Knowledge / General Knowledge

Knowledge / General Knowledge daily basis search and a small presentation for all related to any topic. every visitor can give us topic for detail.

08/05/2024

ایک ایسی تحریر جو أپ کی سوچ بدل دے گی

*شیر* اور **شارک* دونوں پیشہ ور شکاری ہیں لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کرسکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔ شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا اور شارک کو جنگل میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔

اگر گلاب کی خوشبو ٹماٹر سے اچھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کھانا تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں۔

آپ کی اپنی ایک طاقت ہے اسے تلاش کریں اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔

کہتے ہیں ہر وہ جاندار جو آج دنیا میں موجود ہے حضرت نوح کی کشتی میں موجود تھا جس میں گھونگا بھی شامل ہے۔

اگر خُدا ایک گھونگے کا نوحؑ کی کشتی تک پہنچنے کا انتظار کر سکتا ہے تو وہ خُدا آپ مجھ پر بھی اپنے فضل کا دروازہ اُس وقت تک بند نہیں کرے گا جب تک کہ آپ زندگی میں اپنے متوقع مقام تک نہیں پہنچ جاتے۔

کبھی خود کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ہمیشہ خود سے اچھی اُمیدیں وابستہ رکھیں۔

یاد رکھیں ٹوٹا ہوا رنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتا ہے۔

اپنے اختتام تک پہنچنے سے پہلے خود کو بہتر کاموں کے استعمال میں لے آئیں۔

وقت کا بدترین استعمال اسے خود کا دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنے میں ضائع کرنا ہے

مویشی گھاس کھانے سے موٹے تازے ہو جاتے ہیں جبکہ یہی گھاس اگر درندے کھانے لگ جائیں تو وہ اسکی وجہ سے مر سکتے ہیں۔

کبھی بھی اپنا موازنہ دوسروں کے ساتھ نہ کریں اپنی دوڑ اپنی رفتار سے مکمل کریں جو طریقہ کسی اور کی کامیابی کی وجہ بنا۔ ضروری نہیں کہ آپ کیلئے بھی سازگرہو

خُدا کے عطاء کردہ تحفوں نعمتوں اور صلاحیتوں پر نظر رکھیں اور اُن تحفوں سے حسد کرنے سے باز رہیں جو خُدا نے دوسروں کو دیے ہیں۔

17/05/2022

آپ کے بچے بھلے آپ سے پوچھیں یا نا پوچھیں،
آپ انہیں یہ ضرور بتایا کیجیئے کہ ہم فلسطین سے اس لیئے محبت کرتے ہیں کہ:
01: یہ فلسطین انبیاء علیھم السلام کا مسکن اور سر زمین رہی ہے۔
02: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی۔
03: اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو اس عذاب سے نجات دی جو ان کی قوم پر اسی جگہ نازل ہوا تھا۔
04: حضرت داؤود علیہ السلام نے اسی سرزمین پر سکونت رکھی اور یہیں اپنا ایک محراب بھی تعمیر فرمایا۔
05: حضرت سلیمان علیہ اسی ملک میں بیٹھ کر ساری دنیا پر حکومت فرمایا کرتے تھے۔
06: چیونٹی کا وہ مشہور قصہ جس میں ایک چیونٹی نے اپنی باقی ساتھیوں سے کہا تھا "اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ" یہیں اس ملک میں واقع عسقلان شہر کی ایک وادی میں پیش آیا تھا جس کا نام بعد میں "وادی النمل – چیونٹیوں کی وادی" رکھ دیا گیا تھا۔
07: حضرت زکریا علیہ السلام کا محراب بھی اسی شہر میں ہے۔
08: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی ملک کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ اس مقدس شہر میں داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے اس شہر کو مقدس اس شہر کے شرک سے پاک ہونے اور انبیاء علیھم السلام کا مسکن ہونے کی وجہ سے کہا تھا۔
09: اس شہر میں کئی معجزات وقوع پذیر ہوئے جن میں ایک کنواری بی بی حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت مبارکہ بھی ہے۔
10: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب اُن کی قوم نے قتل کرنا چاہا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں اسی شہر سے آسمان پر اُٹھا لیا تھا۔
11: ولادت کے بعد جب عورت اپنی جسمانی کمزوری کی انتہاء پر ہوتی ہے ایسی حالت میں بی بی مریم کا کھجور کے تنے کو ہلا دینا بھی ایک معجزہ الٰہی ہے۔
12: قیامت کی علامات میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر واپس تشریف اسی شہر کے مقام سفید مینار کے پاس ہوگا۔
13: اسی شہر کے ہی مقام باب لُد پر حضرت عیسٰی علیہ السلام مسیح دجال کو قتل کریں گے۔
14: فلسطین ہی ارض محشر ہے۔
15: اسی شہر سے ہی یاجوج و ماجوج کا زمین میں قتال اور فساد کا کام شروع ہوگا۔
16: اس شہر میں وقوع پذیر ہونے والے قصوں میں سے ایک قصہ طالوت اور جالوت کا بھی ہے۔
17: فلسطین کو نماز کی فرضیت کے بعد مسلمانوں کا قبلہ اول ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ہجرت کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام دوران نماز ہی حکم ربی سے آقا علیہ السلام کو مسجد اقصیٰ (فلسطین) سے بیت اللہ کعبہ مشرفہ (مکہ مکرمہ) کی طرف رخ کرا گئے تھے۔ جس مسجد میں یہ واقعہ پیش آیا وہ مسجد آج بھی مسجد قبلتین کہلاتی ہے۔
18: حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم معراج کی رات آسمان پر لے جانے سے پہلے مکہ مکرمہ سے یہاں بیت المقدس (فلسطین) لائے گئے۔
19: سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی اقتداء میں انبیاء علیھم السلام نے یہاں نماز ادا فرمائی۔ اس طرح فلسطین ایک بار پھر سارے انبیاء کا مسکن بن گیا۔
20: سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ زمین پر سب سے پہلی مسجد کونسی بنائی گئی؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الحرام(یعنی خانہ کعبہ)۔ میں نے عرض کیا کہ پھر کونسی؟ (مسجد بنائی گئی تو) آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ (یعنی بیت المقدس)۔ میں نے پھر عرض کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ چالیس برس کا اور تو جہاں بھی نماز کا وقت پالے ، وہیں نماز ادا کر لے پس وہ مسجد ہی ہے۔
21: وصال حبیبنا صل اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ارتداد کے فتنہ اور دیگر
کئی مشاکل سے نمٹنے کیلئے عسکری اور افرادی قوت کی اشد ضرورت کے باوجود بھی ارض شام (فلسطین) کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تیار کردہ لشکر بھیجنا بھی ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے۔
22: اسلام کے سنہری دور فاروقی میں دنیا بھر کی فتوحات کو چھوڑ کر محض فلسطین کی فتح کیلئے خود سیدنا عمر کا چل کر جانا اور یہاں پر جا کر نماز ادا کرنا اس شہر کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔
23: دوسری بار بعینہ معراج کی رات بروز جمعہ 27 رجب 583 ھجری کو صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں اس شہر کا دوبارہ فتح ہونا بھی ایک نشانی ہے۔
24: بیت المقدس کا نام قدس قران سے پہلے تک ہوا کرتا تھا، قرآن نازل ہوا تو اس کا نام مسجد اقصیٰ رکھ گیا۔ قدس اس شہر کی اس تقدیس کی وجہ سے ہے جو اسے دوسرے شہروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس شہر کے حصول اور اسے رومیوں کے جبر و استبداد سے بچانے کیلئے 5000 سے زیادہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے جام شہادت نوش کیا۔ اور شہادت کا باب آج تک بند نہیں ہوا، سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے۔ یہ شہر اس طرح شہیدوں کا شہر ہے۔
25: مسجد اقصیٰ اور بلاد شام کی اہمیت بالکل حرمین الشریفین جیسی ہی ہے۔ جب قران پاک کی یہ آیت (والتين والزيتون وطور سينين وهذا البلد الأمين) نازل ہوئی ّ تو ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم نے بلاد شام کو "التین" انجیر سے، بلاد فلسطین کو "الزیتون" زیتون سے اور الطور سینین کو مصر کے پہاڑ کوہ طور جس پر جا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ پاک سے کلام کیا کرتےتھے سے استدلال کیا۔
26: اور قران پاک کی یہ آیت مبارک (ولقد كتبنا في الزبور من بعد الذكر أن الأرض يرثها عبادي الصالحون) سے یہ استدلال لیا گیا کہ امت محمد حقیقت میں اس مقدس سر زمین کی وارث ہے۔
27: فلسطین کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے یہاں پر پڑھی جانے والی ہر نماز کا اجر 500 گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے

16/05/2021
سونے کی خرید و فروخت کو سمجھنے کا حساب!ایک تولہ سونا میں 11.664 گرام ھوتے ہیںاسی طرح 1 تولہ سونے میں 12 ماشے ھوتے ہیںاگر...
16/05/2021

سونے کی خرید و فروخت کو سمجھنے کا حساب!

ایک تولہ سونا میں 11.664 گرام ھوتے ہیں
اسی طرح 1 تولہ سونے میں 12 ماشے ھوتے ہیں

اگر آپ 1 تولہ زیور بنا سونا فروخت کرتے ہیں تو سنیارا اگر تو اس نے زیور آپ کو خود بنا کر دیا ھے 2 ماشے کٹوتی کرتا ھے اور اگر آپ نے کسی اور سے بنوایا اور فروخت کسی اور سنیارے کو کر رھے تو وہ ایک تولہ سونے کی 3 ماشے کٹوتی کرے گا

نوٹ: اس اوپر بیان کیے گئے داو کو سنیارا ایک رتی ماشہ یا 2 رتی ماشے کا نام دے گا

آپ نے اگر 1 تولہ سونا زیور فروخت کیا تو کٹوتی کے نام پہ آپ کے زیور سے 3 ماشے گئے
ایک ماشے کی اندازہ قیمت 9000 روپے ھے آج کل
یعنی ایک تولہ سونا زیور بیچنے سے سنیارے نے آپ کے 27000 کٹوتی کے نام پہ کاٹ لیے

اب دوسری طرف آتے ہیں یعنی اگر آپ زیور بنواتے ہیں تو 👇
ایک تولہ سونا 24 قیراط ھوتا ھے
پہلے آپ کو سمجھاتا ھوں کہ قیراط کس بلا کا نام ھے

#قیراط
قیراط (Carat) سونے کے خالص پن کو ناپنے کا معیار کا نام ھے۔
تقریبا سو فیصد خالص سونا 24 قیراط ھوتا ھے جتنے قیراط کم ھوں گے مطلب اتنی اس سونے میں ملاوٹ شامل ھے
ویسے یہ 99.99 ٪ خالص ہوتا ھے۔
12 قیراط مطلب 50 فیصد ملاوٹ اور 18 قیراط 75 فیصد خالص اور 25 فیصد ملاوٹ ھے۔
قیراط کمیت (وزن) کے پیمانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ھے
ہیرے جواہرات اور قیمتی پتھروں کا وزن عام طور پر قیراط میں ناپا جاتا ہے۔

اب آتے ہیں اصل بات کی جانب کہ جب آپ سونا بنواتے / خریدتے ہیں تو
سنیارے عام طور پہ 15 یا 18 قیراط سونا بنا کے دیتے ہیں اور پاکستان میں چند ایک بڑے جیولرز کو چھوڑ کر کسی کے پاس 21 قیراط سے زیادہ سونا بنانے کی مشین نہیں ہیں
22 قیراط بس کراچی میں ایک 2 جیولرز بنا کے دیتے ہیں

اگر سنیارے نے آپ کو 18 قیراط زیور بنا کر دیا ھے تو اس نے سونے میں 25 فیصد ملاوٹ کی ھے
مطلب اگر ایک تولہ زیور بنا کر دیا ھے تو مثلا ایک تولہ ایک لاکھ کا ھے تو سنیارا آپ کو 75000 کا سونا دے کر ریٹ ایک لاکھ روپے لگا رھا ھے

اسی طرح اگر سنیارے نے آپ کو 21 قیراط زیور بنا کر دیا ھے تو اس کا مطلب یہ ھے کہ زیور آپ کو 87500 کا دے رھا جبکہ قیمت آپ کو 1 لاکھ سونے کی لگا رھا ھے

سیدھی سے بات ھے کہ ایک تولہ زیور ملاوٹ کر کے آپ کو بس 75000 سے 87500 کا دیں گے اور قیمت پورے تولے کی ایک لاکھ لگائیں گے

دوسرا داو ان کا پالش کے نام پہ ھوتا ھے ایک آدھ ماشہ الگ سے لگا لیں گے کہ اتنا ہمارا سونا زیور بناتے ھوئے ضائع ھو گیا ھے جس کی ایک تولے کے پینچھے قیمت 9000 سے 10000 ھو گی
یاد رھے کہ سنیارے کی دوکان کا کوڑا بھی لاکھوں میں بکتا ھے اور ان کا کچھ ضائع نہی ھوتا

آخر پہ انہوں نے مزدوری ڈالی ھوتی ھے
آپ کے بہت زیادہ اصرار پہ آپ کو مزدوری کا 2000 سے 4000 چھوڑ کر آپ پہ بہت بڑا احسان کریں گے اور کہیں گے آپ نے ہمیں بچنے کچھ نہی دیا اور یہ مزدوری بس آپ کو چھوڑ رھے ہیں کیونکہ آپ کے ساتھ ہمارا دوسری یا تیسری نسل سے تعلق ھے بلا بلا بلا بلا

سونا بیچتے وقت سونے کی ڈلی بنوائیں (وہ بھی اعتماد والے بندے سے ۔ رعایت خیر وہ بھی نہی کرتا) مطلب ملاوٹ نکال دی جاتی ھے اور خالص 24 قیراط سونا رہ جاتا ھے

پھر اس ڈلی یعنی خالص 24 قیراط سونے کو اس دن کے سرکاری ریٹ پہ بیچیں
ورنہ آپ کو بہت بڑا چونا لگ جائے گا

زیور بنواتے وقت پہلے طے کریں کہ سونا 21 قیراط بناو گے 18 یا 15
جتنا خالص وہ سونا بنائے اس حساب سے 15، 18 یا 21 قیراط کے مطابق قیمت دیں نا کہ 24 قیراط کی قیمت ادا کریں

ساتھ دھمکی دیں کہ میں ابھی اسی مشین پہ چیک بھی کرواوں گا کہ یہ 15، 18 ھے یا 21 قیراط
اور وقت یا سہولت میسر ھو تو اس کو مشین پہ چیک بھی کروا لیں کے کتنے قیراط بنا اور آپ نے کتنے قیراط کے حساب سے قیمت ادا کی

میری ان سب باتوں سے ھو سکتا میرے چند دوست ناراض ھوں لیکن میرا بتانا فرض تھا تاکہ لوگ Educate ھوں
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کے سارے انگلیاں برابر نہی چند ایک اچھا کاروبار کرنے والے بھی ھوں گے لیکن میرے خیال میں ان کی تعداد شاید 1 فیصد سے زیادہ نا ھو۔۔

10/01/2021

وٹس ایپ پرائیویسی ..
اس وقت سوشل میڈیا پر ایک ہیجان کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے.
لوگ پریشان ہیں کہ وٹس ایپ اب انکے کالے کرتوت لیک کر دے گا.
دھڑا دھڑ ٹیلی گرام جیسی ایپس کی ڈاؤنلوڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے.
لیکن فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے.
ایسا کچھ نہیں ہونے والا جو آپکو بتایا جا رہا ہے.
کہانی کو ابتدا سے شروع کرتے ہیں تاکہ آپ لوگوں کو بھی سمجھ آسکے کہ اصل میں
کیا ہوگا؟
کیوں ہوگا؟
کیسے ہوگا؟
ایک دفعہ کا ذکر ہے!
شروعات ہوتی ہے ایپل کی اپنے یوزر کی پرائیویسی پروٹیکشن اپڈیٹ سے.
یہاں یاد رکھیں فیس بک نے وٹس ایپ کو کئی سال پہلے ہی خرید لیا ہے.
ایپل کے مطابق بہت ساری ایپس ایسی ہیں جو یوزر کے علم میں آئے بغیر انکا ڈیٹا دوسری ایپلیکیشن میں ٹریک کرتی ہیں.
اب دوسری ایپس میں کیا ڈیٹا ٹریک ہوتا ہے.
فیس بک کی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ اشتہارات ہیں.
لیکن فیس بک کو اشتہارات کیوں ملتے ہیں؟
کیونکہ فیس بک کو یوزر کی پسند نا پسند کا پتا ہے.
انکو پتا ہے کہ انکا یوزر کس چیز کے بارے میں بات کرنا پسند کرتا ہے.
کس چیز کو لائک کرتا ہے.
کیسی پوسٹ اور کمنٹس کرتا ہے.
لیکن فیس بک پر ایک مسئلہ ہے.
کہ آپ وہاں ایسی چیزیں نہیں سرچ کرتے جو گوگل پر کرتے ہیں.
یعنی مجھے آئی پیڈ کا سکرین پروٹیکٹر چاہیے تو میں وہ فیس بک پر تو سرچ نہیں کرونگا نا.
میں کسی بروزر میں جاؤں گا
قوی امید ہے کہ میں کروم بروزور میں جاؤں گا.
یا کوئی بھی بروزور ہو گوگل سرچ میں جا کر لکھوں گا.
کہ
آئی پیڈ سکرین پروٹیکٹر ان پاکستان
یا اس سے ملتی جلتی کوئی ٹرم سرچ کرونگا.
یہاں ایک خوبصورت بات جان لیجیے کہ فیس بک ہماری سرچ ہسٹری ٹریک کرتا ہے.
ویبسائٹس کے جو کیشے یا کوکیز ہوتی ہیں وہ انکو ٹریک کرتا ہے.
جسے آکراس دا ایپ ٹریکنگ کہا جاتا ہے.
یا آکراس دا ویبسائٹس ٹریکنگ بھی کہہ لیں.
یعنی فیس بک اپنی ایپلیکیشنز پر تو آپکی ٹریکنگ کرتا ہی ہے.
وہ دوسری کمپنی کی ویبسائٹس اور ایپس پر بھی آپکی ٹریکنگ کرتا ہے.
مثال کے طور پر میں ایک دن وائی فائی راؤٹر کے بارے میں کروم بروزور میں سرچ کیا.
کچھ ہی دیر بعد مجھے فیس بک پر ایک راؤٹر کا ایڈ ملنے لگا.
اسی طرح میں نے ایک سمارٹ بینڈ کے بارے میں سرچ کیا.
تو کچھ ہی گھنٹے بعد مجھے ایک ایسا اشتہار ملا جو سمارٹ بینڈ پر مبنی تھا.
اب ظاہر ہے میں یہ چیزیں فیس بک پر تو سرچ ہی نہیں کر رہا تھا.
تو فیس بک کو کیسے پتا چلیں.
اسکا جواب ہے کہ فیس بک ایپ ہر وقت ہماری انٹرنیٹ ایکٹیویٹیز دوسری ایپس پر ٹریک کرتی رہتی ہے.
کیوں کرتی ہے.
اس لیے کہ وہ یوزر کی پسند کو جان سکے اور اسی حساب سے اشتہارات دکھائے.
اب مجھے آئی پیڈ پرو کا پروٹیکٹر لینا ہے.
اور فیس بک مجھے وہی پروٹیکٹر کا اشتہار دکھا رہا.
تو ظاہر ہے میرے اس اشتہار پر کلک کرنے کے چانسز بڑھ جائیں گے.
اشتہار پر کلک ہوگا تو ظاہری بات ہے.
خریداری کے چانسز بھی بڑھ جائیں گے.
اب اگر ایک کمپنی کی خریداری فیس بک ایڈز کی وجہ سے زیادہ ہو رہی ہے.
تو وہ فیس بک پر زیادہ مارکیٹنگ کرے گی.
فیس بک پر مارکیٹنگ کا مطلب فیس بک کے پرافٹ میں اضافہ ہوگا.
بہت ہی سادہ سی سائینس ہے.
کہ فیس بک آپکو وہ اشتہار دکھانا چاہتا ہے.
جو آپکے لیے سب سے زیادہ ٹھیک ہو.
میرے پاس فرض کیا رئیل می سات پرو موبائل ہے.
فیس بک پر مجھے ایک ایسا ایڈ ملے جس میں سامسنگ کے فون کا کیس ہو تو میں اس پر کلک تو نہیں کرونگا.
ہاں اگر وہ کیسنگ اسی فون کی ہو جو میں استعمال کر رہا ہوں تو ظاہر ہے اس پر کلک کرنے کے چانسز بڑھ جائیں گے.
اب یہ سوال تو کلئیر ہوجانا چاہیے
کہ فیس بک ٹریکنگ کیوں کرتا ہے.
اب واپس چلتے ہیں کہ ایپل نے اعلان کیا ہے کہ یوزر کو یہ اختیار دینا چاہیے کہ وہ فیس بک جیسی ایپس کو اپنی انٹرنیٹ ایکٹیویٹیز کو ٹریک کرنے کی اجازت خود دیں یا نا دیں.
اب صارفین کے لیے تو یہ چیز خوش آئند ہے.
کہ فیس بک یا اس طرح کی مزید پرائیویسی کی ڈاکو ایپس انکی سرگرمیاں انکی مرضی کے بغیر ٹریک نہیں کر پائیں گی.
لیکن فیس بک کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے.
کہ وہ اب کس طرح رائٹ پرسن تک رائٹ ایڈ پہنچائیں گے.
یعنی اگر انکو علم ہی نہیں کہ میں نے کسی دوسرے بروزور میں کیا سرچ کیا ہے.
میں نے ای کامرس سٹور پر کیا چیز پسند کی ہے.
میں نے یوٹیوب پر کیا دیکھا ہے یا سرچ کیا ہے.
تو وہ گھی سرچ کرنے والے بندے کے پاس ہوسکتا ہے فیس لوشن کا اشتہار دکھائیں.
اب مجھے گھی چاہیے تو میں ظاہر ہے فیس لوشن پر کلک نہیں کرونگا.
اور اگر فیس لوشن کے اشتہار پر کلک نہیں کرونگا تو فیس لوشن والی کمپنی کے اشتہارات تو لوگوں تک پہنچ رہے ہیں لیکن ان پر کلک نہیں ہو رہا.
تو ظاہر ہے وہ مارکیٹنگ کا بجٹ کم کریں گے.
یا کسی دوسرے پلیٹ فارم پر جا کر مارکیٹنگ کریں گے.
مطلب فیس بک کے پرافٹ میں کمی آئے گی.
اسکے لیے فیس بک کو بھی ظاہر ہے اقدام اٹھانے پڑیں گے.
وہ آج کے پرافٹ کو دیکھ کر خوش ہوجائیں اور فیوچر نا دیکھیں تو ظاہر ہے انکی کمپنی نہیں چلے گی.
انکو نظر آرہا ہے.
کہ جب ٹھیک شخص تک ٹھیک اشتہارات نہیں پہنچیں گے تو مارکیٹنگ کمپنیاں فیس بک پر ایڈز نہیں دینگی.
تو فیس بک کا زوال شروع ہوجائے گا.
اس سے بچنے کے لیے پہلے تو انھوں نے ایپل کے خلاف بھرپور مہم چلائی.
ایپل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا.
انکا کہنا تھا کہ
the changes will “limit businesses’ ability to run personalized ads and reach their customers effectively.”
ترجمہ:
یہ تبدیلی کاروبار میں مندی کا موجب بنے گی. یوزر کی طبیعت کے مطابق اشتہارات کم ہوجائیں گے جس کی وجہ سے انکا اثر کم ہوجائے گا.
جبکہ ایپل نے اسکے مقابلے میں یہی کہا کہ
We believe that this is a simple matter of standing up for our users. Users should know when their data is being collected and shared across other apps and websites — and they should have the choice to allow that or not.
ترجمہ: ہمیں یقین ہے کہ یہ صرف اپنے صارفین کے حق میں کھڑا ہونا ہے. صارفین کو علم ہونا چاہیے کہ انکا ڈیٹا دوسری ایپس اور ویبسائٹس سے ٹریک ہو رہا ہے. اور انکے پاس اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اسے روک دیں یا اجازت دیں.
پھر اسکے مقابلے میں فیس بک نے کمپین چلائی کہ ایپل انٹرنیٹ کو فری نہیں رکھنا چاہتا.
یعنی کہ ایپل دباؤ ڈال رہا کہ فیس بک اپنے یوزرز سے سب کرپشن چارجز لے.
یا ان ایپ پرچیز شروع کر دے.
اب ظاہر ہے ایپل تو رکنے والا ہے نہیں.
وہ تو یوزرز کو یہ اختیار دے گا کہ فیس بک انکا ڈیٹا ٹریک کرے کہ نا کرے.
اب فیس بک کے پاس کیا آپشن ہے.
وہ فیس بک چلانے کی فیس لے.
نیٹ فلیکس کی طرح آپکو مہینے کے پیسے فیس بک کو دینے پڑیں گے.
اب فیس بک کو بھی پتا ہے.
کہ یہ بزنس ماڈیول چل نہیں سکتا.
جس دن سے فیس بک سب کرپشن چارجز لینا شروع کریں گے.
وہ آدھے سے زیادہ یوزرز لوز کر دینگے.
اب اسکا متبادل کیا ہو سکتا ہے.
فیس بک کے پاس
انسٹاگرام
فیس بک
میسنجر
اور وٹس ایپ موجود ہیں.
وٹس ایپ خریدنے کے بعد فیس بک نے اسے اشتہارات اور ٹریکنگ سے پاک رکھنے کا فیصلہ کیا تھا.
لیکن ڈیڑھ ارب سے زیادہ لوگ وٹس ایپ استعمال کرتے ہیں.
جب فیس بک کے پاس دوسری ایپس سے ڈیٹا ٹریکنگ کا اختیار ختم ہوگا.
بیک اپ میں اسکی اپنی ایپس موجود ہیں.
جو کہ ایک وسیع تعداد میں یوزر رکھتی ہیں.
اب فیس بک کے پاس دو آپشن ہیں.
وٹس ایپ میں اشتہارات دکھانا شروع کر دے.
یا وٹس ایپ ڈیٹا کو فیس بک اشتہارات کے استعمال میں لائے.
تو فیس بک نے وٹس ایپ ڈیٹا کو اسی استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا ہے.
جس استعمال میں وہ پہلے دوسری ایپس سے ڈیٹا ٹریک کرتا تھا.
یعنی اب وہ وٹس ایپ پر کی گئی چیٹ کو ٹریک کرے گا.
مثال کے طور پر میں اگر وٹس ایپ پر اپنے دوست کو لکھتا ہوں کہ
مجھے پیزا پسند ہے.
میرے لیے یہ بس ایک جملہ ہے.
لیکن فیس بُک جیسی کمپنیوں کے لیے یہ منافع کمانے کا ذریعہ ہے.
وہ فوراً مجھے پیزا کا اشتہار دکھائیں گے.
آنلائن ہمارا ایک ایک لفظ کمپنیوں کے لیے قیمتی ہوتا ہے.
آپ کیمبریج اینالیٹیکا سکینڈل پڑھ سکتے ہیں.
جس میں فیس یوزر کا ڈیٹا امریکن الیکشن کمپین میں استعمال کیا گیا.
جس کی وجہ سے فیس بک کو جرمانہ بھی ہوا
مارک زنگر برگر کو کانگریس کے سامنے پیش ہو کر وضاحت بھی دینی پڑی.
بہرحال،
اب پرائیویسی پالیسی میں ہوگا یوں کہ آپکا بھیجا ہوا ڈیٹا وٹس ایپ سرور پر ڈاؤن لوڈ ہوگا.
یعنی ٹریک ہوگا.
آپکی چیٹس،آپکے گروپس، آپکے فون کا ماڈل، آپریٹنگ سسٹم، وغیرہ ٹریک کرے گا.
اس سے فیس بک کو کیا فائدہ ہوگا.
یہی کہ
انکو پتا لگے گا کہ آپکا فیورٹ گروپ کونسا ہے.
آپ کو کیا پسند ہے.
کس بارے زیادہ بات کرتے ہیں.
کس چیز کے بارے میں آپ فوٹو لگاتے ہیں.
سٹیٹس کس طرح کے ہوتے ہیں.
ڈی پی کیسی ہے.
اب اسکا فیس بک کو یہی فائدہ ہوگا کہ وہ یہ ڈیٹا فیس بک پر اشتہارات میں استعمال کرے گا.
یعنی میں وٹس ایپ پر لکھتا ہوں کہ مجھے پیزا پسند ہے.
تو وہ مجھے پیزا کے ریلیٹڈ اشتہار دکھائیں گے.
وٹس ایپ جب انکو بتائے گا کہ میرے پاس نوکیا تینتیس دس ہے.
تو وہ مجھے نوکیا تینتیس دس کی کیسنگ، پروٹیکٹر چارجر ہینڈفری کے اشتہار زیادہ دکھائیں گے.
اس میں یوزر کو فائدہ تو خاص نہیں ہوگا سوائے اسکے کہ اسکو اپنی پسند کے اشتہارات ملیں گے.
ہاں نقصان یہی ہے کہ اب انکا ڈیٹا
personalized ads
میں استعمال ہوگا.
باقی اس چیز کی فکر نا کریں کہ آپکے نیلے پیلے کرتوت وٹس ایپ والے لیک کر دینگے.
ایسا کچھ نہیں ہوگا.
باقی آپ چاہئیں تو وٹس ایپ کی بجائے کوئی دوسری ایپ استعمال کر سکتے ہیں.
خاص طور پر ٹیلی گرام جیسی ایپ استعمال کی جا سکتی ہے.
لیکن وٹس ایپ کی پرائیویسی اپڈیٹ میں ایسا کچھ نیا نہیں ہے جو وہ پہلے فیس بک کی صورت میں نا کر رہے ہوں ..
تحریر :عامر اشفاق

04/12/2020

ایک عورت کا شوہر ہر وقت کسی نہ کسی مہمان کو گھر لے آتا اور اپنی بیوی سے کہتا ان کے لیے کھانے کا انتظام کرو روزانہ وہ مہمان کے لیے کھانے تیار کرتی
آخر کار وہ روز کے معمول سے تنگ آ گٸی اور ایک دن رسول پاک ﷺ کے پاس گٸی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ میرا شوہر روزانہ کسی مہمان کو گھر لے آتا ھے اور میں کھانے بنا کے تھک جاتی ھوں.
یا رسول اللہ ﷺ کوٸی ایسا طریقہ بتاٸیں کے میرا شوہر گھر میں مہمان نہ لے آٸے
اس وقت نبی پاک ﷺ خاموش رہے اور وہ عورت نبی پاک کی خاموشی دیکھ کے گھر واپس آ گٸی
اگلے دن نبی پاک ﷺ نے اس عورت کے شوہر کو بلایا اور کہا کے کل میں تمھارا مہمان ھو
وہ آدمی بہت خوش ہوا اور آ کے اپنی بیوی کو بتایا کے آج نبی پاک ھمارے مہمان بن کے آٸے گے اس کی بیوی بہت خوش ھوٸی اور جلدی سے اچھے اچھے کھانے بنانے لگی
جب نبی پاک ﷺ اس عورت کے گھر آے تو نبی پاک نے اس کے شوہر سے کہا کے جب میں کھانا کھا کے واپس جانے لگو تو اپنی بیوی سے کہنا میرے گھر سے نکلتے تک پیچھے دیکھتی رھے اس کی بیوی نے ایسا ہی کیا
جب نبی پاک ﷺ واپس جانے لگے تو اس عورت نے کیا دیکھا کے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بچھو سانپ اور کیڑے مکوڑے سب ساتھ جا رھے تھے وہ یہ منظر دیکھ کے بے ھوش ھو گی
اگلے دن وہ پھر نبی پاکﷺ کے پاس گٸی تو نبی پاک ﷺ نے اس عورت کو بتایا کے مہمان اپنا نصیب خود لے کے آتا ھے اور جو مہمان کے لیے محنت کی جاتی ہے اس کے بدلے جب وہ واپس جاتا ہے تو ساتھ اس گھر سے ساری بلاٶں اور اس گھر کے سارے گناہ ساتھ لے جاتا ھے
اس post کا مقصد جو میری بہنیں مہمانوں سے پریشان ہوتی ھے وہ ان کی عزت کریں کیونکہ مہمان اپنا نصیب خود ساتھ لے کے آتا ھے

Copiedکار کا انعام، حافظ نسیم الدیناور نیلام گھر کا پاکستان !یہ 1985 کے اوائل کی بات ہے، ٹی وی کا صرف ایک چینل تھا اور ا...
26/11/2020

Copied
کار کا انعام، حافظ نسیم الدین
اور نیلام گھر کا پاکستان !

یہ 1985 کے اوائل کی بات ہے، ٹی وی کا صرف ایک چینل تھا اور اس پہ ہفتہ وار ایک ہی معلوماتی اور تفریحی شو 'نیلام گھر' ہوا کرتا تھا، جو ہر گھر دیکھا جانے والا ایک مقبول شو تھا۔ معلوماتی مقابلے جیتنے والوں کو اکثر چھوٹے بڑے انعامات ملتے تھے، لیکن عوامی اشتیاق اس وقت بہت بڑھا جب پہلی بار گاڑی کے انعام کا اعلان ہوا۔ اور اس بڑے انعام کے لیے ایک مشکل شرط رکھی گئی کہ جیتنے والے کو لگاتار سات ہفتے ناقابل شکست رہنا پڑے گا۔ کئی مہینوں تک اس کڑے امتحان میں بہت سے قابل شرکاء نے قسمت آزمائی کی، لیکن کوئی بھی دو ہفتے سے زیادہ مسلسل جیت نہیں سکا۔

حافظ نسیم الدین، ایک نابینا نوجوان تھا۔ ان کے والد کی کراچی کے علاقے کورنگی میں کتابوں کی دکان تھی ۔ بصارت سے محرومی کی وجہ سے وہ سکول نہ جا سکے، اور ان کا بچپن اپنے والد کے ساتھ اسی دکان میں گزرا ۔ ان کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے ان کے والد نے ان کو نہ صرف قرآن کا حفظ کروایا، بلکہ سارا دن دکان میں موجود مختلف کتابیں بھی پڑھ کر سنایا کرتے، جس وجہ سے ان کا معلومات عامہ پر بہت عبور تھا، اور اسی شوق کی وجہ سے انہیں نیلام گھر میں شرکت کا موقع ملا۔

حافظ نسیم کی غیر معمولی ذہانت کی وجہ سے انہوں نے نیلام گھر کے پہلے ہی پروگرام میں کامیابی حاصل کی اور بڑھتے چلے گئے۔ ان کے مد مقابل عموما تجربہ کار اور اعلی تعلیم یافتہ ہوتے تھے، لیکن نسیم الدین کا حافظہ کمال کا تھا اور بہت کم غلطیاں کیا کرتے تھے، اور یہی وجہ تھی کہ وہ لگاتار چھ پروگرام جیت گئے۔ گاڑی کے انعام کے لئے ساتویں پروگرام تک پہنچتے پہنچتے وہ بھرپور عوامی توجہ، دلچسپی اور داد کا مرکز بن چکے تھے۔ ان کی جیت کے لیے چھوٹے بڑے سب، پر خلوص دعائیں کر رہے تھے۔ اس فائنل مقابلے میں ان کا کوئی جواب بھی غلط نہیں تھا، اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ مخالف کو آخری سوال کا جواب نہیں آیا تھا اور اور چند لمحے خاموشی کے بعد اس کا جواب بھی حافظ صاحب نے ہی دے کر مقابلہ جیت لیا۔ اس دن نسیم الدین کیلئے ہر کوئی خوش تھا، نیلام گھر کا پورا ہال کھڑے ہو کر کئی منٹ تک پرمسرت تالیاں بجاتا رہا، ٹی وی پر لاکھوں دیکھنے والے، اور سب سے بڑھ کر طارق عزیز بہت خوش تھے، جنہوں نےاس دن ملکی تاریخ میں ذہانت پر دیا جانے والا سب سے بڑا انعام، اسے گاڑی کی چابی کی صورت میں پیش کیا۔

اس تحریر کا مقصد ایک پرانی یاد کو تازہ کرنا اور اس کو موجودہ دور اور اقدار کے تقابل میں جانچنا ہے۔ تقریبا 35 سال گزر گئے، وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل گیا ہے۔ آجکا میڈیا اور اس میں دکھائےجانے والے پروگرام بھی نیلام گھر جیسے نہیں رہے، درجنوں چینلز کے گیم شوز میں گاڑیاں، سونا اور کروڈوں کے انعامات بانٹے جاتے ہیں، ڈانس کر کے بھی بائیک مل جاتی ہے، لیکن نیلام گھر والا مزہ اور ماحول نہیں بن پاتا، ان شوز میں کمپیرنگ کے نام پر ہر قسم کے بھانڈ اچھل کود کرتے ہیں، لیکن کوئی بھی طارق عزیز جیسا نہیں، جن کے پاس ہر کسی کے لیئے مزاح، مثبت تفریح، سماجی اصلاح اور معلومات دینے کا ایک بےمثال فن اور پروقار جذبہ تھا۔ آج ہر کوئی اپنے مفاد میں مگن ہے، کسی ہم وطن کی کامیابی کی دعائیں تو دور، اب تو کسی کے پاس کسی کیلئیے بے غرض خوش ہونے کا بھی وقت نہیں ہے۔ نیلام گھر کا پاکستان بدل چکا ہے ، میڈیا کا کردار، ہماری معاشرتی اقدار اور ہمارے لوگوں کا مزاج بھی بدل گیا ہے۔ ہم نے بحیثیت ایک معاشرہ اور قوم کیا کھویا اور کیا پایا ۔۔ یہ فیصلہ آپ خود کریں۔

زیر نظر تصویر میں طارق عزیز، نیلام گھر میں حافظ نسیم الدین کو سوزوکی FX کار کی چابیاں پیش کر رہے ہیں ۔

(تحریر: مختار عزیز کانسی)

02/10/2020

Copied shared

Copied"CERN Lab" Switzerland"سرن تاریخ کا سب سے بڑا انسانی معجزہ ہے‘ آپ اگر انسانی کوششوں کی معراج دیکھنا چاہتے ہیں تو آ...
06/06/2020

Copied

"CERN Lab" Switzerland
"سرن تاریخ کا سب سے بڑا انسانی معجزہ ہے‘ آپ اگر انسانی کوششوں کی معراج دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ زندگی میں ایک بار سرن ضرور جائیں‘ آپ حیران رہ جائیں گے لیکن سرن ہے کیا؟ ہمیں یہ جاننے سے قبل کائنات کے چند بڑے حقائق جاننا ہوں گے۔

ہماری کائنات 13ارب 80 کروڑ سال پرانی ہے‘ زمین کو تشکیل پائے ہوئے پانچ ارب سال ہو چکے ہیں‘ ہماری کائنات نے ایک خوفناک دھماکے سے جنم لیا تھا‘ یہ دھماکہ بگ بینگ کہلاتا ہے‘ بگ بینگ کے بعد کائنات میں 350ارب بڑی اور 720 ارب چھوٹی کہکشائیں پیدا ہوئیں‘ ہر کہکشاں میں زمین سے کئی گنا بڑے اربوں سیارے اور کھربوں ستارے موجود ہیں‘ یہ کائنات ابھی تک پھیل رہی ہے‘ یہ کہاں تک جائے گی‘ یہ کتنی بڑی ہے اور اس میں کتنے بھید چھپے ہیں ہم انسان تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود اس کا صرف 4فیصد جانتے ہیں‘ کائنات کے96فیصد راز تاحال ہمارے احاطہ شعور سے باہرہیں۔

یہ96 فیصد نامعلوم بھی دو حصوں میں تقسیم ہیں‘ 44فیصد حصہ وہ ہے جس کے بارے میں ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم اسے نہیں جانتے‘ سائنس دان اس 44 فیصد حصے کو ’’ڈارک میٹر‘‘ کہتے ہیں‘ یہ ڈارک میٹر سپر انرجی ہے‘ ہمارا سورج اس انرجی کے سامنے صحرا میں ذرے کے برابر ہے‘ سائنس دان کائنات کے باقی 52 فیصد نامعلوم کے بارے میں کہتے ہیں ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ہم اسے نہیں جانتے‘ ہمیں کائنات کو سمجھنے کے لیے اس کی بنیاد سمجھنا ہو گی۔
یہ جاننا ضروری ہے بگ بینگ کیسے اور کیوں ہوا تھا اور اس کے فوری بعد کیا ہوا تھا جس سے کائنات نے جنم لیا ‘ انسان کے پاس یہ حقیقت جاننے کے لیے دو طریقے ہیں‘ ہم کوئی ایسی ٹائم مشین بنائیں جو ہمیں 13ارب 80 کروڑ سال پیچھے اس وقت میں لے جائے جب بگ بینگ ہوا اور کائنات وجود میں آنے لگی‘ یہ ظاہر ہے ممکن نہیں‘ دوسرا طریقہ ‘سائنس دان لیبارٹری میں ’’بگ بینگ‘‘ کریں اور کائنات کی پیدائش کے پورے عمل کا مشاہدہ کر لیں‘ یہ طریقہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں چنانچہ سائنس دانوں نے 1952ء میں اس پر کام شروع کر دیا۔

اس نادر کام کے لیے جنیواکے مضافات میں فرنے میں جگہ تلاش کی گئی اور سوئٹزرلینڈ اور فرانس دونوں نے مل کر لیبارٹری بنانا شروع کر دی‘ یہ لیبارٹری سرن کہلاتی ہے‘ یہ کام دو ملکوں اور چند سو سائنس دانوں کے بس کی بات نہیں تھی چنانچہ آہستہ آہستہ دنیا کے 38 ممالک کی 177 یونیورسٹیاں اور فزکس کے تین ہزار پروفیسر اس منصوبے میں شامل ہو گئے‘سائنس دانوں نے پہلے حصے میں زمین سے 100 میٹر نیچے 27کلو میٹر لمبی دھاتی سرنگ بنائی۔

اس سرنگ میں ایسے مقناطیس اتارے گئے جو کشش ثقل سے لاکھ گنا طاقتور ہیں‘ مقناطیس کے اس فیلڈ کے درمیان دھات کا 21 میٹر اونچا اور 14 ہزار ٹن وزنی چیمبر بنایا گیا‘ یہ چیمبر کتنا بھاری ہے آپ اس کا اندازہ آئفل ٹاور سے لگا لیجیے‘ دنیا کے سب سے بڑے دھاتی اسٹرکچر کا وزن 7 ہزار تین سوٹن ہے‘ سرن کا چیمبر اس سے دگنا بھاری ہے‘ اس چیمبر کا ایک حصہ پاکستان کے ہیوی مکینیکل کمپلیکس میں بنا اور اس پر باقاعدہ پاکستان کا جھنڈا چھاپا گیا‘ سائنس دانوں کے اس عمل میں چالیس سال لگ گئے‘ یہ چالیس سال بھی ایک عجیب تاریخ ہیں۔

ملکوں کے درمیان اس دوران عداوتیں بھی رہیں اور جنگیں بھی ہوئیں لیکن سائنس دان دشمنی‘ عداوت‘ مذہب اور نسل سے بالاتر ہو کر سرن میں کام کرتے رہے‘ یہ دن رات اس کام میں مگن رہے‘ سائنس دانوں کے اس انہماک سے بے شمار نئی ایجادات سامنے آئیں مثلاً انٹرنیٹ سرن میں ایجاد ہوا تھا‘ سائنس دانوں کوآپس میں رابطے اور معلومات کے تبادلے میں مشکل پیش آ رہی تھی چنانچہ سرن کے ایک برطانوی سائنس دان ٹم برنرزلی نے 1989ء میں انٹرنیٹ ایجاد کر لیا یوں www(ورلڈ وائیڈ ویب) سرن میں ’’پیدا‘‘ ہوا اور اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا۔

سٹی اسکین اور ایم آر آئی بھی اسی تجربے کے دوران ایجاد ہوئی ‘ سرن میں اس وقت بھی ایسے سسٹم بن رہے ہیں جو اندھوں کو بینائی لوٹا دیں گے‘ ایک چھوٹی سی چپ میں پورے شہر کی آوازیں تمام ڈیٹیلز کے ساتھ ریکارڈ ہو جائیں گی‘ ایک ایسا سپرالٹرا ساؤنڈ بھی مارکیٹ میں آرہا ہے جو موجودہ الٹرا ساؤنڈ سے ہزار گنا بہتر ہوگا ‘ ایک ایسا لیزر بھی ایجاد ہو چکا ہے جو غیر ضروری ٹشوز کو چھیڑے بغیر صرف اس ٹشو تک پہنچے گا جس کا علاج ہو نا ہے‘ ایک ایسا سسٹم بھی سامنے آ جائے گا جو پورے ملک کی بجلی اسٹور کر لے گا اور سرن کا گرڈ کمپیوٹر بھی عنقریب مارکیٹ ہو جائے گا‘ یہ کمپیوٹر پوری دنیا کا ڈیٹا جمع کرلے گا۔

یہ تمام ایجادات سرن میں ہوئیں اور یہ اس بنیادی کام کی ضمنی پیداوار ہیں‘ سرن کے سائنس دان اس ٹنل میں مختلف عناصر کو روشنی کی رفتار (ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ) سے لگ بھگ اسپیڈ سے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور پھر تبدیلی کا مشاہدہ کرتے ہیں‘ یہ عناصر ایٹم سے اربوں گنا چھوٹے ہوتے ہیں‘ یہ دنیا کی کسی مائیکرو اسکوپ میں دکھائی نہیں دیتے‘ سائنس دانوں نے 2013ء میں تجربے کے دوران ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا جو تمام عناصر کو توانائی فراہم کرتا ہے‘ یہ عنصر ’’گاڈ پارٹیکل‘‘ کہلایا‘ اس دریافت پر دو سائنس دانوں پیٹر ہگس اور فرینکوئس اینگلرٹ کونوبل انعام دیا گیا‘ یہ دنیا کی آج تک کی دریافتوں میں سب سے بڑی دریافت ہے۔

سائنس دانوں کا خیال ہے مادے کی اس دنیا کا آدھا حصہ غیر مادی ہے‘ یہ غیر مادی دنیا ہماری دنیا میں توانائی کا ماخذ ہے‘ یہ لوگ اس غیر مادی دنیا کو ’’اینٹی میٹر‘‘ کہتے ہیں‘یہ اینٹی میٹر پیدا ہوتا ہے‘کائنات کو توانائی دیتا ہے اور سیکنڈ کے اربوں حصے میں فنا ہو جاتا ہے‘ سرن کے سائنس دانوں نے چند ماہ قبل اینٹی میٹر کو 17 منٹ تک قابو رکھا ‘ یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا‘ یہ لوگ اگر ’’اینٹی میٹر‘‘ کو لمبے عرصے کے لیے قابو کر لیتے ہیں تو پھر پوری دنیا کی توانائی کی ضرورت چند سیکنڈز میں پوری ہو جائے گی‘ دنیا کو بجلی اور پٹرول کی ضرورت نہیں رہے گی‘سرن ایک انتہائی مشکل اورمہنگا براجیکٹ ہے اور سائنس دان یہ مشکل کام پچھلے 68سال سے کر رہے ہیں۔
مصنف: جاوید چودھری

اسمارٹ فونیہ "موبائل" یوں ہی ہٹا کٹا نہیں ہے. اس نے بہت کچھ کھایا پیا ہے.یہ ہاتھوں پر باندھنے والی گھڑیاں کھا گیایہ چِٹھ...
23/01/2020

اسمارٹ فون

یہ "موبائل" یوں ہی ہٹا کٹا نہیں ہے. اس نے بہت کچھ کھایا پیا ہے.
یہ ہاتھوں پر باندھنے والی گھڑیاں کھا گیا
یہ چِٹھیاں پوسٹ کارڈز اور خط کھا گیا
یہ ظالم ریڈیو کھا گیا
ٹیلی ویژن کھا گیا
وی سی آر کھا گیا
کئی فیکس مشینیں کھا گیا
کمپیوٹرز تک نہیں چھوڑے اس نے
ٹیپ ریکارڈر کیسٹیں اور مہنگے سے مہنگے کیمرے چبا گیا.
یہ ٹارچ اور لائٹیں کھا گیا.
یہ موبائل دنیا کی ساری کتابیں کھا گیا
اخبارات نگل گیا
لائیبریریاں ہضم کرلیں
اس نے محفلیں ڈکار لی ہیں
ٹائپ رائٹر کا خون پی گیا
اوررررر اب یہ انسانی رشتے کھا رھا ھے ۔۔۔۔۔۔
تاھم یہ مُعٙمّٙہ ابھی تک حل نہیں ہوا کہ اتنا کُُچھ کھا پی جانے کے بعد بھی یہ "اسمارٹ فون" کہلاتا ھے

01/05/2019
09/09/2018

" کچھ لوگوں کے حصے میں صرف چاہتیں بانٹنے کا ہی کام آتا ہے! وصول کرنے کا نہیں"

Address

Sahiwal
57000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Knowledge / General Knowledge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Knowledge / General Knowledge:

Share

Category