EK thaka hwa Annsu

EK thaka hwa Annsu Purpose of creating this page is just to talk with my own heart... And to post what I feel inside...!!

24/06/2026

یہ معاشرہ عورت کے لیے جہنم ہے۔۔۔میرا دماغ پھٹ رہا۔۔۔ سمجھ نہیں آتا کہ سر پیٹ لوں کروں کیا۔۔۔!!

کراچی میں تین سالہ بچی کا "تین سالہ" ۔۔۔۔ تین سالہ بچی کا ریپ اور پھر قتل۔۔۔
دو دن پہلے سرگودھا میں سات سالہ بچی کا ریپ اور قتل۔۔۔۔
ماڈل ٹاون میں جس ملازمہ کا گینگ ریپ ہوا وہ۔بھی مر گئی۔۔

خیر یہ کیوں ہی لکھ رہا میں لسٹ تو لکھی ہی نہیں جا سکتی، ایک عذاب مسلط ہے اس ملک کی خواتین پر سینکڑوں نہیں ہزاروں عورتیں اور کم سن بچیاں شکار ہوتی ہیں۔۔۔لاکھوں ایسے کیسز جو رپورٹ نہیں ہوتے۔۔۔ اور اگر صرف رپورٹ ہونے والے چند پرسنٹ کو ہی دیکھیں تو گزشتہ چار سال میں ساڈھے چودہ ہزار ریپ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔۔۔ 14476 ریپ۔۔۔
یعنی دنوں کے حساب سے دیکھا جائے تو گیارہ ریپ ہر روز جو رپورٹ ہوئے۔۔۔ جو رپورٹ نہیں ہوئے وہ سینکڑوں کیس روز کے ہوتے۔۔۔

اور ہراسمنٹ تو الموسٹ ہر ایک خاتون نہیں سہی اس ملک میں، ڈومیسٹک وائلنس تو معمولی چیز بنتی جا رہی شوہر کا سسرال کا تشدد کہیں مارنا پیٹنا اور کہیں مار مار کے مار ہی دینا۔۔۔
وہاں سے جو بچ گئی کہ چلو اپنا کماتی ہوں خود کو انڈیپینڈنٹ کرتی اس مار سے ذلالت بچنے کے لیے۔۔۔ اسے باہر ہراس کیا جاتا۔۔۔ ریپ کیا جاتا۔۔۔ یا جو ہاتھ نہ آئے اس پر تیزاب پھینک دیا جائے گا۔۔۔

اور سب سے بری چیز۔۔۔ سب سے گھٹیاں چیز۔۔۔
وکٹم بلیمنگ والی سوچن۔۔ آاااااخخخخخخ تھوووو
کہ ایک عورت جو تشدد سہہ رہی وہاں ایک جھنڈ کہہ رہا اسی نے کچھ کہا ہوگا ۔۔۔
ایک عورت جو قتل ہو گئی ۔۔۔ ایک جھنڈ سوشل میڈیا پر شور مچا رہا ہوتا کہ کچھ تو کیا ہوگا۔۔۔ کچھ تو کیا ہوگا عورت نے۔۔۔
ایک عورت جب ریپ ہو جاتی تو ایک جھنڈ یہاں اکٹھا ہو جاتا پوٹینشل ریپسٹ کا جو کہتا ۔۔۔ اس کے کپڑے ایسے ہوں گے۔۔۔ وہ اس ٹائم اکیلی کیوں تھی۔۔۔ وہ گھر سے باہر کیوں تھی۔۔۔(جیسے گھروں میں تو محفوظ ہیں نا سب)۔۔۔۔
یہ سوچ کتنی بدبو دار ہے۔۔۔

چلیں مجھے بتائیے۔۔۔ اس سات سالہ بچی کے کپڑوں میں کیا تھا، کس وجہ سے ریپ ہوا اس کا۔۔۔؟؟
چلیں چھوڑیں اسے بھی یہ تین سالہ بچی جو ٹھیک سے چل بھی نہیں سکتی اس نے کیا کیا تھا۔۔۔!! ڈھونڈ لو یہاں بھی کوئی توجیہ۔۔۔ ٹھہرا دو الٹا اسی بچی کو مجرم۔۔۔
کہ ہاں وہ لڑکی پیدا ہی کیوں ہوئی۔۔۔ اب لڑکی ہے تو ریپ تو ہوگا نا۔۔ یہی ایک جواز بچا ہے ایسے گٹر دماغ لوگوں کے پاس۔۔۔ الللللخخخخخ

اسی لیے لکھا جہنم ہے یہ معاشرہ عورت کے لیے۔۔۔ جہاں نا بوڑھی محفوظ نا جوان نہ ہی پیدا ہوئی بچی۔۔۔ جہاں نہ گھر میں رہنے والی محفوظ نہ گھر سے باہر والی۔۔۔
حتی کہ نہ زندہ محفوظ نہ مردہ۔۔۔ قبروں سے نکال کر لاشوں سے ریپ ہوتے یہاں۔۔۔ اور مر جانے کے بعد، ریپ ہونے کے بعد بھی وہی عورت مجرم ٹھہرتی۔۔۔
میرا دل بہت دکھا ہوا۔۔۔ میرا دماغ غصے سے ماؤف ہے۔۔۔ مجھے بطور مرد اپنی جنس سے گھن آ رہی۔۔۔ مجھے بطور معاشرہ ڈوب مرنے کا دل کر رہا ہے۔۔۔

23/06/2026

میں ڈوبی تو سمندر کو بھی حیرت ہوئی مجھ پر۔۔۔
عجیب عورت ہے کسی کو پکارتی ہی نہیں۔۔۔۔!!

23/06/2026

اختلافِ رائے ہر رشتے میں ہو سکتا ہے، لیکن اصل کردار اُس وقت ظاہر ہوتا ہے جب اختلاف کے باوجود عزت باقی رکھی جائے۔ جو لوگ بات کو مسئلے تک محدود رکھنے کے بجائے آپ کے کردار، نیت یا شخصیت پر حملہ کرنے لگتے ہیں، وہ دراصل اپنی تربیت اور ظرف کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ___گاڑی لاک کرنے سے ننھے معصوم بچے کی جان چلی گئ سوات،خوازہ حیلہ میں افسوس ناک...
23/06/2026

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ___گاڑی لاک کرنے سے ننھے معصوم بچے کی جان چلی گئ
سوات،خوازہ حیلہ میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا
جہاں یاسر نامی ایک بچہ اپنے چچا کے ساتھ گاڈی میں موجود تھا چچا یاسر کو گاڈی میں لاک کرکے چلے گئے ذرائع کے مطابق تقریباً آدھے گھنٹے بعد واپس آنے پر بچے کو بے خوش حالت میں پایا گیا یاسر کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا اور ہسپتال میں انتقال کر گیا بتایا جاتا ہے کہ اسکی موت شدید گرمی اور گاڈی کے اندر حبسِ کی وجہ سے ہوئی
🙏خدا را اپنے بچوں پر رحم کرے اور انہیں اس شدید گرمی میں کبھی بھی اکیلا گاڈی میں نہ چھوڑیں۔

12/01/2026

آپ بیتی۔۔!!
امی کو منانا بہت مشکل تھا ۔۔وہ کہتی تھیں غیر کبھی اپنے نہیں بنتے۔وہ جان گیا کہ میری کمزوری میرے ابو کو آئیڈیلائز کرنا ہے۔وہ ویسا بن کے دکھاتا رہا۔اس کے گھر کیا پورے خاندان میں کسی نے سرکاری نوکری نہی کی تھی۔۔میرے ابو اور انکے بعد دونوں بھائی بھی سرکاری نوکری کر رہے تھے۔میں بھی آپلائے کرتی رہتی تھی وہ کہتا تھا مجھے گھر میں کبھی کسی نے سمجھایا ہی نہیں اور نہ کبھی راستہ بتایا کہ میں کون سی نوکری کروں۔وہ کہتا تھا اسکے ابا کی دکان ہے جو بڑا بھائی سنبھلتا ہے لیکن کچن کا راشن وغیرہ دکان سے آتا ہے۔۔میں ایک خودار لڑکی،وہ یہ سب جھوٹ نہ بولتا۔۔اسکی ہر بات کو سچ مان کر بیٹھ گئ ۔۔میری غلطی ہے۔
ایک سال امی کو منانے میں لگا۔۔وہ کبھی مچھلی کاٹ کر دکھاتا کہ میں کتنا ڈاؤن ٹو ارتھ ہوں کہ میرے میں کوئی "میں" نہیں۔۔وہ کہتا میرا کوئ دوست نہیں ہے۔۔میں کوئی نشہ نہی کرتا۔۔۔ہر وقت فون پر بات کرتا کہ مجھے یقین ہو جائے کہ میرا کوئی دوست نہیں۔۔وہ کہتا میں نے کبوتر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ سب اپنی زندگیوں میں مصروف ہیں تو میں پرندوں سے دل بہلا لیتا ہوں۔۔۔ میں سمجھی جھوٹ سے نفرت کرتا ہے تو حود تو نہیں بولتا ہو گا۔۔۔میں غلط سمجھی۔وہ صرف اعتبار جیت رہا تھا۔۔سب مجھے سمجھا رہے تھے کہ مرد اعتبار کے قابل نہیں ہوتا اور میں کہ رہی تھی کہ نہی امی وہ ابو جیسا ہے۔۔۔
میں نے اسے اپنے بارے میں، اپنے ماضی کے بارے میں، اپنی فیملی کے بارے میں، سب کچھ سچ بتا دیا کیونکہ میں اس سے محبت نہیں کرتی تھی۔۔میں چاہتی تھی کہ وہ سب جان لے اور پھر کوئی فیصلہ کرے۔۔اور اگر ن بھی کرے تو بھی کوئی بات نہیں۔۔۔وہ کہتا مجھے تمھاری امی کی عادت اچھی لگتی ہے انھوں نے سب بھائوں کو کتنا اچھا پش آپ کیا ہے تبھی تمھارے بھائی کچھ حاصل کر سکے۔۔۔وہ سب جان کر بھی ڈٹا رہا کہ تم سے ہی شادی کرنی ہے۔۔اب اسکی باری تھی ۔۔وہ کہتاتھا میری نوکری نہیں ہے لیکن میں پھر بھی جتنا ہوا کرو گا۔۔۔ اور جب نوکری لگے گئ تو سب ذمہ داریاں سنبھال لوں گا۔۔۔کچن تو دکان سے چلتا ہے۔۔امی ابو ساتھ رہیں گے تو بل تو وہ دیں گے ابو نے خود کہا ہے۔۔ باقی بس اپنا تو ہم کر۔ ہی لیں گے۔۔
میری تربیت میں لالچ نہیں تھی ۔میں مطمئن ہو گئ کہ مل بانٹ کر گھر چلا لیں گے مرد عزت کرنے والا، احساس اور قدر کرنے والا ہونا چاہیے۔۔
اس نے بتایا کہ ایک بھائی ہے میرا اور ایک بہن۔۔
پھر اسنے اپنی امی کو رشتہ لینے بھیجا اور کہا کہ ایک جھوٹ بولا ہے لیکن اس سے حاص فرق نہیں پڑتا۔۔میرے ابو کی سفید ڈاڑھی کا خیال کرنا اور انکار نہ ہونے دینا۔۔

12/01/2026

آپ بیتی۔۔۔!
میں جب جب کہتی کہ مجھے شادی نہیں کرنی وہ مجھے گھنٹہ گھنٹہ سمجھاتا۔۔اس سب میں چار سال گزر گئے میں ابھی بھی شادی کا نہ سوچتی تھی۔۔کچھ بننا چاہتی تھی۔۔ماسڑ کر چکی تھی وہ بھی 80%نمبروں سے۔۔کبھی سکول ، کالج ، یونیورسٹی سے کوئی شکایت نہیں آئ۔نا کبھی کسی ٹیچر نے سکول بلایا۔پڑھائی کا مجھے شوق تھا اس لئے ہمیشہ خود محنت کی۔میری پوری کلاس ٹیوشن اور اکیڈمی جاتی تھی۔راتوں کو جاگتی۔۔
وہ کہتا میں امی سے لڑتا ہوں وہ بھابھی سے کام کرواتی ہیں۔بھابھی اسکی کزن بھی تھی ، کہتا بھائ اسکو ٹائم نہیں دیتا ۔۔بھابھی اور میری اچھی دوستی ہے۔۔ہم رات کو کھانے کے بعد واک کرتے ہیں بھابھی بہت دکھی ہیں۔امی بہت نا انصافی کرتی ہیں۔۔وہ کہتا امی ابو مجھے بدعایں دیتے ہیں لیکن میں تو ہمیشہ سچ کا ساتھ دیتا ہوں۔۔میں سنتی رہتی۔۔اور رشک کرتی کہ جو لڑکا بھابھی کا ساتھ دے رہا اور اتنا خیال کر رہا وہ اپنی بیوی کے لیے تو ضرور سٹینڈ لے گا۔۔
اس کے چاچو کی ڈیتھ ہو گئ۔چاچی اور انکی 5 بچیاں تھی۔اسنے کہا ابو ظلم کر رہے ہیں۔۔ابو نے انکو نکال دیا ہے۔۔میں نے گھر والوں کو منع کیا تو وہ مجھے بدعائیئں دینے لگے۔۔پھر بھی میں نے ساتھ دیا۔۔میرا اعتبار اور بڑھ گیا کہ جو سب کے لیے لڑ رہا ہے بیوی کا کتنا ساتھ دے گا۔۔۔اسکو عزت دلوائے گا۔۔
اس سب میں۔۔میں نے ایک بار بھی نہ سوچا کہ اسکے پاس پیسہ کتنا ہے۔۔۔اسکا گھر کہاں ہے۔۔وہ کیا کام کرتا ہے۔۔ اسکے کتنے بہن بھائی ہیں۔۔میں نے غلطی کی۔۔!!
میں بس یہ جذب کر رہی تھی کہ عورت کی عزت کرتا ہے۔۔۔سچ کا ساتھ دیتا ہے۔۔ کہتا تھا اپنے سب کام خود کرتا ہوں۔۔ امی ابو کو افطاری بنا کے دیتا ہوں۔۔کھانا بنانے کا شوق ہے۔۔ مجھے لگا ابو جیسا ہے۔۔۔مل جل کے رہنے والا۔۔ مرد ہونے کا زوم نہیں ہے۔۔۔!!
میں اسے اپنے ابو سے کمپیئر کرنے لگی۔میں ڈگری ہولڈر، مناسب لڑشکل صورت کی نوکری کرتی انڈپنڈنٹ لڑکی صرف اس وجہ۔
سے شادی کا سوچنے لگی کہ یہ میرے ابو جیسا ہے۔۔۔!!

12/01/2026

آپ بیتی۔۔۔
وہ جو کھاتا اسکی تصویر مجھے بھیجتا ۔۔شائد اسکی عادت تھی دکھاوا کرنے کی۔۔ جو خریدتا مجھے دکھاتا ۔۔حالانکہ میں نے اس سے کبھی کچھ نہ پوچھا تھا تو اسکو ضرورت نہیں تھی اس سب دکھاوے کی۔
وہ واپس آ گیا ۔۔اسنے گاڑی لی اور مجھے دکھائی جبکہ میں انٹرسٹڈ نہیں تھی۔ اس سب کے علاوہ وہ یہ بھی بتا رہا تھا کہ میرا ایک بھائی ہے اور مجھے بچے بہت اچھے لگتے ہیں۔۔وہ بتاتا کہ کیسے وہ انکے ساتھ کھیلتا یے۔۔انکے لئے گفٹس بھیجتا ۔۔انکو عیدی بھیجتا۔۔
میں بن باپ کی لڑکی ۔۔۔جو بچپن میں باپ کے کھو جانے کے بعد ترس رہی تھی باپ جیسے پیار کو۔۔۔ میرے بابا ۔۔میرے آئیڈیل۔۔۔سرکاری نوکری 9 to 5 کر کے تھکے ہارے گھر آتے تو ہمیں پارک لے جاتے۔۔کبھی کھوئے والی کلفی کھلانے لے جاتے اور کبھی آتے ہوے کچھ نا کچھ لے آتے۔۔ امی کام کر رہی ہوتیں تو ہم سب کو گھمانے لے جاتے کہ ہم امی کو تنگ نہ کریں۔۔میں نے اپنے امی ابو کو کبھی لڑتے نہیں دیکھا۔ابو امی مل کر کھانا بناتے۔۔ابو ہر کام امی کے مشورے سے کرتے۔۔شام کو ٹیرس پر امی ابو چہل قدمی کرتے اور خوب باتیں کرتے۔میں چھوٹی تھی لیکن مجھے آج بھی یہ سب یاد ہے۔۔ ہم چھ بہن بھائی ہیں اور جب جب میری امی بیمار ہوتیں میرے ابو کیسے انکا ساتھ دیتے۔۔ساری رات جاگ کر ہمیں سلاتے کہ کچھ دیر امی آرام کر لیں۔میں نے ابو کو ہمارے گندے کپڑے بھی دھوتے دیکھا۔لیکن وہ یہ سب اپنی خوشی سے کرتے تھے میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ میری امی کو کہنا پڑا ہو کہ میں تھک گئی ہوں میرا خیال کریں۔"میں" تو تھی ہی نہیں ابو میں۔۔
میری امی لاہور سے تھیں اور شادی کے بعد پانچ سال تک میکے نہیں گئیں۔یہ میری تربیت تھی۔ میں نے سیکھا کہ شوہر دوست ہوتا ہے۔۔ میاں بیوی کا رشتہ مالک اور غلام کا نہیں ہوتا ۔۔باپ کے لیے بچوں کو وقت دینا ضروری ہوتا ہے تاکہ بچے اپنے باپ کی عزت کریں۔۔میں نے سیکھا کہ مرد شادی کر کے جو عورت گھر لاتا ہے اسے اتنی ہی عزت دیتا ہے جتنی اسکی اپنی ہو۔۔ شوہر چھت ہوتا ہے۔۔ میں نے سیکھا کہ باپ اپنی ساری زندگی بچوں کے لیے محنت کرتا ہے تاکہ اسکے مرنے کے بعد اسکے بچے بےآسرا نہ ہوں۔۔
امی کو دیکھا تو سیکھا کہ عورت کا اصل گھر شوہر کا گھر ہوتا ہے۔۔وہ سالوں میکے نہیں جاتی تھیں۔امی بہت سخت تھیں کبھی اپنے سے بڑی عمر کی لڑکی سے دوستی نہی کرنے دی۔گھر میں کیبل نہیں لگوائ۔۔شروع سے اتنی سختی کی کہ بعد میں پنجرا کھولا بھی تو اڑنے کا دل نہیں کیا۔۔
دین کا پتا تھا لیکن نماز کی اتنی پابندی نہیں تھی کہ دوسرے لوگ کافر لگتے۔کبھی دروازے یا کھڑکیوں میں کھڑے نہیں ہونے دیا۔کبھی بچپن میں بھی بازار نہیں بھیجا۔کبھی بلا ضرورت محلے میں کسی کے گھر نہ گئ۔امی نے سکھایا کہ لڑکیاں گھر میں رہتی ہیں۔۔
میری امی کبھی پالر نہیں گئیں۔۔اس لیے ہمیں بھی نہیں جانے دیا۔ مجھے پہاڑ بہت پسند تھے ۔۔ بہت ضد کرتی تھی ۔۔ ساری زندگی گھر دیکھا تھا ۔۔گھمنے کا بھی بہت شوق تھا۔امی کہتی تھیں شادی ہو گی پھر سب جگہ گھمنا۔۔پورے 25 سال میں نے ہر خواب شادی کے بعد کا دیکھا۔۔۔
امی نے بہت ظلم کیا۔۔ساری زندگی سنبھال کے رکھا۔۔لوگوں کے رنگ نہیں دکھائے۔میں مردوں کو اپنے ابا جیسا سمجھتی رہی۔۔میں مردوں کو اپنے بھائیوں جیسا سمجھتی رہئ۔۔

اور جب دنیا سے ملی تو امی کی سکھائی وہ 25 سال کی سب باتیں غلط ثابت ہو گئں ۔۔ابو کا دکھایا مرد کا روپ میرے منہ پر دے مارا۔۔

12/01/2026

آپ بیتی۔۔
ستمبر 2014 کی بات ہے میں نے بی سی کے امتحان دیے تھے اور میں فری تھی اسی لیے فیس بک استعمال کرنے لگی۔۔ اس وقت ریڈیو بہت سنا جاتا تھا یا پھر کہ لیں کہ کچھ شو ایسے تھے جو میں بھی بہت شوق سے سنتی تھی۔۔فیس بک پر ایک ڈ جے کا گروپ جوائن کر لیا۔وہاں سب کمنٹس میں چٹ چیٹ کرتے ۔ایک لڑکا تھا میری اس سے بات نہی ہوتی تھی بس پوسٹ پر کمنٹس پڑھ کر میرا ایک مائنڈ سیٹ بن گیا تھا کہ یہ ایک بدتمیز لڑکا ہے جسے لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔۔نجانے کیسے بہت سالوں بعد میری اس سے بات چیت شروع ہو گی ، وہ محبت میں ٹوٹا تھا میں انسانی ہمدردی میں اسکی سن لیتی تھی۔میں نے کبھی اپنی کوئی بات نہیں کی۔۔ مجھے لڑکوں سے نفرت تھی ۔۔۔میں فیصلہ کر چکی تھی کہ کبھی شادی نہیں کرنی۔۔میں نے اس سے کبھی کچھ نہ پوچھا کہ کہاں رہتا ہے۔کیا کرتا ہے۔۔۔ آج سوچتی ہوں تو ہنسی آتی ہے کہ آج کے دور میں بھی کوئی اتنا بیوقوف ہوتا ہے۔۔پھر تھوڑا غور کروں تو سمجھ آتی ہےکہ کچھ لوگ اپنا آپ ایسا دکھاتے ہیں جو خضرت آدم علیہ السلام کو بھی بہکا دے۔۔
خیر وہ دبئی چلا گیا دو سال کے لیے۔۔وہ روز 20 20 میسج کرتا اور میں تنگ ہو کر کہ کہیں میں کسی کا دل نا دکھا دوں ایک دو مختصر سے رپلائی کر دیتی۔۔میں نہیں جانتی تھی اسکی کاسٹ کیا ہے کس نسل کا ہے۔۔مجھے لگتا تھا کہ سب مسلمان ہوتے ہیں ذات یا نسل سے فرق نہیں پڑتا۔۔میں غلط تھی۔
کبھی کبھی میں غصے سے بھی کہتی کہ وہ میری جان چھوڑ دے۔۔ مجھے یاد ہے ایک رات تہجد کا وقت تھا اور میں رو رہی تھی کہ میرے دل میں اس شخص کے لیے کوی جذبہ نہیں اور میں کسی کا دل نہیں توڑ سکتی اللہ آپ اس کو میری زندگی ۔۔۔سے نکال دیں۔۔لیکن زندہ رہنے کی قیمت چکانی پڑتی ہے ۔۔۔!!

12/01/2026

بہروپیہ۔۔۔۔!
مجھے لگتا تھا یہ ڈرامے ، یہ خبریں "شوہر نے سسرال کے ساتھ مل کر بیوی کو قتل کر دیا" یہ سب ایسے ہی با تیں ہوتی ہیں۔۔۔بھلا ایک مرد کا بچہ ، کسی کی سالوں محنت سے پالی ہوئ پڑھی لکھی بیٹی ،دو سو لوگوں اور اللہ کو گواہ بناکر ، اسکی عزت، اسکی بیماری، اسکی خوشی، اسکی ہر ضرورت کی ذمداری اس لیے اٹھائے گا کہ ایک عورت پر اپنا ڈپریشن اتار کر اسے گھر میں پالے کتوں کے آگے پھینک سکے ۔۔۔۔!!

12/01/2026

تلخ حقیقت۔۔۔۔
کچھ لوگوں کے خون میں سفاکی چھپی ہوتی ہے۔بس ہم غور نہیں کرتے یا پھر کسی ٹھوکر کا انتظار کرتے ہیں۔اسکو معلوم تھا کہ اسکے باپ اور اولاد نے مل کر اسکے سگے چچا کی بیوہ کو پانچ بیٹیوں کے ساتھ دربدر کر دیا تھا۔تو وہ بھی تو اسی باپ کا خون تھا ۔۔۔!!

Address

Dill Ki Gali , Kocha E Jana
Rawalpindi
005

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when EK thaka hwa Annsu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category