16/04/2026
لوڈ شیڈنگ کی وجوہات:-
گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں میں ایک بار پھر لوڈ شیڈنگ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو بعض اوقات تقریباً 4 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ عوامی سطح پر یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ 22 ہزار میگاواٹ سے زائد دستیاب پیداواری صلاحیت کے باوجود اضافی بجلی کیوں فراہم نہیں کی جا رہی؟
اس صورتحال میں اصل مسئلہ صرف پیداواری صلاحیت نہیں بلکہ ایندھن کی دستیابی، پیداواری لاگت اور نظام کی مالی ساخت بھی ہے۔ ملک میں بجلی کی پیداوار مختلف ذرائع سے ہوتی ہے جن میں ہائیڈل، نیوکلیئر، ونڈ اور کول پاور پلانٹس نسبتاً سستے ذرائع ہیں اور عموماً اپنی دستیاب صلاحیت کے مطابق چل رہے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ایل این جی اور ڈیزل پر چلنے والے مہنگے پاور پلانٹس آتے ہیں۔
اس وقت درپیش ایک بڑا مسئلہ ایل این جی اور دیگر مہنگے ایندھن کی دستیابی اور قیمت ہے۔ اگر اضافی 4 ہزار میگاواٹ بجلی مہنگے فیول (ایل این جی/ڈیزل) سے پیدا کی جائے تو فی یونٹ پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس سے مجموعی ٹیرف بڑھتا ہے جس کا براہِ راست اثر عام صارف پر پڑتا ہے۔
اسی کے ساتھ بجلی کے شعبے میں "کیپسٹی چارجز" کا بوجھ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ مختلف معاہدوں کے تحت یہ فکسڈ ادائیگیاں پیداواری یونٹس کو کی جاتی ہیں چاہے وہ پوری صلاحیت پر چلیں یا نہ چلیں۔ یہ مالی ذمہ داری مجموعی ٹیرف میں شامل ہو کر صارفین تک منتقل ہوتی ہے۔
نتیجتآ مسئلہ صرف اضافی پیداوار کا نہیں بلکہ مہنگی بجلی، ایندھن کی محدود دستیابی اور مالیاتی ڈھانچے کا ہے جس کے باعث حکومت اکثر مہنگے ذرائع سے اضافی بجلی پیدا کرنے سے گریز کرتی ہے تاکہ فی یونٹ لاگت مزید نہ بڑھے۔
یہ ایک پیچیدہ توانائی اور مالیاتی مسئلہ ہے جس کا حل صرف پیداوار بڑھانے سے نہیں بلکہ بہتر منصوبہ بندی، معاہدوں کی اصلاح اور سستے توانائی ذرائع کے زیادہ استعمال سے ممکن ہے۔
"ملک ایم۔ںواز نتھوکہ"
چارٹرڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹ & اکانومسٹ