02/10/2026
⚖️ مظلوم بیٹی والد کی وراثت کے حق کے لیے کب تک دربدر رہے گی؟
کوٹ مومن، مٹیلہ سے تعلق رکھنے والی ایک بیٹی کے بارے میں اہلِ علاقہ کی جانب سے یہ معاملہ سامنے آیا ہے کہ والد کی وفات کے بعد اسے اپنی قانونی وراثتی حق کے حصول کے لیے طویل عدالتی سفر کرنا پڑا۔
پہلے سیول جج کوٹ مومن سے رجوع کیا گیا، جہاں فیصلہ بیٹی کے حق میں آیا۔
اس کے بعد معاملہ سیشن جج کوٹ مومن تک گیا اور وہاں بھی فیصلہ بیٹی کے حق میں ہوا۔
معاملہ یہاں بھی ختم نہ ہوا تو لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، جہاں بھی بیٹی کے حق میں فیصلہ سامنے آیا۔
آخرکار معاملہ سپریم کورٹ کے بینچ لاہور تک پہنچا، جہاں بھی بیٹی کے حق میں فیصلہ صادر ہونے کا دعویٰ ہے۔
❓ اب اصل سوال یہ ہے:
اگر عدالتیں اپنا فیصلہ سنا چکی ہیں تو ان فیصلوں کی عملی تعمیل کون کروائے گا؟
کئی ماہ گزرنے کے باوجود اگر ایک بیٹی اپنے والد کی وراثت کے حق سے محروم ہے تو پھر عام شہری یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ عدالتی انصاف کو عملی انصاف میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری کس ادارے کی ہے؟
اگر ریونیو ریکارڈ، انتقال، رجسٹری یا قبضہ سے متعلق کوئی قانونی کارروائی باقی ہے تو متعلقہ محکمے اسے قانون اور عدالتی حکم کے مطابق فوری مکمل کریں۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ متاثرہ خاندان کی جانب سے دھمکیوں اور تحفظ کے خدشات کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ قانونی و پولیس انکوائری ہونی چاہیے۔ کسی بھی فریق کو قانون ہاتھ میں لینے یا کسی شہری کو خوف زدہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
🚨 104 چک سرگودھا کے حالیہ چچا بھتیجوں کے افسوسناک واقعے کے بعد یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے:
کیا ہمارے ادارے ایسے تنازعات کو کسی بڑے سانحے سے پہلے ہی سنجیدگی سے حل کریں گے؟
ہم اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ:
🔹 عدالتی احکامات کی قانونی حیثیت اور موجودہ اسٹیٹس فوری چیک کیا جائے۔
🔹 متعلقہ ریونیو ریکارڈ اور انتقال کی کارروائی قانون کے مطابق مکمل کی جائے۔
🔹 اگر کسی جانب سے دھمکی یا ہراساں کرنے کی شکایت ہے تو اس کی غیرجانبدارانہ انکوائری کی جائے۔
🔹 متاثرہ بیٹی اور اس کے خاندان کو قانون کے مطابق تحفظ فراہم کیا جائے۔
🔹 کسی بھی بااثر شخص یا فریق کو عدالتی حکم کی تعمیل میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے۔
جج صاحبان نے اگر حق واضح کر دیا ہے تو اب عوام کا سوال صرف اتنا ہے:
تعمیلِ حکم کب ہوگی؟
یہ کسی ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہر اس بیٹی کے حق کا سوال ہے جو اپنے والد کی وراثت کے لیے برسوں عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
📢 متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔
#مٹیلہ #کوٹمومن #سرگودھا