24/06/2026
یہ معاشرہ عورت کے لیے جہنم ہے۔۔۔میرا دماغ پھٹ رہا۔۔۔ سمجھ نہیں آتا کہ سر پیٹ لوں کروں کیا۔۔۔!!
کراچی میں تین سالہ بچی کا "تین سالہ" ۔۔۔۔ تین سالہ بچی کا ریپ اور پھر قتل۔۔۔
دو دن پہلے سرگودھا میں سات سالہ بچی کا ریپ اور قتل۔۔۔۔
ماڈل ٹاون میں جس ملازمہ کا گینگ ریپ ہوا وہ۔بھی مر گئی۔۔
خیر یہ کیوں ہی لکھ رہا میں لسٹ تو لکھی ہی نہیں جا سکتی، ایک عذاب مسلط ہے اس ملک کی خواتین پر سینکڑوں نہیں ہزاروں عورتیں اور کم سن بچیاں شکار ہوتی ہیں۔۔۔لاکھوں ایسے کیسز جو رپورٹ نہیں ہوتے۔۔۔ اور اگر صرف رپورٹ ہونے والے چند پرسنٹ کو ہی دیکھیں تو گزشتہ چار سال میں ساڈھے چودہ ہزار ریپ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔۔۔ 14476 ریپ۔۔۔
یعنی دنوں کے حساب سے دیکھا جائے تو گیارہ ریپ ہر روز جو رپورٹ ہوئے۔۔۔ جو رپورٹ نہیں ہوئے وہ سینکڑوں کیس روز کے ہوتے۔۔۔
اور ہراسمنٹ تو الموسٹ ہر ایک خاتون نہیں سہی اس ملک میں، ڈومیسٹک وائلنس تو معمولی چیز بنتی جا رہی شوہر کا سسرال کا تشدد کہیں مارنا پیٹنا اور کہیں مار مار کے مار ہی دینا۔۔۔
وہاں سے جو بچ گئی کہ چلو اپنا کماتی ہوں خود کو انڈیپینڈنٹ کرتی اس مار سے ذلالت بچنے کے لیے۔۔۔ اسے باہر ہراس کیا جاتا۔۔۔ ریپ کیا جاتا۔۔۔ یا جو ہاتھ نہ آئے اس پر تیزاب پھینک دیا جائے گا۔۔۔
اور سب سے بری چیز۔۔۔ سب سے گھٹیاں چیز۔۔۔
وکٹم بلیمنگ والی سوچن۔۔ آاااااخخخخخخ تھوووو
کہ ایک عورت جو تشدد سہہ رہی وہاں ایک جھنڈ کہہ رہا اسی نے کچھ کہا ہوگا ۔۔۔
ایک عورت جو قتل ہو گئی ۔۔۔ ایک جھنڈ سوشل میڈیا پر شور مچا رہا ہوتا کہ کچھ تو کیا ہوگا۔۔۔ کچھ تو کیا ہوگا عورت نے۔۔۔
ایک عورت جب ریپ ہو جاتی تو ایک جھنڈ یہاں اکٹھا ہو جاتا پوٹینشل ریپسٹ کا جو کہتا ۔۔۔ اس کے کپڑے ایسے ہوں گے۔۔۔ وہ اس ٹائم اکیلی کیوں تھی۔۔۔ وہ گھر سے باہر کیوں تھی۔۔۔(جیسے گھروں میں تو محفوظ ہیں نا سب)۔۔۔۔
یہ سوچ کتنی بدبو دار ہے۔۔۔
چلیں مجھے بتائیے۔۔۔ اس سات سالہ بچی کے کپڑوں میں کیا تھا، کس وجہ سے ریپ ہوا اس کا۔۔۔؟؟
چلیں چھوڑیں اسے بھی یہ تین سالہ بچی جو ٹھیک سے چل بھی نہیں سکتی اس نے کیا کیا تھا۔۔۔!! ڈھونڈ لو یہاں بھی کوئی توجیہ۔۔۔ ٹھہرا دو الٹا اسی بچی کو مجرم۔۔۔
کہ ہاں وہ لڑکی پیدا ہی کیوں ہوئی۔۔۔ اب لڑکی ہے تو ریپ تو ہوگا نا۔۔ یہی ایک جواز بچا ہے ایسے گٹر دماغ لوگوں کے پاس۔۔۔ الللللخخخخخ
اسی لیے لکھا جہنم ہے یہ معاشرہ عورت کے لیے۔۔۔ جہاں نا بوڑھی محفوظ نا جوان نہ ہی پیدا ہوئی بچی۔۔۔ جہاں نہ گھر میں رہنے والی محفوظ نہ گھر سے باہر والی۔۔۔
حتی کہ نہ زندہ محفوظ نہ مردہ۔۔۔ قبروں سے نکال کر لاشوں سے ریپ ہوتے یہاں۔۔۔ اور مر جانے کے بعد، ریپ ہونے کے بعد بھی وہی عورت مجرم ٹھہرتی۔۔۔
میرا دل بہت دکھا ہوا۔۔۔ میرا دماغ غصے سے ماؤف ہے۔۔۔ مجھے بطور مرد اپنی جنس سے گھن آ رہی۔۔۔ مجھے بطور معاشرہ ڈوب مرنے کا دل کر رہا ہے۔۔۔