09/02/2022
اسلام وعلیکم دوستوں!
آج پھر آپ لوگوں سے ہم کلام ہونے کا ❤️ دل چاہا تو آپ کے لئے قلم اٹھانا ضروری سمجھا
میں خلدون سہیل نارو (ٹیچر،شاعر،مصنف) آپ کے لئے بڑا دلچسپ موضوع لے کر حاضر ہوا ہوں۔
اس تحریر سے آپ کو ضرور فائدہ ہوگا۔
آپ جو بھی ہیں چاہے بزنس مین،وکیل،سرکاری ملازم یا جو کوئی بھی ۔یہ تحریر آپ کے لئے ہے۔
اس تیزی سے آگے بڑھتی زندگی میں جہاں انسان نے بہت ترقی کی وہاں کئی مسائل نے جنم لیا
ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی حسد نے ہمیں دماغی مسائل سے دوچار کیا۔
یہی وجہ ہے کہ اب کی دنیا کا ہر دوسرا شخص ڈپریشن کا شکار ہے۔
۔Wikipedia۔کے مطابق انڈیا میں خود کشی کی شرح 10٪ ہے
جبکہ پاکستان میں 0.9 ٪ ہے
مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کی تشخیص نہیں ہو پاتی۔
آپ خود پے اور اپنے آس پاس غور کریں آپ کو بہت سارے مریض مل جائیں گے
ان کو لمبے عرصے تک راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے
ڈپریشن کی چند علامات:
نیند میں خلل
چڑچڑا پن
ناقابل برداشت غصہ
شدید مایوسی
ان مسائل کو اگر بروقت قابو نہ کیا جائے تو خوفناک نتائج دیکھنے میں آ سکتے ۔
مزید یہ کہ یہ مزید جسمانی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
ان مسائل کا مرکز دماغ ہوتا ہے
آپ یہ کہہ لیں کہ دماغ کا بھی دماغ ہوتا ہے
اگر یہ اوور ورکنگ شروع کردے تو انسان کو کنٹرول کرنا شروع کر دیتا ہے جسے ہم پھر پاگل پن کی صورت میں دیکھتے ہیں
بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم درست نشاندھی کریں اور مسلسل مشاورت(کونسلنگ) سے بہتری لانے میں مثبت کردار ادا کریں۔
خدا ہم سب کا ہامی و ناصر ہو
جزاک اللہ خیرا کثیرا
از قلم،
خلدون سہیل ناروو