All Jammu & Kashmir Muslim Conference (Official)

All Jammu & Kashmir Muslim Conference (Official) All Jammu and Kashmir Muslim Conference (AKJMC) It is not an armed-struggle group.

The All Jammu and Kashmir Muslim Conference is a one of two major political parties in the Pakistan-ruled part of Kashmir. In 1932 Sheik Abdullah formed Kashmir's first political party, the All Jammu & Kashmir Muslim Conference, with a demand for merger of Kashmir into India. His party was renamed the National Conference in 1939 to suite the secular nature of Kashmiri culture. The All Jammu and Ka

shmir National Conference, led by Sheikh Mohammed Abdullah, espoused a secular ideology and wished to create a secular, democratic but independent Kashmir with close ties to India. When the All Jammu and Kashmir Muslim Conference was converted into a secular political party in 1939, the Muslim leaders amended the Constitution of the Muslim Conference, renamed it as the All Jammu and Kashmir National Conference, modified its objectives and threw its membership open to all the people of the State. On 13 June 1941, the breakaway factions of the National Conference revived the erstwhile Muslim Conference. The All Jammu and Kashmir Muslim Conference, which led the Muslim movement for Pakistan in the State, apparantly on the instructions of the Muslim League, initially declared its support for an independent Jammu and Kashmir State. Before the approval of the Partition of India Plan, Kashmiris had made a decision in regard to their future. On July 19, 1947, a convention of All Jammu & Kashmir Muslim Conference held in Srinagar, adopted the "Accession to Pakistan Resolution" demanding accession of the Kashmir state to Pakistan. It was Sardar Ibrahim's house in Srinagar that the AJKMC working committee meeting passed the resolution seeking Kashmir's accession to Pakistan, reversing an earlier resolution for the state's independence. A government led by Sardar Ibrahim was formed on Oct 24, 1947, after he arrived in Pakistan from Srinagar in disguise. After the Civil Disobedience Movement [of 1950-51], the Government of Pakistan had come to an agreement with the All Jammu and Kashmir Muslim Conference that all cases of political nature would not be prosecuted. In 1955 the All-Jammu and Kashmir Muslim Conference was the political party nominally in power in Pakistan-held Kashmir. In July 2001 the stage was set for All Jammu & Kashmir Muslim Conference to form government in Azad Kashmir as it gained a majority in the AJK Legislative Assembly elections, defeating its nearest rival, the AJK branch of Pakistan Peoples Party. The main political parties contesting the election were Pakistan People's Party, the All-Jammu and Kashmir Muslim Conference and the Jamaat-e-Islami. The Jammu and Kashmir Liberation Front (JKLF) decided to boycott the elections after the rejection of nomination papers for 25 JKLF candidates. Sardar Sikandar Hayat Khan of the All Jammu and Kashmir Muslim Conference was the new Prime Minister of the Pak Occupied Kashmir (PoK). The All Jammu and Kashmir Muslim Conference (AJKMC) was led by former rebel Sardar Abdul Qayyum.

صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمدخان کا مسلم کانفرنس کے93 ویں یوم تاسیس کے موقع پر خصوصی پیغامراولپنڈی:13/ اکتوبر2025  آل...
14/10/2025

صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمدخان کا مسلم کانفرنس کے93 ویں یوم تاسیس کے موقع پر خصوصی پیغام
راولپنڈی:13/ اکتوبر2025
آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی تریانوے(93ویں) سالگرہ کی تقریبات آزاد کشمیر، پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں وکشمیرکے علاوہ دنیا بھر میں منعقد کی جائیں۔ 15,16,17اکتوبر1932کو سرینگر کی پتھر مسجد میں ریاست جموں وکشمیر کے مسلمانوں نے ایک تاریخ ساز اجتماع میں ریاستی مسلمانوں کی اولین سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی تھی۔ مسلم کانفرنس کا قیام ریاست کی سیاسی تاریخ کا اہم ترین واقعہ اور ایک بیداری کا ثبوت تھا جس میں مسلمانان ریاست جموں وکشمیر نے کسی علاقائی، گروہی، لسانی یا نسلی تعصب کو حائل نہیں ہونے دیا اورمکمل اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیریوں کی آزادی اور اُن کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے ایک عملی جدو جہد کا آغاز کیا۔مسلم کانفرنس کی تریانوے سالہ تحریکی و سیاسی جدوجہد اس امر کی غماز ہے کہ کشمیریوں نے ہندوستان کا غلبہ پہلے کبھی تسلیم کیا تھا اور نہ ہی وہ آئندہ کے لئے اپنی جدو جہد ترک کرنے کے لئے تیا ر ہیں۔ریاست جموں و کشمیر جغرافیائی، معاشرتی، دفاعی، تاریخی اور اقتصادی طور پر پاکستان کا طبعی حصہ ہے۔ جسے انگریز ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہندوستان کو دینا چاہتا تھا۔ مسلم کانفرنس کے کارکنان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تحریک الحاق پاکستان کو مضبوط کریں،ہندوستان کے جبری قبضے کو کسی صورت تسلیم نہ کریں بلکہ اس کے خلاف جدوجہد کرتے رہیں۔ کشمیری عوام ریاست جموں و کشمیر کی مکمل آزادی اور پاکستان سے الحاق کے علاوہ کوئی آپشن ماننے کے لئے تیار نہیں۔
آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے صدرسابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے ان خیالات کا اظہار جماعت کے تریانوے(93 ویں) یوم تاسیس کے موقع پر جاری اپنے ایک خصوصی پیغام میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ آزادکشمیر، مہاجرین مقیم پاکستان اور بیرون ممالک میں مقیم کشمیری جماعت کے ایام تاسیس کے موقع پر اپنی اپنی سطح پر اجتماعات کا انعقاد کریں اوراس عہد کی تجدید کریں کہ وہ اُن عظیم مقاصد اور نصب العین کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے جن کی بنیاد پر آج سے تریانوے سال قبل مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں آیا تھا۔ سردار عتیق احمد خان نے جماعتی کارکنوں کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ سرینگر کی پتھر مسجد میں ہمارے اسلاف نے مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی جس کا مقصد مسلمانان جموں وکشمیر کی خدا کے دین کے ساتھ وابستگی کو مضبوط بناکر اپنے حقوق کے حصول کی جدو جہد کا آغاز کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنے اُن اکابرین / شرکاء / منتظمین/ مقررین اور کارکنان کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے تاریخی اور تاسیسی اجتماع میں کشمیری مسلمانوں کے لئے واضح منزل کا تعین کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس نے اپنے قیام سے لیکر آج تک ریاست کے دینی / نظریاتی اور سیاسی تشخص کو قائم رکھنے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔ ریاست کے دینی تشخص کے خلاف اندرون اور بیرون بہت بڑے بڑے طوفان آتے رہے لیکن مسلم کانفرنس کو یہ طوفان اپنے راستے سے نہیں ہٹاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس نے اپنے قیام کے بعد رئیس الا حرار قائد ملت چوہدری غلام عباسؒ کی قیادت میں 19جولائی 1947کو قرارداد الحاق پاکستان کی شکل میں کشمیریوں کیلئے ایک واضح نصب العین کا تعین کیا اور پھر 1970کی دہائی میں مجاہد اول سردارمحمد عبد القیوم خان نے ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ دیکر قوم کی فکری و نظریاتی رہنمائی کی جو آج بھی ہمارا ورثہ ہے جسے مسلم کانفرنس اپنی چوتھی نسل میں کامیابی کے ساتھ منتقل کرنے کیلئے اپنا تاریخی کردار ادا کر رہی ہے۔سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ مسلم کانفرنس اپنے قیام سے آج تک تسلسل کے ساتھ آزادی اور تکمیل پاکستان کی جدو جہد میں مصروف ہے۔ ہم للہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ قائد اعظم نے قیام پاکستان سے پہلے اپنے دورہ سرینگر میں مجوزہ پاکستان کا جو پرچم مسلم کانفرنس کے ذریعے جموں وکشمیر کے عوام کو تھمایا تھا وہ آج بھی ریاست جموں وکشمیر کے کونے کونے میں سرفراز و سربلند ہے۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج ملک پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔پاکستان کی اندرونی اور بیرونی صورت حال میں ہر آنے والے دن کے ساتھ مسائل اور مصائب کا اضافہ ہو رہا ہے، آزاد کشمیر میں ایک منظم سازش کے تحت عوام کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کر کے غیرریاستی قوتوں کو مسلط کیا گیا جس سے نہ صرف تحریک آزادی کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا بلکہ آزاد کشمیر کے اندرونی معاملات کو بھی خراب کر کے بے یقینی اور افراتفری کا موحول پیدا کیا گیا اور ایک منظم پروگرام کے تحت مسلم کانفرنس کودیوار سے لگانے کی مذموم کوشش کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس امر پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ کے فضل و کرم سے مسلم کانفرنس آج بھی ریاست جموں وکشمیر کی سب سے بڑی نظریاتی سیاسی قوت ہے جو تقسیم کشمیر کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور عزم اور قوت رکھتی ہے۔
انہوں نے آزادکشمیر، مہاجرین مقیم پاکستان اور بیرون ممالک میں مقیم مسلم کانفرنس کے عہدے داروں اور کارکنان سے کہا کہ وہ مسلم کانفرنس کی تریانوے(93ویں) سالگرہ کی تقریبات بھرپور طریقہ سے منعقد کریں، جماعت کی مضبوطی اور استحکام کیلئے خصوصی طور پر دعاؤں کا اہتمام کریں اور اس عہد کی تجدید کریں کہ جماعت کی بنیاد رکھتے وقت جن مقاصد کا تعین کیا گیا تھا ان کے حصول تک جدو جہد جاری رکھی جائے گی۔ تحریک آزادی کشمیر کے اپنے منطقی انجام تک پہنچنے تک یہ تحریک جاری رہے گی۔

13/10/2025
11/10/2025



07/10/2025
06/10/2025




پریس ریلیزمورخہ 4 اکتوبر 2025اسلام آباد آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کےصدر و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان ن...
04/10/2025

پریس ریلیز
مورخہ 4 اکتوبر 2025
اسلام آباد
آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کےصدر و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان نے اسلام آباد میں آزادکشمیر میں حالیہ احتجاج کےدوران زخمی ہونے والے اسلام پولیس اور آزادکشمیر پولیس کے زخمیوں کی عیادت کی۔ انھوں نے پرتشدد واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انکی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ آزادکشمیر کا پرامن خطہ اچھی روایات اور میزبانی کے لیے ملک بھر میں مشہور ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ مٹھی بھر عناصر نے ان روایات کو دن دھاڑے پامال کیا۔ویسے بھی جہاں تک پاکستان کے انتظامی اداروں اور انکے اہلکاروں کا تعلق ہے انھوں نے گزشتہ 77سال میں آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے باشندگان کے ساتھ ساتھ ہندوستانی فوج کے مظالم کے ستائے ہوئے جموں،کشمیر اور لداخ کے لوگوں کی جس خوش دلی سے پاکستان بھر میں میزبانی کی ہے اور انکو عزت اور احترام بخشا ہے اسکی کوئی مثال کسی دوسرے ملک میں نہیں دی جاسکتی۔ جموں وکشمیر کے عوام اہل پاکستان کےدل کی گہرائیوں سے ممنون احسان ہیں کہ انھوں نے اہل کشمیر کی حق میزبانی میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ ویسے بھی ہم ایک قوم ہیں ۔قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا اور مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان نے کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ دیکر دونوں خطوں کے عوام کو ایک لازوال رشتے میں منسلک کردیا ہے۔ آزادکشمیر کی یہ پرتشدد کاروائیاں ہر محب وطن پرامن کشمیری کے لئے انتہائی تشویش کا باعث ہیں۔ میرا مطالبہ ہے کہ حال ہی میں ہونے والےاگریمنٹ کی روشنی میں ان کاروائیوں میں ملوث لوگوں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے کاروائی کی جائے اور ساتھ ہی جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے تاکہ یہ سارا عمل صاف اور شفاف طریقے سے اپنے منطقی انجام کی طرف جائے۔
اس موقع پر میجرسردار نصراللہ خان، سردار ارشد عباسی، راجہ خورشید حمید، سردار شاہد عباسی، عاصم زاہد عباسی، جاوید عباسی،سردار زاہد عباسی، سیدمحمود شاہ، سرفراز عباسی،مرزا جاوید، مسعود عباسی، وحید انقلابی، راجہ شاہد اقبال،الیاس حسین شاہ، خورشید عباسی،ڈاکٹر عابد عباسی،عامر نور عباسی، الیاس عباسی، راجہ طاہر اور دیگر کارکنان بھی ان کے ہمراہ تھے۔
دریں اثنا سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ ہم وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک اعلی سطحی کمیٹی کو آزادکشمیر بھیج کر حکومت آزادکشمیر کی معاونت کی اور اس بحران کو یکسو کیا۔

02/10/2025
02/10/2025
29/09/2025

Address

House No. 152, Asghar Mall Scheme Rawalpindi
Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All Jammu & Kashmir Muslim Conference (Official) posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to All Jammu & Kashmir Muslim Conference (Official):

Share