Tareekhe Shabqadar Doaba ملک گیگیانی

Tareekhe Shabqadar Doaba ملک گیگیانی Doaba Shabqadar (ملک گیگیانی)Comprised of Upper and Lower Doaba.

Historically Known as the Land of the Gigyanis,a title that reflects the deep-rooted presence and influence of the Gigyani tribe in this area.

تپہ گگیانی دوآبہ(موجودہ دور میں تحصیل شبقدر، تحصیل چارسدہ کاُ انتظامی حصہ)
23/08/2026

تپہ گگیانی دوآبہ(موجودہ دور میں تحصیل شبقدر، تحصیل چارسدہ کاُ انتظامی حصہ)

دوآبہ

نیوز الرٹ: تپہ گگیانی دوآبہ، شبقدر کے تاریخی مالکانہ حقوق اور جغرافیہ کو مسخ کرنے کی غیر قانونی کوششیں۔اطلاعات کے مطابق ...
20/08/2026

نیوز الرٹ: تپہ گگیانی دوآبہ، شبقدر کے تاریخی مالکانہ حقوق اور جغرافیہ کو مسخ کرنے کی غیر قانونی کوششیں۔

اطلاعات کے مطابق بعض افراد، جن میں شبقدر نیوز (Shabqadar News) کے نام سے کام کرنے والا ایک صحافی بتاتے ہے، تپہ گیگیانی دوآبہ، ضلع چارسدہ کے بعض دیہات کو نئے قائم ہونے والے ضلع مہمند کے ریونیو انتظامی نظام کا حصہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مقامی خاندانوں کے مطابق تاریخی طور پراور سرکاری ريکارڈ کےُمطابق یہ دیہات موضع مٹہ مغل خیل دامان کتوزئی ،شبقدرکا حصہ رہے ہیں۔ مقامی تاریخی روایات کے مطابق شیخ ملی کی تقسیم، مغلیہ دور، پھر درانی اور سکھ ادوار، اور بعد ازاں 1870ء کے پشاور ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ سے لے کر ریونیو سیٹلمنٹ 1965ء تک یہ علاقے ضلع چارسدہ، تحصیل شبقدر کی موضعات میں شامل رہے ہیں۔

مختلف قبائل ان علاقوں میں بنیادی طور پر زمینوں کی کاشت کے لیے آباد ہوئے، اور ان زمینوں پر تپہ گیگیانی دوآبہ کے گیگیانی خاندانوں، یوسفزئی خاندانوں اور دیگر تسلیم شدہ مالکان نے کاشت کار آباد کیے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بعض آبادکاروں نے اپنے انتخابی ووٹ اپنے آبائی اضلاع میں منتقل کر لیے، تاہم وہ ان زمینوں پر بدستور کاشت کاری کرتے رہےہيں۔

ضلع مہمند کے قیام اور موجودہ ریونیو سیٹلمنٹ کے عمل کے دوران مبینہ طور پر ان زمینوں کو ضلع مہمند کے سیٹلمنٹ میں شامل کرنے کی کوششیں اور سازش کی جا رہی ہیں۔ یہ اقدام تاریخی ملکیت اور ریونیو ریکارڈ کے برخلاف ہے۔

عدالتی فیصلے کے ذریعے، ان پرگیگیانی خاندانوں، یوسفزئی خاندانوں اور دیگر تسلیم شدہ مالکان کے ان زمینوں پر حقوق کی دوبارہ توثیق کی گئی۔ اس کے باوجود زمینوں کی حیثیت تبدیل کرنے کی مبینہ کوششیں اور تنازعات جاری ہیں۔ موجودہ وقت میں پندیالی سے تعلق رکھنے والا ایک باہر کا ایم این اے، جسے تپہ گیگیانی دوآبہ میں عمران خان کے نام پر ووٹ دیے گئے تھے، اور جو خود بھی مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی زمین پر آبادکار ہے، مذکورہ سازش میں ملوث ہے۔
ہم یہ معلومات تپہ گیگیانی دوآبہ کے عوام تک اس لیے پہنچا رہے ہیں تاکہ سب لوگ اس معاملے سے باخبر رہیں اور اپنے تاریخی حقوق کا قانونی اور پُرامن طریقے سے تحفظ کریں۔

‎ہم سب سے اپیل کرتے ہیں کہ بزرگوں کی روایات، تاریخی دستاویزات، سرکاری ریونیو ریکارڈ اور عدالتی فیصلوں کا احترام کیا جائے، اور کسی بھی دعوے کو سچ ماننے یا آگے پھیلانے سے پہلے متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور عدالتی فیصلوں سے اس کی تصدیق ضرور
کی جائے۔

‎اگلے انتخابات میں اپنے تپہ گگیانی دوآبہ، شبقدر علاقے اور اپنے لوگوں کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ووٹ دیں، تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات اور مسائل پیدا نہ ہوں۔

پشاور شہر کی ایک آبی مصوری، جسے شارلٹ کیننگ نے 1 مارچ 1860ء کو بنایا تھا۔پشاور برطانوی ہندوستان کا ایک اہم شہر تھا، جو س...
16/08/2026

پشاور شہر کی ایک آبی مصوری، جسے شارلٹ کیننگ نے 1 مارچ 1860ء کو بنایا تھا۔
پشاور برطانوی ہندوستان کا ایک اہم شہر تھا، جو سرحد کے قریب واقع ہونے کے باعث اپنی متنوع ثقافتی اور تاریخی اہمیت کے لیے مشہور تھا۔
یہ وسیع منظرنامہ نما آبی مصوری قلعے سے بنایا گیا منظر پیش کرتی ہے، جس میں پشاور کا فصیل بند شہر، مساجد، مینار، ایک دوسرے سے جڑے ہوئے گنجان مکانات اور دفاعی دیواریں نمایاں ہیں۔ دور افق پر سرحدی علاقے کے نیلے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں، جبکہ پیش منظر میں ہاتھی، اونٹ اور لوگ سڑکوں اور فصیلوں پر رواں دواں نظر آتے ہیں، جو روزمرہ زندگی کی گہماگہمی کو اجاگر کرتے ہیں۔
لیڈی شارلٹ کیننگ (1817–1861ء)، چارلس کیننگ کی اہلیہ تھیں، جو برطانوی ہندوستان کے پہلے وائسرائے تھے۔ وہ ایک باصلاحیت شوقیہ آبی مصور اور ان مناظر اور لوگوں کی باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والی شخصیت تھیں جن سے انہیں ہندوستان میں واسطہ پڑا۔ انہوں نے یہ منظر 1860ء کے اوائل میں کیننگ خاندان کے پنجاب اور شمال مغربی سرحدی علاقے کے سرکاری دورے کے دوران بنایا تھا۔

سولہویں صدی  کے سردار ملک محمد بن احمد بن یعقوب گیگیانی اور جنگِ تپوڑسردار ملک محمد بن احمد بن یعقوب گیگیانی، سردار ملک ...
15/08/2026

سولہویں صدی کے سردار ملک محمد بن احمد بن یعقوب گیگیانی اور
جنگِ تپوڑ

سردار ملک محمد بن احمد بن یعقوب گیگیانی، سردار ملک یعقوب گیگیانی کے پوتے اور گیگیانی افغانوں کے معروف سردار، سردار ملک حمزہ خان بن یعقوب مغل خیل گیگیانی کے چچاڊاد تھے۔
خشی خیل گیگیانی افغان قبیلے کے مشران نے وادیٔ پشاور کی تاریخ اور سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ وادیٔ پشاور میں خشی خیل افغانوں کے سیاسی و قبائلی غلبے کے قیام میں ایک نمایاں قوت تھے۔

سردار ملک محمد بن احمد بن یعقوب گیگیانی، خشی خیل گیگیانی افغانوں کے ممتاز مشران میں شمار ہوتے تھے۔ وہ اپنی دینی وابستگی، تقویٰ اور ابتدائی سولہویں صدی میں انجام دی جانے والی خدمات کے باعث معروف تھے۔ ملك محمد خان بن سلطان گیگیانی متشرع، متدين، مدار المهام مرجع خاص انسان تھے۔روایت کے مطابق وہ پشاور کے تپہ خلیل میں ملك بازيد بن محمود خليل مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے کہ دورانِ نماز ان پر بارع زكريازك او ولى زكريازے نے حملہ کیا اور انہیں شہید کر دیا گیا۔

جب ان کا جسدِ خاکی ملکِ گیگیانی دوآبہ لایا گیا تو ان کے خون آلود کپڑے ملک خان کاجو کے پاس بھیجے گئے۔ ساتھ یہ پیغام بھیجا گیا کہ اپنے خشی خیل بھائی کے خون کا بدلہ لینا عزت، احترام اور قبائلی ذمہ داری کا تقاضا ہے۔

اس کے بعد یوسفزئی کا ایک بڑا لشکر، سردار ملک خان کاجو یوسفزئی اور ملک احمد بن کامل بن علاؤالدین یوسفزئی کی قیادت میں ملکِ یوسفزئی سے روانہ ہوا۔ اسی طرح ملکِ ترکلانی، باجوڑ سے ترکلانی لشکر ملک مٹہ بن شمو سالارزئی کی قیادت میں آیا۔

دوسری جانب کابل سے گیگیانی لشکر ملک عیسیٰ ابن ميرداد موسٰی زئی گیگیانی کی قیادت میں پہنچا، جبکہ ملکِ دوآبہ سے گیگیانی لشکر میں ملک شیخو خوبئی زئی گیگیانی، ملک خواجہ لالہ زئی گیگیانی، ملک آدم لالہ زئی گیگیانی، ملک خواجہ گیگیانی اور ملک میر عبدال آلاداد خیل گیگیانی جیسے سردار شامل تھے۔

محمدزئی قبیلے کے لشکر نے خشی خیل قبیلے کی حمایت کی، جو ملک خضر خان وملک بيگی کی قیادت میں آيا تھا۔

‎ان لشکروں نے سردار ملک محمد بن احمد بن یعقوب گیگیانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے غوریہ خیل کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑی۔ سولہویں صدی کا يہ معرکہ تاریخ میں جنگِ جنگِ تپور کے
نام سے معروف ہوا۔

اس جنگ میں غوریہ خیل کو شکست ہوئی۔ اس فتح کے بعد پشاور کے علاقے میں بڈھنی دریا غوریہ خیل اور خشی خیل گیگیانی افغانوں کے درمیان ایک حدِ فاصل بن گیا۔ یہ کامیابی خشی خیل افغانوں کی ایک اہم قبائلی و سیاسی فتح سمجھی جاتی ہے، جس میں ملک خان کاجو یوسفزئی کی قیادت نمایاں تھی۔
حوالہ جات:

1. تاریخِ حافظ رحمت خان — 17ویں صدی
2.تاریخی پشاور — 19ویں صدی
3.اولف کیرو کی کتاب دی پٹھان -20ویں صدی
4. یوسفزئی قوم کی سرگزشت — 21ویں صدی
5. تاریخِ پختون — پروفیسر انعام سلگری — 21ویں صدی

13/08/2026

ایک قابل پشتون مؤرخ پروفیسر انعام سلگری جنہوں نے گیگیانی قبیلے اور اس کے بزرگوں کی سنہری تاریخ کو اجاگر کرنے کے لیے بے مثال کام کیا ہے۔ پشتونوں کی تاریخ، بالخصوص تپہ گیگیانی دوآبہ، کو محفوظ کرنے کے لیے ان کی انتھک محنت، لگن اور خلوص کو دل کی گہرائیوں سے سلام اور خراجِ تحسین۔ ان کی یہ کاوش ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی تاریخی ورثہ ہے۔

پی ٹی آئی اور عمران خان کے نام پر خیبر پختونخوا حکومت کے مختلف شعبوں، بالخصوص محکمۂ معدنیات، میں اربوں روپے کی مبینہ کر...
09/08/2026

پی ٹی آئی اور عمران خان کے نام پر خیبر پختونخوا حکومت کے مختلف شعبوں، بالخصوص محکمۂ معدنیات، میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن، بدانتظامی اور بے ضابطگیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تپہ گیگیانی کے عوام نے عمران خان کے نام پر اپنے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو ووٹ دیا تھا، اس امید کے ساتھ کہ انہیں دیانت دار قیادت، بہتر حکمرانی اور حقیقی ترقی ملے گی۔ لیکن افسوس کہ بعض سیاست دان عوامی خدمت کے بجائے اپنی ذاتی دولت بڑھانے اور ارب پتی بننے کی دوڑ میں زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔
جبکہ صوابی، خیبر، ہزارہ اور جنوبی خیبر پختونخوا کے علاقوں میں یونیورسٹیوں کے کیمپس، موٹرویز اور بڑے ترقیاتی منصوبے آ رہے ہیں، وہیں تپہ گیگیانی دوآبہ کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کی جانب سے گلیوں اور ایک، دو کلومیٹر کی سڑکوں کی تعمیر پر جشن منانے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ ان میں سے بہت سے کام ماضی میں مقامی حکومتوں کے ناظمین اور کونسلروں کےفنڈ سے تعمير ہوتے تھے۔

عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر تپہ گیگیانی دوآبہ کو کب بڑے ترقیاتی منصوبوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات میں وہی ترجیح ملے گی جو خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں کو دی جا رہی ہے؟ صرف چھوٹے ترقیاتی کاموں کو سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کے بجائے عوام کو وسیع، پائیدار اور شفاف ترقی کا حق دیا جانا چاہیے۔

مصری خان گگیانی 16ویں صدی کے تپہ گیگیاڼی، دوآبہ کے ایک نامور پشتو شاعر تھے، جن کا تعلق گگیانی افغان پشتون قبیلے اور تپہ...
08/08/2026

مصری خان گگیانی 16ویں صدی کے تپہ گیگیاڼی، دوآبہ کے ایک نامور پشتو شاعر تھے، جن کا تعلق گگیانی افغان پشتون قبیلے اور تپہ گگیانی دوآبہ سے تھا۔ انہیں پشتو ادب کے قدیم اور اہم شعرا میں شمار کیا جاتا ہے۔

مصری خان گیگیاڼی 1664ء (1075ھ) میں تپہ گیگیاڼی، دوآبہ میں پیدا ہوئے۔
وہ خوشحال خان خٹک سے 53 سال اور رحمان بابا سے 35 سال کم عمر تھے۔

مصری خان گیگیاڼی کے خاندان کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق امباڈھير کے ارباب گیگیاڼی خاندان سے تھا، جبکہ بعض دیگر کے نزدیک وہ کانگڑہ کے ارباب خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ تپہ گیگیاڼی، دوآبہ کے گاؤں کانگڑہ میں ان کے نام سے ایک قبر بھی موجود ہے، جسے بعض لوگ مصری خان گیگیاڼی کی قبر قرار دیتے ہیں۔

مصری خان گگیانی نے بنیادی طور پر پشتو زبان میں غزل اور عشقیہ و غنائی شاعری تخلیق کی۔ ان کی شاعری میں محبت، حسن و جمال، روحانیت، انسانی جذبات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی ملتی ہے۔ اپنے عہد میں ان کا ادبی مقام خوشحال خان خٹک اور عبدالرحمان بابا غوریہ خیل مو مند جیسے بڑے پشتو شعرا کے ہم پلہ بیان کیا جاتا ہے۔

‎مصری خان گگیانی کے دیوان کا ایک قدیم قلمی نسخہ بھی محفوظ ہے۔ اس نسخے کی کتابت 1762ء (1176ھ) میں ہوئی۔ یہ مخطوطہ گل محمد پشاوری نے صاحبزادہ میاں محمدی صاحب کی
فرمائش پر تحریر کیا تھا۔

‎روایات کے مطابق مصری خان گگیانی کا دیوان ہندوستان کے دکن کے علاقے سے دریافت ہوا، جس کے بعد یہ پشتو اکیڈمی کے پاس محفوظ ہوا۔ آج یہ دیوان پشتو اکیڈمی، یونیورسٹی آف پشاور، خیبر پختونخوا میں محفوظ ہے اور پشتو زبان و ادب سے وابستہ نئی نسل، خصوصاً تپہ گگیانی ڈوبا کے نوجوانوں کے لیے ایک اہم ادبی ورثہ
ہے۔
‎مصری خان گگیانی کا کلام پشتو کی کلاسیکی شعری روایت اور گگیانی قبیلے کے ادبی و ثقافتی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے۔ ان کی شاعری نہ صرف اپنے عہد کے جذبات اور فکری رجحانات کی ترجمانی کرتی ہے بلکہ آج بھی پشتو ادب کے طالب علموں اور نوجوان نسل کے لیے تاریخی اور ادبی
اہمیت رکھتی ہے۔

آپ کی حالاتِ زندگی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی ہے، تاہم آپ کے دیوان سے خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنے وقت کے رائج تمام علوم، مثلاً تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، معانی اور بیان وغیرہ حاصل کئے تھے اور آپ ایک عالم و فاضل انسان تھے۔ آپ کے کلام میں صرف غزلیات، قصائد، رباعیات، قطعات اور منظوم خطوط نہیں بلکہ سیاست، تاریخ، واقعات نگاری، پند و نصائح، تصوف اور شریعت کا حسین امتزاج بھی ہے۔ آپ کے کلام میں بعض تاریخی واقعات کا ذکر بھی ملتا ہے۔ جب مغل فوجی افسر سامن بیگ نے شندرا دولت پورہ اور اسباب بھیڑگھر میں اپنے لشکر کے تحت پڑاؤ کیا تو آپ کو بھی مغل فوج نے راہ میں لُوٹ لیا تھا۔ اس کے علاوہ آپ کے دیوان میں سردار ایمل خان گگیانی کے متعلق ایک مرثیہ بھی موجود ہے۔ خان ایمل خان مغل خیل گگیانی سولہویں صدی میں تپہ دوآبہ ملک گیگیانی و تپہ ہشتنګر ملک محمد زئی کے قامی مشر اورسر دارتھے۔ آپ نے اس کی یاد میں ایک مرثیہ لکھا تھا۔ آپ کے دیوان میں تین غزلیات بھی موجود ہیں جن سے آپ کی قابلیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آپ نے کل تین ہزار اشعار لکھے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

1۔ پشتو غزلوں کی تعداد = 15
2۔ پشتو اشعار کی تعداد = 1487
3۔ پشتو کے مختلف اشعار = 701
کل پشتو اشعار = 2388
1۔ فارسی غزلوں کی تعداد = 25
2۔ فارسی اشعار کی تعداد = 255
3۔ فارسی کے متفرق اشعار = 374
4۔ اردو و فارسی کے کل اشعار = 629
کل اشعار = 3017 = 629 + 2388
حوالہ جات:
1. دیوانِ مصری خان گیگیاڼی — پشتو اکیڈمی، یونیورسٹی آف پشاور۔
2. تاریخ پښتون — پروفیسر انعام سلگري

07/08/2026

Address

Matta Mughal Khel , Doaba
Shabqadar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tareekhe Shabqadar Doaba ملک گیگیانی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share