05/03/2026
Court marriage procedure
164 مجسٹریٹ بیا
عدالتی نکاح، کورٹ میرج، آن لائن نکاح یا شرعی زبانی نکاح کے بعد اکثر لڑکی کو عدالت میں پیش ہو کر دفعہ 164 ض ف (Section 164 CrPC) کے تحت بیان دینا پڑتا ہے تاکہ عدالت اس بات کی تصدیق کرے کہ نکاح اس کی اپنی آزاد مرضی سے ہوا ہے اور اس پر کسی قسم کا دباؤ، جبر یا اغوا کا الزام نہیں۔ یہ بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہوتا ہے جسے عام طور پر کورٹ پریس یا عدالتی کارروائی کہا جاتا ہے، جہاں جج لڑکی سے الگ کمرہ یا کھلی عدالت میں سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ اپنی رضا سے نکاح کر چکی ہے اور کیا وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ اگر لڑکی کو گھر والوں سے جان کا خطرہ ہو تو وہ بیان دیتی ہے کہ اسے اپنی فیملی سے دھمکیاں مل رہی ہیں، اس لیے اسے تحفظ فراہم کیا جائے اور پولیس سیکیورٹی دی جائے۔ اس بیان کے بعد پولیس کو ہدایت دی جاتی ہے کہ لڑکی کو ہراساں نہ کیا جائے اور اگر ضرورت ہو تو پروٹیکشن فراہم کی جائے۔ دفعہ 164 کا بیان بعد میں کسی بھی فوجداری مقدمہ مثلاً اغوا یا زبردستی کے کیس میں مضبوط قانونی ثبوت سمجھا جاتا ہے اور میاں بیوی کے نکاح کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
In same manners,
اگر لڑکی عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے یہ بیان دے دے کہ اس کا نکاح اس کی آزاد مرضی سے نہیں ہوا یا اسے کسی دباؤ یا زبردستی کے تحت نکاح کرنے پر مجبور کیا گیا تھا اور اب وہ اپنے گھر والوں (والدین) کے ساتھ جانا چاہتی ہے، تو قانون فوری طور پر لڑکی کی خواہش کو مقدم رکھتا ہے۔ ایسی صورتحال میں مجسٹریٹ لڑکی کو اس کے گھر والوں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دیتا ہے کیونکہ بالغ ہونے کے ناطے اسے اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔ لڑکی کا یہ بیان کہ "میری رضا شامل نہیں تھی" نکاح کی قانونی اور شرعی حیثیت کو ختم یا مشکوک بنا دیتا ہے، جس کے بعد لڑکے کے لیے اس نکاح کو برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، لڑکی کا یہ بیان لڑکے کے لیے شدید قانونی مشکلات کا باعث بنتا ہے کیونکہ اگر گھر والوں نے پہلے سے اغوا یا زبردستی کا مقدمہ (FIR) درج کرایا ہو، تو یہ بیان اس کیس میں لڑکے کے خلاف سب سے بڑا ثبوت بن جاتا ہے، جس کی بنیاد پر اسے جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ مختصراً یہ کہ عدالت میں لڑکی کا بیان ہی سب سے اہم ہوتا ہے؛ اگر وہ مکر جائے یا گھر والوں کے حق میں بیان دے دے، تو قانون مکمل طور پر لڑکی کا ساتھ دیتا ہے اور لڑکے کے پاس دفاع کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔