The True Islamic Event

  • Home
  • The True Islamic Event

The True Islamic Event Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The True Islamic Event, .

06/02/2021

📙 متفق علیہ ۔ مشکوٰۃ 6019

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

’’وقت اور مال صرف کرنے کے لحاظ سے ابوبکر کا مجھ پر سب سے زیادہ احسان ہے ۔ اور اگر میں کسی کو خلیل (جگری دوست) بناتا تو میں لازماً ابوبکر کو خلیل بناتا ، لیکن اخوتِ اسلامی اور اس کی مودت و محبت کافی ہے ، مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں البتہ ابوبکر کا دروازہ کھلا رہنے دو ۔‘‘

’’ اگر میں اپنے رب کے سوا کسی اور کو دوست بناتا تو میں ابوبکر کو دوست بناتا ۔‘‘

03/07/2020

*سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 85*

*بیعت کی تکمیل اور بارہ نقیب:*

جب تمام لوگ بیعت کر چکے اور بیعت کی دفعات بھی طے ہوچکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق بارہ نقیب منتخب کئے گئے، جن میں سے 9 قبیلہ خزرج سے اور 3 قبیلہ اوس سے تھے، ان 12 نقیبوں کو دعوت و تبلیغ کے لیے اپنے اپنے قبیلہ کا سربراہ مقرر کردیا گیا جو آپ کے ارشاد کے مطابق اپنی اپنی قوم کے معاملات کے ذمہ دار ہوں اور اس بیعت کی دفعات کی تنفیذ کے لیے اپنی قوم کی طرف سے وہی ذمے دار اور مکلف ہوں، ان کے نام یہ ہیں:

*خزر ج کے نقباء:*
________

1.. اسعد بن زرارہ بن عدس رضی اللہ عنہ
2.. سعد بن ربیع بن عَمرو رضی اللہ عنہ
3.. عبداللہ بن رواحہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ
4.. رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ
5.. براء بن معرور بن صخر رضی اللہ عنہ
6.. عبداللہ بن عَمرو بن حرام رضی اللہ عنہ
7.. عبادہ بن صامت بن قیس رضی اللہ عنہ
8.. سَعد بن عُبادہ بن دلیم رضی اللہ عنہ
9.. مُنذر بن عَمرو بن خنیس رضی اللہ عنہ

*اوس کے نقباء:*
_______

1.. اُسید بن حضیر بن سماک رضی اللہ عنہ
2.. سعد بن خیثمہ بن حارث رضی اللہ عنہ
3.. رِفَاعہ بن عبد المنذر بن زبیر رضی اللہ عنہ

جب ان نقباء کا انتخاب ہوچکا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"آپ لوگ اپنی قوم کے جملہ معاملات کے کفیل ہیں، جیسے حواری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب سے کفیل ہوئے تھے اور میں اپنی قوم یعنی مسلمانوں کا کفیل ہوں۔"

معاہدہ مکمل ہوچکا تھا اور اب لوگ بکھرنے ہی والے تھے کہ ایک شیطان کو اس کا پتہ لگ گیا، چونکہ یہ انکشاف بالکل آخری لمحات میں ہوا تھا اور اتنا موقع نہ تھا کہ یہ خبر چپکے سے قریش کو پہنچا دی جائے اور وہ اچانک اس اجتماع کے شرکاء پر ٹوٹ پڑیں اور انہیں گھاٹی ہی میں جالیں، اس لیے شیطان نے جھٹ ایک اونچی جگہ کھڑے ہو کر نہایت بلند آواز سے پکار لگائی: "خیمے والو! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھو، اس وقت بددین اس کے ساتھ ہیں اور تم سے لڑنے کے لیے جمع ہیں۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "یہ اس گھاٹی کا شیطان ہے، او اللہ کے دشمن سن! اب میں تیرے لیے جلد ہی فارغ ہو رہا ہوں۔" اس کے بعد آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ وہ اپنے ڈیروں پر چلے جائیں۔

اس شیطان کی آواز سن کر حضرت عباس سے عبادہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! آپ چاہیں تو ہم کل اہل منیٰ پر اپنی تلواروں کے ساتھ ٹوٹ پڑیں۔"

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "ہمیں اس کا حکم نہیں دیا گیا ہے، بس آپ لوگ اپنے ڈیروں میں چلے جائیں۔" اس کے بعد لوگ واپس جاکر سو گئے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔

یہ خبر قریش کے کانوں تک پہنچی تو غم والم کی شدت سے ان کے اندر کہرام مچ گیا، کیونکہ اس جیسی بیعت کے جو نتائج ان کی جان ومال پر مرتب ہوسکتے تھے، اس کا انہیں اچھی طرح اندازہ تھا، چنانچہ صبح ہوتے ہی ان کے رؤساء اور اکابر کے ایک بھاری بھرکم وفد نے اس معاہدے کے خلاف سخت احتجاج کے لیے اہل یثرب کے خیموں کا رخ کیا اور یوں عرض پرداز ہوا: "خزرج کے لوگو! ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگ ہمارے اس صاحب کو ہمارے درمیان سے نکال لے جانے کے لیے آئے ہیں اور ہم سے جنگ کرنے کے لیے اس کے ہاتھ پر بیعت کررہے ہیں، حالانکہ کوئی عرب قبیلہ ایسا نہیں جس سے جنگ کرنا ہمارے لیے اتنا زیادہ ناگوار ہو جتنا آپ حضرات سے ہے۔"

لیکن چونکہ مشرکین خزرج اس بیعت کے بارے میں سرے سے کچھ جانتے ہی نہ تھے، کیونکہ یہ مکمل راز داری کے ساتھ رات کی تاریکی میں زیر عمل آئی تھی، اس لیے ان مشرکین نے اللہ کی قسم کھا کھا کر یقین دلایا کہ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں ہے، ہم اس طرح کی کوئی بات سرے سے جانتے ہی نہیں، بالآخر یہ وفد عبداللہ بن اُبی ابن سلول کے پاس پہنچا، وہ بھی کہنے لگا: "یہ باطل ہے، ایسا نہیں ہوا ہے اور یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ میری قوم مجھے چھوڑ کر اس طرح کا کام کر ڈالے، اگر میں یثرب میں ہوتا تو بھی مجھ سے مشورہ کیے بغیر میری قوم ایسا نہ کرتی۔"

باقی رہے مسلمان تو انہوں نے کنکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور چپ سادھ لی، ان میں سے کسی نے ہاں یا نہیں کے ساتھ زبان ہی نہیں کھولی، آخر رؤساء قریش کا رجحان یہ رہا کہ مشرکین کی بات سچ ہے، اس لیے وہ نامراد واپس چلے گئے۔

رؤساء مکہ تقریباً اس یقین کے ساتھ پلٹے تھے کہ یہ خبر غلط ہے، لیکن اس کی کرید میں وہ برابر لگے رہے، بالآخر انہیں یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ خبر صحیح ہے اور بیعت ہوچکی ہے، لیکن یہ پتہ اس وقت چلا جب حجاج اپنے اپنے وطن روانہ ہوچکے تھے، اس لیے ان کے سواروں نے تیز رفتاری سے اہل یثرب کا پیچھا کیا، لیکن موقع نکل چکا تھا، البتہ انہوں نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیا اور انہیں جا گھیرا، لیکن منذر رضی اللہ عنہ زیادہ تیز رفتار ثابت ہوئے اور نکل گئے، البتہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ پکڑ لیے گئے اور ان کا ہاتھ گردن کے پیچھے انہیں کے کجاوے کی رسی سے باندھ دیا گیا، پھر انہیں مارتے پیٹتے اور بال نوچتے ہوئے مکہ لے جایا گیا، لیکن وہاں مطعم بن عدی اور حارث بن حرب بن امیہ نے آ کر چھڑا دیا، کیونکہ ان دونوں کے جو قافلے مدینے سے گزرتے تھے وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہی کی پناہ میں گزرتے تھے، ادھر انصار ان کی گرفتاری کے بعد باہم مشورہ کر رہے تھے کہ کیوں نہ دھاوا بول دیا جائے؟ مگر اتنے میں وہ دکھائی پڑگئے، اس کے بعد تمام لوگ بخیریت مدینہ پہنچ گئے۔

یہی عقبہ کی دوسری بیعت ہے، جسے بیعتِ عقبہ کُبریٰ کہا جاتا ہے، یہ بیعت ایک ایسی فضا میں زیر عمل آئی جس پر محبت و وفاداری، منتشر اہلِ ایمان کے درمیان تعاون وتناصر، باہمی اعتماد اور جاں سپاری وشجاعت کے جذبات چھا ئے ہوئے تھے، چنانچہ یثربی اہلِ ایمان کے دل اپنے کمزور مکی بھائیوں کی شفقت سے لبریز تھے، ان کے اندر ان بھائیوں کی حمایت کا جوش تھا اور ان پر ظلم کرنے والوں کے خلاف غم وغصہ تھا، ان کے سینے اپنے اس بھائی کی محبت سے سرشار تھے جسے دیکھے بغیر محض للہ فی اللہ اپنا بھائی قرار دے لیا تھا۔

اور یہ جذبات واحساسات محض کسی عارضی کشش کا نتیجہ نہ تھے جو دن گزرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہوجاتی ہے، بلکہ اس کا منبع ایمان باللہ، ایمان بالرسول اور ایمان بالکتاب تھا، یعنی وہ ایمان جو ظلم وعدوان کی کسی بڑی سے بڑی قوت کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتا، وہ ایمان کہ جب اس کی باد بہاری چلتی ہے تو عقیدہ وعمل میں عجائبات کا ظہور ہوتا ہے، اسی ایمان کی بدولت مسلمانوں نے صفحاتِ زمانہ پر ایسے ایسے کارنامے ثبت کیے اور ایسے ایسے آثار ونشانات چھوڑے کہ ان کی نظیر سے ماضی وحاضر خالی ہیں اور غالباً مستقبل بھی خالی ہی رہے گا۔

سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری..

03/07/2020

*سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 84*

*پہلی نماز جمعہ:*

پہلی بیعت عقبہ کے بعد یثرب میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا، صرف چار گھرانے باقی رہ گئے تھے جو بعد میں ایمان لائے، حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی کوششوں سے نماز باجماعت کا انتظام ہو گیا تھا جو حارّہ بنی بیاضہ میں ادا کی جاتی تھی، جب مسلمانوں کی تعداد چالیس ہو گئی تو یہودیوں کے سبت (ہفتہ) اور عیسائیوں کے اتوار کی طرح اجتماعی عبادت کے لئے جمعہ کا دن اختیار کیا جو عہد جاہلیت میں یوم عروبہ کہلاتا تھا، کعب بن لوئی نے اس کا نام بدل کر جمعہ رکھا۔

سب سے پہلی نماز جمعہ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے بنی بیاضہ کے علاقہ میں پڑھائی، اس وقت تک نماز جمعہ کا حکم نہیں آیا تھا، روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہونے والے انصار کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ تمام مسلمانوں پر جمعہ فرض کر دیا گیا، مشہور انصاری صحابی حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بڑھاپے میں نابینا ہو گئے تھے، ان کے بیٹے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ان کا ہاتھ پکڑ کر مسجد لے جاتے تھے، جمعہ کی اذان سنتے ہی وہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لئے دعائے مغفرت کرتے، بیٹے نے وجہ دریافت کی تو کہا کہ ہمیں مدینہ میں سب سے پہلے جمعہ کی نماز انہوں نے ہی پڑھائی تھی۔

نبوت کے تیرہویں سال موسم حج جون 622ء میں یثرب سے پانچ سو زائرین آئے، جن میں 73 مرد اور 2 عورتیں مسلمان تھیں، یہ اپنی قوم کے مشرک حاجیوں میں شامل ہوکر آئے تھے، مقصد یہ تھا کہ جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا وہ اس دولت سے مشرف ہوں اور جو اسلام قبول کر چکے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرکے اسلام سے وفاداری اور آپ پر جاں نثاری کا پختہ عہد کریں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکّہ سے ہجرت فرما کر مدینہ میں قیام کی دعوت دیں، اس قافلہ نے منیٰ میں قیام کیا اور خفیہ طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ارادہ سے مطلع کیا۔

چنانچہ رات میں اُسی قدیم گھاٹی عقبہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کا اہتمام کیا گیا، دو عورتوں میں ایک بنی مازن بن نجار کی حضرت نسیبہ بنت کعب رضی اللہ عنہا تھیں جو اپنی کنیت "اُمِّ عمارہ" کے نام سے مشہور تھیں اور دوسری خاتون بنی سلمہ کی حضرت اسماء بنت عمرو رضی اللہ عنہا "اُمِّ منیع" تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کے چچا حضرت عباس (رضی اللہ عنہ) بھی آئے تھے، یہ اگرچہ ابھی مشرف بہ اسلام نہ ہوئے تھے مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جان چھڑکتے تھے، انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا:

"اے لوگو! تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینہ آنے کی دعوت تو دی، مگر سُن لو کہ وہ اپنے خاندان میں سب سے زیادہ معزز ہیں، جو لوگ ان پر ایمان لائے وہ بھی ان کے لئے سینہ سپر رہتے ہیں اور جو ایمان نہیں لائے وہ بھی خاندانی عزت و شرف کی وجہ سے ان کی حمایت کرتے ہیں، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب کو چھوڑ کر تمہارے ساتھ رہنا منظور کیا ہے، لہٰذا اگر تم اپنے اندر ان کی حفاظت و مدافعت کی طاقت پاتے ہو اور ان کی خاطر سارے عرب کی دشمنی مول لینے کے لئے تیار ہو تو اچھی طرح آپس میں مشورہ کرکے بات طے کرلو اور وہی بات کہو جس پر سب کا اتفاق ہو جائے کیونکہ سچی بات ہی اچھی ہوتی ہے۔"

حضرت عباس (رضی اللہ عنہ) کی یہ تقریر سن کر رئیس خزرج برأ بن معرور رضی اللہ عنہ نے کہا: "اے عباس! تم نے جو کچھ کہا ہم نے وہ سنا، ہم نے وہی کہا جو ہمارے دل میں ہے، ہم نے راست گوئی، ایفائے عہد اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اپنی جانیں قربان کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔"

پھر دوسروں نے کہا: "یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم ہر طرح حاضر ہیں، آپ جو چاہیں ہم سے عہد لیں۔"

یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید کی کچھ آیات تلاوت فرمائیں اور تعلیمات اسلام پیش کیں، پھر فرمایا: "میں چاہتا ہوں کہ جس طرح تم اپنے بیوی بچوں کی حفاظت و حمایت کرتے ہو، اسی طرح میری اور میرے ساتھیوں کی حمایت و نصرت کا وعدہ کرو۔"

برأ بن معرور رضی اللہ عنہ کہنے لگے: "یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جس طرح اپنے بیوی بچوں کی حمایت و حفاظت کرتے ہیں آپ کی بھی کریں گے، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! دستِ مبارک بڑھائیے اور ہم سے بیعت لیجئے، ہم میدانِ جنگ کے شہسوار ہیں۔"

مگر ابو الہشیم بن التیہان رضی اللہ عنہ نے ان کی بات کاٹ دی اور کہنے لگے، "یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمارے یہودیوں سے کچھ تعلقات ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستگی کے بعد یہ تعلقات ختم ہو جائیں گے، ایسا نہ ہو کہ جب اللہ تعالیٰ آپ کو قوت و طاقت عطا فرمائے تو (آپ کی قوم آپ کو بلا لے اور) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس لوٹ جائیں اور ہم کو چھوڑ دیں۔"

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا: "نہیں! تمہارا خون میرا خون ہے، تم میرے ہو اور میں تمہارا، تمہاری اور میری صلح و جنگ ایک ہے۔"

اس گفتگو کے بعد حاضرین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بیعت کے لئے ہاتھ بڑھائے، بیعت کے دوران عباس بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا.. "اے گروہ خزرج! اچھی طرح سمجھ لو کہ تم کس چیز پر بیعت کر رہے ہو، تم عرب و عجم سے جنگ پر بیعت کر رہے ہو۔"

سب نے یک زبان ہو کر جواب دیا: "ہاں! ہم اسی پر بیعت کر رہے ہیں، ہماری جان اور مال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے حاضر ہے۔"

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے عرض کیا کہ اے ﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم آپ سے کس بات پر بیعت کریں؟" آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

1.. خوشی اور ناخوشی ہر حال میں سمع و طاعت کرنا۔
2.. تنگ دستی و خوشحالی میں ﷲ کی راہ میں خرچ کرنا۔
3.. نیک کام کرنے کی تلقین اور برے کام کے روکنے کی تاکید کرنا۔
4.. ﷲ کے دین میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنا۔
5.. جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ چلے آئیں تو آپ کی ایسی حفاظت کرنا، جیسی اپنے جان و مال اور اہل و عیال کی کرتے ہیں اور صلہ جنت ہے۔

ابن اسحاق کی روایت ہے کہ بنو نجار کہتے ہیں کہ ابو امامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے آدمی ہیں جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی اور اس کے بعد بیعت عامہ ہوئی، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ ایک ایک کرکے اٹھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بیعت لی اور اس کے عوض جنت کی بشارت دی، دو عورتیں جو اس وقت وہاں حاضر تھیں، ان کی بیعت صرف زبانی ہوئی، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی اجنبی عورت سے ہاتھ نہیں ملایا، ابن اسحاق کا یہ بھی بیان ہے کہ عبدالاشہل کہتے ہیں کہ ابوالہشیم بن التیہان رضی اللہ عنہ نے بیعت کی اور حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے بیعت کی۔

الغرض اسی جوش و خروش کی فضا میں 75 فدائیان مدینہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی، یہ بیعت عقبہ ثانیہ یا بیعت عقبہ کبیرہ کہلاتی ہے، جو ذی الحجہ 13 نبوت مطابق جون یا جولائی 622ء میں ہوئی۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری..

03/07/2020

*سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 83*

*مدینہ میں اسلام کا سفیر:*

بیعت پوری ہوگئی اور حج ختم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کے ہمراہ یثرب میں اپنا پہلا سفیر بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں کو اسلامی احکام کی تعلیم دے اور جو لوگ اب تک شرک پر چلے آرہے ہیں ان میں اسلام کی اشاعت کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سفارت کے لیے سابقین اوّلین میں سے ایک جوان کا انتخاب فرمایا جس کا اسم گرامی مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہے۔

حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے تو حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے گھر نزول فرما ہوئے، پھر دونوں نے مل کر اہلِ یثرب میں جوش وخروش سے اسلام کی تبلیغ شروع کردی، حضرت مصعب "مُقری" کے خطاب سے مشہور ہوئے، مقری کے معنی ہیں پڑھانے والا، اس وقت معلم اور استاد کو مقری کہتے تھے۔

تبلیغ کے سلسلے میں ان کی کامیابی کا ایک نہایت شاندار واقعہ یہ ہے کہ ایک روز حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ انہیں ہمراہ لے کر بنی عبد الاشہل اور بنی ظفر کے محلے میں تشریف لے گئے اور وہاں بنی ظفر کے ایک باغ کے اندر مرق نامی کنویں پر بیٹھ گئے، ان کے پاس چند مسلمان بھی جمع ہوگئے، اس وقت تک بنی عبد الاشہل کے دونوں سردار یعنی حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اُسید بن حضیر مسلمان نہیں ہوئے تھے بلکہ شرک ہی پر تھے، انہیں جب خبر ہوئی تو حضرت سعد نے حضرت اُسید سے کہا: "ذرا جاؤ اور ان دونوں کو جو ہمارے کمزوروں کو بیوقوف بنانے آئے ہیں، ڈانٹ دو اور ہمارے محلے میں آنے سے منع کردو، چونکہ اسعد بن زرارہ میری خالہ کا لڑکا ہے اس لیے تمہیں بھیج رہا ہوں ورنہ یہ کام میں خود انجام دے دیتا۔"

حضرت اسید نے اپنا حربہ اٹھایا اور ان دونوں کے پاس پہنچے، حضرت اسعد نے انہیں آتا دیکھ کر حضرت مصعب سے کہا: "یہ اپنی قوم کا سردار تمہارے پا س آرہا ہے، اس کے بارے میں اللہ سے سچائی اختیار کرنا۔"

حضرت مصعب رضی اللہ عنہ نے کہا: "اگر یہ بیٹھا تو اس سے بات کروں گا۔"
حضرت اُسَیْد پہنچے تو ان کے پاس کھڑے ہو کر بولے: "تم دونوں ہمارے یہاں کیوں آئے ہو؟ ہمارے کمزوروں کو بیوقوف بناتے ہو؟ یاد رکھو! تمہیں اپنی جان کی ضرورت ہے تو ہم سے الگ ہی رہو۔"

حضرت مصعب رضی اللہ عنہ نے کہا: "کیوں نہ آپ بیٹھیں اور کچھ سنیں، اگر کوئی بات پسند آجائے تو قبول کرلیں، پسند نہ آئے تو چھوڑ دیں۔"

حضرت اسید نے کہا: "بات منصفانہ کہہ رہے ہو۔" اس کے بعد اپنا حربہ گاڑ کر بیٹھ گئے، اب حضرت مصعب نے اسلام کی بات شروع کی اور قرآن کی تلاوت فرمائی، حضرت اسید سن کر جھومنے لگے اور پکار اٹھے: "یہ کلام کس قدر عمدہ اور بہتر ہے۔" پھر اسی وقت داخل اسلام ہوگئے، پھر بولے: "میرے پیچھے ایک اور شخص ہے، اگر وہ تمہارا پیروکار بن جائے تو اس کی قوم کا کوئی آدمی پیچھے نہ رہے گا اور میں اس کو ابھی تمہارے پاس بھیج رہا ہوں۔" (اشارہ حضرت سعد بن معاذ کی طرف تھا)

اس کے بعد حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے اپنا حربہ اٹھایا اور پلٹ کر حضرت سعد کے پاس پہنچے، وہ اپنی قوم کے ساتھ محفل میں تشریف فرما تھے، حضرت اُسید نے کہا: "میں نے ان دونوں سے بات کی تو واللہ! مجھے کوئی حرج تو نظر نہیں آیا، ویسے میں نے انہیں منع کردیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ ہم وہی کریں گے جو آپ چاہیں گے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ بنی حارثہ کے لوگ اسعد بن زرارہ کو قتل کرنے گئے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ اسعد آپ کی خالہ کا لڑکا ہے، لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ وہ آپ کا عہد توڑ دیں۔''

یہ سن کر حضرت سعد غصے سے بھڑک اٹھے اور اپنا نیزہ لے کر سیدھے ان دونوں کے پاس پہنچے، دیکھا تو دونوں اطمینان سے بیٹھے ہیں، سمجھ گئے کہ اُسید کا منشا یہ تھا کہ آپ بھی ان کی باتیں سنیں، لیکن یہ ان کے پاس پہنچے تو کھڑے ہو کر سخت سست کہنے لگے، پھر اسعد بن زرارہ کو مخاطب کرکے بولے: "اللہ کی قسم اے ابو امامہ! اگر میرے اور تیرے درمیان قرابت کا معاملہ نہ ہوتا تو تم مجھ سے اس کی امید نہ رکھ سکتے تھے، ہمارے محلے میں آکر ایسی حرکتیں کرتے ہو جو ہمیں گوارا نہیں۔"

حضرت مصعب رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن معاذ سے کہا: "کیوں نہ آپ تشریف رکھیں اور سنیں، اگر کوئی بات پسند آگئی تو قبول کرلیں اور اگر پسند نہ آئی تو ہم آپ کی ناپسندیدہ بات کو آپ سے دور ہی رکھیں گے۔"

حضرت سعد نے کہا: "انصاف کی بات کہتے ہو۔" اس کے بعد اپنا نیزہ گاڑ کر بیٹھ گئے، حضرت مصعب نے ان پر اسلام پیش کیا اور قرآن کی تلاوت کی، ان کا بیان ہے کہ ہم نے حضرت سعد کے بولنے سے پہلے ہی ان کے چہرے کی چمک دمک سے ان کے اسلام کا پتہ لگا لیا، حضرت سعد بن معاذ نے فرمایا: "تم لوگ اسلام لاتے ہو تو کیا کرتے ہو؟"

حضرت مصعب نے کہا: "آپ غسل کرلیں، پھر حق کی شہادت دیں، پھر دورکعت نماز پڑھیں۔" حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، اس کے بعد اپنا نیزہ اٹھایا اور اپنی قوم کی محفل میں تشریف لائے، لوگوں نے دیکھتے ہی کہا: "ہم واللہ! کہہ رہے ہیں کہ سعد جو چہرہ لے کر گئے تھے اس کے بجائے دوسرا ہی چہرہ لے کر پلٹے ہیں۔"

حضرت سعد رضی اللہ عنہ اہل مجلس کے پاس آکر رکے تو بولے: "اے بنی عبد الاشہل! تم لوگ اپنے اندر میرا معاملہ کیسا جانتے ہو؟"

انہوں نے کہا: "آپ ہمارے سردار ہیں، سب سے اچھی سوجھ بوجھ کے مالک ہیں اور ہمارے سب سے بابرکت پاسبان ہیں۔"

حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: "اچھا تو سنو! اب تمہارے مردوں اور عورتوں سے میری بات چیت حرام ہے جب تک کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہ لاؤ۔" ان کی اس بات کا یہ اثر ہوا کہ شام ہوتے ہوتے اس قبیلے کا کوئی بھی مرد اور کوئی بھی عورت ایسی نہ بچی جو مسلمان نہ ہوگئی ہو، صرف ایک آدمی جن کا نام "اُصیرم" تھا، ان کا اسلام جنگِ احد تک مؤخر ہوا، پھر احد کے دن انہوں نے اسلام قبول کیا اور جنگ میں لڑتے ہوئے شہید ہوگئے، انہوں نے ابھی اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے تھوڑا عمل کیا اور زیادہ اجر پایا۔

حضرت مصعب رضی اللہ عنہ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ ہی کے گھر مقیم رہ کر اسلام کی تبلیغ کرتے رہے، یہاں تک کہ انصار کا کوئی گھر باقی نہ بچا جس میں چند مرد اور عورت مسلمان نہ ہوچکی ہوں، صرف بنی امیہ بن زید اور خطمہ اور وائل کے مکانات باقی رہ گئے تھے، مشہور شاعر ابو قیس بن اسلت انہیں کا آدمی تھا اور یہ لوگ اسی کی بات مانتے تھے، اس شاعر نے انہیں جنگ خندق ( ۵ ہجری ) تک اسلام سے روکے رکھا۔

بہرحال اگلے موسمِ حج یعنی تیرہویں سال نبوت کا موسمِ حج آنے سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کامیابی کی بشارتیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مکہ تشریف لائے اور آپ کو قبائل یثرب کے حالات، ان کی جنگی اور دفاعی صلاحیتوں اور خیر کی لیاقتوں کی تفصیلات سنائیں۔

سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری..

03/07/2020

*سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 82*

*پہلی بیعت عقبہ:*

جیسا کہ پہلے گزر چکا کہ نبوت کے گیارہویں سال موسم حج میں یثرب کے چھ آدمیوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وعدہ کیا تھا کہ اپنی قوم میں جاکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی تبلیغ کریں گے۔

جب یہ لوگ اسلام قبول کرکے یثرب لوٹے تو ہر گلی کوچہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ ہونے لگا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے سال موسمِ حج آیا (یعنی ذی الحجہ 12 نبوی بمطابق جولائی 621ء) تو بارہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان میں سے پانچ تو اُنہیں چھ میں سے تھے جو سال گزشتہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کرچکے تھے، البتہ جابر بن عبداللہ بن رُیاب رضی اللہ عنہ کسی وجہ سے اس دفعہ شریک نہ ہوسکے تھے، نئے سات افراد یہ تھے:

1.. معاذ بن الحارث رضی اللہ عنہ: قبیلۂ بنی النجار (خزرج)
2.. ذکوان بن عبد القیس رضی اللہ عنہ: بنی زریق (خزرج)
3.. عباد ہ بن صامت رضی اللہ عنہ: بنی غنم (خزرج)
4.. یزید بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ: بنی غنم کے حلیف (خزرج)
5.. عباس بن عبادہ رضی اللہ عنہ: بنی سالم (خزرج)
6.. ابوالہیثم بن التیہان رضی اللہ عنہ: بنی عبد الاشہل (اوس)
7.. عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ: بنی عمرو بن عوف (اوس)

ان میں صرف اخیر کے دو آدمی قبیلۂ اوس سے تھے: بقیہ سب کے سب قبیلۂ خزرج سے تھے۔
ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منیٰ میں عقبہ کے پاس ملاقات کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چند باتوں پر بیعت کی، یہ باتیں وہی تھیں جن پر آئندہ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ کے وقت عورتوں سے بیعت لی گئی۔

عقبہ (ع، ق، ب تینوں کو زبر ) پہاڑ کی گھاٹی یعنی تنگ پہاڑی گزرگاہ کو کہتے ہیں، مکہ سے منیٰ آتے جاتے ہوئے منیٰ کے مغربی کنارے پر ایک تنگ پہاڑی راستے سے گزرنا پڑتا تھا، یہی گزرگاہ عَقَبَہ کے نام سے مشہور ہے، ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو جس ایک جمرہ کو کنکری ماری جاتی ہے وہ اسی گزرگاہ کے سرے پر واقع ہے، اس لیے اِسے جمرۂ عقبہ کہتے ہیں، اس جمرہ کا دوسرا نام جمرۂ کبریٰ بھی ہے، باقی دو جمرے اس سے مشرق میں تھوڑے فاصلے پر واقع ہیں۔

چونکہ منیٰ کا پورا میدان جہاں حجاج قیام کرتے ہیں ان تینوں جمرات کے مشرق میں ہے، اس لیے ساری چہل پہل ادھر ہی رہتی ہے اور کنکریاں مارنے کے بعد اس طرف لوگوں کی آمد ورفت کا سلسلہ ختم ہوجاتا تھا، اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت لینے کے لیے اس گھاٹی کو منتخب کیا اور اسی مناسبت سے اس کو بیعت عقبہ کہتے ہیں، اب پہاڑ کاٹ کر یہاں کشادہ سڑکیں نکال لی گئی ہیں۔

عَقَبَہ کی اس بیعت کی تفصیل صحیح بخاری میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

*"آؤ! مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی چیزکو شریک نہ کروگے، چوری نہ کرو گے، زنا نہ کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے، اپنے ہاتھ پاؤں کے درمیان سے گھڑ کر کوئی بہتان نہ لاؤ گے اور کسی بھلی بات میں میری نافرمانی نہ کرو گے۔ جو شخص یہ ساری باتیں پوری کرے گا، اس کا اجر اللہ پر ہے اور جو شخص ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کر بیٹھے گا، پھر اسے دنیا ہی میں اس کی سزادے دی جائے گی تو یہ اس کے لیے کفارہ ہوگی اور جو شخص ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کر بیٹھے گا، پھر اللہ اس پر پردہ ڈال دے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے، چاہے گا تو سزا دے گا اور چاہے گا تو معاف کردے گا۔"*

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری..

03/07/2020

*سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 81*

*واقعہ معراج اور قریش کا رویہ:*

امام ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب صبح ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرم میں یہ واقعہ سنایا تو کفار نے اس کی تکذیب کی اور کہا کہ مکہ سے بیت المقدس جانے کے لئے ایک مہینہ اور واپس آنے کے لئے ایک مہینہ کا عرصہ لگتا ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سفر راتوں رات طے کر لیا جائے اور آپ آسمان پر بھی جا کر آئیں؟ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ بیت المقدس کی کیفیت بیان کریں، اس پر اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بیت المقدس کو ظاہر فرما دیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہوں کے سامنے آ گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قوم کو اس کی نشانیاں بتلانا شروع کیں اور ان سے کسی بات کی تردید نہ بن پڑی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جاتے اور آتے ہوئے ان کے قافلے سے ملنے کا بھی ذکر فرمایا اور بتلایا کہ اس کی آمد کا وقت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اونٹ کی بھی نشاندہی کی جو قافلے کے آگے آگے آرہا تھا، پھر جیسا کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا تھا ویسا ہی ثابت ہوا لیکن ان سب کے باوجود ان کی نفرت میں اضافہ ہی ہوا اور ان ظالموں نے کفر کرتے ہوئے کچھ بھی ماننے سے انکار کردیا۔

جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو کہا کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے تو بالکل سچ ہے اور میں اس واقعہ کی تصدیق کرتا ہوں، اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو "صدیق" کا لقب عطا فرمایا۔

*مسجد اقصی کے پادری کی گواہی*

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد 7 ہجری میں حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ قیصر روم "ہرقل" کے پاس نامہ مبارک بھیج کر اسلام کی دعوت دی، ہرقل نے اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ حجاز کا کوئی تاجر موجود ہو تو اسے بلا لائے، اتفاق سے اس وقت تاجروں کے ایک قافلہ کے ساتھ ابوسفیان (رضی اللہ عنہ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) موجود تھے، جن سے ہرقل نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سوالات کئے، ان سوالات کے جوابات دینے کے دوران ابو سفیان (رضی اللہ عنہ) کو معراج کے واقعہ کا خیال آیا اور انہوں نے اسے بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کا سفر کرتے ہوئے آسمانوں پر تشریف لے گئے اور پھر واپس آئے، (مقصد غالباً یہ تھا کہ یہ بات بتا کر ہرقل کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق شک و شبہ میں ڈالا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معاذ اللہ جھوٹا ثابت کیا جائے)

ہرقل کے دربار میں اتفاق سے اس وقت مسجد اقصیٰ کا لارڈ پادری موجود تھا، جس نے یہ بتلایا کہ وہ ہر رات سونے سے پہلے مسجد اقصیٰ کے تمام دروازے بند کر دیتا تھا، لیکن اس رات کوشش کرنے کے باوجود صدر دروازہ بند نہیں ہوا، آخر کار انہوں نے نجاروں کو بلوا کر اسے بند کرنا چاہا، مگر باوجود کوشش کے وہ ناکام رہے، اس لئے دروازہ کھلا چھوڑ کر سب لوگ گھروں کو چلے گئے، پادری جب علی الصباح مسجد آیا تو مسجد کے دروازہ کو بالکل ٹھیک پایا، مسجد کے قریب چٹان میں سوراخ دیکھا جس سے کسی جانور کو باندھنے کا نشان تھا۔

پادری نے کہا کہ رات کو دروازے کا کھلا رہنا صرف اس نبی کے لئے تھا جس کی بشارت حضرت عیسی علیہ السلام نے دی تھی اور یہ کہ انہوں نے مسجد اقصیٰ میں رات میں ضرور نماز پڑھی ہوگی۔ (سیرت احمد مجتبی.. زاد المعاد)

==================> جاری ہے ۔۔۔

سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری..

25/06/2020

*سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 80*

*سفر معراج کے اہم واقعات:*

(گزشتہ سے پیوستہ)

اس کے بعد اللہ جبار جل جلالہ کے دربار میں پہنچایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے اتنے قریب ہوئے کہ دو کمان کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا، اس وقت اللہ نے اپنے بندے پر وحی فرمائی جو کچھ کہ وحی فرمائی اور پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس ہوئے، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پوچھا کہ اللہ نے آپ کو کس چیز کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "پچاس نمازوں کا۔"

انہوں نے کہا: "آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، اپنے پروردگار کے پاس واپس جایئے اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کیجیے۔"

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا، گویا ان سے مشورہ لے رہے ہیں، انہوں نے اشارہ کیا کہ ہاں! اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہیں، اس کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام آپ کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور لے گئے، اللہ عزوجل نے دس نمازیں کم کردیں اور آپ نیچے لائے گئے، جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزر ہوا تو انہیں خبر دی، انہوں نے پھر کہا: "آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور تخفیف کا سوال کیجیے۔" اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اللہ عزوجل کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمدو رفت برابر جاری رہی، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے صرف پانچ نمازیں باقی رکھیں، اس کے بعد بھی موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو واپسی اور طلب تخفیف کا مشورہ دیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اب مجھے اپنے رب سے شرم محسوس ہورہی ہے، میں اسی پر راضی ہوں اور سر تسلیم خم کرتا ہوں۔"

امام ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ نے اس بارے میں اختلاف ذکر کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب تبارک وتعالیٰ کو دیکھا یا نہیں؟ پھر امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کی ایک تحقیق ذکر کی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ آنکھ سے دیکھنے کا سرے سے کوئی ثبوت نہیں اور نہ کوئی صحابی اس کا قائل ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مطلقاً دیکھنے اور دل سے دیکھنے کے جو دو قول منقول ہیں، ان میں سے پہلا دوسرے کے منافی نہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ان کی اپنی شکل میں دیکھا، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اپنی شکل میں دو مرتبہ دیکھا تھا، ایک مرتبہ زمین پر اور ایک مرتبہ یہاں سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ واللہ اعلم۔

بعض طرق میں آیا ہے کہ اس دفعہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شق صدر (سینہ چاک کیے جانے) کا واقعہ پیش آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سفر کے دوران کئی چیزیں دکھلائی گئیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دودھ اور شراب پیش کی گئی تو آپ نے دودھ اختیار فرمایا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ کو فطرت کی راہ بتائی گئی یا آپ نے فطرت پالی اور یاد رکھئے کہ اگر آپ نے شراب لی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت گمراہ ہوجاتی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت میں چار نہریں دیکھیں، دو ظاہری اور دو باطنی، ظاہری نہریں نیل و فرات تھیں اور باطنی نہریں جنت کی دو نہریں ہیں، (نیل و فرات دیکھنے کا مطلب غالباً یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت نیل و فرات کی شاداب وادیوں کو اپنا وطن بنائے گی۔ واللہ اعلم)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے "مالک" داروغۂ جہنم کو بھی دیکھا، وہ ہنستا نہ تھا اور نہ اس کے چہرے پر خوشی اور بشاشت تھی، آپ نے جنت وجہنم بھی دیکھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جو یتیموں کا مال ظلماً کھا جاتے ہیں، ان کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹوں کی طرح تھے اور وہ اپنے منہ میں پتھر کے ٹکڑوں جیسے انگارے ٹھونس رہے تھے، جو دوسری جانب ان کے پاخانے کے راستے نکل رہے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود خوروں کو بھی دیکھا، ان کے پیٹ اتنے بڑے بڑے تھے کہ وہ اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہوسکتے تھے اور جب آلِ فرعون کو آگ پر پیش کرنے کے لیے لے جایا جاتا تو ان کے پاس سے گزرتے وقت انہیں روندتے ہوئے جاتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زنا کاروں کو بھی دیکھا، ان کے سامنے تازہ اور فربہ گوشت تھا اور اسی کے پہلو بہ پہلو سڑا ہوا چھیچھڑا بھی تھا، یہ لوگ تازہ اور فربہ گوشت چھوڑ کر سڑا ہوا چھیچھڑا کھا رہے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان عورتوں کو دیکھا جو اپنے شوہروں پر دوسروں کی اولاد داخل کر دیتی ہیں، (یعنی دوسروں سے زنا کے ذریعے حاملہ ہوتی ہیں، لیکن لاعلمی کی وجہ سے بچہ ان کے شوہر کا سمجھا جاتا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ ان کے سینوں میں بڑے بڑے ٹیڑھے کانٹے چبھا کر انہیں آسمان وزمین کے درمیان لٹکا دیا گیا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آتے جاتے ہوئے اہلِ مکہ کا ایک قافلہ بھی دیکھا اور انہیں ان کا ایک اونٹ بھی بتایا جو بھڑک کر بھاگ گیا تھا، آپ نے ان کا پانی بھی پیا جو ایک ڈھکے ہوئے برتن میں رکھا تھا، اس وقت قافلہ سورہا تھا، پھر آپ نے اسی طرح برتن ڈھک کر چھوڑ دیا اور یہ بات معراج کی صبح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دعویٰ کی صداقت کی ایک دلیل ثابت ہوئی۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری..

25/06/2020

*سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 79*

*اسراء اور معراج:*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت وتبلیغ ابھی کامیابی اور ظلم وستم کے اس درمیانی مرحلے سے گزر رہی تھی اور افق کے دور دراز پہنائیوں میں دھندلے تاروں کی جھلک دکھائی پڑنا شروع ہوچکی تھی کہ اِسراء اور معراج کا واقعہ پیش آیا، یہ معراج کب واقع ہوئی؟ اس بارے میں اہلِ سیر کے اقوال مختلف ہیں، البتہ سورۂ اسراء کے سیاق سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکی زندگی کے بالکل آخری دور کا ہے۔

واقعہ کی تفصیل جو قرآن مجید اور صحیح احادیث سے معلوم ہوتی ہے کہ ایک رات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آرام فرمارہے تھے کہ دو فرشتے جبریل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیدار کیا اور اپنے ساتھ حرم کعبہ میں صفا و مروہ کے درمیان لائے جہاں بُرّاق کھڑا تھا، وہ گدھے سے بڑا لیکن خچر سے کچھ چھوٹا سفید رنگ کا بہشتی جانور تھا، ران پر دو پر تھے اور زین بندھی تھی، اس جنتی بُرّاق کا نام جارود تھا، جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو براق پر سوار کروایا اور روانہ ہوئے، دائیں بائیں فرشتوں کی جماعتیں تھیں، راستہ میں کھجور کے درختوں کے جُھنڈ نظر آئے، جبرئیل علیہ السلام نے کہا: "یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دارالہجرت ہے۔" یہاں اتر کر آپ نے دو رکعت نفل نماز پڑھی، پھر جبرئیل علیہ السلام نے طور سینا پر براق کو روکا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، آپ کی تیسری منزل بیت اللحم تھی جس کے بارے میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بتلایا کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش ہے، وہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی، وہاں سے بیت المقدس آئے جہاں مسجد اقصیٰ تھی، وہاں آپ براق سے اترے، استقبال کے لئے فرشتوں کی کثیر تعداد تھی۔

مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء آپ کے منتظر تھے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں تمام پیغمبروں کی امامت فرمائی، حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی مقتدیوں میں تھے، یہ سفر کی پہلی منزل تھی اس کو "اسرا ء" بھی کہا جاتا ہے، اس کے بعد سفر کی دوسری منزل شروع ہوئی جو اصل معراج ہے۔

وہاں سے جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صخرہ پر لائے جہاں سے فرشتے آسمانوں کی طرف پرواز کرتے ہیں، وہاں ایک سیڑھی نمودار ہوئی جس کے ذریعے اسی رات آپ کو بیت المقدس سے آسمان دنیا تک لے جایا گیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دروازہ کھولا گیا، آپ نے وہاں ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کو دیکھا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے آپ کو مرحبا کہا، سلام کا جواب دیا اور آپ کی نبوت کا اقرار کیا، اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے دائیں جانب سعادت مندوں کی روحیں اور بائیں جانب بدبختوں کی روحیں دکھلائیں۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوسرے آسمان پر لے جایا گیا اور دروازہ کھلوایا گیا، آپ نے وہاں حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا، دونوں سے ملاقات کی اور سلام کیا، دونوں نے سلام کا جواب دیا، مبارک باد دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا اقرار کیا۔

پھر تیسرے آسمان پر لے جایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا اور سلام کیا، انہوں نے جواب دیا، مبارک باد دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا اقرار کیا۔

پھر چوتھے آسمان پر لے جایا گیا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ادریس علیہ السلام کو دیکھا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے جواب دیا، مرحبا کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا اقرار کیا۔

پھر پانچویں آسمان پر لے جایا گیا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ہارون بن عمران علیہ السلام کو دیکھا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے جواب دیا مبارک باد دی اور اقرار نبوت کیا۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھٹے آسمان پر لے جایا گیا، وہاں آپ کی ملاقات حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کیا، انہوں نے جواب دیا، مرحبا کہا اور اقرار نبوت کیا، البتہ جب آپ وہاں سے آگے بڑھے تو وہ رونے لگے، ان سے کہا گیا: "آپ کیوں رو رہے ہیں؟" انہوں نے کہا: "میں اس لیے رو رہا ہوں کہ ایک نوجوان جو میرے بعد مبعوث کیا گیا، اس کی امت کے لوگ میری امت کے لوگوں سے بہت زیادہ تعداد میں جنت کے اندر داخل ہوں گے۔"

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساتویں آسمان پر لے جایا گیا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی، آپ نے انہیں سلام کیا، انہوں نے جواب دیا، مبارک باد دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا اقرار کیا۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت المعمور دکھلایا گیا، جو فرشتوں کا کعبہ ہے اور زمین پر کعبہ کے عین اوپر واقع ہے، وہاں ایک وقت میں ستر ہزار فرشتے طواف کر رہے تھے۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، سدرہ ایک بیری کا درخت ہے، اس کے پتے ہاتھی کے کان کے برابر اور پھل مٹکوں کی طرح تھے، فرشتے جگنوؤں کی طرح ان پتوں پر تھے، اس پر سونے کے پتنگے، روشنی اور مختلف رنگ چھائے ہوئے تھے، سدرۃ المنتہیٰ عالم خلق اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حدِّ فاصل ہے، اس کے آگے عالمِ غیب ہے جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، یہیں پر جنت الماویٰ ہے جس کا ذکر سورۂ نجم میں ہے، اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت میں داخل ہوئے، حضرت جبرائیل علیہ السلام سدرہ سے کچھ آگے رُک گئے اور عرض کیا کہ اگر اس مقام سے بال برابر بھی بڑھوں تو جل کر خاک ہو جاؤں، اب آپ کا اور آپ کے رب کا معاملہ ہے۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری..

Address


Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The True Islamic Event posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your organization to be the top-listed Government Service?

Share