا لقب جو ان کے نرم مزاج اور عدمِ مزاحمت کی علامت بن گیا۔

‏جنرل یحییٰ نور جہاں کے جسم پر شراب بہاتے اور چاٹتے  تھے:محمو دالرحمن کمیشن رپورٹ میں سنسن خیز انکشافپاکستان میں حمودالر...
06/04/2026

‏جنرل یحییٰ نور جہاں کے جسم پر شراب بہاتے اور چاٹتے تھے:محمو دالرحمن کمیشن رپورٹ میں سنسن خیز انکشاف

پاکستان میں حمودالرحمن کمیشن کے سامنے بریگیڈ میجر منور خان نے بیان دیا کہ 1971 میں 11 اور 12دسمبر کی درمیانی شب، جس رات ہندوستانی فوج ہمارے فوجیوں پر آگ کے گولے برسا رہی تھی،
اسی رات کو کمانڈر بریگیڈیئر حیات اللہ اپنے بنکر میں عیاشی کے لئے چند لڑکیوں کو لے کر آئے تھے۔ کمیشن کو بریگیڈیئر عباس بیگ نے بتایا کہ بریگیڈیئر جہانزیب ارباب (بعد میں لیفٹیننٹ جنرل) نے ایک پی سی ایس افسر (جو ملتان میونسپل کمیٹی کے چیئرمین تھے) سے رشوت کے طور پر ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ افسر نے خودکشی کر لی تھی اور اپنے پیچھے ایک پرچی پر لکھا چھوڑ گیا کہ بریگیڈٰیر جہانزیب ارباب نے اس سے ایک لاکھ کا مطالبہ کیا حالانکہ اس نے صرف پندرہ ہزار روپے کمائے تھے۔ یہی جہانزیب ارباب تھا جس نے بعد ازاں بطورکمانڈر سابق مشرقی پاکستان میں بریگیڈ 57 سراج گنج میں نیشنل بینک کے خزانے سے ساڑھے تیرہ کروڑ روپے لوٹے تھے۔
کمیشن کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ میجر جنرل خداداد خان ایڈجوٹنٹ جنرل پاکستان آرمی کے نہ صرف مشہورِ زمانہ جنرل اقلیم اختر رانی کےساتھ ناجائز تعلقات تھے بلکہ اس نے مارشل لاء کے دوران کئی مقدمات دبانے میں جنرل رانی کی معاونت بھی کی۔ مار شل لا کے دوران ہی کئی کاروباری سودوں میں وسیع پیمانے پر رقم کی خرد برد کے الزامات بھی میجر جنرل خداداد خان پر ہیں۔
جنرل اے اے کے نیازی کے لاہور کی سعیدہ بخاری کے ساتھ مراسم تھے جس نے سینوریٹا ہوم کے نام سے گلبرگ میں ایک گھر کو کوٹھا بنایا ہوا تھا۔ یہی سعیدہ بخاری اس وقت لاہور میں جنرل آفیسر کمانڈنگ اور بعد میں کورکمانڈر “ٹائیگر نیازی” کی ٹاؤٹ تھی اور غیرقانونی کاموں اور رشوت ستانی میں اس کی مدد کرتی تھی۔ سیالکوٹ کی بدنامِ زمانہ شمیم فردوس بھی نیازی کے لئے اسی خدمت پر مامور تھی۔ فیلڈ انٹلی جنس کی 604 یونٹ سے میجر سجادالحق نے کمیشن کو بتایا کہ ڈھاکہ کےایک گھر میں جرنیلوں کی عیاشی کے لئے بارہا ناچنے گانے والیاں لائی جاتی تھیں۔ ٹائیگر نیازی اپنی تین ستاروں سے آراستہ اور کور کے جھنڈے سے مزین سٹاف کار پر بھی ناچنے والیوں کے در کے طواف کرتا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل عزیز احمد خان نے کمیشن کو بتایا کہ فوجیوں کا کہنا تھا کہ جب کمانڈر خود جنسی جرائم کا مرتکب ہو تو وہ فوجیوں کو جبری زنا سے کیسے روک سکتا ہے۔ انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی سے خواتین سے زیادتی جیسے گھناؤنے جرم کا دفاع کرتے ہوئی نیازی نے کہا تھا کہ ”آپ کسی جوان سے یہ توقع کیسے رکھتے ہیں کہ وہ جئے، لڑے اور مرے مشرقی پاکستان میں اور جنسی بھوک مٹانے کے لئے جہلم جائے”۔
پاکستانی صدر مملکت یحییٰ خان شراب اور عورتوں کے رسیا تھے۔ ان کے جن عورتوں سے تعلقات تھےان میں آئی جی پولیس کی بیگم، بیگم شمیم این حسین، بیگم جوناگڑھ، میڈم نور جہاں، اقلیم اختر رانی، کراچی کے تاجر منصور ہیرجی کی بیوی، ایک جونیئر پولیس افسر کی بیوی نازلی بیگم، میجر جنرل (ر) لطیف خان کی سابقہ بیوی، کراچی کی ایک رکھیل زینب اور اسی کی ہم نام سر خضر حیات ٹوانہ کی سابقہ بیگم، انورہ بیگم، ڈھاکہ سے ایک انڈسٹری کی مالکن للّی خان اور لیلیٰ مزمل اور اداکاراؤں میں سے شبنم، شگفتہ، نغمہ، ترانہ اور بے شمار دوسروں کے نام شامل تھے۔ ان کے علاوہ لا تعداد آرمی کے افسر اور جرنیل اپنی بیگمات اور دیگر رشتہ دار خواتین کے ہمراہ ایوانِ صدر آتے اور واپسی پر خواتین ان کے ہمراہ نہیں ہوتی تھیں۔
اس رپورٹ میں 500 سے زائد خواتین کے نام شامل ہیں جنہوں نے اس ملک کے سب سے عیاش حاکم کے ساتھ تنہائی میں وقت گزارا اور بدلے میں سرکاری خزانے سے بیش بہا پیسہ اور دیگر مراعات حاصل کیں۔ جنرل نسیم، حمید، لطیف، خداداد، شاہد، یعقوب، ریاض، پیرزادہ، میاں سمیت کئی دوسروں کی بیویاں باقاعدگی سے یحییٰ خان سے ملاقات کرنے آتی تھیں۔
یہاں تک کہ جب ڈھاکہ میں حالات ابتر تھے۔ یحییٰ خان لاہور کا دورہ کرنے آتے اور گورنر ہاوس میں قیام کرتے تھے۔ جہاں ان کے قیام کے دوران دن میں کم از کم تین بار ملکہ ترنم و نور جہاں مختلف قسم کے لباس، بناو سنگھار اور ہیر سٹائل کے ساتھ ان سے ملاقات کرنے تشریف لے جاتی تھیں اور رات کو نور جہاں کی حاضری یقینی ہوتی تھی۔ جنرل رانی نے سابق آئی جی جیل خانہ جات حافظ قاسم کو بتایا کہ اس نے خود جنرل یحییٰ اور ملکہ ترنم نور جہاں کو بستر پر ننگے بیٹھے اور پھر جنرل یحیی کو نور جہاں کے جسم پر شراب بہاتے اور چاٹتے دیکھا تھا۔ اور یہ عین اس وقت کی بات ہے جب مشرقی پاکستان جل رہا تھا۔
بیگم شمیم این حسین رات گئے جنرل یحییٰ کو ملنے آتیں اور صبح واپس جاتیں۔ ان کے شوہر کو سوئٹزر لینڈ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر بھیجا گیا جبکہ بعد ازاں بیگم شمیم کو آسٹریا کا سفیر مقرر کردیا گیا تھا۔ دونوں میاں بیوی کو سفارت کاری کا کوئی تجربہ تھا نہ ہی امورِ خارجہ کے شعبے سے ان کا کوئی تعلق تھا۔
بیگم شمیم کے والد، جسٹس (ر) امین احمد کو ڈائریکٹر نیشنل شپنگ کارپوریشن مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر ستر برس تھی۔ اسی زمانے میں نور جہاں ایک موسیقی کے میلے میں شرکت کرنےکے لئے ٹوکیو گئی تھیں تو ان کے ہمراہ ان کے خاندان کے بہت سے افراد سرکاری خرچ پر جاپان گئے تھے۔
یحییٰ خان کی ایک رکھیل نازلی بیگم کو جب پی آئی سی آئی سی (بینک) کے ایم ڈی نے قرضہ نہیں دیا تو اس کو عہدے سے زبردستی بر خاست کر دیا گیا تھا۔ سٹینڈرڈ بینک کے فنڈز سے راولپنڈی کی ہارلے سٹریٹ پر یحییٰ خان نے ایک گھر بنایا جس کی تزئین وآرئش بھی بینک کے پیسے سے کی گئی۔ یحییٰ اور ان کے چیف آف اسٹاف جنرل عبدالحمید خان اس گھر کے احاطے میں فوج کی حفاظت میں طوائفوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔
ایک غیر معمولی انٹرویو میں جنرل رانی نے انکشاف کیا کہ ایک رات آغا جانی مجھ سے ملنے کے لئے آئے تھے اور کسی حد تک بے چین تھے ۔ آتے ہی مجھ سے پوچھا تمھیں فلم دھی رانی کا گانا ‘چیچی دا چھلا‘ آتا ہے۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا میرے پاس گانے سننے کا وقت کہاں ہوتا ہے۔ اسی وقت انھوں نے ملٹری سیکرٹری کو فون کیا اور نغمے کی کاپی لانے کا حکم صادر کر دیا۔ رات کے دو بجے کا وقت تھا۔ بازار بند تھے۔ ملٹری سیکرٹری کو ایک گھنٹے کے اندراندر ایک آڈٰیو البم کی دکان کھلوا کر گانے کی کاپی حاضر کرنا پڑی۔ جس کے بعد آغا جانی خوشی خوشی نغمہ سن رہے تھے۔ اور اس کی اطلاع نور جہاں کو کر دی گئی۔
یحییٰ خان کے دور حکومت میں اداکارہ ترانہ کے بارے میں ایک لطیفہ زبان زدِ عام تھا کہ ایک شام ایک عورت صدارتی محل میں پہنچی اور یہ کہہ کر اندر داخل ہونے کا مطالبہ کیا کہ ‘میں اداکارہ ترانہ ہوں، سیکورٹی گارڈز نے جواب دیا.کہ تم کیا ہو، ہمیں پرواہ نہیں ہے۔ ہر کسی کو اندر جانے کے لئے پاس کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاتون مصر رہیں اور اےڈی سی سے بات کرنے کا مطالبہ کیا جس نے اداکارہ کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ اداکارہ جب دو گھنٹے بعد واپس لوٹی تو گارڈ نے اداکارہ کو سیلیوٹ کیا۔ اداکارہ نے روئیے کی تبدیلی کی وجہ پوچھی تو گارڈنے جواب دیا۔ پہلے آپ صرف ترانہ تھیں اب آپ قومی ترانہ بن گئی ہیں۔
جنرل آغا محمدیحییٰ خان نے 61برس تک ایک مطمئن اور خوشحال زندگی بسر کی وہ اپنے راولپنڈی میں ہارلے سٹریٹ پر موجود اسی گھر میں قیام پذیر رہے جو کہ سٹینڈرڈ بینک کے فنڈز سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اور ان کو بطور سابق صدر اور آرمی چیف کے پنشن اور دیگر مراعات حاصل رہیں۔ انہوں نے 10اگست 1980 کو وفات پائی -انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: سلیقہ وڑائچ
ماخذ: حمود الرحمن کمیشن رپورٹ (1974)
اقلیم اختر رانی کا انٹرویو،
(ماہنامہ نیوز لائن شمارہ مئی، 2002)
اس کی تصدیق

آل عثمان کو بد بخت كمینےمصطفی کمال پاشا نےدر بدر کیا ۔ اللّه اس کو جہنم میں ڈال دے ۔ جب مصطفی کمال پاشا نے خلافت عثمانیہ...
18/03/2026

آل عثمان کو بد بخت كمینےمصطفی کمال پاشا نےدر بدر کیا ۔ اللّه اس کو جہنم میں ڈال دے ۔
جب مصطفی کمال پاشا نے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا تو آل عثمان كو راتوں رات گھریلو لباس ہی میں یورپ بھیج دیا گیا

شاہی خاندان (ملکہ اور شہزادوں) نے التجا کی کہ یورپ کیوں؟

ہمیں اردن، مصر یا شام کسى عرب علاقے ہی ميں بھیج دیا جائے
لیکن یہودی آقاؤں کے احکامات واضح تھے،

اپنی آتشِ انتقام کو ٹھنڈا کرنا اور ان کو آخری درجے ذلیل کرنا مقصود تھا،

چنانچہ کسی کو یونان میں یہودیوں کے مسکن سالونیک اور کسی کو یورپ روانہ کیا گیا،

اور آخری عثمانی بادشاہ سلطان وحید الدین اور ان کی اہلیہ کو راتوں رات فرانس بھیج دیا گیا

اور ان کی تمام جائیدادیں ضبط کر لی گئیں یہاں تک کہ گھریلو لباس میں خالی جیب اس حال میں انھیں رخصت کیا گیا کہ ایک پائی تک ان کے پاس نہ تھی،

کہا جاتا ہے کہ سلطان وحید الدین کے شہزادے منہ چھپا کر پیرس کی گلیوں میں کاسۂ گدائی لیے پھرتے تھے کہ کوئی انھیں پہچان نہ پائے،

پھر جب سلطان کی وفات ہوئی تو کلیسا ان کی میت کو کسی کے حوالے کرنے پر آمادہ نہ ہوا
کیونکہ دکانداروں کا قرض ان پر چڑھا ہوا تھا،

بالآخر مسلمانوں نے چندہ جمع کرکے سلطان کا قرض ادا کیا اور ان کی میت کو شام روانہ کیا اور وہاں وہ سپرد خاک ہوئے۔

بیس سال بعد جنھوں نے سب سے پہلے ان کے بارے میں دریافت کیا اور ان کی خبرگیری کی وہ تركى كے پہلے منتخب وزیر اعظم عدنان مندریس تھے،

شاہی خاندان کی تلاش کے لیے وہ فرانس گئے اور وہاں جا کر ان کے احوال وکوائف انھوں نے معلوم کیے، پیرس کے سفر ميں وہ کہتے تھے کہ

مجھے میرے آباء کا پتہ بتاؤ مجھے میری ماؤں سے ملاؤ،
بالآخر وہ پیرس کے ایک چھوٹے سے گاؤں پہنچ کر ایک کارخانے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ

سلطان عبد الحمید کی زوجہ پچاسی سالہ ملکہ شفیقہ اور ان کی بیٹی ساٹھ سالہ شہزادی عائشہ ایک کارخانے میں نہایت معمولی اجرت پر برتن مانجھ رہی ہیں،

یہ دیکھ کر مندریس اپنے آنسو نہ روک سکے اور زار وقطار رو پڑے، پھر ان کا ہاتھ چوم کر کہنے لگے: مجھے معاف کیجیے مجھے معاف کیجیے!
شہزادی عائشہ نے پوچھا :
آپ کون ہیں؟

کہا: میں ترک وزیر اعظم عدنان مندریس ہوں،
اتنا سننا تھا کہ وہ بول اٹھیں:
اب تک کہاں تھے؟
اور خوشی کے مارے بے ہوش ہو کر گر پڑیں،

عدنان مندریس جب انقرہ واپس گئے تو انہوں نے کمال اتا ترک کے دوست اور اس وقت کے ترکی کے صدر جلال بیار سے کہا کہ ميں آل عثمان کے لیے معافی نامہ جاری کرنا چاہتا ہوں، اور اپنی ماؤں کو واپس لانا چاہتا ہوں، بیار نے شروع میں تو اعتراض کیا،

مگر مندریس کے مسلسل اصرار پر صرف عورتوں کو واپس لانے کی اجازت دی،
پھر عدنان مندریس خود فرانس گئے اور ملکہ شفیقہ اور شہزادی عائشہ دونوں کو فرانس سے ترکی لے آئے،

مگر شہزادوں کے لیے معافی نامہ جاری کرکے ان کو اپنے وطن عزیز ترکی لانے کا سہرا مرحوم اربکان کے سر جاتا ہے
جب وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے۔

پھر جب مندریس پر جھوٹا مقدمہ چلا کر ان کو تختہ دار پر لٹکایا گیا تو منجملہ الزامات کے ساتھ ساتھ دو الزام یہ بھی تھے کہ

1۔ انہوں نے 30 سال بعد ترکی میں عربی زبان میں اذان دینے کی اجازت دی
جسے کمال اتا ترک اور اسکے ساتھیوں نے ترکی میں بند کر دیا تھا۔

2۔ انھوں نے حکومت کے خزانے سے چوری کرکے سلطان کی اہلیہ اور بیٹی پر خرچ کیا ہے،
اس لیے کہ وہ ہر عید کے موقع پر ملکہ اور شہزادی سے ملاقات کے لیے جاتے، ان کے ہاتھ چومتے، اور اپنی جیب خاص اور اپنے ذاتی صرفے سے ۱۰ ہزار لیرہ سالانہ شہزادی عائشه اور ملکہ شفیقہ کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔

جب ۱۷ ستمبر ۱۹٦١ کو عدنان مندریس اور ان کے 4 ساتھیوں کو ملٹری کورٹ نے شہید کیا تو
دوسرے ہی دن دونوں
(ملکہ اور شہزادی) کی بھی بحالت سجود وفات ہوئی۔

یہ سلوک ہے ھمارے نام نہاد سیکولرزم کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ تھا ،

نہ کوئی مروت نہ شرافت، نہ صلہ رحمی، نہ قرابت داری، نہ اخلاق کا پاس نہ قدروں کا لحاظ.. !

یہ جو قومیت اور وطنیت کا راگ الاپتے رھے
اور نعرےلگا لگا کر جن کی زبانیں نہیں تھکتی تھیں

ان کا مقصد بجز اس کے اور کیا تھا کہ اسلامی اخوت سے لوگوں کا رشتہ کاٹ دیا جائے اور اس مقدس رشتے کے تانے بانے کو بکھیر کر اس کو ایسے جاہلی رشتوں میں تبدیل کیا جائے
جن میں احترام ذات مفقود ہے اور حرمتوں اور انسانی رشتوں کا کوئی پاس ولحاظ نہیں ہے ۔

روئے زمین پر موجود شیطان کے چیلوں سے کبھی بے خبر نہ رہنا... !

اور ہاں یہ قصے بچوں کو سلانے کے لئے نہیں ہے
بلکہ سوتوں کو جگانے اور جواں مردوں کو کمربستہ کرنے کے لیے ہیں!

اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

(عربی سے ترجمہ : ابو فاتح ندو

جواں رشتوں کی دولت سے اگر دامن بھرا ہو تو! رفیقِ دل، شریکِ جاں برابر میں کھڑا ہو تو! دنیا خوب صورت ہے
17/03/2026

جواں رشتوں کی دولت سے
اگر دامن بھرا ہو تو!
رفیقِ دل، شریکِ جاں برابر
میں کھڑا ہو تو!
دنیا خوب صورت ہے

ملک غلام محمد گورنر جنرل کی طبیعت اتنی نازک اور مزاج اتنا تیز تھا کہ کوئی بھی وزیراعظم انہیں دیر تک خوش نہیں رکھ سکتا تھ...
13/03/2026

ملک غلام محمد گورنر جنرل کی طبیعت اتنی نازک اور مزاج اتنا تیز تھا کہ کوئی بھی وزیراعظم انہیں دیر تک خوش نہیں رکھ سکتا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ جلد ہی انہیں گھر بھیج دیتے تھے۔ محمد علی بوگرہ کو امریکہ سے "امپورٹ" کر کے پاکستان لایا گیا اور تیسرا وزیراعظم بنایا گیا، جو اپنے محسن اور باس کو خوش کرنے کے لیے ہر حد تک تیار رہتے تھے۔ جب امریکہ نے دوستی کے تحت پاکستان کو چند ریلوے انجن تحفے میں دیے تو تقریب میں گورنر جنرل ملک غلام محمد گاڑی میں سوار ہو کر پہنچے، تو وزیراعظم بوگرہ نے ایک فوجی کی موٹر سائیکل خود چلاتے ہوئے ان کی گاڑی کے آگے آگے چلنا شروع کر دیا اور "ہٹو بچو، ہٹو بچو" چیختے ہوئے راستہ کلیئر کرواتے رہے، گویا شو بائے کی طرح اپنے باس کی خدمت میں مصروف تھے۔ مگر یہ خوشامد بھی دیرپا نہ رہی؛ کچھ عرصے بعد ملک غلام محمد کو یہ بھنک پڑی کہ بوگرہ اور ان کی ٹیم ان کے اختیارات کم کر کے انہیں بے اثر کرنا چاہتی ہے، تو آدھی رات کو وزیراعظم کے گھر جا کر کنپٹی پر پستول تان کر دستور ساز اسمبلی تحلیل کرنے کے احکامات پر دستخط لے لیے گئے۔ یہ واقعہ پاکستان کی ابتدائی سیاسی تاریخ میں طاقت کے نشے اور خود غرضی کی ایک انتہائی شرمناک اور ڈرامائی مثال ہے۔

ایران کیوں بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر ہر دن حملے کررہاہے ؟امریکہ یہاں سے جوابی کارروائی کیوں نہیں کررہا؟ اور یہ اڈہ اس...
10/03/2026

ایران کیوں بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر ہر دن حملے کررہاہے ؟
امریکہ یہاں سے جوابی کارروائی کیوں نہیں کررہا؟
اور یہ اڈہ اسرائیل کی لائف لائن کیسے ہے؟
آئیے سمجھتے ہیں ۔

بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا محض ایک فوجی چھاؤنی نہیں، بلکہ یہ مشرق وسطی کا وار روم ہے جہاں سے پورے خطے کی تقدیر کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔

یہ اڈہ پاکستان سمیت تقریباً 21 ممالک کی سمندری حدود اور فضائی نگرانی کرتا ہے۔

ایران کے ڈاکٹر فواد ایزدی کے مطابق یہ اڈہ مشرق وسطی میں امریکی استعمار کا مرکز ہے یہاں سے ہونے والے فیصلے عرب ملکوں کے خودمختاری کو کچلتے ہیں ۔

امریکہ میں فلسطینی نژاد عبد الباری کے مطابق یہ اڈہ اسرائیل کا فرنٹ لائن ڈیفنس ہے ۔ اسکی موجودگی کا مقصد اسرائیل کا تحفظ ہے ۔

پانچواں بیڑا اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان فوجی تعاون کا پل ہے، جس کی وجہ سے ابراہیمی معاہدوں جیسے سیاسی فیصلے ممکن ہوئے۔

اس اڈے کے بغیر امریکہ مشرق وسطیٰ میں محض ایک تماشائی رہ جائے گا اور پھر یہاں کے فیصلے چین اور روس کریں گے ۔

ایران نے
جنگ کے پہلے دن ڈرونز سے انٹرسیپٹ میزائل کا ذخیرہ کم کروایا، دوسرے دن ڈیٹا سنٹر کو نقصان پہنچایا اور سب سے اہم کامیابی ریڈار سسٹم پر کامیاب حملہ کرکے امریکہ کو اندھا کردیا ، تیسرے دن تیل کے ڈیپو کو اڑایا گیا ، اور 1امریکی ڈسٹرائر جہاز کو نشانہ بنایا پھر چوتھے دن ائیر فیلڈ اور بندرگاہ، فوجیوں کے رہائشی عمارت پر کامیاب حملہ کیا گیا ۔

جب ایران کے قریب اتنا بڑا بحری اڈہ موجود ہے تو پھر امریکہ جوابی کارروائی یہاں سے کیوں نہیں کررہا؟
ایران کے پاس دنیا کا سب سے بڑا نیول مائن کا ذخیرہ ہے ۔
اگر امریکہ ایران کے ساحلوں یا بحری اثاثوں پر بڑا حملہ کرتا ہے، تو ایران آبنائے ہرمز میں ہزاروں سمارٹ بارودی سرنگیں بچھا دے گا۔
جس سے عربوں ڈالر کے امریکی جہاز ڈوبے گے ۔
اگر امریکہ جنگ جیت بھی جائے تو اسے مائنر کو کلیئر کرنے میں
کم سے کم سے کم 6 مہینے لگے گے یعنی آبنائے ہرمز جنگ میں بھی بند ہوگا اور اسکے بعد بھی مکمل بند ہوگا
جو عالمی معیشت یعنی امریکہ کی موت ہے ۔
ایک بھی ڈرون اگر یہاں موجود اربوں ڈالر کے طیارہ بردار جہاز کو ہٹ کر دے، تو یہ امریکہ کے لیے بہت بڑی سیاسی اور فوجی شکست ہوگی۔
ابرہام لنکن دور تھا اسکی تباہی دنیا سے چھپا سکتا ہے یہ نہیں چھپا سکتا یہ پوری دنیا دیکھی گی ۔
اور سب سے بڑا خوف ہے ایرانی ہائپر سونک میزائل جو دو سے تین منٹ میں یہاں پہنچتے ہیں انہیں روکنا امریکہ کیلئے ناممکن ہوگا جب ایک ساتھ حملہ ہوگا ۔

ایک تو اربوں ڈالر کا نقصان ، دوسرا فوجی اڈہ ختم تیسرا اگر یہاں سے حملہ ہوا یعنی بحرین کی سرزمین استعمال کی گئ تو بحرین کیلئے کتنے خرم شہر 4 کلسٹرز بموں والے میزائل کافی ہونگے جو صرف ایک میزائل 7 مربع کلومیٹر رقبے کیلئے کافی ہے ؟
اس سوال کا جواب آپ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔

ایران نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ کا ناقابلِ تسخیر پانچواں بیڑا خود محفوظ نہیں تو اب امریکہ عرب ملکوں کو تحفظ نہیں دے سکتا۔

یہاں کا ریڈار سسٹم ، جاسوسی کے ڈرونز ایران کے ہر ایک قدم پر نظر رکھتے ہیں ، ایران سے جو بھی میزائل اور ڈرونز اسرائیل کی طرف جاتا ہے یہ اڈہ انہیں فوراً اطلاع کرتاہے ، انٹلیجنس فراہم کرتاہے اسی لیے ایران نے اسکے ریڈار سسٹم پر کامیاب حملہ کیا ہے ۔
ایران بحرین کو یہ باور کرا رہا ہے کہ یہ بحری اڈہ آپکی حفاظت کیلئے نہیں اسرائیل کے تحفظ کیلئے ہے

جب پانچواں بیڑا اپنے دفاع میں مصروف ہوا، تو اسرائیل کو ملنے والی انٹیلیجنس اور میزائل ڈیفنس سپورٹ کمزور پڑ گئی، جس کا فائدہ اٹھا کر ایران نے اسرائیل کے اندر نیواتیم اڈہ ، موساد کے مرکز کو کامیابی سے ہٹ کیا۔

ایران کے حملوں سے ریڈار ، فیول ڈیپو ، دو ڈسٹرائر ایک کے ڈک کو اور دوسرے کو بحیرہ احمر میں ریڈار اور کمیونیکشن سنٹر کو ہٹ کیا گیا ہے تمام نقصان تقریبا 450 ملین ڈالر ہے۔
جہازوں کے ایندھن ، تنخواہیں اور گشت سے امریکہ کو 150ملین ڈالر کا خرچ ہوا ہے ۔
اور ایرانی سستے ڈرونز کو انٹرسیپٹ میزائلوں سے روکنے کیلئے 600 ملین ڈالر سے زائد کا خرچ آیا یے یعنی تقریبا 1.2 ارب ڈالر کا نقصان صرف 5 دنوں میں ۔

ایران کا مقصد امریکہ کو جنگ میں ہرا کر مکمل تباہ کرنا نہیں بلکہ اسے دیوالیہ کرنا ہے۔ وہ سستے ہتھیاروں سے امریکہ کے مہنگے ترین دفاعی نظام کو معاشی طور پر نچوڑ رہا ہے۔

بھٹو دھوکے سے مفتی محمود کو کوکا کولا میں شراب ملا کر پلا دیتا تھا ۔ذوالفقار علی بھٹو کے وزیرِ خزانہ، ڈاکٹر مبشر حسن، بت...
28/02/2026

بھٹو دھوکے سے مفتی محمود کو کوکا کولا میں شراب ملا کر پلا دیتا تھا ۔
ذوالفقار علی بھٹو کے وزیرِ خزانہ، ڈاکٹر مبشر حسن، بتایا کرتے تھے کہ جب مفتی محمود مذاکرات کے لیے آیا کرتے تھے تو بھٹو صاحب خاص طور پر تاکید کرتے تھے کہ اُن کی کوک میں ذرا سی وہسکی ڈال دیا کرو۔
یہ معمول کچھ عرصے تک چلتا رہا، یہاں تک کہ ایک دن بھٹو صاحب نے ہدایت دی:
“آج کوک میں وہسکی نہ ڈالنا۔”
ملاقات ختم ہونے کے بعد جب مفتی محمود رخصت ہونے لگے تو بھٹو صاحب کی طرف دیکھ کر کہنے لگے:
“آج کوک کا مزہ نہیں آیا۔”
بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں ایک اور مزاحیہ واقعہ تحریر کیا ہے۔
وہ لکھتی ہیں کہ بلوچستان میں ایک شخص نے ذوالفقار علی بھٹو کو راستے میں روک لیا اور غصے سے کہا:
“تم نے یہاں سڑک کیوں بنوا دی ہے؟ میرا گدھا اس سڑک پر چلتے چلتے پھسل جاتا ہے۔”
بھٹو صاحب نے مسکراتے ہوئے اُس کسان کو تسلی دی اور کہا:
“ٹینشن مت لو! میں تمہیں ایسا گدھا لے کر دوں گا جو تین گنا رفتار سے دوڑے گا اور پھسلے گا بھی نہیں۔”
بے نظیر بھٹو لکھتی ہیں کہ اگلے ہی ہفتے میرے والد نے اُس کسان کے لیے ایک جیپ بھجوا دی۔

Zunai Sha Yusra Writers

لال ماہڑہ کے مقبرے ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک قدیم اور انتہائی اہم تاریخی ورثے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ مقابر ضلع ڈیرہ اسما...
23/02/2026

لال ماہڑہ کے مقبرے ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک قدیم اور انتہائی اہم تاریخی ورثے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ مقابر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے مشرقی جانب، پروآ کے قریب علاقے میں واقع ہیں۔ مقامی زبان میں انہیں اکثر "ہندھیرے" یا "ادھیرے" بھی کہا جاتا ہے، جو شاید ان کی قدیم اور ویران شکل کی وجہ سے ہے۔
یہ مقام 11ویں اور 12ویں صدی عیسوی (تقریباً 1000-1150ء) کا ہے اور اسلامی فن تعمیر کا ایک شاندار نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہاں گیارہ (11) یادگار مقبرے (monumental tombs) موجود ہیں جو سلطنت غزنویہ اور ابتدائی غوری دور کے طرز تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان مقبروں کی تعمیر میں اینٹوں کا استعمال، گنبد نما ڈھانچے، محرابیں اور سادہ مگر موثر آرائشی عناصر نمایاں ہیں۔ یہ طرز ملتان اور اُچ شریف کے قدیم صوفی مقبروں سے مماثلت رکھتا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس دور میں یہ علاقہ ملتان کی سلطنت کے زیر اثر تھا۔
تاریخی پس منظر کے مطابق جب بلوچ قبائل نے ڈیرہ جات کی بستیوں کو آباد کیا تو لال ماہڑہ کا یہ قبرستان وجود میں آیا۔ یہ صوپہ سالار یا مقامی بزرگ روحانی شخصیات کے مزارات ہو سکتے ہیں، جن کی وجہ سے اسے "لال ماہڑہ شریف" بھی کہا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ اور عجائب گھروں نے اس مقام کو اپنی ویب سائٹ پر ورچوئل ٹور کی صورت میں بھی دستیاب کر رکھا ہے، جہاں انگریزی میں گائیڈ وائس اوور کے ساتھ تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہ مقابر نہ صرف فن تعمیر کے لحاظ سے قیمتی ہیں بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان کی قدیم ترین تہذیبی تاریخ (رحمان ڈھیری کے کھنڈرات اور بلوٹ شریف کے بعد) کے سلسلے میں بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ تاریخی ورثہ آج بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں، اور کئی مقابر کی حالت انتہائی خراب ہے۔ بارشوں، عدم توجہی اور قدرتی اثرات کی وجہ سے یہ "ادھیرے" بن چکے ہیں۔ حکومت اور مقامی کمیونٹی کو چاہیے کہ ان کی فوری مرمت اور تحفظ کے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ یہ 1000 سال پرانا ورثہ آنے والی نسلوں تک محفوظ رہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان جیسے علاقے میں جہاں ہندو، مسلم اور دیگر تہذیبوں کے اثرات ملے جلے ہیں، لال مہڑا کے یہ مقابر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ سرزمین صدیوں سے مختلف ثقافتوں کا گہوارہ رہی ہے۔
#

Address

Sarparah House 106-D Block Z, Gulshan E Iqbal(2) Rahim Yar Khan
Rahimyar Khan
64200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sadiq Library posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category