26/04/2026
دل کی دھڑکن کا غیر معمولی طور پر محسوس ہونا، تیز ہونا یا بے ترتیب ہونا **پیلپی ٹیشن (Palpitation)** کہلاتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جنہیں درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
# # # 1. عام یا طرزِ زندگی سے متعلق وجوہات
اکثر اوقات یہ وجوہات خطرناک نہیں ہوتیں اور طرزِ زندگی میں تبدیلی سے ٹھیک ہو جاتی ہیں:
* **ذہنی تناؤ اور پریشانی:** شدید گھبراہٹ، خوف (Panic attack) یا ذہنی دباؤ۔
* **جسمانی مشقت:** اچانک تیز دوڑنا یا سخت ورزش کرنا۔
* **کیفین کا استعمال:** چائے، کافی یا انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال۔
* **نیکوٹین:** سگریٹ نوشی یا تمباکو کا استعمال۔
# # # 2. طبی وجوہات (Medical Causes)
جسم میں موجود دیگر بیماریوں کی وجہ سے بھی دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے:
* **خون کی کمی (Anemia):** جسم میں ہیموگلوبن کی کمی کی وجہ سے دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔
* **تھائیرائیڈ کے مسائل:** خاص طور پر 'ہائپر تھائیرائیڈزم' (Hyperthyroidism) جس میں تھائیرائیڈ گلینڈ ضرورت سے زیادہ ہارمون بناتا ہے۔
* **بخار:** جسمانی درجہ حرارت بڑھنے سے دل کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے۔
* **خون میں شوگر کی کمی:** شوگر کم ہونے (Hypoglycemia) سے پسینہ آتا ہے اور دھڑکن تیز ہوتی ہے۔
# # # 3. دل کے امراض
کچھ صورتوں میں یہ دل کے کسی اندرونی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے:
* **ایریتھمیا (Arrhythmia):** دل کی برقی لہروں (Electrical signals) میں خرابی جس سے دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے۔
* **والو کے مسائل:** دل کے والوز میں خرابی (جیسے Mitral Valve Prolapse)۔
* **کارڈیو مایوپیتھی:** دل کے پٹھوں کی کمزوری یا بیماری۔
# # # کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
اگر دل کی دھڑکن کے ساتھ درج ذیل علامات ظاہر ہوں، تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے:
1. سینے میں درد یا دباؤ محسوس ہونا۔
2. سانس لینے میں شدید دشواری۔
3. چکر آنا یا بیہوشی طاری ہونا۔
4. بہت زیادہ پسینہ آنا۔
**مشورہ:** اگر آپ کو اکثر یہ مسئلہ رہتا ہے، تو ای سی جی (ECG) اور خون کے بنیادی ٹیسٹ (جیسے CBC اور TSH) کروانا بہتر ہوتا ہے تاکہ اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
سلامت رہیں۔
منقول