16/11/2025
ہفتہ وار کالم: نصراللہ گورائیہ نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب (وسطی)
ستائیسویں آئینی ترمیم! تماشا ختم نہیں ہوا، بس اسٹیج بدلا ہے!
پاکستان میں آئینی ترامیم اب علاج نہیں، ایک رسوماتی مجبوری بن چکی ہیں ۔جیسے ہر مرض کا نسخہ صرف پیناڈول ہو اور زخم چاہے کتنا ہی گہرا ہو، مرہم کی جگہ صرف دعویٰ لگا دیا جائے۔ ستائیسویں آئینی ترمیم بھی اسی سلسلے کا نیا نوٹیفکیشن ہے ۔چہرے بدلنے کا اعلان، نظام کو جوں کا توں رکھنے کی گارنٹی۔سوال مگر وہی پرانے ہیں، اور ان کے جواب آج بھی ہمارے گریبانوں کی خاموشی میں دفن ہیں۔کیا ستائیسویں ترمیم کے بعد آٹا سستا ہوا؟ روٹی عوام کے منہ تک پہنچی؟ بجلی کے بلوں نے گھر اجاڑے بند کیے؟ کیا اڑھائی کروڑ بے بس بچے اپنی قسمت کے دروازے اسکول کی صورت کھلتے ہوئے دیکھ سکے؟اگر نہیں تو پھر یہ ترمیم عوام کے لیے ہے یا طاقت کے اس ایوان کے لیے جہاں فیصلے قوم نہیں، مفاد کے نام پر لکھے جاتے ہیں؟سماج میں دیکھیں تو کیا اس ترمیم نے خواتین کی زندگی آسان کی؟ کیا جنسی ہراسانی رکی؟ کیا بچیوں کے لیے راستے محفوظ ہوئے؟ کیا یونیورسٹیوں میں طالب علم آزادیِ رائے کے ساتھ سوچ سکتے ہیں؟ کیا نصاب میں وہ بدلاؤ آیا جو صدیوں کا سفر ایک نسل میں سمیٹ لیتا؟مزدور کی طرف دیکھیے ! کیا اس ترمیم کے بعد اس کی اجرت اُس کے خون پسینے سے ہم آہنگ ہوئی؟ کسان کے کھیتوں میں کیا کسی نے خوف، فصل، قیمت اور منڈی کے دلالوں کی گٹھ جوڑ توڑی؟ کیا بے روزگار نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈگری کے ساتھ عزتِ روزگار بھی تھمائی گئی؟ذرا مذہبی منظرنامہ دیکھتے ہیں ! کیا اس ترمیم کے بعد فرقہ واریت کی آگ بجھی؟ کیا عبادت گاہیں سیاست کے سائے سے آزاد ہوئیں؟ کیا دین کو ووٹ بینک کی ڈھال بنانے والوں کے ہاتھ روکے گئے؟ شاید نہیں اور شاید ہم جانتے بھی ہیں کہ “کیوں نہیں”۔اب سیاست…۔۔ کیا ووٹ واقعی مقدس ہو گیا؟ کیا اس کے تقدس پر پہرا دینے والے تبدیل ہو گئے، یا صرف زبانیں بدلیں؟ کیا سیاسی جماعتوں نے اپنے اندر جمہوریت پیدا کی؟ کیا ریاست نے آئین کو اوپر رکھا، یا حسبِ روایت طاقت کو فوقیت دی گئی؟عدلیہ، صحافت، اور آزادی… کیا اس ترمیم نے ان میں سے کسی کے ہاتھوں کی بیڑیاں توڑیں؟ کیا کوئی ایسا فیصلہ ہوا جس نے طاقت کے ایوانوں کو پہلی بار لرزایا ہو؟ یا پھر وہی پرانے فیصلے، وہی پرانہ توازن، وہی پرانہ “احتیاط”؟معیشت کی طرف آئیے ! کیا روپے نے مصنوعی سہاروں کے بغیر کھڑا ہونا سیکھ لیا؟ کیا ملک نے آئی ایم ایف کے دروازے پر کنجی رکھ کر واپس آنا چھوڑا؟ کیا سرمایہ کاری بڑھی؟ کیا کاروبار پھلے پھولے؟ کیا مہنگائی نے دم لیا؟
اور ہاں، کیا اس ترمیم کے بعد کشمیر کی آزادی کی منزل ایک انچ بھی قریب ہوئی؟یا سبز پاسپورٹ اپنی عزت خود ڈھونڈنے کے لیے اب بھی غیر ملکی ائیرپورٹس پر قطاروں میں سسکتا ہے؟اگر ان تمام سوالوں کا جواب “نہیں” ہے اور یقینا سچ یہی ہے کہ جواب “نہیں” ہی ہے تو پھر مان لیجیے کہ ترمیمیں محض کاغذی مشقیں ہیں۔ اصل مسئلہ آئینی شقوں کا نہیں، ان شقوں کو روندنے والی سوچ کا ہے۔ یہاں چہرے بدلتے ہیں مگر نظام نہیں۔ یہاں باریوں کا اصول ہے، اصلاح کا نہیں۔ یہاں طاقت کا نظم مضبوط ہے اور عوام کی زندگی کمزور۔پاکستان کی بقا آئینی نمبروں کے اضافے میں نہیں، سوچ کے انقلاب میں ہے۔جہاں:عورت کو حاشیہ نہیں، مرکز تسلیم کیا جائے۔مزدور کا پسینہ قیمت پائے۔کسان کی فصل دلالوں سے آزاد ہو۔طلبہ کو سوچنے کی آزادی ملے۔عدالتیں خوف سے آزاد ہوں۔صحافت زبان پر تالا لگائے بغیر زندہ رہ سکے۔سیاست ووٹ کی طاقت تسلیم کرےاور ریاست طاقت کو قانون کے تابع کرے، قانون کو طاقت کے نہیں جب تک ایسا نہیں ہوتا، ستائیسویں ہو یا اٹھائیسویں یہ سب ترمیمیں محض نمبرز ہیں، عوام کے زخموں پر نئے بینڈجز، لیکن خون بہنے کا عمل وہی پرانا۔پاکستان کو آئینی ترمیم نہیں، فکری ترمیم چاہیے۔
ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی:تماشا جاری تھا ! تماشا جاری ہے !اور تماشا جاری رہے گا۔