Oasis Grammar School

Oasis Grammar School "Your Child Deserve the Best Education"

جمعتُہ الوداع  مبارک ہو  #اردو  #اسلامک    #رمضان٢٠٢٣
20/04/2023

جمعتُہ الوداع مبارک ہو

#اردو #اسلامک #رمضان٢٠٢٣

❤️😇
17/04/2023

❤️😇

توبہ کہ تین رُکن
12/04/2023

توبہ کہ تین رُکن

علمِ لُدنی:-آقا و مولا امام حضرتِ سیدنا امام مولا علی المرتضیٰ علیہ السلام کا علمی مقام و مرتبہ، آقا و مولا امام حضرتِ م...
11/04/2023

علمِ لُدنی:-

آقا و مولا امام حضرتِ سیدنا امام مولا علی المرتضیٰ علیہ السلام کا علمی مقام و مرتبہ،

آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام کی ذاتِ اقدس کی قرآن فہمی،

حقیقت شناسی

اور فقہی صلاحیت

تمام اولین و آخرین میں ممتاز و منفرد ہے۔

قدرت نے آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام کی ذاتِ اقدس کو عقل و خرد کی اس قدر ارفع و اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا کہ
جو مسائل دوسرے حضرات کے نزدیک پیچیدہ اور لاینحل سمجھے جاتے تھے،
انہی مسائل کو آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام کی ذاتِ اقدس آسانی سے حل فرما دیتے.

اکابر صحابہ کرام رضوان للہ علیہم اجمعین ایسے اوقات سے پناہ مانگتے تھے کہ
جب کوئی مشکل مسئلہ پیش آجائے اور اس کے حل کے لیے حضرتِ مولا علی علیہ السلام موجود نہ ہوں۔

حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتے ہیں:

کَانَ عُمَرٌ یَتَعَوَّذُ بِاللّٰهِ مِنْ معضلة لَیْسَ فِیْهَا (وفی روایة: لَیْسَ لَهَا) اَبُوْحَسَن.

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُس پیچیدہ مسئلہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے جسے حل کرنے کے لیے ابوالحسن حضرتِ مولا علی ابن ابی طالب علیہ السلام نہ ہوں۔‘‘

(فضائل الصحابة، ج:2، ص: 803، رقم: 1100)

بعض اکابر صحابہ کرام رضوان للہ علیہم اجمعین نے شہادت دی کہ حضرتِ مولا علی علیہ السلام علمِ ظاہر و باطن دونوں کے امین ہیں۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

اِنَّ عَلِیًا بْنَ ابی طَالِبٍ عِنْدَهٗ عِلْمُ الظَاهِرِ والبَاطِنِ.

’’بے شک حضرتِ مولا علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے پاس قرآن کا علمِ ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔‘‘

(حلیة الاولیاء، ج:1، ص:105)

آپ علیہ السلام کا بتایا ہوا مسئلہ اولوالعزم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک حرفِ آخر سمجھا جاتا ہے۔
سیدالمفسرین حبر الامۃ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:

’’جب ہمیں کسی چیز کا ثبوت حضرتِ سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ سے مل جائے تو پھر ہم کسی اور کی طرف رجوع نہیں کرتے۔‘‘

(الاستیعاب، ج:3، ص: 207)

ام المومنین سیدہ طیبہ طاہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

عَلیٌ اَعْلَمُ النَّاسٍ بِالسُّنَّةِ.
حضرتِ مولا علی علیہ السلام تمام لوگوں سے بڑھ کر سنت کا علم رکھنے والے ہیں۔‘‘

(تاریخ مدینه دمشق، ج: 42، ص: 408)

یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو وہی قرآن کا سب سے بڑا عالم ہوتا ہے۔

عبدالمالک بن ابی سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطا رضی اللہ عنہ سے پوچھا:

اَکَانَ فِی اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلی الله علیه وآله وسلم اَحْدٌ اَعْلَمْ مِنْ عَلِیٍ؟ قَالَ لَا وَاللّٰهِ مَا اَعْلَمُهٗ.

’’کیا سیدنا حضرت محمد مصطفٰی احمدِ مجتبٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضوان للہ علیہم اجمعین میں حضرتِ سیدنا مولا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بڑھ کر کوئی عالم تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، خدا کی قسم میں ایسے شخص کو نہیں جانتا۔‘‘

(المصنف لابن ابی شیبة، ج: 17، ص: 123، رقم: 32772)

یہی وجہ ہے کہ آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام کے سوا کسی شخص نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ
’’آپ سے جو چاہو پوچھو وہ قرآن سے جواب دیںگے‘‘
ایسا دعویٰ صرف آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام کی ذاتِ اقدس نے ہی فرمایا۔
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

’’آقا و مولا امام حضرتِ سیدنا مولا علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
لوگو تم مجھ سے سوال کرو!
بخدا تم قیامت تک جس چیز کے متعلق بھی سوال کرو گے میں تمہیں بتائوں گا اور تم مجھ سے قرآن مجید کی بابت سوال کرو، بخدا قرآن مجید کی کوئی ایسی آیت نہیں مگر میں جانتا ہوں کہ وہ رات میں اتری یا دن میں، میدانوں میں نازل ہوئی یا پہاڑوں میں؟‘‘

(تاریخ دمشق، ج: 42، ص: 397-398)

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’ہم نبی کریم حضرتِ محمدِ مصطفٰے احمدِ مجتبٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھے کہ سیدنا مولا علی علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا گیا تو حضور اکرم حضرتِ محمدِ مصطفٰے احمدِ مجتبٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
حکمت دس حصوں میں تقسیم کی گئی، نو حصے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیئے گئے اور ایک حصہ باقی تمام لوگوں کو دیا گیا۔‘‘

(حلیة الاولیاء، ج:1، ص: 104)

حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:

’’حضور اکرم حضرتِ محمدِ مصطفٰے احمدِ مجتبٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضوان للہ علیہم اجمعین میں سے کسی شخص نے یہ دعویٰ نہیں کیا
’’سَلُوْنِی‘‘ (مجھ سے سوال کرو)
ماسوا آقا امام مولا علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام کے۔‘‘

(فضائل الصحابة، ج: 2، ص: 802، رقم: 1098)

امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام کی علمیت کا مقام کیوں نہ ہوتا
جبکہ آپ کی شان میں آیا ہے کہ.
سیدنا علی علیہ السلام علم کا باب (دروازہ) ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُها.

’’میں صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ و سلم علم کا شہر ہوں اور علی رضی اللہ عنہ اس کا دروازہ ہیں)۔‘‘

عربی گرائمر کے موجد آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام ہیں.
آقا و مولا امام حضرتِ سیدنا مولا علی علیہ السلام کے باب العلم ہونے کی قوی دلیل مجھ ایسے سادہ لوگوں کے لیے یہ بھی ہے کہ
آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام ایسے علم کے موجد ہیں کہ.
جن کے بغیر کوئی انسان عالم ہو ہی نہیں سکتا۔
آج اگر کوئی انسان عالم ہے اور قرآن و حدیث کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو یہ صلاحیت صرف اسی علم کی بدولت ہے
جس کے موجد باب العلم سیدنا مولا علی المرتضیٰ علیہ السلام ہیں اور وہ علم عربی گرائمر یعنی علمِ نحو ہے۔

جس شخص کو کسی بھی علم و فن سے کچھ تعلق ہو وہ جانتا ہے کہ کسی زبان کو سمجھنے کے لیے اس کی لغت کی معرفت کتنا ضروری ہوتی ہے.
پھر عربی لغت کی اہمیت تو محتاجِ بیان ہی نہیں۔
لغتِ عرب کی معرفت اتنا ضروری ہے جتنا کتاب و سنت کی معرفت ضروری ہے
بلکہ قرآن وحدیث کا سمجھنا معرفتِ لغت پر موقوف ہے۔

قرآن کریم ہو، حدیث شریف ہو، کلامِ عرب ہو، اشعارِ عرب ہوں یا لغتِ عرب ہو، ان میں سے ہر ایک کا سمجھنا عربی گرائمر پر موقوف ہے۔ اسی لئے عربی گرائمر کے متعلق کہا گیا:

اَلصَّرْفُ اُمُ الْعُلُومِ وَالنَّحْوُ اَبُوهَا.

’’علمِ صَرف تمام علوم کی ماں ہے اور علمِ نحو ان سب کا باپ ہے۔‘‘

اور ان دونوں علوم کے موجد و موسس باب مدینۃ العلم آقا و مولا امام حضرتِ سیدنا مولا علی علیہ السلام ہیں۔
سب سے پہلے آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام نے ہی ان دونوں علموں کے بنیادی قوانین املا کروائے
اور اسم، فعل اور حرف کی تمیز بتائی۔
پھر ان کے بتلائے ہوئے علم کو بغرض سہولت دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک کو
’’صَرف‘‘ کا نام دیا گیا
اور دوسرے کو ’’نحو‘‘ کا۔
حقیقت میں ’’صرف‘‘، نحو ہی کا ایک حصہ ہے اور اس کے موجد آقا و مولا امام حضرتِ سیدنا مولا علی علیہ السلام ہیں۔

مولانا سیدابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں:

’’امیرالمومنین آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام سے متعدد ایسے کاموں کی ابتدا ہوئی
کہ جس کے آثار نہ صرف یہ کہ باقی و پائندہ ہیں بلکہ جب تک عربی زبان اور اس کے قواعدِ نحو و صرف باقی ہیں، وہ کارنامہ زندۂ و جاوید رہے گا۔
ابوالقاسم الزجاجی کی کتاب ’’امالی‘‘ میں مذکور ہے کہ (ابوالاسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ)
میں آقا و مولا امام حضرتِ سیدنا مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی خدمت میں حاضر ہوا،
آپ علیہ السلام کی ذاتِ اقدس کو دیکھا کہ سر جھکائے متفکر تشریف فرما ہیں،
میں نے عرض کیا: امیرالمومنین علیہ السلام ! کس معاملہ میں متفکر ہیں؟
فرمایا:میں تمہارے شہر میں عربی غلط طریقہ پر بولتے ہوئے سنتا ہوں،
اس لیے میں چاہتا ہوں کہ زبان کے اصول و قواعد میں ایک یاد داشت تیار کردوں۔
میں نے عرض کیا:

اِنْ فَعَلْتَ هٰذَا اَحْیَیْتَنَا وَبَقَیْتَ فِیْنَا هٰذِهٖ اللُّغَةُ.

اگر آپ علیہ السلام ایسا فرما دیں دیں تو ہمیں آپ علیہ السلام کے ذریعہ زندگی مل جائے گی اور ہمارے یہاں عربی زبان باقی رہ جائے گی۔

اس گفتگو کے تین روز کے بعد میں پھر آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ علیہ السلام نے ایک کاغذ مرحمت فرمایا جس میں علم نحو کے ابتدائی مسائل درج تھے‘‘۔

(تاریخ الاسلام للذهبی ملخصاً، ج: 2، ص: 479)

خود سوچئے کہ جس علم کو حاصل کئے بغیر کوئی انسان (خواہ وہ عربی ہو یا عجمی) عالم نہیں بن سکتا تو پھر جو شخص اس علم کا موجد اور موسس ہو وہ باب العلم نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟
افسوس کا مقام ہے کہ لوگ علمِ صَرف اور نحو کو تو تمام علوم کا ماں باپ تسلیم کرتے ہیں لیکن جو ہستی ان علوم کی واضع اور صانع ہے، اسے تمام علوم کا دروازہ تسلیم نہیں کرتے۔

عامۃ الناس کو جانے دیجئے! کم از کم جو شخص عربی پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور خود کو عالم کہلاتا ہے.
اسے تو حدیث انا مدینۃ العلم وعلی بابھا کا انکار نہیں کرنا چاہئے!
کیونکہ اس کے اندر عربی جاننے کی اہلیت صرف اور صرف اسی عربی گرائمر کی بدولت پیدا ہوئی جس کے موجد آقا و مولا امام حضرتِ سیدنا مولا علی علیہ السلام ہیں۔

آقا و مولا امام حضرتِ سیدنا مولا علی المرتضیٰ علیہ السلام کی اِس شانِ علم کو جاننے کے باوجود نہ جانے کیوں بدنصیب لوگ شانِ مرتضوی علیہ کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام کے دس خصائص
حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نو افراد پر مشتمل ایک وفد آیا تو انہوں نے کہا:

اے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ ! یا تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ الگ ہوکر ہماری بات سنیں یا ان لوگوں کو باہر بھیج دیں۔ اس وقت تک وہ صحیح تھے، نابینا نہیں ہوئے تھے۔ فرمایا: میں اٹھ کر تمہارے ساتھ باہر جاتا ہوں۔ انہوں نے گفتگو کی لیکن ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے کیا کہا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فارغ ہوکر آئے تو وہ اپنا دامن جھاڑتے ہوئے فرمارہے تھے:

اُفٍ وَتَفٍ یَقَعُونَ فِی رَجُلٍ لَهٗ عَشْرٌ.

افسوس! یہ لوگ اس ہستی کی برائی کرتے ہیں جس کو دس خصوصیات حاصل تھیں۔ (جو یہ ہیں):
(السنن الکبریٰ، النسائی، 7: 416، الرقم: 8355)

آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام کے اس قدر حاسد کیوں تھے؟
ہمیشہ اربابِ نعمت حضرات کے حاسدین ہوتے ہیں اور آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام چونکہ بے شمار فضائل کے ہی نہیں بلکہ خصائص کے حامل تھے.
اس لیے آپ علیہ السلام کی ذاتِ اقدس کے ساتھ حسد کرنے والوں کی بھی کثرت تھی.
اور یہ ظاہر ہے کہ غلط اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کرنا اور بے پرکی اڑانا حاسدین کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے۔
چنانچہ آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام کے حاسدین ایک طرف تو ان کی خوبیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کرتے تھے اور دوسری طرف ان کے خلاف افواہیں پھیلاتے اور بے پرکی اڑاتے تھے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے پاس جو جماعت آئی تھی وہ ایسی ہی بے بنیاد افواہوں کے باعث آقا و مولا امام حضرتِ مولا علیٰ علیہ السلام کی ذاتِ اقدس کے ساتھ بغض کے مرض میں مبتلا تھی۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ردعمل کے طور پر ان کی بکواسات کے مقابلہ میں آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام کے دس خصائص بیان فرماکر واضح کردیا کہ
اے دشمنانِ علی علیہ السلام ! درحقیقت تم آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام کی شان سے بے خبر ہو۔
آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام،
آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی ہیں،
اِن علیہ السلام کی ذاتِ اقدس کو
عالیشان رب اللہ تعالٰی عزوجل جل جلالہ کی ذاتِ اقدس نے آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام بنایا ہے،

کسی سفلہ مزاج شخص کو مقامِ آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام کی کیا خبر!؟
نادانو! تم ان علیہ السلام کے خلاف زبان کھول کر اپنی عاقبت تو برباد کررہے ہو.
مگر ان علیہ السلام کا کچھ نہیں بگاڑ رہے۔
یاد رکھو!
آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی المرتضیٰ علیہ السلام کے خلاف لب کشائی کرنا آسمان پر تھوکنے کے مترادف ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی اس تقریر میں نبی کریم حضرتِ محمدِ مصطفٰے احمدِ مجتبٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے متعدد ارشادات آگئے ہیں.

اور چونکہ محدثین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے،

لہذا اس طویل حدیث کے ضمن میں جو دوسری احادیث آگئی ہیں ان کی صحت بھی از خود ثابت ہوگئی۔
نیز یہاں ایک عظیم فائدہ یہ بھی معلوم ہوا کہ خداوند قدوس جل جلالہ کی ذاتِ اقدس نے اپنی برگزیدہ ہستیوں کے فضائل ہمیشہ ایسے ہی حاسدین و معاندین کے حسد و عناد کی تردید میں آشکار فرماتا ہے۔

اگر کبھی آپ غور فرمائیں کہ
سورۃ الضحیٰ،
سورۃ الکوثر
اور سورۃ القلم، وغیرھا سورتیں اور آیات کیوں اور کس وقت نازل ہوئیں تو آپ پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی۔

چنانچہ سیدنا حضرتِ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ذاتِ اقدس کی زبان مبارک ایسے ہی موقعہ پر گوہر افشاں ہوئی.
اور خود نبی کریم حضرتِ محمدِ مصطفٰے احمدِ مجتبٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کی زبان اقدس بھی اکثر ایسے ہی مواقع پر جنبش میں آئی۔

’’آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام اور قرآن دونوں جدا نہ ہوں گے‘‘

حضرت ابوذر غفاریرضی اللہ تعالٰی عنہ کے غلام حضرت ابو ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ
سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

علی مع القرآن والقرآن مع علی، لن یتفرقا حتی یردا علی الحوض.

’’علی (علیہ السلام) قرآن کے ساتھ اور قرآن علی (علیہ السلام) کے ساتھ ہے، دونوں جدا نہ ہوں گے حتی کہ اکٹھے حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے۔‘‘

(المستدرک، ج: 3، ص: 123، رقم: 4685)

اس حدیث پر غور کرنے سے اس ناکارہ کے ذہن میں ایک مفہوم آیا ہے اور یقینا وہ ایک روحانی مفہوم ہے۔
اور وہ یہ ہے کہ
جب آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام اور قرآن مجید کے مابین اس قدر دائمی معیت ہے تو پھر یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ کسی شخص کو قرآن کریم سے حقیقی فائدہ اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے من میں قرآن مجید کے ساتھ ساتھ آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام کی محبت موجزن نہ ہو اور قرآن حکیم سے حقیقی فائدہ حصول ہدایت ہے اور یہ نعمت محبت اہل بیتِ اطہار علیہ السلام کے سوا قطعاً حاصل نہیں ہوسکتی۔

سو جو شخص اس محبت کے بغیر قرآن فہمی کی کوشش کرتا ہے یقین فرمایئے! اس پر ہدایت کے نہیں ضلالت کے دروازے کھلتے ہیں۔

اور

جن لوگوں کو یہ بات حیران کن محسوس ہوتی ہے کہ آقا و مولا امام حضرتِ سیدنا مولا علی علیہ السلام کی ذاتِ اقدس کس طرح شہرِ علم کا دروازہ ہوسکتے ہیں جبکہ اکثر صحابہ کرام رضوان للہ علیہم اجمعین نےآقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام سے نہیں بلکہ براہ راست نبی کریم حضرتِ محمدِ مصطفٰے احمدِ مجتبٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علم حاصل کیا ،
ایسے لوگ اگر غور کریں تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوسکتی ہے کہ حبِ مرتضوی علیہ السلام کے بغیر کسی حد تک علومِ قرآنی پر تو دسترس حاصل ہوسکتی ہے مگر قرآن بطور ہدایت من میں نہیں اتر سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ نبی کریم حضرتِ محمدِ مصطفٰے احمدِ مجتبٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس نے مطلقاً فرمایا کہ آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام سے محبت، ایمان ہے اور ان کے ساتھ بغض، منافقت ہے۔

معلوم ہوا کہ
آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام خصوصاً اس علم کا دروازہ ہیں جو ہدایت پر مبنی ہے،

لہذا جس شخص کا قلب محبتِ آقا و مولا امام حضرتِ مولا علی علیہ السلام سے خالی ہو تو اُس کا علمِ ہدایت سے محروم رہنا یقینی ہے۔

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم .

جنت کی ضمانت  #اسلامک #اردو
11/04/2023

جنت کی ضمانت
#اسلامک
#اردو

خوش نصیب لوگوں کے عادتیں
10/04/2023

خوش نصیب لوگوں کے عادتیں

08/04/2023
     Share it
01/04/2023


Share it

دسویں سحری مبارک
31/03/2023

دسویں سحری مبارک

31/03/2023

Share this
29/03/2023

Share this

رمضان المبارک کا پہلا جمعہ  آپ سب مسلمانوں کو بہت بہت مبارک ہو
23/03/2023

رمضان المبارک کا پہلا جمعہ آپ سب مسلمانوں کو بہت بہت مبارک ہو

Address

Main Stop Araiyan Raiwind Road Lahore
Raiwind
55150

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 14:00

Telephone

+923004923375

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Oasis Grammar School posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Oasis Grammar School:

Share

Category