Dr Rana Rashid Latif

Dr Rana Rashid Latif Candidate Jamaat e islami PP-295

06/02/2026
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی کتاب "قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں" ایک نہایت اہم علمی اور فکری تحریر ہے۔ اس کتاب کا بن...
12/01/2026

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی کتاب "قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں" ایک نہایت اہم علمی اور فکری تحریر ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو قرآن کے اصل پیغام اور اس کی روح سے روشناس کرانا ہے۔
اس کتاب کا خلاصہ اور اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. کتاب کا مرکزی خیال (Central Idea)
مولانا مودودیؒ کا استدلال ہے کہ قرآن مجید کی پوری دعوت چار الفاظ کے گرد گھومتی ہے۔ اگر کوئی شخص ان چار الفاظ کا مفہوم صحیح طور پر نہ سمجھ سکے، تو اس کے لیے قرآن کا اصل مدعا اور دعوتِ توحید کو سمجھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت عرب کے لوگ ان الفاظ کے وسیع اور جامع مفہوم سے واقف تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان الفاظ کا مفہوم محدود ہو کر صرف "مذہبی رسومات" تک رہ گیا، جس سے دین کی پوری عمارت متاثر ہوئی۔
2. چار بنیادی اصطلاحیں
مولانا نے جن چار اصطلاحات کی وضاحت کی ہے، وہ یہ ہیں:
الف: الٰہ (Ilah)
* عام فہم غلطی: عام طور پر اس کا مطلب صرف "معبود" یا "جس کی پوجا کی جائے" لیا جاتا ہے۔
* قرآنی مفہوم: مولانا کے مطابق "الٰہ" کا مطلب صرف پوجا پاٹ کا مرکز نہیں، بلکہ وہ ہستی ہے جس کا حکم مانا جائے، جس سے امیدیں وابستہ کی جائیں، جس سے ڈرا جائے اور جو حاکمِ اعلیٰ (Supreme Authority) ہو۔
* خلاصہ: جسے آپ اپنی زندگی کا مالک مختار مانیں اور قانون سازی کا حق دیں، وہی آپ کا الٰہ ہے۔
ب: رب (Rabb)
* عام فہم غلطی: اسے صرف "پالنے والا" یا پرورش کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔
* قرآنی مفہوم: "رب" کے معنی میں پرورش کرنے کے ساتھ ساتھ مالک، آقا، اور قانون دینے والا بھی شامل ہے۔ رب وہ ہے جو حکم دے اور بندے اس کی اطاعت کریں۔
* خلاصہ: اللہ کو رب ماننے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ رزق دیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہی ہمارا "حاکم اور قانون ساز" ہے اور ہم اس کے قانون کے پابند ہیں۔
ج: عبادت (Ibadah)
* عام فہم غلطی: نماز، روزہ اور تسبیح پڑھنے کو ہی مکمل عبادت سمجھ لیا گیا ہے۔
* قرآنی مفہوم: عبادت کا اصل مادہ "عبد" ہے جس کا مطلب ہے "غلام"۔ پس عبادت کا مطلب ہے "غلامی اور اطاعت کرنا"۔
* خلاصہ: زندگی کے ہر معاملے (معیشت، سیاست، معاشرت) میں اللہ کے قانون کی پیروی کرنا عبادت ہے۔ نماز اور روزہ تو اس بڑی اطاعت کی تربیت ہیں۔
د: دین (Deen)
* عام فہم غلطی: اسے انگریزی لفظ "Religion" کے مترادف سمجھا جاتا ہے، یعنی چند عقائد اور رسومات کا مجموعہ۔
* قرآنی مفہوم: دین کا مطلب ہے "نظامِ زندگی" (System of Life) اور "اطاعت کا طریقہ"۔ یہ ایک ایسی ریاست یا نظام ہے جس میں کوئی حاکم ہو اور اس کے قوانین چلتے ہوں۔
* خلاصہ: اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل نظام (دین) ہے جو عدالت سے لے کر منڈی تک اور مسجد سے لے کر ایوانِ اقتدار تک محیط ہے۔
3. کتاب کا نتیجہ (Conclusion)
مولانا مودودیؒ آخر میں یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب تک ہم ان چاروں الفاظ کو ان کے اصل اور وسیع معنوں میں نہیں سمجھیں گے، ہم "لا الہ الا اللہ" کا حق ادا نہیں کر سکتے۔
* اللہ ہی ہمارا اکیلا الٰہ (حاکم) ہے۔
* وہی ہمارا تنہا رب (مالک و آقا) ہے۔
* ہمیں صرف اسی کی عبادت (مکمل غلامی و اطاعت) کرنی ہے۔
* اور صرف اسی کے دین (نظامِ زندگی) کو قبول کرنا ہے۔
یہی قرآن کی دعوت کا خلاصہ ہے کہ انسان غیر اللہ کی حاکمیت سے نکل کر صرف اللہ کی حاکمیت میں داخل ہو جائے۔

آج درس قرآن میں یہ آیت تھی۔ تو میں نے غور کیا کہ کہ بانی جماعت مولانا مودودی سے لیکر حافظ نعیم تک کی لیڈر شپ کہیں اس آیت...
11/01/2026

آج درس قرآن میں یہ آیت تھی۔ تو میں نے غور کیا کہ کہ بانی جماعت مولانا مودودی سے لیکر حافظ نعیم تک کی لیڈر شپ کہیں اس آیت کی مصداق تو نہیں ۔ لیکن دل مطمئن ہوا ان شاءاللہ نہیں وہ آیت یہ ہے
سورۃ نمبر 11 هود
آیت نمبر 98
يَقۡدُمُ قَوۡمَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَاَوۡرَدَهُمُ النَّارَ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡوِرۡدُ الۡمَوۡرُوۡدُ‏ ۞

ترجمہ:
قیامت کے روز وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہو گا اور اپنی پیشوائی میں انہیں دوزخ کی طرف لے جائے گا۔ کیسی بد تر جائے وُرُود ہے یہ جس پر کوئی پہنچے!
تفسیر:
اس آیت سے اور قرآن مجید کی بعض دوسری تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں کسی قوم یا جماعت کے رہنما ہوتے ہیں وہی قیامت کے روز بھی اس کے رہنما ہوں گے۔ اگر وہ دنیا میں نیکی اور سچائی اور حق کی طرف رہنمائی کر تے ہیں تو جن لوگوں نے یہاں ان کی پیروی کی ہے وہ قیامت کے روز بھی انہیں کے جھنڈے تلے جمع ہوں گے اور ان کی پیشوائی میں جنت کی طرف جائیں گے۔ اور اگر وہ دنیا میں کسی ضلالت ، کسی بد اخلاقی یا کسی ایسی راہ کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں جو دینِ حق کی راہ نہیں ہے ، تو جو لوگ یہاں ان کے پیچھے چل رہے ہیں وہ وہاں بھی ان کے پیچھے ہوں گے اور انہی کی سرکردگی میں جہنم کا رُخ کریں گے۔ اسی مضمون کی ترجمانی نبی ﷺ کے اس ارشاد میں پائی جاتی ہے کہ امرؤ القیس حامل لوا ء شعر ال ء الجا ھلیۃ الی النار، یعنی” قیامت کے روز جاہلیت کی شاعری کا جھنڈا امرؤ القیس کے ہاتھ میں ہو گا اور عرب جاہلیت کے تمام شعراء اسی کی پیشوائی میں دوزخ کی راہ لیں گے“۔ اب یہ منظر ہی شخص کا اپنا تخیل اس کی آنکھوں کے سامنے کھینچ سکتا ہے کہ یہ دونوں قسم کے جلوس کس شان سے اپنی مقصود کی طرف جائیں گے ظاہر ہے کہ جن لیڈروں نے دنیا میں لوگوں کو گمراہ کیا اور خلافِ حق راہوں پر چلایا ہے اُس کے پیرو جب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ یہ ظالم ہم کو کس خوفناک انجام کی طرف کھینچ لائے ہیں، تو وہ اپنی ساری مصیبتوں کا ذمہ دار انہی کو سمجھیں گے اور اُن کا جلوس اس شان سے دوزخ کی راہ پر رواں ہو گا کہ آگے آگے وہ ہوں گے اور پیچھے پیچھے ان کے پیرووں کا ہجوم ان کو گالیاں دیتا ہوا اور ان پر لعنتوں کی بوچھاڑ کر تا ہوا جا رہا ہوگا۔ بخلاف اس کے جن لوگوں کی رہنمائی نے لوگوں کو جنت نعیم کا مستحق بنایا ہو گا ان کے پیرو اپنا یہ انجام خیر دیکھ کر اپنے لیڈروں کو دعائیں دیتے ہوئے اور ان پر مدح و تحسین کے پھول برساتے ہوئے چلیں گے۔

Shameful day for Indian nation
11/09/2025

Shameful day for Indian nation

Address

Rajanpur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Rana Rashid Latif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share